*میت کو کفن دینے کا طریقہ*
*سوال:-*
میت کو کفن کیسے دیا جائے اسکو بھی تفصیلکےساتھ بھیج دیں جزاکاللہ ؟
*حافظ حسیب بارہمولہ*
*جواب:-*
مرد کو تین کپڑوں میں کفنانا سنت ہے؛ کرتا، ازار، چادر۔ اور عورت کو پانچ کپڑوں میں کفنانا سنت ہے؛ کرتا، ازار، سربند، سینہ بند، چادر۔
*کرتا:* آگے پیچھے سے میت کے گلے سے لے کر پاؤں تک ہونا چاہیے، لیکن نہ اس میں کلی ہوں نہ آستین۔ تخمیناً لمبائی (یعنی اگلی اور پچھلی دونوں جانب ملاکر) پانچ گز سے ساڑھے پانچ گز اور عرض ایک گز۔
*ازار:* سر سے لے کر پیر تک ہو۔ تخمیناً لمبائی ڈھائی گز اور عرض سوا گز سے ڈیڑھ گز۔
*چادر:* اسے لفافہ بھی کہتے ہیں، ازار سے ایک ہاتھ بڑی ہو۔ تخمیناً لمبائی پونے تین گز اور عرض سوا گز سے ڈیڑھ گز۔
*سربند:* لمبائی ڈیڑھ گز اور عرض ایک گز سے تھوڑا کم، تقریباً ایک گز۔ اسے عورت کے سر اور بالوں پر ڈالتے ہیں، لپیٹتے نہیں۔
*سینہ بند:* زیرِ بغل سے لے کر رانوں تک چوڑا اور اتنا لمبا ہو کہ بند ہوجائے۔ اسے عورت کے بغل سے رانوں تک باندھا جاتا ہے۔ لمبائی دو گز اور عرض سوا گز۔
مرد کے کفنِ مسنون میں تخمیناً سوا گز سے ڈیڑھ گز عرض کا کپڑا دس گز صرف ہوتا ہے۔ اور عورت کے لیے مع چادر گہوارہ ساڑھے اکیس گز۔ اور غسل کے تہہ بند اور دستانے اس سے جدا ہیں۔ اور بچہ کا کفن اس کے قد کے مناسبِ حال لینا چاہیے۔
*کفنانے کا طریقہ:*
کفن کو تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ لوبان وغیرہ کی دھونی دے دی جائے۔
پہلے چادر بچھائی جائے، پھر اِزار اور اس کے اوپر کرتا۔ کرتے کو درمیان سے چاک کرکے اس میں گلے کی جگہ بنا لی جائے۔ کرتے کا نچلا نصف حصہ ازار پر بچھایا جائے اور اوپر کا باقی حصہ سرہانے کی طرف رکھ دیا جائے۔ اگر میت عورت ہے تو چادر بچھا کر اس پر سینہ بند اور پھر ازار اور پھر کرتا بچھایا جائے۔
پھر غسل دیے ہوئے مردے کو تختہ سے آہستگی سے اُٹھا کر کفن پر لٹا دیا جائے، اور کرتے کا جو نصف حصہ سرہانے کی طرف تھا اس کو سر کی طرف اُلٹ دیا جائے کہ کرتے کا سوراخ گلے میں آجائے، اور پیروں کی طرف بڑھا دیا جائے۔
کرتا پہنانے کے بعد جو تہبند یا چادر ستر کے واسطہ میت کے بدن پر ڈالی گئی تھی اسے نیچے سے نکال دیا جائے۔
اگر میت عورت ہے تو اس کے سر کے بالوں کو دو حصے کرکے کرتے کے اوپر سینے پر ڈال دیے جائیں؛ ایک حصہ داہنی طرف اور ایک بائیں طرف۔ اس کے بعد سربند سر پر اور بالوں پر ڈالا جائے، اس کو نہ باندھا جائے نہ لپیٹا جائے۔
پھر سر اور ڈاڑھی پر عطر وغیرہ کوئی خوشبو لگا دی جائے۔ (یاد رہے مرد کو زعفران نہیں لگانی چاہیے، اور عورتوں کو تیز پھیلنے والی خوشبو نہیں لگانی چاہیے۔)
پھر سجدے کے موقعوں؛ پیشانی، ناک، دونوں ہتھیلی، دونوں گھٹنے اور دونوں پنجے، پر کافور مل دیا جائے۔
پھر ازار کا بایاں پلہ (کنارہ) میت کے اوپر لپیٹ دیا جائے، پھر دایاں پلہ لپیٹا جائے، یعنی بایاں پلہ نیچے رہے اور دایاں اوپر۔ اگر میت عورت ہے تو ازار لپیٹنے کے بعد سینہ بند کو سینہ کے اوپر بغلوں سے نکال کر گھٹنوں تک دائیں بائیں سے باندھ دیا جائے۔
پھر چادر اسی طرح لپیٹ دی جائے؛ پہلے بائیں طرف، پھر داہنی طرف۔ یعنی بایاں پلہ نیچے رہے اور دایاں اوپر۔
پھر کسی دھجی سے پیر اور سر کی طرف کفن کو باندھ دیا جائے اور ایک بند کمر کے پاس بھی باندھ دیا جائے، تاکہ راستے میں کفن نہ کھل جائے۔ قبر میں مردہ کو قبلہ رُخ لٹانے کے بعد کفن کی یہ گرہیں کھول دی جائیں گی۔
چھوٹے بڑے تمام عمر کے لوگوں کو کفن دینے کا یہی طریقہ ہے جو اوپر مذکور ہوا، البتہ جو بچہ ماں کے پیٹ سے مرا ہوا پیدا ہو، یعنی پیدا ہوتے وقت زندگی کی کوئی علامت نہیں پائی گئی تو ایسے بچے کو قاعدے کے موافق کفن نہ دیا جائے، بلکہ کسی ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے۔
اگر کسی مرد کو فقط دو کپڑوں؛ ازار اور چادر، اور عورت کو فقط تین کپڑوں؛ ازار، چادر اور سربند، میں کفن دیا جائے تو یہ بھی درست ہے اور اتنا کفن بھی کافی ہے۔ کسی مجبوری اور لاچاری کے بغیر اس بھی کم کپڑوں میں کفن دینا مکروہ ہے۔ لیکن اگر کوئی مجبوری اور لاچاری ہو تو مکروہ بھی نہیں۔
کسی انسان کی قبر کھل جائے یا اور کسی وجہ سے اس کی لاش قبر سے باہر نکل آئے اور اس پر کفن نہ ہو تو اس کو بھی مسنون کفن دینا چاہیے، بشرطیکہ وہ لاش پھٹی نہ ہو۔ اور اگر پھٹ گئی ہو تو صرف کسی کپڑے میں لپیٹ دینا کافی ہے، مسنون کفن کی حاجت نہیں۔
*کفن سے متعلقہ اہم تنبیہات:*
میت کو غسل دینا، کفن دینا، اس پر نمازِ جنازہ پڑھنا اور دفن کرنا فرضِ کفایہ ہے۔
مرد و عورت کے لیے کفن کا کپڑا سفید ہونا مسنون ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: "تم لوگ سفید کپڑے پہنا کرو، وہ تمہارے لیے اچھے کپڑے ہیں، اور ان ہی میں اپنے مُردوں کو کفنایا کرو۔" *(سنن ابی داؤد، ترمذی، سنن ابن ماجہ)۔*
مرد کے لیے خالص ریشمی یا زعفران یا عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے کا کفن مکروہ ہے، عورت کے لیے جائز ہے۔
کفن کے لیے نیا کپڑا خریدنا ضروری نہیں ہے، اگر گھر میں سفید کپڑا موجود ہے اور پاک صاف ہے تو اسے کفن بنانے میں حرج نہیں۔
کفن کا کپڑا اسی حیثیت کا ہونا چاہیے جیسا مردہ اکثر زندگی میں استعمال کرتا تھا، تکلفات فضول ہیں۔
اپنے لیے کفن تیار رکھنا مکروہ نہیں، البتہ قبر کا تیار رکھنا مکروہ ہے۔
تبرک کے طور پر آبِ زمزم میں تر کیا ہوا کفن دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ باعثِ برکت ہے۔
کفن میں یا قبر کے اندر عہدنامہ یا اپنے پیر کا شجرہ یا اور کوئی دعا رکھنا درست نہیں۔ البتہ کعبہ شریف کا غلاف تبرکاً رکھ دینا درست ہے۔
اگر کعبہ شریف کے غلاف کے اوپر کلمہ یا قرآنی آیات لکھی ہوں تو وہ کفن یا قبر میں رکھنا درست نہیں ہے۔
اسی طرح کفن پر یا سینہ پر یا پیشانی پر کافور سے یا روشنائی سے کلمہ وغیرہ، قرآنی آیات یا کوئی اور دعا لکھنا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ میت کے پھٹنے سے بے حرمتی ہوگی۔
بعض لوگ کفن پر بھی عطر لگاتے ہیں، اور عطر کی پھریری میت کے کان میں رکھ دیتے ہیں، یہ سب جہالت ہے۔ جتنا شریعت میں آیا ہے اس سے زائد نہیں کرنا چاہیے۔
مرد کے جنازہ پر چادر ڈالنا ضروری نہیں اور نہ ہی یہ چادر کفن میں داخل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی چادر ڈالنا چاہے تو ڈال سکتا ہے۔
عورت کے جنازہ پر چادر ڈالنا پردے کے لیے ضروری ہے، مگر یہ چادر بھی کفن میں داخل نہیں ہے۔ کوئی سی بھی چادر ڈالی جاسکتی ہے۔
جنازے پر قرآنی آیات، کلمہ اور دعاؤں والی چادر ڈالنا جائز نہیں ہے، اس سے بے حرمتی ہوتی ہے۔
میت کے غسل اور کفن وغیرہ سے جو سامان اور کپڑا بچ جائے تو اگر وہ میت کے ترکہ سے لیا گیا تھا تو اسے ترکہ میں شامل کرنا چاہیے، یا جس نے اپنے پیسوں سے خریدا تھا اسے واپس کرنا چاہیے، یوں ہی پھینک دینا یا ضائع کرنا یا کسی دوسرے کو دے دینا جائز نہیں ہے۔
میت کو کفنانے کے وقت مرد ہو یا عورت پائجامہ اور ٹوپی پہنانا جائز نہیں ہے۔
اسی طرح عمامہ دینا بھی مکروہ ہے، جیسا کہ بعض جگہ علماء اور سرداروں وغیرہ کی میت کو کفن کے تین کپڑوں کے علاوہ ایک عدد عمامہ بھی دیتے ہیں۔
میت کو کفن پہنانے کے بعد امام مسجد کا لکھا ہوا خط میت کے ہاتھوں میں رکھنا بے اصل اور لغو ہے۔
*(ماخوذ از:* بہشتی زیور، ص:130-132، ط: دارالاشاعت / و احکام میت، ص:44-56، 206، 208، ط: ادارۃ المعارف)
*فقط واللہ اعلم*9086959785
https://whatsapp.com/channel/0029VacrmeIKbYMIk9PGfe1k
آپ کے مسائل اور ان کا حل
khaki official page
*رجب کی مخصوص عبادات اور 27 رجب کا روزہ کا حکم اورشب معراج کی تاریخ*
*سوال:-*
رجب المرجب کی 27 اور 28 تاریخ روزے کی حقیقت کیا ہے؟ اور معراج کے بارے میں وضاحت درکار ہے۔ اور رجب کے مہینے میں کچھ خاص تسبیحات جو آپ ﷺ سے ثابت ہوں؟
*ایک سائل*
*جواب:-*
رجب کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، ان مہینوں میں عبادت کا ثواب زیادہ ہے، البتہ رجب کے مہینہ میں تخصیص کے ساتھ کسی دن روزہ رکھنا یا کوئی مخصوص قسم کی تسبیحات صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے، لہذا 27 رجب کو تخصیص کے ساتھ روزہ رکھنے اور اس رات شب بیدار رہ کر مخصوص عبادت کرنے (مثلاً: صلاۃ الرغائب یا دیگر مخصوص تسبیحات وغیرہ ) کا التزام درست نہیں ہے، اور اس کی جو فضیلت عوام میں مشہور ہے کہ اس روزہ کا ثواب ہزار روزے کے برابر ہے یہ ثابت نہیں ہے؛ اس لیے اس دن کے روزہ کو زیادہ ثواب کاباعث یا اس دن کے روزہ کے متعلق سنت ہونے کا اعتقاد صحیح نہیں ہے ، علماءِ کرام نے اپنی تصانیف میں اس کی بہت تردید کی ہے،حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ”تبیین العجب بما ورد في فضل رجب“کے نام سے اس موضوع پر مستقل کتاب لکھی ہے،جس میں انہوں نے رجب سے متعلق پائی جانے والی تمام ضعیف اور موضوع روایات پر محدثانہ کلام کرتے ہوئے سب کو باطل کردیا ہے۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ رجب کے مہینے میں ” تبارک“ اور27 رجب کو روزہ رکھنے کے متعلق فرماتے ہیں:
”اس امر کا التزام نا درست اور بدعت ہے“۔(فتاویٰ رشید یہ مع تا لیفات رشید یہ،ص: 148)
*حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
”ستائیسویں رجب کے روزے کو جوعوام ہزارہ روزہ کہتے ہیں اور ہزارروزوں کے برابر اس کا ثواب سمجھتے ہیں، اس کی کچھ اصل نہیں ہے‘‘۔ *(فتاوٰی دار العلوم مد لل و مکمل: 6/491۔ 492)*
*حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
”ماہ رجب میں تاریخِ مذکورہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت پر بعض روایات وار دہوئی ہیں، لیکن وہ روایات محدثین کے نزدیک درجہ صحت کو نہیں پہنچیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ”ماثبت بالسنتہ“ میں ذکر کیا ہے۔ بعض بہت ضیعف ہیں اور بعض موضوع (من گھڑت) ہیں“۔(فتاوٰی محمودیہ، 3/281،ادارہ الفاروق کراچی)
حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
*”27 رجب کے روزہ کا کوئی ثبوت نہیں۔“(سات مسا ئل صفحہ:5)*
حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
”اس شب کے لیے خصوصی نوافل کا اہتمام کہیں ثابت نہیں ،نہ کبھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے کیا ، نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے، نہ تابعین عظام رحہم اللہ نے کیا۔ علامہ حلبی تلمیذ شیخ ابن ہمام رحمہ اللہ نے غنیتہ المستملی، ص:411 میں، علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے الجر الر ائق شرح کنز الد قائق ،ج:2، ص: 56، میں، علا مہ طحطا وی نے مراقی الفلاح ،ص:22 میں، اس رواج پر نکیر فرمائی ہے اور اس کے متعلق جو فضائل نقل کرتے ہیں ان کو ردکیا ہے‘‘۔ *(فتاویٰ محمودیہ:3/284،ادارہ الفاروق کراچی)*
لہذا اس مہینے میں تخصیص کے ساتھ کسی عبادت کو ضروری سمجھنا درست نہیں ہے، ہاں تخصیص اور التزام کے بغیر جس قدر ہوسکے اس پورے مہینے میں عبادت کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔
*2۔* رجب کی ستائیسویں رات کے بارے میں اگرچہ مشہور ہے کہ یہ شبِ معراج ہے، لیکن یقینی طور پر نہیں کہاجاسکتا کہ یہ وہی رات ہے جس میں نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے، کیوں کہ اس بارے میں روایات مختلف ہیں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے ، بعض روایتوں میں رجب، بعض میں ربیع الثانی، بعض میں رمضان اور بعض میں شوال کا مہینہ بیان کیا گیا ہے، اس لیے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہاجاسکتا کہ کون سی رات صحیح معنی میں معراج کی رات تھی، اگر یہ کوئی مخصوص رات ہوتی اور اس کے بارے میں خاص احکام ہوتے تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا، جب کہ شبِ معراج کی تاریخ قطعی طور پرمحفوظ نہیں۔
پھر دوسری بات یہ ہے کہ یہ واقعہ معراج ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں پیش آیا ، اس واقعہ کے بعد تقریباً 12 سال تک آپ ﷺ دنیا میں تشریف فرمارہے ،لیکن اس دوران یہ کہیں ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے شبِ معراج کے بارے میں کوئی خاص حکم دیا ہو ، یا اس کو منانے کا اہتمام فرمایا ہو ، یا اس کے بارے میں یہ فرمایا ہو کہ اس رات میں شبِ قدر کی طرح جاگنا زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے، نہ توآپ ﷺ کا ایسا کوئی ارشاد ثابت ہے، اور نہ آپ کے زمانے میں اس رات میں جاگنے کا اہتمام ثابت ہے، نہ خود حضور ﷺ جاگے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تاکید فرمائی، اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے طور پر اس کا اہتمام فرمایا۔؟؟
نیز سرکار دو عالم ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد سو سال تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دنیا میں موجود رہے ،اس پوری صدی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ۲۷ رجب کو خاص اہتمام کرکے نہیں منایا ، لہذا جو چیز حضورِ اقدس ﷺ نے نہیں کی، اور جوآپ کے صحابہ کرام نے نہیں کی ، اس کو دین کا حصہ قرار دینا ، یا اس کو سنت قرار دینا ، یا اس کے ساتھ سنت جیسا معاملہ کرنا بدعت ہے اوراس سے اجتناب کرنا چاہیے؟؟
*فقط واللہ اعلم*
*شرعی مسائل عام کرنا بہترین صدقہ جاریہ ہے*
*ایڈمن____* 9797959785
https://whatsapp.com/channel/0029VacrmeIKbYMIk9PGfe1k
26/01/2025
khaki ke khayalaat
15/03/2024
کل نفس ذائقۃالموت
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Gundi
Ramban
182144