30/06/2022
*📚📚📚📚قسط1️⃣0️⃣📚📚📚📚📚📚📚*
۔ *✍️✍️1.عـــلــــم صرف کی تعریف:* ایسے اصول و ضوابط جن کے ذریعے ایک کلمہ سے دوسرا کلمہ بنانے اور اس میں تبدیلی کرنے کا طریقہ معلوم ہو *جــیسے* الضرب سے ضَرَبَ، ضَرَبَ سے یَضْرِبُ ھکذا!
*✍️✍️2.عـــــلم صرف کا موضوع:*
صیغہ کے اعتبار سے ’’کلمہ‘‘ ہے *جیسے:* نصر ،یدعو،أنصر ،ھکذا!
*✍️✍️3.غـــرض و غایت:*
صیغوں کو بنانے اور ان میں تبدیلی کرنے میں ذہن کو غلطی سے بچانا *جـــیسے* إجتنب سے مضارع یجتنب بکسر العین و أجتنب سے بفتح العین ھکذا !
*وجــــــــه تسمیه:*
علم صرف کو ’’ صرف‘‘ کہنے کی وجہ یہ کہ اس کا لغوی ’’معنی‘‘پھیرنا‘‘ ہے،اور اس علم میں چونکہ ایک کلمہ کو پھیر کر اس کی مختلف صورتیں بنانے کے طریقے بیان کیے جاتے ہیں اس لیے اس علم کو ’’علم صرف‘‘ کہتے ہیں
*✍️✍️صیـــغه کی تعریف:*
صیغہ کلمہ کی اس شکل کو کہتے ہیں جو حروف اور حرکات و سکنات کی مخصوص ترتیب سے حاصل ہوتی ہے_ *مثلا* أَکْرَمَ
*نــقلــه:مـــحمد نازش رضا خان القادري*
02/06/2022
*الجواب بعون الله تعالی*
لا سیما کے اعراب کے لۓ ضروری قواعد
1.اگر ما بعد لا سیما کے نکرہ ہو تو اسکو تین طرح کا اعراب دیا جاتا ہے ( رفع ۔نصب۔جر)
مثلا لا سیما طالبٌ مجتھد
لا سیما طالباً مجتھدا
لا سیما طالبٍ مجتھدٍ
*نوٹ* 1.جب لا سیما کے ما کو نکرۂ مبھمہ اعتبار کیا جائے تو ما بعد والا جملہ تمییز کی بناء پر منصوب ہوگا
2.جب لا سیما کا ما کو زائدہ مانا جاۓ تو ما بعد مضاف الیہ کی بناء پر مجرور ہوگا
3۔جب لا سیما کا ما اسم موصول مانا جاۓ تو ما بعد مرفوع ہوگا خبر ہونے کی بناء پر اور مبتدا محذوف ہوگا وجوبی طور پر
جب لا سیما کے ما بعد معرفہ ہو تو فقط دو اعراب دینا جائز ہے 1۔رفع۔2.جر
1.جب لا سیما کا ما اسم موصول ہو تو ما بعد والا جملہ مرفوع ہوگا خبر ہونے کی وجہ سے اور مبتدا محذوف ہوگا وجوبی طور
2.جب لا سیما کا ما زائدہ ہو تو ما بعد والا مجرور ہوگا مضاف الیہ کے بعد
مثلا لا سیما الصدقُ۔او الصدقِ
*1.لا سیما علمِ التوحید و علم السر*
لا نافیہ برائے جنس لا محل له من الاعراب
سی اسم براۓ نفی جنس منصوب مبنی بر فتح
ما زائدہ لا محل له من الاعراب
علم التوحید مضاف الیہ+ مضاف معطوف علیہ
و حرف عطف
علم السر مضاف الیہ +مضاف سے ملکر معطوف
معطوف علیہ معطوف سے ملکر مضاف الیہ
مضاف اپنے مضاف الیہ سے ملکر لا کا اسم
خبر محذوف موجود
موجود اسم مفعول صیغہ واحد مذکر ھو ضمیر مرفوع متصل مضمر نائب فاعل اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہوکر لا کی خبر
لا اپنے اسم و خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا
*2.لاسیما علمُ التوحید و علم السر*
لا نافیہ برائے جنس
سی مضاف
ما اسم موصول بمعنی الذی فی محل جر مضاف الیہ
علم التوحید
مضاف الیہ+ مضاف معطوف علیہ
و حرف عطف
علم السر مضاف الیہ +مضاف معطوف
معطوف علیہ معطوف سے ملکر خبر
براۓ مبتدا محذوف ھو ضمیر مرفوع منفصل
مبتدا محذوف اپنی خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوکر صلہ
اسم موصول اپنے صلہ سے ملکر مضاف الیہ
مضاف الیہ اپنے مضاف سے ملکر لا کا اسم
موجود اسم مفعول خبر محذوف
موجود اسم مفعول اسمیں ھو ضمیر مرفوع متصل مضمر نائب فاعل
اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہوکر خبر
لا نافیہ برائے جنس اپنے اسم و خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا
و الله و رسوله اعلم بالصواب
طالب دعا فقیر قادری گداۓ تاج الشریعہ رضا نازش رضا خان قادری ھندی متعلم الجامعۃ القادریہ مجوزہ عربی یونیورسٹی بریلی شریف یوپی الھند
21/05/2022
📗📗📗📗📗📗📗📗
*ھذا درس الیوم لعلم التفسیر*
📗📗📗📗📗📗📗📗
*حضرت قاضی بیضاوی رحمه الله تعالی نے پہلے ذات واجب الوجود کی منزل بالکسر صفت کو ذکر کیا اسکے بعد منزل علیھم کا ذکر شروع کیا تو منزل علیھم سے عباد کی تین قسموں کی جانب اشارہ ہے ایک وہ شخص جو اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے جسکے متعلق قرآن مجید میں ہے فطرت الله التی فطر الناس علیھا اور کل مولود یولد علی الفطرۃ تو یہاں فطرت سے یہی صلاحیت اور فطرت نور مراد ہے یعنی مولود ایسی نور فطرت و صلاحیت لیکر پیدا ہوتا ہے جو من جانب القدرۃ قبول حق کے لیے مہیا تیار رہتی ہے پھر وہ عاقل و بالغ ہوتا ہے تو اپنی نور فطرت اور صلاحیت کو ضائع و برباد کر دیتا ہے احکام الٰہی کو تسلیم نہ کرکے اور دعوت رسول کو قبول نہ کرکے امتثال علی الاوامر اور اجتناب عن النواہی پر عمل نہ کرکے تو اس اول شخص کی حالت بیان کی ومن لم یرفع راسه و اطفأ نبراسه سے اور اسکی جزا بیان فرمائ یعش ذمیما و یصل سعیرا سے رہا وہ بندہ جسنے نور فطرت و صلاحیت کو احکام الٰہی تسلیم کرنے اور دعوت رسول کو قبول کرنے میں لگایا اور نور فطرت اور صلاحیت کو ضائع و برباد نہیں کیا تو اسکی دو قسمیں ہیں ایک جسنے احکام الٰہی کو تسلیم کیا اور دعوت رسول کو قبول کیا اور امتثال علی الاوامر اور اجتناب عن النواہی کے دائرے میں حیات بسر کی اور بشری کدورت و آلائش و غلاظت و آلودگی سے دور رہا یہاں تک کہ تو اسکو نظافت قلب حاصل ہو گیا الحاصل جمیع احکام الٰہی اور اطاعت رسول میں مستغرق رہا تو باری تعالیٰ نے اس شخص کے لیے قرآن مجید کے اسرار و رموز اور حقائق و لطائف کو عیاں کردیا تو اسکی تعبیر کو بیان کیا فمن کا له قلب سے اور دوسرا وہ بندہ جسنے اپنی صلاحیت اور نور فطرت کو ضائع و برباد نہیں کیا بلکہ احکام الٰہی اور دعوت رسول کو قبول و تسلیم کیا مگر امتثال علی الاوامر اور اجتناب عن النواہی پر عمل نہیں کیا اور بشری آلائش و آلودگی اور غلاظت سے دور نہیں رہا بلکہ انکی برائ و غیبت میں ملوث رہا یہاں تک کہ اسکو نظافت قلب حاصل نہیں ہوا تو اسکے لۓ قرآن مجید کے اسرار و رموز و لطائف و حقائق کو منکشف نہیں کیا مگر توجہ بحضور قلب سے سماعت کرتا ہے تو اسکی حالت کو بیان کیا القی السمع وھو شھید سے اور ان دونوں کی جزا کو بیان فرمایا فھو فی الدارین سعید و حمید سے*
*اعتراض مصنف علیہ الرحمۃ و الرضوان نے جب دونوں شخصوں کی جزا کو ذکر کیا تو ہوں فرمایا فھو فی الدارین اور نحو کا قاعدہ ہے راجع و مرجع میں مطابقت ہوتی ہے وحدت و تثنیہ اور جمعیت کے اعتبار سے مگر مصنف علیہ الرحمۃ و الرضوان نے اسکے بر خلاف کیوں کیا کہ مرجع دو ( فمن کا له قلب او القی السمع وھو شھید) اور راجع ایک ( فھو) ؟؟*
*جواب نحو میں جہاں یہ قاعدہ ہے کہ راجع اور مرجع میں واحد و تثنیہ اور جمع کے اعتبار سے مطابقت ہوتی ہے تو وہیں ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ جب دو جملوں کے مابین عاطف حروف عاطفہ میں سے حرف عطف او ہو تو راجع اور مرجع میں بلا مطابقت کے بھی واحد کو تثنیہ یا جمع کی جانب راجع بنانا درست اور جائز ہوتا ہے اس وجہ سے مصنف علیہ الرحمۃ و الرضوان نے ایسا کیا اور نحوی قاعدے کی مخالفت نہیں کی بلکہ مطابقت کی ہے*
*اعتراض مصنف علیہ الرحمۃ و الرضوان نے اولا ذات واجب الوجود کے اسماء مبارکہ اور صفات کاملہ کو ذکر کیا جو کہ غیبوبت پر دال ہیں اسکے بعد فیا واجب الوجود کو ذکر کیا جوکہ خطاب پر دال ہے تو مصنف علیہ الرحمۃ و الرضوان نے غیبوبت سے خطاب کی جانب التفات کیوں کیا؟؟*
*جواب مصنف علیہ الرحمۃ و الرضوان نے ذات واجب الوجود کی ایسی معظم و مکرم صفات کمالیہ کا ذکر کیا جسے واجب الوجود کا تعین و تشخص علمی ہو گیا پھر اس تشخص علمی کو تشخص شھودی کے درجہ میں اتار لیا اور جب تعین حضوری کی منزل میں اتار لیا تو غیبوبت سے خطاب کی جانب التفات صحیح ہوا*
✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️
*طالب الدعاء فقیر قادری گداۓ حضور تاج الشریعہ علیه الرحمۃ و الرضوان رضا نازش رضا خان قادری فاضل متعلم الجامعۃ القادریہ مجوزہ عربی یونیورسٹی*
21/05/2022
.*📗📗 📗📗*
*سبعة أشياء من حيث مقدمة الجيش لعلم التفسير*
*1.تعريف التفسير*
*2.موضوعه*
*3.غرضه*
*4.ما به الاستمداد*
*5.حكم التفسير* *(تعليم علم التفسير)*
*6.المرتبة*
*7.تعارف المصنف*( *الحضرة* *قاضي)*
*١.تعريف التفسير لغة* *الكشف.الانكشاف.الضوء*
تعريف التفسير اصطلاحا عند الجمهور*
*هو علم بأصول يعرف بها معاني كلام الله تعالى بحسب طاقة البشرية
عند الحضرة سعد الدين التفتازاني هو العلم الباحث عن أصول كلام الله تعالى من حيث الدلالة على المراد
الفرق بين التفسير و التأويل
١.التفسير يفيد اليقين بتعيين معاني كلام الله تعالى
و التأويل يفيد الترجيح في أحد المحتملات
٢.التفسير ما يتعلق به الرواية و النقل و التأويل ما يتعلق به الدراية و النقل
٢.الايات القرآنية
٣.الفوز بسعادة الدارين ( فوز سعادة الدنيوي الامتثال علي الأوامر و الاجتناب عن النواهي و فوز سعادة الأخروي ترتب الثواب عليهما)
٤.ما به الاستمداد هي أمور نحتاج إليها في تعيين معاني كلام الله تعالى
وهو خمس
١.كلام الله تعالى ٢.الاحاديث النبوية ٣.اثار الصحابة رضوان الله تعالى عليهم من حيث المرتبة و القدر و المقام يعني الأفضل فالأفضل و الفضيلة للتقديم ٤.اقوال التابعين رضوان الله تعالى عليهم من حيث المنزل و التقديم و التاخير ٥. كلام عربي النثر فصحاء العرب من حيث العاربة و المستعملة
كتبه ✍️✍️✍️✍️ العبد المفتقر إلى الله المقتدر محمد نازش رضا خان القادري