18/12/2025
تجوید سیریز ۔
قلقلہ کے پانچ حروف اور ان کی حقیقت
قرآن پاک کی تلاوت میں خوبصورتی اور تجوید کے اصولوں پر عمل بہت ضروری ہے، اور انہی اصولوں میں سے ایک "قلقلہ" بھی ہے۔ قلقلہ کے بغیر تجوید مکمل نہیں ہوتی، اور اگر اسے صحیح طرح ادا نہ کیا جائے تو الفاظ کے معانی بھی بدل سکتے ہیں۔
قلقلہ کیا ہے؟
قلقلہ کا لغوی معنی "اچھلنا" یا "جھٹکا دینا" ہے، اور تجوید میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مخصوص حروف کو پڑھتے وقت ان پر ایک ہلکی سی گونج پیدا کی جائے تاکہ وہ صاف اور واضح سنائی دیں۔
قلقلہ کے پانچ حروف:
قلقلہ کے حروف کو یاد رکھنے کے لیے ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ ان پانچوں حروف کو اکٹھا کر کے لفظ "قطب جد" بنا لیا جائے:
1️⃣ ق (قاف)
2️⃣ ط (طائے مہملہ)
3️⃣ ب (باء)
4️⃣ ج (جیم)
5️⃣ د (دال)
یہ تمام حروف جب ساکن ہوں اور ان پر وقف کیا جائے تو جھٹکے کے ساتھ آواز پیدا ہوتی ہے، جسے "قلقلہ" کہا جاتا ہے۔
قلقلہ کی دو اقسام:
✅ قلقلہ کبریٰ: جب قلقلہ والے حرف پر وقف کیا جائے، جیسے "وَتَبَّ" (سورۃ المسد)۔
✅ قلقلہ صغریٰ: جب قلقلہ والے حرف کو درمیان میں بغیر وقف کے پڑھا جائے، جیسے "اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ" (سورۃ القمر)۔
قلقلہ میں عام غلطیاں:
❌ بہت زیادہ جھٹکا دینا، جس سے الفاظ کا اصل مفہوم بدل جائے۔
❌ بہت ہلکا قلقلہ کرنا، جس سے صحیح ادائیگی نہ ہو۔
❌ ہر ساکن حرف پر قلقلہ کرنا، جبکہ یہ صرف مخصوص پانچ حروف پر ہوتا ہے۔
قلقلہ کیوں ضروری ہے؟
قرآن کی درست تلاوت نہ صرف ثواب کا ذریعہ ہے بلکہ اللہ کے کلام کی حقانیت اور عظمت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جو لوگ قلقلہ کو صحیح طرح ادا کرتے ہیں، ان کی تلاوت میں خوبصورتی اور تاثیر زیادہ ہوتی ہے۔
آج ہی اپنی تلاوت کا جائزہ لیں! کیا آپ صحیح قلقلہ کر رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو ابھی سیکھیں اور اپنی تلاوت کو مزید خوبصورت بنائیں۔