دارالحدیث السلفيه امام آباد رام بن

دارالحدیث السلفيه امام آباد رام بن

Share

DARUL HADITH As Salafia Imamabad Ramban
Follow our page for more videos and Islamic Information

دارالحدیث السلفیةامام آباد رام بن ایک ممتاز تعلیمی ادارہ ہے جہاں پر ریاست کے مختلف علاقوں سے بچے اپنی علمی تشنگی بھجاتے ہوئے اپنی لیاقت کوجلا بخشتے ہیں
ہم دارالحدیث السلفیہ کے خوش غوار ماحول میں خلوص بھرے خیرمقدم کرتے ہیں

10/03/2026
09/03/2026

انفاق فی سبیل للہ
مولانا مشتاق احمد ویری صاحب

Photos from ‎دارالحدیث السلفيه امام آباد رام بن‎'s post 02/09/2025

دار الحدیث السلفیہ امام آباد رام بن کے طلبہ کی سیروتفریح کی تصویری جھلکیاں

Photos from ‎دارالحدیث السلفيه امام آباد رام بن‎'s post 04/11/2024

The Markazi Jamiat Ahlihadees J&K delegation participated in a relief distribution program at Wadwan Kishtwar today..

Photos from ‎دارالحدیث السلفيه امام آباد رام بن‎'s post 27/10/2024

جمعیت اہلحدیث جموں وکشمیر کے زیر اہتمام کنڈہ پوگل میں مدرسہ المعھد الاسلامی کی سالانہ کانفرنس رواں، دواں

23/10/2024

ہمیں کبھی ان لوگوں کو بھولنا نہیں چاہیے، جو ہماری تاریک زندگی میں روشنی لے کر آۓ ہوں، کیونکہ بہت سے لوگوں کی زندگی تاریک تو ہوتی ہے لیکن ہر ایک کی زندگی میں روشنی لانے والا نہیں آتا۔

Photos from ‎دارالحدیث السلفيه امام آباد رام بن‎'s post 23/10/2024

پیکرِ اخلاق “بدرِ ” کامل
✍️حافظ عبد الحسیب عمری مدنی (حفظہ اللہ)

انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ جب کوئی بات اس کے علم میں آتی ہے تو وہ فوراً اس کا مصداق اپنے آس پاس ڈھونڈنے لگتا ہے، بھلی یا بری جو بھی سنے اور سمجھے وہ چاہتا ہے کہ اس حقیقت کو بچشم سر مجسم دیکھے۔ اور جب وہ حقائق کو اس طرح مجسم دیکھ لیتا ہے تو پھر اس کے یقین و تصدیق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کے جذبہ تأثر و اقتدا کو مہمیز لگ جاتی ہے، فن تربیت میں اسے تربیت کی ایک اہم ضرورت “قدوہ ” سے
تعبیر کرتے ہیں۔
محدث مدینہ شیخ عبدالمحسن العباد کے خلف رشید دکتور عبدالرزاق البدر ایسی ہی پرکشش شخصیت کے مالک ہیں، بحر علم کے شناور اور حسنِ اخلاق کے پیکر، واقف حال احباب جانتے ہیں کہ علم و عمل کے باب میں ان کے امتیاز کی بابت کوئی بھی دعوی بڑا نہیں لگتا۔ والکمال للہ وحدہ۔ تاہم ان کے اندر دو خصوصیات بہت نمایاں نظر آتی ہیں۔
پہلی خصوصیت درس و تدریس میں نصوص کے الفاظ پر رک کر بندگی اور عبودیت کے مختلف پہلوؤں کو کچھ اس قدر سلیقہ سے اجاگر کرتے ہیں کہ دل بے اختیار بندگی کے سمندر میں غوطے لگانے لگتا ہے، نفس کے تزکیہ و تربیت ، بندگی کے شعور اور عبودیت کے عملی تجربہ سے گزرنے کے لیے علماء ربانیین کی جس صحبت کو ضروری سمجھا جاتا ہے شیخ عبدالرزاق البدر کے درس میں آدمی بارہا اس کا تجربہ کرتا ہے۔ آج بھی نماز فجر کے بعد مسجد نبوی کے پرسکون اور روح پرور ماحول میں شیخ عبدالرزاق البدر کی اطمینان و سکون سے بھری عالمانہ و عارفانہ گونجتی آواز شرکاء مجلس کو علم و حکمت اور ذوق و معرفت کی جن منزلوں کی سیر کرواتی ہے بلا مبالغہ وہ ایک عجب عالم ہوتا ہے ۔ علماء و طلبہ ہی نہیں عوام و خواص سبھی کے سیکھنے کے لیے ان کی مجلسوں میں بہت کچھ ہے ۔

اور دوسری خصوصیت ان کا شخصی اخلاق و کردار ہے جس کی گواہی ہر خاص و عام دیتا ہے ۔ اذکار و ادعیہ اور تربیت و اخلاق سے متعلق احادیث کا درس آپ کی خاص دلچسپی کا موضوع ہیں اور ان کو عملی جامہ پہنانا آپ کا محبوب مشغلہ۔
دكتور عبدالرزاق البدر بن عبدالمحسن العباد البدر عصر حاضر کا ایک بڑا نام ہے، محدث مدینہ شیخ عباد کے خلف رشید ہیں، مدینہ یونیورسٹی کے سینئر اسکالر رہے ہیں، مسجد نبوی کے مدرس ہیں، بین الاقوامی شہرت کے حامل عالم دین ہیں، ان کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند سال قبل ایک دورہ علمیہ میں لیکچر دینے کے لیے وہ انڈونیشیا پہنچے تو ان کی مجلس میں شریک ہونے والے طلبہ و طالبات اور عوام الناس کی تعداد ایک اندازہ کے مطابق سوا لاکھ سے متجاوز تھی۔ (خیال رہے یہ کوئی کانفرنس نہیں بلکہ شیخ کا خصوصی درس تھا)
1427ھ کے رمضان کا واقعہ ہے کہ ایک دن آپ کلاس روم میں داخل ہوئے ، بات مدینہ یونیورسٹی کے کلیۃ الحدیث کی ہے، یونیورسٹی میں ماہ رمضان میں بھی ابتدائی دو عشروں تک اکثر تعلیم جاری رہتی تھی، حسب معمول شیخ نے طلبہ کی حاضری لگانی شروع کی، باری باری ایک ایک کا نام لیتے اور حاضری درج کرتے جا رہے تھے۔ ایک سریلنکن طالب علم محمد صیام اس دن غائب تھا، شیخ نے اس کا نام لیا اور اسے غائب پایا، شیخ کی زبان سے بے ساختہ یہ کلمات نکلے (محمد صیام، صام فنام) یعنی محمد صیام نے روزہ رکھا اور سو گیا۔ شیخ نے اتنا کہا اور آگے بڑھ گئے۔ طلبہ نے بھی اس کا کچھ نوٹس نہیں لیا۔ تھوڑی دیر بعد شیخ کو اچانک احساس ہوا کہ طالب علم کی غیر حاضری میں اور خاص طور پر روزہ کے حوالے سے یہ نامناسب تبصرہ تھا ۔ حالانکہ بظاہر کوئی بڑی بات نہ تھی مگر شیخ نے بلند آواز سے استغفار پڑھنا شروع کر دیا اور دیر تک یہی کرتے رہے۔ دوسرے دن طالب علم حاضر ہوا اور شیخ حسب معمول حاضری لگاتے ہوئے اس طالب علم کے نام تک پہنچے تو رک گئے۔ اس طالب علم کو گزشتہ کل کا سارا ماجرا بزبان خود سنایا اور تمام طلبہ کے سامنے اس طالب علم سے معافی مانگی اور بار بار اس سے پوچھتے رہے: کیا تم نے معاف کیا؟ کیا تم نے مجھے معاف کر دیا ؟ یہاں تک کہ طالب علم کو چار و ناچار زور دے کر کہنا پڑا کہ شیخ میں نے آپ کو معاف کر دیا تب جا کر درس کی ابتدا کی۔ بات یہاں تک ختم نہ ہوئی۔ ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد ایک دن شیخ کلاس روم میں داخل ہوئے تو کتابوں کا ایک مجموعہ ساتھ میں تھا، حسب معمول طلبہ کے سامنے درس دیا اور جب درس سے فارغ ہوئے تو اس طالب علم کو بلایا اور یہ کتابیں اس کے حوالے کیں اور کہا: میں نے تمھارے متعلق جو بات کہہ دی تھی اس کے بدلے میں یہ تحفہ دے رہا ہوں، امید کرتا ہوں تم مجھے معاف کر دو گے ! ! ! کردار کی یہ کیسی بلندی ہے اور اخلاق کا یہ کونسا مقام ہے، ایک طرف شخصیت کا یہ قد اور دوسری طرف ان کے تواضع و انکسار اور اخلاق و کردار کا یہ عالم ! یہ ان کے کردار کی عظمت ہے۔ سبحان من خلق و علم دراصل اب تک کی یہ گفتگو تمہید ہی ہے جو بذات خود ایک مستقل تحریر بن گئی، یہ ان کی شخصیت کا سحر ہے کہ قلم سرپٹ دوڑ رہا ہے،
لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم آمدم بر سر مطلب، بتانا یہ ہے کہ ان کے اخلاق و کردار کے ایسے نمونے وقتا فوقتا دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ ابھی چند دن قبل ایسا ہی ایک واقعہ سننے کو ملا جس نے آپ کی شخصیت کے اس رنگ کو اور گہرا کر دیا اور مناسب معلوم ہوا کہ آپ قارئین تک اسے پہنچا دیا جائے، کیا پتہ چراغ سے چراغ جل اٹھیں۔ پتہ چلا کہ شیخ عبد الرزاق البدر ابھی جولائی کے مہینہ میں ہندوستان آکر واپس لوٹے ہیں جس میں آپ کی پوری کوشش تھی کہ آپ کی آمد کی کسی کو اطلاع نہ ملے، ان کے اس سفر کا واحد مقصد اپنے ایک سابق ہندوستانی “عامل” یا “خادم ” کی عیادت کرنا تھا ، بڑے لوگ بڑوں کی عیادت کرتے ہیں ان سے ملاقات کے لیے سفر بھی کرتے ہیں، چھوٹوں کے لیے بہت ہوا تو حال چال پوچھ لیتے ہیں، لیکن اپنے ایک خدمتگار کی بیمار پرسی کے لیے کوئی مدینہ سے اڑ کر ہندوستان پہنچ جائے یہ بات ہمارے تصور سے پرے ہے خاص طور پر تب جب مسجد نبوی میں آپ کے یومیہ دروس کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ سعودی عرب میں بحیثیت عامل یا سائق خاص جانے والے بعض حضرات کے تجربات بسا اوقات بہت تلخ ہوتے ہیں، حتی کہ بعض اہل علم و فضل کے پاس کام کرنے والے افراد بھی نالاں رہتے ہیں۔ اس صورت حال کو بعض بدخواہ لوگ بدنامی کی حد تک لے جاتے ہیں اور سعودی عرب یا مسلم ممالک اور بسا اوقات اسلام کی بدنامی کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال بھی کرتے ہیں، جیسا کہ ماضی قریب میں ایک فلم (دی گوٹ لائف The Goat Life) میں دکھلایا گیا ۔ شیخ عبدالرزاق البدر کے اس واقعہ کو اس تناظر میں بھی دیکھیں تو ایک طرف شیخ کے کردار کی عظمت جھلکتی ہے تو دوسری طرف سعودی عرب کی تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھائی دیتا ہے۔ واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ صوبہ آندھرا پردیش، ضلع وجے واڑہ کے مضافات میں ایک قصبہ ہے پڑنہ، اس قصبہ کے ایک صاحب شیخ عبدالرزاق کے فیملی ڈرائیور کی حیثیت سے بیس سال تک خدمت انجام دیتے رہے ہیں ، ابھی تقریبا تین سال قبل اپنی درازی عمر اور گرتی صحت کی وجہ سے ہندوستان واپس لوٹ آئے اور یہیں رہنے لگے ۔ ان کے فرزند کا کہنا ہے کہ تب سے مہینہ میں دو یا تین بار اپنے اس “خادم ” کو کال کرنا اور حال چال پوچھتے رہنا شیخ عبدالرزاق البدر کا معمول رہا ہے ۔ اللہ کی مرضی کہ اسی سال مئی کے مہینہ میں یہ خدمتگار برین ہیمبرج کا شکار ہو گئے، ان کے فرزند نے کچھ لوگوں کے ذریعے دعا کی درخواست شیخ عبدالرزاق البدر تک پہنچائی، شیخ نے فرزند کو فون کیا دعائیں اور تسلی دی۔یہ حادثہ 8 مئی 2024 ء کو پیش آیا تھا، اس کے بعد شیخ اور ان کے معاون ساتھی فرزند کے مسلسل رابطہ میں رہے، ایک دن اس معاون ساتھی نے اطلاع دی کہ 23 مئی کو شیخ کی طرف وعدہ وہ سے عیادت کے لیے کوئی وجے واڑہ پہنچ رہے ہیں ان کو لینے ایئر پورٹ پہنچ جائیں، حسب وعد ، ایئر پورٹ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس نمائندہ کے ساتھ شیخ بذات خود چلے آئے ہیں ۔ خوشگوار حیرت سے دوچار فرزند نے شیخ کا استقبال کیا تو شیخ نے کہا اگر والد محترم کو تکلیف نہ ہو تو ان کی عیادت کے لیے جانا چاہتا ہوں، فرزند کے لیے یہ صورت حال غیر متوقع تھی، شیخ کی آمد کی پیشگی کوئی اطلاع نہیں، مدینہ سے وجے واڑہ بھی پہنچ چکے ہیں اور صرف عیادت کے لیے آئے ہیں اور اب ف اجازت بھی طلب کر رہے ہیں، وہ فورا تیار ہو گئے اور قافلہ ہسپتال پہنچا، شیخ نے بیمار کے کمرے میں پہنچ کر بیمار کے سر کا بوسہ لیا پھر تنہائی کی درخواست کی اور دیر تک دعائیں پڑھ کر دم کرتے رہے اور وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے والد محترم شیخ عبدالمحسن العباد سے بذریعہ فون بات کروائی اور دعائیں دلائیں اور اپنے خاندان کے دیگر افراد سے بھی بات کروائی، یہ سلسلہ کافی دیر تک چلا، یہ سارا منظر کچھ ایسا تھا جیسے مریض یہاں سے اڑ کر وہاں خود اپنے حقیقی گھر والوں کے درمیان جا پہنچا ہو۔ کافی دیر بعد شیخ وہاں سے سے رخ رخصت ہوئے، یہ سارا ماجرا دیکھ کر اس خدمتگار کے فرزند نے جذبات تشکر سے مغلوب خود کو اور اپنے والد کو ممنون کرم دیکھتے ہوئے اس غیر متوقع عنایت پر شیخ عبدالرزاق البدر کا شکریہ ادا کیا تو جواب میں کہنے لگے : "آر : آپ کے والد محترم نے جس قدر ہماری خدمت کی ہے ہم اس کا دس فیصد حق بھی ادا نہیں کر سکے ۔ " شیخ واپس لوٹ گئے اور فرزند کے مطابق ابھی بھی مسلسل رابطہ میں ہیں اور خبر گیری کرتے رہتے ہیں۔
آدمی ایسی مجسم اخلاق شخصیات کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ لے تب بھی اکثر یقین نہیں کر پاتا اور اگر کسی طالب علم کو ایسے کردار کے حامل علماء و اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا موقعہ مل جائے تو یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔

17/10/2024

ان شاءالله

12/10/2024

ماضی کو بھول جائیے مگر _______
اس سے حاصل ہوئے سبق کو مت بھولیے......

Want your school to be the top-listed School/college in Ramban?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Ramban
182144