Bazm-e-Raza. Rishra

Bazm-e-Raza. Rishra

An Educational & Cultural Organisation

Operating as usual

20/04/2023



قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ ۝
ترجمہ: اے نبیؐ کہو کہ، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔
سورۃ آل عمران | سورة نمبر: 3 | آیت نمبر: 31

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

شرح:
اگر تو نے میرے پیغمبر محمدﷺ کی اوران کی تعلیمات کو اپنا شعار بنایا تو جان لے کہ ہم تیرے ہی ہیں اور یہ دنیا تو الگ رہی لوح و قلم بھی تیرے ہوں گے۔

شارح: اسرار زیدی
نظم: جوابِ شکوہ
کتاب: بانگِ درا

19/02/2023

Here is the Entry for the day

نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہيں کسی مردِ راہ داں کے ليے

Nishan-e-Rah Dikhate The Jo Sitaron Ko
Taras Gye Hain Kisi Mard-e-Rah Daan Ke Liye

Once who were beacons to the brightest stars,
Have long been awaiting a guide to show them the way now.

جو لوگ ستاروں کو راستے کا پتا بتاتے تھے، وہ آج اس درجہ بے بس ہیں کہ راستہ دکھانے والے کسی آدمی کے لیے بیٹھے ترس رہے ہیں، (یہ مسلمانوں کے سابقہ اوج و عظمت اور موجودہ زوال کی طرف اشارہ ہے)
غلام رسول مہر

Reference: https://goo.gl/bCUo7j

15/02/2023

Here is the Entry for the day!

وہ سجدہ ، روحِ زميں جس سے کانپ جاتی تھی
اُسی کو آج ترستے ہيں منبر و محراب

Woh Sajda, Rooh-E-Zameen Jis Se Kanp Jati Thi
Ussi Ko Aj Taraste Hain Minber-O-Mehrab

The prostration that once shook the earth’s soul,
Now leaves not a trace on the mosque’s decadent walls.

آج مسجدوں کے منبر و محراب ان سجدوں کو ترس رہے ہیں جن سے زمین کی روح کانپ جاتی تھی، یعنی علمائے شریعت کی شان وہ نہ رہی جس کی برکت سے ان کے سجدے زمین کو لرزا دیتے تھے۔ غلام رسول مہر

Reference: https://goo.gl/L93Zxu

31/01/2023

علامہ سیماب اکبر آبادی اور بہادر شاہ ظفر: ’’دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں
..
سیماب ؔ اکبر آبادی کے شعر کی تو اس کے لیے اتنا کہوں گا کہ سیمابؔ اکبر آبادی چوں کہ بہادر شاہ ظفرؔ کے بعد کے شاعر ہیں ۔1880ء میں اکبر آباد آگرہ میں تولد ہوئے ۔آپ نے بہادر شاہ ظفر کی زمین میں غزل کہی لیکن کسی شخص یا اشاعتی اِدارے نے قصداً ،سہواً یا شرارتاً اس شعر کو بہادر شاہ ظفرؔ کی غزل میں شامل کر دیا۔بہادر شاہ ظفرؔ کا کوئی بھی مستند کلیات اٹھا کر دیکھیں تو یہ شعر نہیں ملے گا ۔ہاں دیگر مندرجہ ذیل چھے اشعار ضرور موجود ہوں گے۔
لگتا نہیں ہے جی میرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
بلبل کو پاسباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید تھی لکھی فصل بہار میں
کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغ دار میں
اک شاخِ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادماں
کانٹے بچھا دیے ہیں دلِ لالہ زار میں
دن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پانوں سوئیں گے کنج مزار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں
(بہادر شاہ ظفر ؔ اور جنگ آزادی کے اولین مجاہد ص495،ڈاکٹر ودیا ساگر آنند)
1951ء میں کراچی شہر میں انتقال کرنے والے سیماب ؔ کی غزل جو بہادر شاہ ظفرؔ کی زمین میں ہے اس کے مجموعہ کلام ’’کلیم عجم ‘‘میں ہے جو دارالاشاعت قصر ادب ،آگرہ سے1936 ؁ء میں طبع ہوئی ۔اس غزل کے باقی اشعار ملاحظہ ہوں ۔
شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں
میں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں
خلوت خیال یار سے ہے انتظار میں
آئیں فرشتے لے کے اجازت مزار میں
ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں
آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں
اے درد ،دل کو چھیڑ کے پھر بار بار چھیڑ
ہے چھیڑ کا مزہ خلشِ بار بار میں
سو ڈرتا ہوں یہ تڑپ کے لحد کو الٹ نہ دے
ہاتھوں سے دل دبائے ہوئے ہوں مزار میں
تم نے تو ہاتھ جو روستم سے اٹھا لیا
اب کیا مزا ،رہا ستمِ روزگار میں
اے پردہ دار اب تو نکل آ حشر ہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
سیمابؔ پھولی اگیں لحدِعندلیب سے
اتنی تو تازگی ہو ہوا ئے بہار میں
اس کے علاوہ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ بہادر شاہ ظفرؔ کے ساتھ منسوب شعر میں
’’عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن ‘‘ ہے
جب کہ سیماب ؔ کے اصلی شعر میں
’’عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن‘‘ ہے
اب رہا سوال اُردو کی نصابی کتب میں یہ شعر شامل ہے تو اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو اس کے مرتبین ہیں یاجو مجلس مشاورت میں شامل ہیں لیکن افسوس کے آج تک کسی کو اس بات کی زحمت تک گوارانہ ہوئی کہ دیکھ تو لے حقیقت کیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق پر توجہ دی جائے ۔تحقیق ہی واحد ذریعہ ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق کرتا ہے۔
بشکریہ فرہاد احمد فگار
...............................

26/01/2023
24/11/2022

پروین شاکر
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی
.............................................

24/11/2022

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا
...
پروین شاکر کا یومِ پیدائش
November 24, 1952
(پیدائش: 24 نومبر 1952ء – وفات: 26 دسمبر 1994ء)
——
منتخب کلام
——
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
——
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا
——
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
——
یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کر لی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں
——
ضرورتوں نے ہمارا ضمیر چاٹ لیا
وگرنہ قائل رزق حلال تھے ہم بھی
——
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
——
وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا
برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا
——
بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لئے
——
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
——
دینے والے کی مشیت پہ ہے سب کچھ موقوف
مانگنے والے کی حاجت نہیں دیکھی جاتی
——
چلنے کا حوصلہ نہیں ، رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا
اے میری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا تیرا حال کر دیا
ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا
اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر
بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا
ممکنہ فیصلوں میں ایک ، ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی ، اس نے کمال کر دیا
میرے لبوں پہ مہر تھی ، پر شیشہ رو نے تو
شہر شہر کو میرا واقفِ حال کر دیا
چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہہ کو خواب و خیال کر دیا
مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری یہ کیا مجھ کو بحال کر دیا
——
حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے
ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ
گل کو معلوم ہے کیا دستِ صبا چاہتا ہے
ریت ہی ریت ہے اس دل میں مسافر میرے
اور یہ صحرا تیرا نقش کف پا چاہتا ہے
یہی خاموشی کئی رنگ میں ظاہر ہوگی
اور کچھ روز ، کہ وہ شوخ کھلا چاہتا ہے
رات کو مان لیا دل نے مقدر لیکن
رات کے ہاتھ پہ اب کوئی دیا چاہتا ہے
تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی
اور تیری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے
——
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا
یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر
جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا
کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند
اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا
کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے
ان ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا
جب بنام دل گواہی سر کی مانگی جائے گی
خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا
جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے
ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا
آئنے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے
جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا
ایک مشت خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے
زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا
——
وقت رخصت آگیا ، دل پھر بھی گھبرایا نہیں
اس کو ہم کیا کھویئں گے جس کو کبھی پایا نہیں
زندگی جتنی بھی ہے اب مستقل صحرا میں ہے
اور اس صحرا میں تیرا دور تک سایہ نہیں
میری قسمت میں فقط درد تہہ ساغر ہی ہے
اول شب جام میری سمت وہ لایا ہی نہیں
تیری آنکھوں کا بھی کچھ ہلکا گلابی رنگ تھا
ذہن نے میرے بھی اب کے دل کو سمجھایا نہیں
کان بھی خالی ہیں میرے اور دونوں ہاتھ بھی
اب کے فصل گل نے مجھ کو پھول پہنایا نہیں
——

جس طرح خواب میرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کر بکھرے کوئی
ااب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پر دروازے سے جھانکے کوئی
——
شہر وفا میں دھوپ کا ساتھی نہیں کوئی
سورج سروں پر آیا تو سائے بھی گھٹ گئے
——
تیرے بدلنے کے باوصف تجھ کو چاہا ہے
یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے
——
سب ضدیں اس کی میں پوری کروں ہر بات سنوں
ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں
——
اب ان مکانوں پر دبیز پردے ہیں
وہ تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا
——
گئے موسم میں جو کِھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح
کون جانے کہ نئے سال میں تُو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح
——
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا
——
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیاہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
——
میرے گھر کا کچا رستہ
وقت ملے تو زحمت کرنا
——
تمھاری سالگرہ پر
یہ چاند اور یہ ابر رواں گزرتا رہے
جمال شام تہہ آسماں گزرتا رہے
بھرا رہے تیری خوشبو سے تیرا صحن چمن
بس ایک موسم عنبر فشاں گزرتا رہے
سماعتیں تیرے لہجے سے پھول چنتی رہیں
دلوں کے ساز پہ تو نغمہ خواں گزرتا رہے
خدا کرے تیری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں
دیار وقت سے تو شادماں گزرتا رہے
میں تجھ کو دیکھ نہ پاؤں تو کچھ ملال نہیں
کہیں بھی ہو تو ستارہ نشاں گزرتا رہے
میں مانگتی ہوں تیری زندگی قیامت تک
ہوا کی طرح سے تو جادواں گزرتا رہے
میرا ستارہ کہیں ٹوٹ کر بکھر جائے
فلک سے تیرا خط کہکشاں گزرتا رہے
میں تیری چھاؤں میں کچھ دیر بیٹھ لوں اور پھر
تمام راستہ بے سائباں گزرتا رہے
یہ آگ مجھ کو ہمیشہ کیے رہے روشن
میرے وجود سے تو شعلہ ساں گزرتا رہے
میں تجھ کو دیکھ سکوں آخری بصارت تک
نظر کے سامنے بس اک سماں گزرتا رہے
ہمارا نام کہیں تو لکھا ہوا ہو گا
مہ و نجوم سے یہ خاکداں گزرتا رہے
——
تاج محل
سنگ مرمر کی خنک بانہوں میں
حسن خوابیدہ کے آگے مری آنکھیں شل ہیں
گنگ صدیوں کے تناظر میں کوئی بولتا ہے
وقت جذبے کے ترازو پہ زر و سیم و جواہر کی تڑپ تولتا ہے!
ہر نئے چاند پہ پتھر وہی سچ کہتے ہیں
اسی لمحے سے دمک اٹھتے میں ان کے چہرے
جس کی لو عمر گئے اک دل شب زاد کو مہتاب بنا آئی تھی!
اسی مہتاب کی اک نرم کرن
سانچۂ سنگ میں ڈھل پائی تو
عشق رنگ ابدیت سے سرافراز ہوا
کیا عجب نیند ہے
جس کو چھو کر
جو بھی آتا ہے کھلی آنکھ لیے آتا ہے
سو چکے خواب ابد دیکھنے والے کب کے
اور زمانہ ہے کہ اس خواب کی تعبیر لیے جاگ رہا ہے اب تک!
.............................................

23/11/2022

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے
..
ثاقب لکھنوی کا یومِ وفات
November 24, 1949

24 نومبر 1949ء اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات ہے۔ ثاقب لکھنوی کا اصل نام مرزا ذاکر حسین قزلباش تھا اور وہ 2 جنوری 1869ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔
.........
کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
جوانی نہ رہتی تو پھر ہم نہ رہتے

نشیمن نہ جلتا نشانی تو رہتی
ہمارا تھا کیا ٹھیک رہتے نہ رہتے

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے

کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا
زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے

مری ناؤ اس غم کے دریا میں ثاقب
کنارے پہ آہی گئی بہتے بہتے
....
باغ باں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہوا دینے لگے
……
مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن
زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے
……
کہنے کو مشت پر کی اسیری تو تھی،
مگر خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا
……
دل کے قصے کہاں نہیں ہوتے ہاں،
وہ سب سے بیاں نہیں ہوتے
....................

16/11/2022

کچھ الہ آباد میں ساماں نہیں بہبود کے
یاں دھرا کیا ہے بجز اکبر کے اور امرود کے
اکبر الٰہ آبادی کا یومِ پیدائش
November 16, 1846
(پیدائش: 16 نومبر 1846ء – وفات: 9 ستمبر 1921ء)
——
منتخب کلام
——
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
——
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
——
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے
——
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں
——
اک دن تھا وہ کہ دب گئے تھے لوگ دین سے
اک دن یہ ہے کہ دین دبا ہے مشین سے
——
بتاؤں آپ سے مرنے کے بعد کیا ہوگا
پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا
——
بہت ہی بگڑے وہ کل مجھ سے پہلے بوسے پر
خوش ہوگئے آخر کو تین چار کے بعد
——۔
حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق ہے اتنا
کہ یہ جامے سے باہر ہے اور وہ پاجامے سے باہر ہے
——
یوں قتل سے بچوں کے وہ بد نام نہ ہوتا
افسوس کے فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
——
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھاجو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
——
برق کے لیمپ سے آنکھوں کو بچائے رکھنا
روشنی آتی ہے اور نور چلا جاتا ہے
——
الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں
کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے
——
اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا
——
عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی
ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی
——
دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے
——
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے
نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں
اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے
اس مے سے نہیں مطلب دل جس سے ہے بیگانہ
مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے
اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جا
مہمان نظر اس دم ایک برق تجلی ہے
واں دل میں کہ صدمے دو یاں جی میں کہ سب سہہ لو
ان کا بھی عجب دل ہے میرا بھی عجب جی ہے
ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے
سورج میں لگے دھبا فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے
تعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنا
برکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے
سچ کہتے ہیں شیخ اکبرؔ ہے طاعت حق لازم
ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے
——
حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں
تمہارے معتقد گبرو مسلماں ہوتے جاتے ہیں
الگ سب سے نظر نیچی خرام آہستہ آہستہ
وہ مجھ کو دفن کر کے اب پشیماں ہوتے جاتے ہیں
سوا طفلی سے بھی ہیں بھولی باتیں اب جوانی میں
قیامت ہے کہ دن پر دن وہ ناداں ہوتے جاتے ہیں
کہاں سے لاؤں گا خون جگر ان کے کھلانے کو
ہزاروں طرح کے غم دل کے مہماں ہوتے جاتے ہیں
خرابی خانہ ہائے عیش کی ہے دور گردوں میں
جو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی ویراں ہوتے جاتے ہیں
بیاں میں کیا کروں دل کھول کر شوق شہادت کو
ابھی سے آپ تو شمشیر عریاں ہوتے جاتے ہیں
غضب کی یاد میں عیاریاں واللہ تم کو بھی
غرض قائل تمہارے ہم تو اے جاں ہوتے جاتے ہیں
ادھر ہم سے بھی باتیں آپ کرتے ہیں لگاوٹ کی
ادھر غیروں سے بھی کچھ عہد و پیماں ہوتے جاتے ہیں
——
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے
خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتے
سچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے
کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل
تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے
پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے
کیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے
حیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنا
دشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے
دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے
گرمئ محبت میں وہ ہیں آہ سے مانع
پنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے
——
عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا
جو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا
صبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہل
کھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا
تجربے نے حب دنیا سے سکھایا احتراز
پہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا
شیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیں
دین کی خاطر سے دنیا کو طلب کرنا پڑا
کیا کہوں بے خود ہوا میں کس نگاہ مست سے
عقل کو بھی میری ہستی کا ادب کرنا پڑا
اقتضا فطرت کا رکتا ہے کہیں اے ہم نشیں
شیخ صاحب کو بھی آخر کار شب کرنا پڑا
عالم ہستی کو تھا مد نظر کتمان راز
ایک شے کو دوسری شے کا سبب کرنا پڑا
شعر غیروں کے اسے مطلق نہیں آئے پسند
حضرت اکبرؔ کو بالآخر طلب کرنا پڑا
..................................

05/11/2022

10/10/2022

در دلِ مسلم مقامِ مصطفیؐ است
آبروئے ما ز نامِ مصطفیؐ است

ترجمہ:
مصطفی ﷺ کا مقام مسلمان کے دل میں ہے۔ ہماری عزت و آبرو مصطفی ﷺ کے نام مبارک سے ہے۔
(پروفیسر حمید ﷲ شاہ ہاشمی)
تفہیم:
مسلمانوں کے لیے خدا کے بعد سب سے زیادہ لائق تکریم و احترام حضور ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ آپ ﷺ ہی مسلمانوں کے اصل محبوب ہیں اور حضور ﷺ ہی سے وابستگی کی بنا پر مسلمان دونوں جہانوں میں عزت و سرخروئی حاصل کر سکتے ہیں۔
(خواجہ حمید یزدانی)
فرھنگ:
۱۔ در ۔۔۔۔۔ میں ۔اندر۔ بھیتر۔ بیچ۔ مخفی۔ پوشیدہ۔ اخفا۔ اندرون۔
۲۔ دلِ ۔۔۔۔۔ ایک عضوِ جسم جو بائیں پہلو کی سمت سینہ میں دھڑکتا ہے اور خون رگوں میں پہنچانے کا کام کرتا ھے۔ یہ دھڑکنا بند ہو جائے تو جسم فوراً مردہ ہو جاتا ھے۔ مرکز۔ قلب۔ کسی چیز کا باطن۔ وسط۔ فواد۔
۳۔مسلم ۔۔۔۔۔مسلمان۔ مومن۔ دین اسلام کا پیرو۔ تسلیم و رضا کا پیکر۔
حدیث پاک:- المسلم من سلم المسلمون باللسانہ و یدہ۔
ترجمہ:-
مسلمان ایمان والا وہ ھے جس کی زبان اور ھاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت و محفوظ ھیں۔
۴۔مقامِ ۔۔۔۔۔ جگہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ مکان۔ مسکن۔ پڑاؤ۔ ٹھکانہ۔ گھر۔ بسیرا۔ منزل۔ اترنے کی جگہ۔ جمع مقامات۔
۵۔ مصطفےٰ ﷺ ۔۔۔۔۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا لقب۔ چنا ہوا۔ انتخاب کیا ھوا۔ برگزیدہ۔ پسندیدہ۔مقبول۔ ھر دلعزیز۔
۶۔ است ۔۔۔۔۔ ھے۔ موجود۔ وجود ھے۔ تابع فعل۔
۷۔ آبروئے ۔۔۔۔۔عصمت۔ قدر و منزلت۔ شرف۔ ساکھ۔ اعتبار۔ شرم۔ لاج۔
۸۔ ما ۔۔۔۔۔ من (میں) کی جمع.۔ہماری۔ہم۔ ہمیں۔ ہمارا۔ ہمارے۔
۹۔ ز ۔۔۔۔۔ از کا مخفف۔ سے۔ ساتھ۔
١٠۔ نامِ ۔۔۔۔۔ وہ لفظ جس سے کسی شخص یا چیز کی ہہچان ھو۔ اسم۔ Noun. لقب۔ کنیت ۔ خطاب۔ اسم معرفہ۔
١١۔ مصطفیٰ ﷺ۔۔۔۔۔ نمبر ۵ پر ملاحظہ کریں۔
١٢۔ است ۔۔۔۔۔ ھے۔ موجود۔ وجود ھے۔ حاضر ھے۔ تابع فعل۔
(فرھنگ از سلامت علی چشتی صابری)
حوالہ:
کلام: علامہ محمد اقبالؒ
کتاب: اسرارِ خودی
در بیان اینکہ خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد ( اس بیان میں کہ خودی عشق و محبت سے مضبوط ہوتی ہے)
شعر نمبر ۱۵

شرح پیش کش: ملک محمد عارف بارا

In the Muslim ’s heart is the home of Muhammad,
All our glory is from the name of Muhammad.

Reference: http://goo.gl/AtpC6y

17/07/2022

یوم شہادت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ





👇👇🏼👇👇🏼👇

17/07/2022

شہرت و ناموری کی چکر میں نہ پڑیں

13/07/2022

Here is the Entry for the day

يہ ايک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے ديتا ہے آدمی کو نجات

Ye Aik Sajda Jise Tu Garan Samajhta Hai
Hazar Sajde Se Deta Hai Admi Ko Nijat!

Prostration ’fore God you presume as irksome, tedious, burden great;
But mind, this homage sets you free from bonds of men, of might who prate!

Reference: https://goo.gl/u8hUyr

07/07/2022



زندگی کوۓ ملامت میں تو اب آٸی ھے
اور کچھ چاھنے والوں کے سبب آٸی ھے

ھم فقیروں میں کسی طور شکایت تیری
لب پہ آٸی بھی تو تا حدِ ادب آٸی ھے

پھول سے کھلتے چلے جاتے ھیں جیسے دل میں
اس گلستاں میں عجب موج طرب آٸی ھے

میری پوشاک میں تارے سے اچانک چمکے
کس کے آنگن سے یہ ھوتی ھوٸی شب آٸی ھے

کس سے پوچھوں پس دیوار چمن کیا گزری
میرے گھر میں تو ھوا مُہر بہ لب آٸی ھے

کون سے پُھول تھے کل رات تیرے بستر پر
آج خوشبُو ، تیرے پہلو سے عجب آٸی ھے

پروین شاکر

30/06/2022

Here is the Entry for the day

علم کا مقصود ہے پاکیِ عقل و خرد
فقر کا مقصود ہے عفتِ قلب و نگاہ

Ilm Ka Maqsood Hai Paki-e-Aqal-o-Khirad
Faqr Ka Maqsood Hai Iffat-e-Qalb-o-Nigah

By means of learning mind and brain, no doubt, become refined and pure:
Faqr makes the heart and gaze of man from earthly filth and dross secure.

علم کا مقصود یہ ہے کہ عقل و خرد میں پاکیزگی اور جلا پیدا ہو جائے، فقر دل او نگاہ کو پاک کرنا چاہتا ہے۔
غلام رسول مہر

Reference: https://goo.gl/Q84eJD

29/06/2022

Here is the Entry for the day

خدا سے پھر وہی قلب و نظر مانگ
نہيں ممکن اميری بے فقيری

Khuda Se Phir Wohi Qalb-o-Nazar Mang
Nahin Mumkin Ameeri Be-Faqeeri

Ask God for the heart and soul of men of the past,
Become a fakir, first, to regain thy power.

تو خدا سے پھر پہلا سا دل اور پہلی سی نظر مانگ جو تجھ میں فقیری کی شان پیدا کردے۔ یاد رکھ، فقیری کے بغیر امیری حاصل نہیں ہوسکتی۔
غلام رسول مہر

Reference: https://goo.gl/8oMiBd

22/06/2022


السلام علیکم
صبح بخیر زندگی
بیشک
آ مین

16/06/2022

Here is the Entry for the day

!خودی ميں گم ہے خدائی ، تلاش کر غافل
يہی ہے تيرے ليے اب صلاحِ کار کی راہ

Khudi Mein Gum Hai Khudai, Talash Kar Ghafil!
Yehi Hai Tere Liye Ab Salah-e-Kaar Ki Rah

Absorb yourself in self-hood, seek the path of God,
This is the only way for you to find freedom.

Khudi Mein Gum Hai Khudai, Talash Kar Ghafil!
Yehi Hai Tere Liye Ab Salah-e-Kaar Ki Rah

اے غافل! خدائی خودی میں چھپی ہوئی ہے، تو اسے وہیں ڈھونڈ اور تیرے کاروبار کی درستی کا یہی طریقہ ہے۔
غلام رسول مہر

Reference: https://goo.gl/bKFK5g

15/06/2022

Here is the Entry for the day

وہ سجدہ ، روحِ زميں جس سے کانپ جاتی تھی
اُسی کو آج ترستے ہيں منبر و محراب

Woh Sajda, Rooh-E-Zameen Jis Se Kanp Jati Thi
Ussi Ko Aj Taraste Hain Minber-O-Mehrab

The prostration that once shook the earth’s soul,
Now leaves not a trace on the mosque’s decadent walls.

آج مسجدوں کے منبر و محراب ان سجدوں کو ترس رہے ہیں جن سے زمین کی روح کانپ جاتی تھی، یعنی علمائے شریعت کی شان وہ نہ رہی جس کی برکت سے ان کے سجدے زمین کو لرزا دیتے تھے۔ غلام رسول مہر

Reference: https://goo.gl/L93Zxu

Photos from Bazm-e-Raza. Rishra's post 03/05/2022
Photos from Inside the Haramain's post 02/04/2022
25/02/2022

اے پوری تھیوے نہ تھیوے مگر بےکار نئیں ویندی
دعا شاکر تو منگی رکھ.... دعا جانڑے...خداجانڑے
.....
سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یوم پیدائش
25 February 1968
شاکر شجاع آبادی سرائیکی زبان کے مشہور اور ہر دل عزیز شاعر ہیں۔ جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر اور انقلابی شاعر کہا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام محمد شفیع ہے اور تخلص شاکرؔ ہے، شجاع آباد کی نسبت سے شاکر شجاع آبادی مشہور ہے۔
شاکر شجاع آبادی کی پیدائش 25 فروری 1968ء کو شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام میں ہوئی جو ملتان سے ستر 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔
——
منتخب کلام
——
اے شہرت نام تے عزت خدا دی مہربانی اے
وڈیائی چھوڑ دے شاکر وڈیائی ماردیندی اے
...
بہّتر حور دے بدلے گذارا ہِک تے کر گھنسوں
اکہتر حور دے بدلے اساکوں رج کے روٹی دے
......
جے سچ آکھنڑ بغاوت ہےِ بغاوت ناں ہےِ شاکر دا
چڑھاؤ نیزے تے سر بھانویں میڈے خیمے جلا ڈیوؤ
....
نہ جسم تیڈا نہ جان تیڈی اے ترکہ رب رحمان دا ہے
اوندے حکم بغیر تو بے وس ھئیں اے فیصلہ پڑھ قرآن دا ہے
میڈے جسم تے میڈی مرضی ہے اے وہم گمان انسان دا ہے
تیڈی روح ہے شاکر مالک دی تیڈا ڈھانچہ قبرستان دا ہے
......
نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
جڈاں ہتہاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن
....
دل ساڈا شاکر شیشے دا
ارمان لوہار دے ہتھ آ گئے
.....
ایتھاں جو بھوگ بھوگے ہِن
اُتھاں کوئی جزا مِلسی
تھکیڑے سارے لہہ ویسن
نبیؐ مِلسی خدا مِلسی۔۔۔!!
....
غریب کوں کئیں غریب کیتے ، امیرزادو جواب ڈیوو
ضرورتاں دا حساب گھنو ، عیاشیاں دا حساب ڈیوو
......
جھونکا ہوا کا تھا آیا گزر گیا
کشتی میری ڈبو کے دریا اتر گیا
میرے پیار پہ جو صدقہ میرے یار نے دیا
دیکھا جو غور سے تو میرا ہی سر گیا
بٹتی ہیں اب نیازیں اس کے مزار پر
کچھ روز پہلے شخص جو فاقون سے مر گیا
مجھے قتل کر کے شاکرؔ رویا وہ بے پناہ
کتنی ہی سادگی سے قاتل مکر گیا
.......
تو محنت کر تہ محنت دا صلہ جانڑے خدا جانڑے
تو ڈیوا بال کے رکھ چا، ہوا جانڑے خدا جانڑے
خزاں دا خوف تاں‌مالی کوں بزدل کر نئیں سکدا
چمن آباد رکھ، باد صبا جانڑے ، خدا جانڑے
مریض عشق خود کوں‌کر، دوا دل دی سمجھ دلبر
مرض جانے، دوا جانڑے، شفا جانڑے ، خدا جانڑے
جہ مر کے زندگی چاہندیں، فقیری ٹوٹکا سنڑ گھن
وفا دے وچ فنا تھی ونج، بقا جانڑے، خداجانڑے
اے پوری تھیوے نہ تھیوے مگر بےکار نئیں ویندی
دعا شاکر تو منگی رکھ، دعا جانڑے، خداجانڑے
.....
فکر دا سج ابھردا ہئے سوچیندیاں شام تھی ویندی
خیالیں وچ سکون اجکل گولیندیاں شام تھی ویندی
انھاں دے بال ساری رات روندین، بُھک توں سُمدے نئی
جنھاں دی کہیں دے بالاں کوں کھڈیندیاں شام تھی ویندی
غریباں دی دعا یارب خبر نہیں کن کریندا ہیں
سدا ہنجوؤاں دی تسبیح کُوں پھریندیاں شام تھی ویندی
کڈھیں تاں دُکھ وی ٹل ویسن کڈھیں تاں سکھ دے ساھ ولسن
پُلا خالی خیالاں دے پکیندیاں شام تھی ویندی
میڈا رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کردے
جو روٹی رات دی پوری کریندیاں شام تھی ویندی
میں شاکر بُھک دا ماریا ہاں مگر حاتم تُوں گھٹ کائینی
قلم خیرات میڈی ہے چلیندیاں شام تھی ویندی
.............

21/02/2022

کریم پروردگار کے چار وعدے

👇🏽👇👇🏽👇👇🏽👇

09/01/2022

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
....
نواب مرزا شوقؔ لکھنوی ( تصدّق حُسین خان ) کا یومِ ولادت
06؍جنوری 1773
( پیدائش: 06؍جنوری 1773 - وفات: 30 جون 1871)
.....
منتخب کلام
ثابت یہ کر رہا ہوں کہ رحمت شناس ہوں
ہر قسم کا گناہ کیے جا رہا ہوں میں
....
گئے جو عیش کے دن میں شباب کیا کرتا
لگا کے جان کو اپنی عذاب کیا کرتا
....
گیسو رخ پر ہوا سے ہلتے ہیں
چلئے اب دونوں وقت ملتے ہیں
.....
دیکھ لو ہم کو آج جی بھر کے
کوئی آتا نہیں ہے پھر مر کے
.....
چمن میں شب کو گھرا ابر نو بہار رہا
حضور آپ کا کیا کیا نہ انتظار رہا
...
کہنے میں نہیں ہیں وہ ہمارے کئی دن سے
پھرتے ہیں انہیں غیر ابھارے کئی دن سے

جلوے نہیں دیکھے جو تمہارے کئی دن سے
اندھیرے ہیں نزدیک ہمارے کئی دن سے

بے صبح نکلتا نہیں وو رات کو گھر سے
خورشید کے انداز ہیں سارے کئی دن سے

ہم جان گئے آنکھ ملاؤ نہ ملاؤ
بگڑے ہوئے تیور ہیں تمہارے کئی دن سے

کس چاک گریباں کا کیا آپ نے ماتم
کپڑے بھی نہیں تم نے اتارے کئی دن سے

دیوانہ ہے سودائی ہے فرماتے ہیں اکثر
ان ناموں سے جاتے ہیں پکارے کئی دن سے

دل پھنس گیا ہے آپ کی زلفوں میں ہمارا
ہیں بندۂ بے دام تمہارے کئی دن سے

منہ گال پے رکھ دیتے ہیں سوتے میں چمٹ کر
کچھ کچھ تو حیا کم ہوئی بارے کئی دن سے

مہندی بھی ہے مسی بھی ہے لاکھا بھی ہے لب پر
کچھ رنگ ہیں بے رنگ تمہارے کئی دن سے

ڈر سے ترے کاکل کے نہیں چلتے ہیں رستہ
دم بند ہیں اس سانپ کے مارے کئی دن سے

آخر مری آہوں نے اثر اپنا دکھایا
گھبرائے ہوئے پھرتے ہو پیارے کئی دن سے

کس کشتۂ کاکل کا رکھا سوگ مری جاں
گیسو نہیں کیوں تم نے سنوارے کئی دن سے

پامال کرو گے کسی وارفتہ کو اپنے
اٹکھیلیاں ہیں چال میں پیارے کئی دن سے

اک شب مرے گھر آن کے مہمان رہے تھے
آئے نہیں اس شرم کے مارے کئی دن سے

پھر شوقؔ سے کیا اس بت عیار سے بگڑی
ہوتے نہیں باہم جو اشارے کئی دن سے
.....
آپ کی گر مہربانی ہو چکی
تو ہماری زندگانی ہو چکی

بیٹھ کر اٹھے نہ کوئے یار سے
انتہائے ناتوانی ہو چکی

ہنس دیا رونے پہ وہ اے چشم تر
آبرو اشکوں کی پانی ہو چکی
.......

09/01/2022

07؍جنوری 1785
حضرت خواجہ میر دردؔ کا یومِ وفات
(ولادت: 1720 - وفات: 07 جنوری 1785)
خواجہ میر دردؔ صاحب کے منتخب اشعار
...
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
--------
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
--------
اذیت مصیبت ملامت بلائیں
ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
--------
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
--------
نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز
گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
--------
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
--------
میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے
مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
--------
کبھو رونا کبھو ہنسنا کبھو حیران ہو جانا
محبت کیا بھلے چنگے کو دیوانہ بناتی ہے
--------
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
--------
جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
--------
ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
--------
ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
--------
دشمنی نے سنا نہ ہووے گا
جو ہمیں دوستی نے دکھلایا
--------
حال مجھ غم زدہ کا جس جس نے
جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا
--------
ہر چند تجھے صبر نہیں درد ولیکن
اتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام بہت ہو
--------
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
--------
تمنا تری ہے اگر ہے تمنا
تری آرزو ہے اگر آرزو ہے
--------
مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
--------
کاش اس کے رو بہ رو نہ کریں مجھ کو حشر میں
کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
--------
آگے ہی بن کہے تو کہے ہے نہیں نہیں
تجھ سے ابھی تو ہم نے وے باتیں کہی نہیں
--------
کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری
جی میں یہ کس کا تصور آ گیا
--------
دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا
آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا
--------
قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
--------
ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر
لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا
--------
ایک ایمان ہے بساط اپنی
نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے
--------
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں
.........................

08/01/2022

اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مرد مجاہد تجھے کیا پیش کروں
........
مسرور انور کا یومِ پیدائش
(پیدائش : 6 جنوری 1944 - وفات یکم اپریل 1996)
.....
ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی

نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی

کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں
کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی
.....................

#1
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے
قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے

تیرا ہر اک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا
تیرے دم سے شان ہماری تجھ سے نام ہمارا
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے
قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے
قدم قدم آباد تجھے

دھڑکن دھڑکن پیار ہے تیرا
قدم قدم پر گیت رے
دھڑکن دھڑکن پیار ہے تیرا
قدم قدم پر گیت رے
بستی بستی تیرا چرچا نگر نگر اے میت رے
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے

سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے
قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے
قدم قدم آباد تجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے

تیری پیاری سج دھج کی ہم اتنی شان بڑھائیں
آنے والی نسلیں تیری عظمت کے گن گائیں

جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے

سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے
قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے
قدم قدم آباد تجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے
............

27/12/2021

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
...
قتیل شفائی کی پیدائش
24 December 1919

اردو کے ممتاز شاعر قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا اور وہ 24 دسمبر 1919ء کو ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قتیل شفائی نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول ہری پور میں حاصل کی تھی۔ بعدازاں وہ راولپنڈی میں قیام پذیر ہوئے جہاں انہوں نے حکیم محمد یحییٰ شفا سے اپنے کلام پر اصلاح لینا شروع کی اور انہی کی نسبت سے خود کو شفائی لکھنا شروع کیا۔ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں احمد ندیم قاسمی کی قربت نے ان کی علمی اور ادبی آبیاری کی۔ 1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کئے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لئے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انہوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا اور وہ اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ہریالی، گجر، جل ترنگ، روزن، گھنگرو، جھومر، مطربہ، چھتنار، پیراہن، برگد، آموختہ، گفتگو، آوازوں کے سائے اور سمندر میں سیڑھی کے نام شامل ہیں۔ ان کی آپ بیتی ان کی وفات کے بعد ’’گھنگرو ٹوٹ گئے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا تھا۔ ٭11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دل ہی کیا جو ترے ملنے کی دعا نہ کرے
میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے
یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
خدا کسی سے کسی کو مگر جدا نہ کرے
سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے
جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے
زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے
قتیلؔ جان سے جائے پر التجا نہ کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں
اُس کے چہرے کی تلاوت کر رہا ہُوں
لو خریدو اِک نظر کے مول مجھ کو
اپنی قیمت میں رعایت کر رہا ہُوں
لی ہے ضبط نے مجھ سے اجازت
اپنے مہمانوں کو رخصت کر رہا ہوں
چِھن گیا مُلکِ جوانی بھی تو کیا غم
اب بھی یادوں پر حکومت کر رہا ہوں
کوئی بھی غم اُس کو لوٹایا نہیں ہے
یوں امانت میں خیانت کر رہا ہوں
اُس نے تو بس اک ذرا سی بات چھیڑی
میں وضاحت پر وضاحت کر رہا ہوں
عشق کر کے آپ بھی بن جائیں انساں
شیخ صاحب کو نصیحت کر رہا ہوں
عاشقی طوفان گریہ چاہتی ہے
اور میں آہوں پر قناعت کر رہا ہوں
آسماں جو شخص ہے سب کی نظر میں
اُس کو چھو لینے کی جُرات کر رہا ہوں
میں نے دیکھا ہے قتیلؔ اُ س کا سراپا
میں کہاں ذکرِ قیامت کر رہا ہوں
۔۔۔۔........

Want your school to be the top-listed School/college in Rishra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

24, G. T. Road. NEAR ;BADI MASJID. RISHRA. HOOGHLY
Rishra
712248
Other Education in Rishra (show all)
Anirban Kirtania Anirban Kirtania
Rishra

all time ��

Rishra Assembly Of Little Buds High School Rishra Assembly Of Little Buds High School
66/D/29 Guru Garden Road Pravash Nagar Serampore Hooghly
Rishra, 712249

Rishra Assembly of Little Buds is an educational institution upto 12th standard with all required fa

A.K.science coaching A.K.science coaching
337,. Nagar
Rishra

ज्ञानगङ्गा - A Sanskrit Teaching Institute ज्ञानगङ्गा - A Sanskrit Teaching Institute
Rishra, 712248

भारतस्य संस्कृतिः संस्कृतसंश्रिता।

Asg Edutech Asg Edutech
P. T. Laha Street
Rishra, 712248

MS-Office, Tally Prime, GST, TDS training for better placement

Rishra vidyapith ncc group Rishra vidyapith ncc group
22Gandhi Sarak Rishra Hooghly
Rishra

GURU Dronacharya Education GURU Dronacharya Education
Rishra, 712249

if you fell down yesterday stand up Today

Rishra Vidyapith unit -II  H.S CO-ED Rishra Vidyapith unit -II H.S CO-ED
Bangur Park
Rishra, 712248

Mission biitjee Mission biitjee
50/A Dewanjee Street
Rishra, 712248

Best coaching institute in Hoogly District which offers KVPY, NEET, IIT-JEE Advance and Mains for Ma

Gnostic Institute Gnostic Institute
W. B
Rishra, 712248

Agar app ko Easy language me Topic ko achhe se samjhna h to app hamare YouTube channel ''GNOSTIC INS

Technical Projects and Trainings Technical Projects and Trainings
Rishra, 712248

Academic and Live Projects for Engineering and MCA Students.