27/03/2025
"بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے شعبۂ گوجری،پہاڑی میں روح پرور دعوتِ افطار کا اہتمام"
26 مارچ 2025 بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے شعبۂ گوجری، پہاڑی میں ایک شاندار دعوتِ افطار کا اہتمام کیا گیا، جس نے علمی، ثقافتی اور روحانی ماحول کو اکٹھا کر کے ایک یادگار اجتماع کی شکل اختیار کی۔ اس تقریب میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے ڈین اکیڈمک افیئرز، شعبۂ گوجری پہاڑی کے ڈائریکٹر، علم و حکمت کے درخشندہ مینار اور علمی بستیوں کی معتبر شخصیت، پروفیسر محمد جہانگیر وارثی صاحب بطور مہمانِ خصوصی تھے۔ ان کی آمد نے نہ صرف اس تقریب کی رونق کو دوبالا کیا بلکہ شعبہ کی علمی ترقی اور تہذیبی شناخت کے حوالے سے ان کی بصیرت افروز گفتگو نے سامعین پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ پروفیسر وارثی کی شخصیت جہاں علم و دانش کی علامت ہے، وہیں ان کا ویژن اور فکری وسعت شعبہ گوجری و پہاڑی کے لیے ترقی کے نئے راستے کشادہ کر رہی ہے۔
افطاری سے قبل، شعبۂ اردو کے جلیل القدر استاذ، علم و عمل کے پیکر، حضرت مولانا مفتی محمد آصف ملک علیمی صاحب نے نہایت پر سوز انداز میں دعا فرمائی، جس نے اس بابرکت محفل کی روحانی فضا کو مزید کامیاب بنایا۔ ان کی دعا میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی اور شعبۂ گوجری و پہاڑی کی ترقی، اس کے جملہ اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے روشن مستقبل اور اس پُرنور اجتماع کی قبولیت کے لیے اللہ کےحضور خصوصی التجا کی۔ ان کی پُر سوز دعا کے دوران ایک ایسا روحانی کیف محسوس کیا گیا جو سامعین کے دلوں پر اثر انداز ہوا اور محفل کی عظمت کو مزید بلند کر گیا۔
افطاری کے لیے روایتی ضیافتوں کا اہتمام کیا گیا، جس میں بالخصوص خطہ پیر پنجال کی ثقافتی جھلک نمایاں نظر آئی۔ تندوری روٹی، دیسی چٹنی، خالص مکھن، لسی اور دیگر لذیذ مشروبات نے دسترخوان کی رونق کو دوبالا کر دیا۔ مہمانانِ گرامی نے ان نعمتوں سے لطف اندوز ہو کر منتظمین کی کاوشوں کو بے حد سراہا۔ اس دعوتِ افطار کا انتظام شعبۂ گوجری و پہاڑی کے کوآرڈینیٹر، فکری و علمی بصیرت کے حامل، ملت کے فخر اور زبان و ادب کے درخشندہ ستارے، محترم ڈاکٹر لیاقت نیّر صاحب کی قیادت میں عمل میں آیا۔ ان کی ولولہ انگیز قیادت، بے مثال انتظامی صلاحیت، اور علمی ژرف نگاہی نے اس تقریب کو یادگار بنا دیا۔ ان کے ساتھ شعبہ کے اساتذہ، ڈاکٹر شاہین اختر صاحبہ، ڈاکٹر وقار صدیقی، ڈاکٹر منظور حسین، ڈاکٹر ساجد منیر، نے اپنی بے مثال محنت، خلوصِ نیت اور ایثار کے جذبے سے اس تقریب کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ اساتذہ نہ صرف تدریس اور تحقیق کے میدان میں نمایاں ہیں بلکہ زبان و ادب کی خدمت اور ثقافتی ورثے کی ترویج میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی و تدریسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اس یادگار تقریب میں شعبہ کے باصلاحیت، متحرک اور پُرجوش طلبہ و طالبات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی محنت سے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف انتظامی امور میں معاونت کی بلکہ مہمانوں کی خدمت میں بھی اپنی بھرپور لگن کا مظاہرہ کیا۔ ان طلبہ و طالبات میں: اشفاق احمد ، حلیمہ تبسم ، سہراب احمد ،رائین اختر ،آصفہ فردوس ، فریدہ خانم ،نجمہ جبین، محمد یونس کھٹانہ،محمد شعبان خان،شہباز منظور اور شعبہ کے کلرک جاوید اقبال وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں جو اس دعوت افطار کے موقع پر اپنے اساتذہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے اور اس تقریب کو اپنی محنت و لگن سے کامیاب بنایا۔
افطار کے فوراً بعد، نمازِ مغرب بھی شعبہ گوجری و پہاڑی میں ہی ادا کی گئی، جس میں تمام حاضرین نے یکجہتی اور روحانی خشوع و خضوع کے ساتھ شرکت کی۔ نماز کے دوران ایک ایسا روحانی ماحول پیدا ہو گیا جس نے اجتماع کو ایک دینی، علمی اور تہذیبی بزم میں تبدیل کر دیا۔
اس بابرکت محفل میں دیگر معزز شخصیات نے بھی اپنی شرکت سے اس محفل کو مزید رونق بخشی۔ جن میں ڈاکٹر آصف ملک صاحب ( استاذ شعبۂ اردو) ڈاکٹر ایوب صاحب ( استاذ شعبۂ اردو) ڈاکٹر اختر حسین شاہ صاحب ( استاذ شعبۂ فارسی) ڈاکٹر رمضان صاحب ( استاذ شعبۂ فارسی) ڈاکٹر یاسین صاحب ( استاذ شعبۂ فارسی)
ڈاکٹر آصف ملک صاحب (استاذ شعبۂ انگریزی) وغیرہ کی آمد نے محفل کو مزید رونق بخشی اور آخر میں دعائیہ کلمات کے ساتھ محفل کا اختتام ہوا۔