Department of Urdu BGSBU

Department of Urdu BGSBU شعبہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں و کشمیر

"بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے شعبۂ گوجری،پہاڑی میں روح پرور دعوتِ افطار کا اہتمام" 26 مارچ 2025 بابا غلام شا...
27/03/2025

"بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے شعبۂ گوجری،پہاڑی میں روح پرور دعوتِ افطار کا اہتمام"

26 مارچ 2025 بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے شعبۂ گوجری، پہاڑی میں ایک شاندار دعوتِ افطار کا اہتمام کیا گیا، جس نے علمی، ثقافتی اور روحانی ماحول کو اکٹھا کر کے ایک یادگار اجتماع کی شکل اختیار کی۔ اس تقریب میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے ڈین اکیڈمک افیئرز، شعبۂ گوجری پہاڑی کے ڈائریکٹر، علم و حکمت کے درخشندہ مینار اور علمی بستیوں کی معتبر شخصیت، پروفیسر محمد جہانگیر وارثی صاحب بطور مہمانِ خصوصی تھے۔ ان کی آمد نے نہ صرف اس تقریب کی رونق کو دوبالا کیا بلکہ شعبہ کی علمی ترقی اور تہذیبی شناخت کے حوالے سے ان کی بصیرت افروز گفتگو نے سامعین پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ پروفیسر وارثی کی شخصیت جہاں علم و دانش کی علامت ہے، وہیں ان کا ویژن اور فکری وسعت شعبہ گوجری و پہاڑی کے لیے ترقی کے نئے راستے کشادہ کر رہی ہے۔
افطاری سے قبل، شعبۂ اردو کے جلیل القدر استاذ، علم و عمل کے پیکر، حضرت مولانا مفتی محمد آصف ملک علیمی صاحب نے نہایت پر سوز انداز میں دعا فرمائی، جس نے اس بابرکت محفل کی روحانی فضا کو مزید کامیاب بنایا۔ ان کی دعا میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی اور شعبۂ گوجری و پہاڑی کی ترقی، اس کے جملہ اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے روشن مستقبل اور اس پُرنور اجتماع کی قبولیت کے لیے اللہ کےحضور خصوصی التجا کی۔ ان کی پُر سوز دعا کے دوران ایک ایسا روحانی کیف محسوس کیا گیا جو سامعین کے دلوں پر اثر انداز ہوا اور محفل کی عظمت کو مزید بلند کر گیا۔
افطاری کے لیے روایتی ضیافتوں کا اہتمام کیا گیا، جس میں بالخصوص خطہ پیر پنجال کی ثقافتی جھلک نمایاں نظر آئی۔ تندوری روٹی، دیسی چٹنی، خالص مکھن، لسی اور دیگر لذیذ مشروبات نے دسترخوان کی رونق کو دوبالا کر دیا۔ مہمانانِ گرامی نے ان نعمتوں سے لطف اندوز ہو کر منتظمین کی کاوشوں کو بے حد سراہا۔ اس دعوتِ افطار کا انتظام شعبۂ گوجری و پہاڑی کے کوآرڈینیٹر، فکری و علمی بصیرت کے حامل، ملت کے فخر اور زبان و ادب کے درخشندہ ستارے، محترم ڈاکٹر لیاقت نیّر صاحب کی قیادت میں عمل میں آیا۔ ان کی ولولہ انگیز قیادت، بے مثال انتظامی صلاحیت، اور علمی ژرف نگاہی نے اس تقریب کو یادگار بنا دیا۔ ان کے ساتھ شعبہ کے اساتذہ، ڈاکٹر شاہین اختر صاحبہ، ڈاکٹر وقار صدیقی، ڈاکٹر منظور حسین، ڈاکٹر ساجد منیر، نے اپنی بے مثال محنت، خلوصِ نیت اور ایثار کے جذبے سے اس تقریب کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ اساتذہ نہ صرف تدریس اور تحقیق کے میدان میں نمایاں ہیں بلکہ زبان و ادب کی خدمت اور ثقافتی ورثے کی ترویج میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی و تدریسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اس یادگار تقریب میں شعبہ کے باصلاحیت، متحرک اور پُرجوش طلبہ و طالبات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی محنت سے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف انتظامی امور میں معاونت کی بلکہ مہمانوں کی خدمت میں بھی اپنی بھرپور لگن کا مظاہرہ کیا۔ ان طلبہ و طالبات میں: اشفاق احمد ، حلیمہ تبسم ، سہراب احمد ،رائین اختر ،آصفہ فردوس ، فریدہ خانم ،نجمہ جبین، محمد یونس کھٹانہ،محمد شعبان خان،شہباز منظور اور شعبہ کے کلرک جاوید اقبال وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں جو اس دعوت افطار کے موقع پر اپنے اساتذہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے اور اس تقریب کو اپنی محنت و لگن سے کامیاب بنایا۔
افطار کے فوراً بعد، نمازِ مغرب بھی شعبہ گوجری و پہاڑی میں ہی ادا کی گئی، جس میں تمام حاضرین نے یکجہتی اور روحانی خشوع و خضوع کے ساتھ شرکت کی۔ نماز کے دوران ایک ایسا روحانی ماحول پیدا ہو گیا جس نے اجتماع کو ایک دینی، علمی اور تہذیبی بزم میں تبدیل کر دیا۔
اس بابرکت محفل میں دیگر معزز شخصیات نے بھی اپنی شرکت سے اس محفل کو مزید رونق بخشی۔ جن میں ڈاکٹر آصف ملک صاحب ( استاذ شعبۂ اردو) ڈاکٹر ایوب صاحب ( استاذ شعبۂ اردو) ڈاکٹر اختر حسین شاہ صاحب ( استاذ شعبۂ فارسی) ڈاکٹر رمضان صاحب ( استاذ شعبۂ فارسی) ڈاکٹر یاسین صاحب ( استاذ شعبۂ فارسی)
ڈاکٹر آصف ملک صاحب (استاذ شعبۂ انگریزی) وغیرہ کی آمد نے محفل کو مزید رونق بخشی اور آخر میں دعائیہ کلمات کے ساتھ محفل کا اختتام ہوا۔

"بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں  یک روزہ عظیم الشان نعتیہ محفل" 20مارچ 2025، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، ...
21/03/2025

"بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں یک روزہ عظیم الشان نعتیہ محفل"

20مارچ 2025، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، راجوری میں شعبۂ اردو اور شعبۂ گوجری و پہاڑی کے اشتراک سے ایک شاندار اور روحانی فضا میں نعتیہ مشاعرہ با عنوان"محمدؐ کی خوشبو ہے ہر گلستاں میں"۔ منعقد ہوا، اس باوقار تقریب کے سرپرستِ اعلیٰ شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال تھے، جب کہ علمی و فکری رہنمائی کے لیے ڈین اکیڈمک افیئرز پروفیسر محمد جہانگیر وارثی صاحب رونق اسٹیج رہے۔مہمانِ خصوصی کے طور پر خطہ پیر پنجال کے معروف ادیب ،شاعر، ماہر استاذ خورشید بسمل صاحب نے اپنی موجودگی سے تقریب کو مزید وقار بخشا۔
پروگرام کا آغاز باقاعدہ طور پر ڈاکٹر محمد آصف ملک علیمی صاحب (استاذ شعبۂ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونی ورسٹی راجوری ) کی خوبصورت آواز میں تلاوتِ قرآنِ مبین سے ہوا، اس کے بعد نعتیہ کلام کی پہلی نشست "محفلِ نعت" کے تحت مختلف ثنا خوانوں نے اپنی عقیدتوں کے نذرانے پیش کیے۔ جن خوش نصیبوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی ان میں عمر حیات، توفیق النسا، ڈاکٹر ساجد منیر (استاذ شعبۂ گوجری و پہاڑی)، ڈاکٹر وقار صدیقی (استاذ شعبۂ گوجری و پہاڑی)، سلیم طالب، صائمہ چودھری، ڈاکٹر نسیم گل ( کوآرڈینیٹر شعبۂ اسلامیات)، ڈاکٹر محمد آصف ملک علیمی (استاذ شعبۂ اردو) کے اسمائے گرامی نمایاں رہے۔ ان ثنا خوانوں نے جس عقیدت و محبت میں نعت کے گلاب بکھیرے، اس سے ہر دل عشقِ مصطفیٰؐ میں سرشار ہوگیا۔
پہلی نشست کے بعد تقریب کا وہ مرحلہ آیا جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا۔" نعتیہ مشاعرہ"، جو نہ صرف شعر و ادب کا سنگم تھا بلکہ عشقِ رسولؐ میں ڈوبے ہوئے دلوں کی دھڑکنوں کا ترجمان بھی تھا۔ مشاعرے میں شریک ہونے والے شعراء نے جب اپنے نعتیہ اشعار پیش کیے تو پورا ماحول محبتِ رسولؐ کے جذبے سے معطر ہوگیا اور ہر طرف سےسبحان اللہ، ماشاء اللہ، اور واہ واہ کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ ان شعراء میں ممتاز چودھری، عمر فرحت، قاری افضل ضیاء، پرویز ملک، ڈاکٹر کوثر جعفری (استاذ شعبۂ فارسی)، توصیف رضا، ساحل حیات، ڈاکٹر شمس کمال انجم ( صدر شعبۂ عربی) شامل تھے، جنہوں نے اپنی فکر انگیز شاعری کے توسط سے نعت گوئی کی عظیم روایت کو مزید مستحکم کیا۔
پروگرام کی سب سے خاص بات پروفیسر محمد جہانگیر وارثی (ڈین اکیڈمک افیئرز) کی شرکت اور ان کا خطاب تھا۔ انہوں نے محفل کو نہ صرف اپنی خوش الحان آواز میں نعتیہ اشعار سنا کر منور کیا بلکہ انتہائی اہم نکات بھی پیش کیے۔ ان کی گفتگو نے حاضرین کو نئی فکر اور نیا زاویۂ نظر عطا کیا۔ خاص طور پر انہوں اس بات پر زور دیا کہ عشقِ رسولؐ کی محافل کو سمینار ہالوں تک محدود رکھنے کے بجائے یونی ورسٹی کے ہر گوشے میں اس کی خوشبو بکھیرنی چاہیے، تاکہ یہ محبت محض رسمی تقاریب تک محدود نہ رہے بلکہ ایک مستقل فکری و روحانی تحریک بن جائے۔ پروفیسر وارثی نے مزید کہا کہ یہ عنوان صرف ایک تقریب کا حصہ نہ بنے، بلکہ اسے عملی طور پر یونی ورسٹی کے ہر گوشے میں محسوس کیا جائے، تاکہ واقعی ہر گلستاں میں محمدؐ کی خوشبو مہکنے لگے۔ ہر شخص نے ان کے خیالات کو سراہا۔
اسی طرح ڈاکٹر شمس کمال انجم (صدر شعبۂ عربی) نے نعت گوئی کے ادبی اور فکری پہلوؤں پر گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ نعت صرف عقیدت کا اظہار ہی نہیں بلکہ ایک علمی ورثہ بھی ہے جسے مزید نکھارنے اور محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر یونی ورسٹی میں نعت خوانی کا شوق رکھنے والے طلبہ و طالبات کی تربیت کے حوالے سے ورکشاپ کے انعقاد کا مشورہ دیا، جو ایک نہایت اہم تجویز ہے۔
پروگرام کی ایک اور خاص بات ڈاکٹر لیاقت نیر (صدر شعبۂ اردو اور کوآرڈینیٹر شعبۂ گوجری پہاڑی) کی بے مثال ، شاندار نظامت تھی۔ انہوں نے اپنی علمیت، خوش بیانی، اور مخصوص دلنشیں طرزِ اظہار سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ دورانِ نظامت انہوں نے درد دل سے بار بار ایسے نعتیہ اشعار پڑھے کہ سامعین خود کو جھومنے سے نہ روک پاتے۔ نہ صرف ان کی زبان سے پھوٹنے والے الفاظ بلکہ ان کا انداز، لب و لہجہ، اور موضوع پر گہری گرفت، سب کچھ سامعین کے دلوں میں اترتا چلا گیا۔ ان کی نظامت اس تقریب کو ایک روحانی تجربہ بنا گئی اور کئی سامعین نے بعد میں اعتراف کیا کہ نظامت کا ایسا اعلیٰ نمونہ بہت ہی کم دیکھنے کو ملا ہے۔
مہمانِ خصوصی خورشید بسمل صاحب نے اپنے خطاب میں نہ صرف نعتیہ شاعری کی عظمت پر روشنی ڈالی بلکہ یونیورسٹی کے دیگر علمی و تحقیقی امور پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر مسرت کا اظہار کیا اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اقبال صاحب اور ڈین اکیڈمک افیئرز پروفیسر محمد جہانگیر وارثی صاحب کو مبارکباد پیش کی ، کہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونی ورسٹی میں دیگر شعباجات کے کورس شروع کیے تو وہیں گوجری اور پہاڑی زبان میں( بی ۔اے) کے کورس کا آغاز کیا ہے، جو ایک انقلابی قدم ہے اور علاقائی زبانوں کی ترویج و ترقی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے مادری زبانوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنی زبان کو فروغ دینا درحقیقت اپنی شناخت اور تہذیب کی حفاظت کرنا ہے۔ ان کے خیالات نے سامعین کو سوچنے پر مجبور کر دیا اور ہر کوئی اس بات سے متفق نظر آیا کہ علاقائی زبانوں کی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں کئی اہم شخصیات نے پس پردہ محنت کی، جن میں شگفتہ شبنم (انچارج فنی و تکنیکی کمیٹی)، ڈاکٹر ایوب (استاذ شعبۂ اردو)، ڈاکٹر مشتاق صدیقی (استاذ شعبۂ اردو)، حبیب بلال (ریسرچ اسکالر، شعبۂ اسلامیات)، ڈاکٹر منظور (استاذ شعبۂ گوجری و پہاڑی)، شاہین اختر (معلمہ، شعبۂ گوجری و پہاڑی)، فرید راز (طالب علم، شعبۂ اردو) اور متعدد رضاکار طلبہ و طالبات شامل تھے۔ ان کی محنت و ریاضت نے اس تقریب کو ایک یادگار لمحہ بنا دیا۔
اسی طرح پروگرام میں دیگر شعبوں کی علمی و ادبی شخصیات نے بھی شمولیت کو یقینی بنایا، جن میں ڈاکٹر منظر عالم ( استاذ شعبہ عربی، کوآرڈینیٹر شعبۂ فارسی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری)، ڈاکٹر اختر حسین شاہ، ڈاکٹر یاسین، ڈاکٹر رمضان (اساتذہ شعبۂ فارسی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری) ، ڈاکٹر یونس کمار، ڈاکٹر اشفاق احمد ، ڈاکٹر محیب احد (اساتذہ شعبۂ اسلامیات) اور دیگر اساتذہ و ریسرچ اسکالرز شامل تھے۔
پروگرام کے اختتام سے قبل پروفیسر محمد جہانگیر وارثی (ڈین اکیڈمک افیئرز) اور مہمانِ خصوصی خورشید بسمل صاحب کے ہاتھوں شعراء اور ثنا خوانوں کو سرٹیفکیٹس اور انعامات تقسیم کیے گئے۔ یہ لمحات انتہائی یادگار تھے، جب ان خوش نصیب افراد کو ان کی عقیدت اور فن کی پذیرائی کے طور پر اعزازات سے نوازا گیا۔ یہ نہ صرف ان کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنا بلکہ آئندہ نعت گوئی اور ثناء خوانی کے لیے مزید ترغیب بھی فراہم کی۔
پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر محمد آصف ملک علیمی صاحب (استاذ شعبۂ اردو) نے تمام معزز مہمانوں، شعراء، ثناء خوانوں، سامعین اور منتظمین کا فرداً فرداً تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اور یہ کہا کہ اس تقریب کی کامیابی ان تمام افراد کی محنت کا نتیجہ ہے جو محبتِ رسولؐ کے جذبے سے سرشار ہو کر اس بزم میں شامل ہوئے۔
بعض جھلکیاں:

25/05/2023

آج مورخہ ٢٥/ مئ ٢٠٢٣ کو شعبۂ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں " ماحولیات اور ادب و ثقافت" کے عنوان پر یک روزہ مجلس مباحثہ ( سمپوزیم) منعقد ہوا ۔ اس کے ساتھ ساتھ سمسٹر چہارم کے طلبا کے لیے سمسٹر دوم کے طلبا نے وداعی تقریب بھی منعقد کی ۔ اس مجلس کی صدارت ڈاکٹر لیاقت نیر صدر شعبہ اردو نے فرمائی ۔ آج کے مہمان خصوصی ڈاکٹر شمس کمال انجم ڈین اسکول آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ لینگویجز تھے ۔ ماحولیات اور ادب و ثقافت " کے موضوع پر ڈاکٹر محمد آصف ملک نے کلیدی خطبہ پیش کیا ، اس مباحثہ ڈاکٹر رضوانہ شمسی ، ڈاکٹر ذاکر بھلیسی ، ڈاکٹر افتخار حسین شاہ اور شعبے اسکالروں اور طلبا نے شرکت کی ، پروگرام کی نشست دوم میں کلچرل پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں مہمان ذی وقار محترم ساجد احمد وانی اور جاوید رشید بھٹ نے اپنی گلوکاری کا فنی مظاہرہ کیا اس طرح صبح سے شام چھ بجے تک اپنی کامیابی کے ساتھ یہ پروگرام چلتا رہا آخر کار صدارتی خطبے اور رسمی اظہار تشکر کے ساتھ یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

تحریر: ڈاکٹر محمد آصف ملک اسسٹنٹ پروفیسر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری

بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے 19ویں یومِ تاسیس پرشعبۂ اُردو نے ایک خوبصورت مشاعرے کے ساتھ ساتھ مختلف تقریبات ...
14/12/2022

بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے 19ویں یومِ تاسیس پر
شعبۂ اُردو نے ایک خوبصورت مشاعرے کے ساتھ ساتھ مختلف تقریبات کا انعقاد کیا۔

آج مورخہ 11 نومبر 2022 کو شعبۂ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں یومِ تعلیم کے بینر تلے ایک بہترین توسیعی لیکچر کا...
11/11/2022

آج مورخہ 11 نومبر 2022 کو شعبۂ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں یومِ تعلیم کے بینر تلے ایک بہترین توسیعی لیکچر کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر اکبر مسعود صاحب نے کی۔ اس موقع پر دہلی یونیورسٹی سے آئے مہمان ذی وقار سابق صدر شعبۂ اردو پروفیسر ارتضیٰ کریم صاحب نے ایک پُر مغز خطبہ پیش کیا۔ جس میں انھوں نے اردو زبان و ادب کی درس و تدریس کے حوالے سے بہت سی کارآمد باتیں کی۔ ان سے قبل ڈاکٹر شمس کمال انجم (اسوسیٹ ڈین آف لینگویج) نے ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی حیات و شخصیت پر سر حاصل گفتگو کی۔ آخر میں شیخ الجامعہ عزت مآب پروفیسر اکبر مسعود صاحب نے شعبہ میں موجود کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات، ریسرچ اسکالروں اور شعبہ کے اساتذہ کرام کو اپنے صدارتی خطبے سے نوازا۔

Visit University website https://bgsbu.ac.in for more information and online form.
25/08/2022

Visit University website https://bgsbu.ac.in for more information and online form.

Selection list of M.A Urdu BGSBU 2022
04/08/2022

Selection list of M.A Urdu BGSBU 2022

14/06/2022
Visit University website for online registrationwww.bgsbu.ac.in
13/06/2022

Visit University website for online registration
www.bgsbu.ac.in

13/06/2022

تیری باتوں میں اتنی خوشبو نہ ہوتی
اگر تیری زبان اردو نہ ہوتی

Address

Rajauri
185232

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Department of Urdu BGSBU posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Department of Urdu BGSBU:

Shortcuts

Share

Category