Anwari Jamia Tul Mohsinat Rampur

Anwari Jamia Tul Mohsinat Rampur

Share

Girls Education Division Of Markazi Darsgah-e- Ahl-e-Sunnat Al Jamia Tul Islamia Puranagunj Rampur 244901 U.P

Photos from Anwari Jamia Tul Mohsinat Rampur's post 05/02/2026

انوری جامعۃ المحسنات بزریہ ہمت خاں رامپور کا
سالانہ عظیم الشان جشنِ رِدائے فضیلت

انوری جامعۃ المحسنات بزریہ ہمت خاں پیر کی پینٹھ رامپور شعبہ نسواں مرکزی درسگاہ اہلسنت الجامعۃ الاسلامیہ، پرانا گنج، رامپور کے سالانہ عظیم الشان جشنِ رِدائے فضیلت کی تقریب زیر سرپرستی قاضی القضاۃ فی الہند، جانشین تاج الشریعہ برہان الشریعہ حضرت علامہ الحاج مفتی محمد عسجد رضا خاں قادری رضوی -دامت معالیہم -بتاریخ 4/ فروری 2026ء بروز بدھ *سٹی میرج ہال* پکا باغ رامپور میں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقدہوئی ۔
صبح 9 بجے جلسہ کا آغاز جامعہ کی درجہ قراءت سے سند حاصل کرنے والی متعلمہ نصرت بی کی تلاوت سے ہوا۔ نظامت کے فرا ئض جامعہ کی دو متعلمات سدرہ فاطمہ (متعلمہ درجہ خامسہ ) اور شازیہ فاطمہ (متعلمہ درجہ ثالثہ) نے انجام دیئے۔ مختلف درجات کی طالبات نے یکے بعد دیگرے حمد و نعت کے نذرانے پیش کئے۔ متعلمہ شمائل فاظمہ نے حمد باری پیش کی ۔ اور متعلمات میں سے کنیز حسن، کہکشاں فاطمہ، نازیہ فاطمہ ، شازیہ فاطمہ،عائشہ بی،علوینہ فاطمہ ،انزلہ فاطمہ نے بارگاہِ رسالت مآب - علیہ الصلاۃ والسلام – میں" نعت پاک "کے نذرانے پیش کئے اورمعلمات میں سے عالمہ شبانہ فاطمہ ، عالمہ ریشمہ فاطمہ ، عالمہ اقصیٰ فاطمہ ، عالمہ رُشدہ فاطمہ اور باہر سے آئی ہوئی مہمان عالمہ عائشہ فاطمہ اور عالمہ انعم
فاطمہ نے بھی " نعت مصطفیٰ " ﷺ کے تحائف پیش کئے۔

بعدہٗ امسال جامعہ کے درجہ فضیلت سے فارغ ہونے والی تین فاضلات نشا بی بنت شمشاد حسین ( فیض اللہ نگر، رامپور ) شاہدہ بھی بنت منور حسین (سکٹوا بلاسپور )، عالمہ نوری بنت محمد احمد صاحب (بلاسپور) نے پر مغز خطابات کئے ۔
جامعہ کی عصری علوم کی ماہر ٹیچر بُشریٰ فاطمہ نے "انگلش " میں بہترین تقریر کی ۔

ان حضرات نے اپنے خطابات میں نہایت بصیرت افروز اور دلنشین نکات پیش کیے۔ ان کے کلمات میں تین بنیادی پہلو نمایاں رہے۔پہلا:حصولِ علمِ دین، انہوں نے واضح کیا کہ دینی تعلیم انسان کی زندگی کا اصل سرمایہ ہے، یہی علم بندے کو معرفتِ الٰہی اور قربِ مصطفی ﷺ تک پہنچاتا ہے۔دوسرا:حیا و پردہ،انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں حیا اور پردے کی اہمیت پر زور دیا، اور اسوۂ صحابیات کے واقعات سے سامعات کے دلوں میں عفت و عصمت کے جذبات کو تازہ کیا ۔تیسرا:اتباعِ مصطفی ﷺ و اتباعِ شریعت۔موصوفات نے خطابات میں اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب زندگی کے ہر شعبے میں رسولِ اکرم ﷺ کی سنت اور شریعتِ مطہرہ کی پیروی کی جائے۔الغرض جملہ خطابات نہ صرف علمی اعتبار سے پُر مغز تھے بلکہ روحانی و اخلاقی اعتبار سے بھی سامعات کے دلوں کو منور کرنے والے ثابت ہوئے۔

اجلاس کی مہمانِ خصوصی
ڈاکٹر ارم نعیم قادریہ منوریہ (اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمنٹ رَضا پی جی کالج رامپور)
نے "اصلاحِ معاشرہ" کے موضوع پر پُر مغز خطاب کیا۔ انہوں نے لڑکیوں کی دینی و دنیوی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنا ہی اصل کامیابی ہے۔ڈاکٹر ارم نعیم نے غلط رسم و رواج، بدعات و خرافات سے بچنے کی تاکید کی اور انبیاء کرام کی ازواج مطہرات، صحابیات اور اہل بیت اطہار کی خواتین کے روشن نمونوں کو سامنے رکھتے ہوئے خواتین کو اپنی موجودہ حالت بدلنے کی نصیحت کی۔ گویا وہ بزبان حال کہہ رہی تھیں:اے اسیرِ غمِ مسلماں، پلٹ جا جانبِ مرکز پلٹ جا۔ دنیا ہے کہ آگے بڑھ رہی ہے تو چودہ سو قدم پیچھے کو ہٹ جا"۔انہوں نے شادیوں میں بے حیائی، لڑکیوں کا بے پردہ ہو کر پارلر جانا اور غیر شرعی رسومات کو سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ مزید کہا کہ اسکول، کالج، یونیورسٹیز اور مدارس اسلامیہ کی طالبات کو چاہیے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدۂ کائنات فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی حقیقی کنیز بن کر زندگی گزاریں۔مزارات پر عورتوں کے بے پردہ جانے اور غیر شرعی دم و تعویذ کرانے پر بھی انہوں نے سخت تنبیہ کی اور کہا کہ خواتین اپنے گھروں میں سنت طریقے پرفرض نمازوں کی پابندی کے ساتھ نمازِ استخارہ اور نمازِ حاجت ادا کریں تاکہ اللہ کی مدد حاصل ہو۔ ساتھ ہی وضاحت کی کہ قبروں کی زیارت سنت ہے اور اولیاء کرام کی قبور فیض کے دریا ہیں۔

جامعہ کی صدر المعلمات و پرنسپل محترمہ عالمہ نصرت فاطمہ شاہدی حفظہا اللہ نے " ماں" کے مقام پر پُر مغز خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ امت کی صالح نسل کی تشکیل میں ماں کا کردار بنیادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کو علم، ادب اور تہذیب سے آراستہ ہونا چاہیے تاکہ نسل سنور سکے۔ قرآن و سنت میں ماں کی عظمت کو نمایاں کیا گیا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ماں کو سب سے زیادہ حسنِ صحبت کا حق دار قرار دیا۔ محترمہ نے زور دیا کہ صالح معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ مائیں دین و اخلاق کی تعلیمات سے بہرہ ور ہوں۔مزید برآں، انہوں نے جامعہ کی سالانہ تعلیمی رپورٹ بھی پیش کی جس میں تعلیمی کارکردگی، طلبہ کی کامیابیوں اور آئندہ کے منصوبوں پر روشنی ڈالی ۔ اور اسلامی ماؤں اور بہنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی بچیوں کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم ضرور دلائیں۔اور انہیں قرآن مقدس کا ترجمہ سکھائیں اور خواتین سے متعلق اہم مسائل پر مشتمل احادیث مع ترجمہ کا درس دلوائیں۔اور اس اہم اور دینی فریضہ کی تکمیل کے لئے انوری جامعۃ المحسنات بزریہ ہمت خاں رامپور کی خدمات حاصل کریں کیونکہ یہ آپ کے شہر رامپور کا وہ واحد ادارہ ہے جو پچھلے تیس (30) سال سے اسلام کے چودہ سو سالہ متوارث مذہب کا امین و پاسبان اور مسلکِ اہلسنت و جماعت یعنی مسلکِ ارشاد و رَضا کا بے باک نقیب و ترجمان رہا ہے۔یاد رہے کہ جامعہ کے نئے تعلیمی سال 2026-27 کا آغاز بعدِ رمضان شوال المکرم 1447 ہجری سے ہوگا۔

اجلاس کی صدارت قاضی شرع ومفتی ضلع رامپور و ناظم اعلیٰ جامعہ سید فیضان میاں کی اہلیہ محترمہ سیدہ فرحین خورشید حفظہا اللہ نے کی اور محترمہ نے اپنے "خطبہ صدارت " میں کہا کہ: جامعۃُ المحسنات، اللہ کے مخلص بندوں کی پیہم جد و جہد اور عظیم قربانیوں کے بعد اس مقام پر پہنچا ہے۔ یہ ادارہ شہر و ضلع رامپور میں اہلِ سنّت و جماعت کا بے باک ترجمان اورمرکزی ادارہ ہے۔ إن شاء اللّٰہ عنقریب ہم جامعۃُ المحسنات کو ایک بڑے ادارے کی شکل میں فَروغ دیں گے، ایک" شریعت کالج " کی بنیاد رکھیں گے، جہاں سے ہماری بچیاں ہائی اسکول اور انٹر کے ساتھ مولوی، عالم، فاضل اور مفتی کی ڈگریاں حاصل کریں گی۔ اور پھر امتِ مسلمہ کی غیرت مند خواتین کو زمانۂ رسالت، زمانۂ صحابہ اور زمانۂ تابعین کی صالح خواتین کی یاد دلا سکیں گی۔صدرِمحترم نے مزید فرمایاکہ بچیوں کو دینی تعلیم دینا نہ صرف ان کی زندگی سنوارتا ہے بلکہ نسلوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔کیونکہ نیک ماں ہی نسلوں کی معمار ہوتی ہے، ماں اگر علم و تقویٰ کا پیکر ہوگی تو پورا گھر ، پورا خاندان بلکہ پوری نسل نورِ ایمان سے روشن ہوگی۔بچیوں کی تعلیم و تربیت امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری کو ادا کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ جو والدین اپنی بیٹیوں کو دین سکھاتے ہیں، وہ دراصل اپنی آخرت کو سنوارتے ہیں۔اورجو والدین اپنی بیٹیوں کو علمِ دین سے محروم رکھتے ہیں، وہ دراصل اپنی نسلوں کو اندھیروں میں چھوڑ دیتے ہیں۔کیونکہ علمِ دین سے آراستہ بیٹیاں معاشرے میں نور و ہدایت کا چراغ ہوتی ہیں۔انہوں یہ بھی بتایا کہ گزَشتہ سال "درجۂ فضیلت" سے ایک بچی" فارغ" ہوئی تھی، اور اس سال ماشاء اللّٰہ" تین بچیاں" فارغ ہو ئی ہیں۔ ساتھ ہی" دس بچیوں نے درجۂ قراءت و تجوید سے سَنَد بھی حاصل کی ہے۔ یہ کامیابیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ جامعۃ المحسنات کی محنت رنگ لا رہی ہے۔

آخر میں انوری جامعۃ المحسنات بزریہ ہمت خاں رامپور کے ناظم اعلیٰ سید واجد علی عرف سید فیضان رضا حسنی نوری ارشادی (قاضی شرع و مفتی ضلع رامپور)نے طالبات وسامعات کو نصیحت فرماتے ہوئے علمِ ظاہر و باطن کے حصول میں خلوص و للہیت کے ساتھ کوشا ں رہنے کی ہدایت کی۔اور جامعہ کے جملہ اراکین،معلّمات، طالبات، ان کے سرپرست، ہمدرد و معاونین اور بہی خواہوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید جامعہ کی تعلیم و ترقی اور اس کے تحفظ و بقا میں دست و بازو بن کر ہمیشہ ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی۔ موصوف نے اپنے والدِ ماجدمحدث رامپوری مفتی سید شاہد علی حسنی نوری- علیہ الرحمہ- کے جملہ ہمدرد و رفقاء اور مخلصین کا بھی شکریہ ادا کیا اور مرحومین کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی۔

اورجملہ معاونین، خصوصاً محترم جناب سلمان خان اور محترم جناب سفیان خان صاحبان کے عمدہ تعاون پر اُن کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع سے بڑی تعداد میں شہر و ضلع اور بیرون ضلع کی خواتین اسلام نے اس سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔

05/02/2026

جشن ختم بخاری شریف

انوری جامعۃ المحسنات کابزریہ ہمت خاں رامپور کا
سالانہ تقریری امتحان اور درسِ ختمِ بخاری شریف

انوری جامعۃ المحسنات بزریہ ہمت خاں پیر کی پینٹھ رامپور، شعبہ نسواں مرکزی درسگاہ اہلسنت الجامعۃ الاسلامیہ پرانا گنج رامپور میں "درسِ نظامی" کی طالبات کا سالانہ تقریری امتحان اور درجہ فضیلت کی طالبات کادرسِ ختم بخاری شریف مؤرخہ یکم/فروری 2026 بروز اتوار نہایت وقار اور نظم و ضبط کے ساتھ منعقد ہوا۔امتحان صبح ۱۰ بجے شروع ہوا اور دوپہر ۲ بجے تک جاری رہا۔ اس دوران از درجہ اعدادیہ تادرجہ سادسہ ( فضیلت) کی طالبات نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ بحیثیت ممتحن الجامعۃ الاسلامیہ کے شیخ القراء حضرت مولانا قاری محمد حنیف صاحب مد ظلہ العالی اور جامعہ کے استاذ و مفتی حضرت مفتی محمد نقش علی حفظہ اللہ ورعاہ تشریف فرما ہوئے۔ دونوں حضرات نے طالبات کی علمی تیاری اور جوابات کی پختگی کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ بچیوں نے اپنی درسی کتب کو نہایت عمدگی سے سمجھا اور پیش کیا ہے۔ یہ کامیابی جامعہ کی تمام معلمات کی محنت اور صدر المعلمات عالمہ فاضلہ محترمہ نصرت فاطمہ شاہدی (سلمہا المنان )کے حسنِ انتظام کا روشن ثبوت ہے، اور ناظمِ اعلیٰ جامعہ مفتی سید واجد علی عرف سید فیضان رضا حسنی قاضی شرع ومفتی ضلع رامپور حفظہ اللہ کی سرپرستی اس میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

بعدِ نمازِ ظہر تا وقت عصر جامعہ کے " عزیزی ہال" میں "ختمِ بخاری شریف "کی عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی۔ محفل کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، پھر حمد و نعت کے منظوم نذرانے پیش کئے گئے۔ اس کے بعد مہمانِ خصوصی حضرت علامہ مفتی ولی محمد قادری رضوی، نائب شیخ الحدیث مرکزی درسگاہ اہلسنت الجامعۃ الاسلامیہ گنج قدیم رامپور، نے جامعہ سے درجہ فضیلت سے فارغ ہونے والی تین طالبات کو بخاری شریف کا "آخری درس "پڑھا کر "ختمِ بخاری شریف" کرایا۔
موصوفِ گرامی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ امام اہلسنت امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اپنی عظیم کتاب صحیح بخاری کا آغاز حدیثِ نیت سے اور اختتام حدیثِ تسبیح و تحمید پر کیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بروزِ قیامت اعمال کے وزن میں سب سے زیادہ وزنی چیز بندے کی حسنِ نیت اور ذکرِ الٰہی ہوگا۔
مزید فرمایا کہ طالبات کو چاہئے کہ وہ اپنے سامنے عہدِ رسالت کی خواتینِ امت کا مثالی کردار رکھیں۔ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے علمی طرز، ان کی خدماتِ دین اور ان کے پاکیزہ اسوہ کو اپنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ صحابیات و تابعیات کے اعلیٰ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے طالبات کو توجہ دلائی کہ وہ ان عظیم خواتین کو اپنا آئیڈیل بنائیں، کیونکہ انہی کے نقشِ قدم پر چلنے میں دنیا و آخرت کی فلاح مضمر ہے۔
حدیث کی دنیا میں صحابیات و تابعیات کی عظیم خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے نہ صرف علمِ حدیث کو محفوظ کیا بلکہ اپنی عملی زندگی سے امت کے لئے روشن مثالیں قائم کیں۔ اسی تناظر میں طالبات کو موجودہ دور کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا کہ آج کی مسلم خواتین پر لازم ہے کہ وہ دین کی تعلیم کو مضبوطی سے تھامیں، اپنے کردار کو پاکیزگی اور علم سے مزین کریں، اور معاشرے میں اصلاح و رہنمائی کا فریضہ ادا کریں۔
آخر میں موصوف نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ طالبات کو علمِ نافع، عملِ صالح اور خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے، اور انہیں امت کی صالح خواتین کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنائے۔اور اللہ تعالیٰ جامعۃ المحسنات، اس کے جملہ اراکین ، بہی خواہ ، ہمدرد اور جملہ اسٹاف کو شرپسندوں کے شر اور حاسدین کے حسد سے محفوظ رکھےاور ادارے کو کامیابیوں سے سرفراز فرمائے۔ اور پھر تمام حاضرین و غائبین تمام اہلِ ایمان اور ملک و ملت کے لئے امن و سلامتی کی دعا فرمائی۔

25/07/2025
Photos from Al-Jamia Tul Islamia Rampur's post 20/07/2025

(اعلان تعطیل)

13/04/2025

اپنی بیٹیوں کو محض تعلیم یافتہ نہیں، باکردار اور باعمل بھی بنائیں.

اس خدمت کے لئے *انوری جامعۃ المحسنات* بزریہ ہمت خاں رامپور میں سالِ نو ٤٧-١٤٤٦ھ/26-2025ء میں داخلے شروع ہو چکے ہیں.

الحمد للہ.

02/04/2025

میرا مقصد امت کی اصلاح ہے، تاکہ یہ قوم سرفرازی کے بلند میناروں تک پہنچے، جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم و ہدایت کے روشن چراغوں سے منور ہو، اور اپنے عظیم ماضی کی عکاسی کرتی ہوئی مستقبل کے درخشاں افق کو چھو لے۔

15/02/2025

Anwari jamia tul mohsinat ke salana ijlas
🌹Taqreeb Ridae Fazilat🌹 ki Report.
12-02-2025

14/02/2025

🌹 Jashne Dastaar e Hifz o Fazilat 🌹
Markazi Darsgah e Ahle Sunnat* Al Jamia Tul Islamia Puranagunj Rampur me 43 wa'n azeemushshaan jashne Dastaar e Fazilat 16-02-2025 Sunday ko hone ja raha he.
Ahlesunnat Wal Jama'at se Guzarish he k ziyadah se ziyadah tadad me shirkat farmaen.
Time : subaha 9 baje se dopehr 2 baje tak.
Zarur tashreef laaen.

13/02/2025

شکریہ کے ساتھ.

13/02/2025

Anwari jamia tul mohsinat ke salana emtihan aur khatme Bukhari Shareef ki report.

Photos from Anwari Jamia Tul Mohsinat Rampur's post 12/02/2025

*تقریب ردائے فضیلت*
الحمد للہ آج انوری جامعۃ المحسنات بزریہ ہمت خاں رامپور شعبہ نسواں مرکزی درسگاہ اہلسنت الجامعۃ الاسلامیہ رامپور میں سالانہ عظیم الشان اجلاس ہے.

Want your school to be the top-listed School/college in Rampur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Bazariya Himmat Khan
Rampur
244901