Students off darul uloom deoband
mai Islamic knowledge deta hun and kuch amazing place ki bloging karta hun
31/01/2026
*ہم چپ رہے تو جرم نے دستور لکھ لیا*
*(تیسری قسط)*
*سید جمشید احمد ندوی*
*استاد جامعہ امام شاہ ولی اللہ اسلامیہ ،پھلت*
اب بات کسی شکایت، کسی نوحہ یا کسی وقتی احتجاج سے آگے نکل چکی ہے۔یہ تحریراپنے اختتام پر پہنچتے ہوئے دراصل ایک آئینہ بن جاناچاہتی ہے،ایسا آئینہ جس میں صرف حکمران ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ اپناچہرہ دیکھے۔کیونکہ تاریخ کا سب سےبڑافریب یہی رہاہےکہ ظلم ہمیشہ اوپرسے آتاہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ظلم کی جڑیں نیچے زمین میں ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتی ہیں۔کوئی نظام صرف بندوق، قانون یا وردی کے زور پر قائم نہیں رہتا۔ اسے چلانے کے لیے خاموش رضامندی درکار ہوتی ہے۔ وہ رضامندی جو ووٹ کی پرچی میں، خاموشی میں، سمجھوتے میں اور “ہم کیا کر سکتے ہیں” جیسے جملوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ جب قومیں اپنے حال کو مقدر سمجھ لیں، جب وہ سوال کرنے کو بدتمیزی اور اطاعت کو شرافت مان لیں، تو پھر سب سے پہلے انصاف مرتا ہے، اس کے بعد غیرت، اور آخر میں امید۔
یہ سچ ہے کہ طاقت ورکوللکارناآسان نہیں ہوتا۔اس کی قیمت ہوتی ہے،اور بعض اوقات بہت بھاری قیمت ہوتی ہے۔مگرتاریخ گواہ ہےکہ وہی معاشرے زندہ رہتے ہیں جو یہ قیمت ادا کرنے کاحوصلہ رکھتے ہیں۔جنہوں نے سچ کو مصلحت پر قربان کیا، وہ وقتی سکون تو پا گئے مگر دائمی ذلت ان کا مقدر بن گئی۔ جو قومیں ظالم کے سامنے جھک گئیں، وہ صرف غلام نہیں بنیں،وہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی جھکنا سکھا گئیں۔
یہ بھی ماننا پڑے گاکہ ہر دور میں سب لوگ ظالم نہیں ہوتے، مگر ہر دور میں سب لوگ مزاحمت کرنے والے بھی نہیں ہوتے۔ اور بدقسمتی یہ ہے کہ تاریخ ظالم اور خاموش دونوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیتی ہے۔کیونکہ خاموشی جب ظلم کے مقابل ہو تو وہ غیرجانبدار نہیں رہتی، وہ جرم کی معاون بن جاتی ہے۔
*یہ تحریرکسی تخت کوالٹنےیاکسی گردن کو نشانہ بنانے کا مطالبہ نہیں کررہی۔یہ اس سےکہیں زیادہ مشکل کام کیطرف اشارہ کررہی ہے: شعور کی تبدیلی۔ وہ شعور جو یہ طے کرے کہ اقتدارجواب دہ ہے،جویہ طے کرے کہ عدالت مقدس ہے،جو یہ طے کرے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے،جویہ طےکرے کہ عورت کی عزت محض نعرہ نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے،جو یہ طے کرےکہ روٹی،پانی،تعلیم اورتحفظ خیرات نہیں بلکہ حق ہیں۔*
اصل انقلاب سڑکوں پر نہیں، ذہنوں میں آتاہے۔وہ دن جب ایک عام شہری خود کو کمزور نہیں بلکہ ذمہ دار سمجھے گا۔ جب وہ جان لے گا کہ اس کی خاموشی بھی ایک ووٹ ہے، اور اس کی آواز بھی ایک طاقت۔ جب وہ یہ ماننے سے انکار کر دے گا کہ “یہاں تو ایسا ہی ہوتا ہے”۔ اسی دن یہ جملہ دفن ہو جائے گا اور اس کے ساتھ وہ سارے نظام بھی دفن ہو جائیں گے جو اسی جملہ کے سہارے زندہ ہیں۔
یہ تحریر یہاں ختم نہیں ہوتی، یہ دراصل قاری کے اندر شروع ہونی چاہیے۔ہراس لمحہ جب کوئی ناانصافی دیکھی جائے، ہر اس جگہ جہاں حق دبایاجائے،ہراسوقت جب ضمیرسمجھوتے پر آمادہ ہو۔ کیونکہ ریاستیں عمارتوں سے نہیں بنتیں،وہ کردار سے بنتی ہیں۔اور کردار ہمیشہ فرد سے شروع ہوتا ہے۔اگر کبھی آنے والی نسل یہ پوچھے کہ اس دور میں جب ظلم عام تھا، آپ کہاں کھڑے تھے، تو اس سوال کا جواب صرف یہی نہیں ہونا چاہیے کہ “ہم بھیڑ کا حصہ تھے”۔ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ “ہم نے بولنے کی کوشش کی،ہم نے سوال اٹھایا،ہم نے خاموشی کو قبول نہیں کیا”۔
کیونکہ آخرکار،قوموں کی زندگی کا دارومدار اس بات پر نہیں ہوتا کہ ان پرکون حکومت کرتا رہا،بلکہ اس پر ہوتا ہے کہ انہوں نے ناانصافی کے سامنے کیا رویہ اختیار کیا۔ اور یہی وہ فیصلہ ہوتا ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرتی۔
جناب مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کے اس کلیپ کو ضرور سنیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
Motihari
Saharanpur
06255