02/09/2024
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
امید ہے آپ تمام حضرات بخیر ہوں گے!
✍️ ایسے ہوتے ہیں مخلصین ✍️
" من كان يعبد محمدا فإن محمدا قد مات.
ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت"
مدرسہ عربیہ مصباح العلوم مکیا مدھوبنی بہار آپ کا ایک محبوب اور قدیم ادارہ ہے، جو الحمد اللہ برسوں سے امت کی تعلیم و تربیت میں اہم رول ادا کر رہا ہے۔ یہاں سے سیکڑوں فارغین حفاظ نکلے ہیں ،جو اپنے گاؤں، اور علاقے کو قرآن کی روشنی سے منور کیا ہے ، اور ہزاروں طلبہ وہ ہیں، جنہوں نے ابتدائی عربی درجات کی تعلیم کیلئے اسی چشمہ علم و فن کا رخ کیا اور اپنی علمی تشنگی بجھائی۔ اور یہ مدرسہ بحمد اللہ آج بھی اپنے مشن کی طرف محو سفر ہے۔ 🤲۔
والد محترم رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد بہت سے لوگوں نے تو یہاں تک کہنا شروع کر دیا تھا " مدرسہ اب نہیں چل پائے گا" اشارہ تھا کہ لوگ اب چندہ نہیں دیں گے ہاتھ اٹھا لیں گے ، اس وقت میں نے جامع مسجد میں اپنے ان غیور مسلمان بھائیوں کے سامنے ہونے کا فیصلہ کیا، جن کی زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہوتی ہے، ان کے سامنے میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے وہ ایمانی اور تاریخی کلمات پیش کئے ،جو انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس وقت لوگوں سے فرمایا، جس وقت لوگوں میں اتنا غم تھا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ماننے سے انکار کر دیا تھا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں تلوار اٹھا رکھی تھی کہ اگر کسی نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے تو میں اسے قتل کر دوں گا ،ایسی صورت حال میں انہوں نے فرمایا " من كان يعبد محمدا فإن محمدا قد مات ،و من كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت" اے لوگو! " تم میں سے جو بھی محمد کی عبادت کرتا تھا وہ اچھی طرح جان لیں! کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت میں وفات پا گئے ہیں۔ اور تم میں سے جو اللہ کی عبادت کرتا تھا ،وہ اچھی طرح جان لیں! کہ اللہ زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں آئے گی" ۔ " و من ینقلب علی عقبیه فلن يضر الله شيئاً " اور جو بھی اس دین سےراہ فرار اختیار کرے گا ،وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہیں کرے گا.
حضرت ابو بكر کے اس مختصر لیکن ایمان افروز خطاب نے لوگوں کو بیدار کر دیا ،اور لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں آخری نبی کی حیثیت سے مبعوث کئے گئے تھے ،اللہ نے ان کے ذریعہ اس دین کو مکمل کر دیا ( اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا) ،اور اب وه بھی دیگر انبیاء علیہم السلام کی طرح وفات پا گئے ہیں، لیکن آپ کا لایا ہوا دین، دین اسلام قیامت تک رہیگا، کیونکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لے رکھی ہے ۔
شخصیتیں آتی ہیں،اور جاتی ہیں،اور دین اسلام کی دعوت و تبلیغ ،اور نشر و اشاعت میں اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں ، لیکن ان میں کچھ شخصیتیں ایسی قابل اور علمى ہوتی ہیں ،جن کا بدل بڑی مشکل سے پیدا ہوتا ہے، حضرت والد محترم رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت بھی انہیں میں سے ایک تھی،جن کی وفات نے دینی حلقوں میں ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے، (خصوصاً خطابت کے میدان میں)، اور مدرسہ عربیہ مصباح العلوم کو بھی بڑا دھچکا پہنچا، لیکن پھر بھی یہ ادارہ باذن الله بخوبی چل رہا ہے ،کیوں کہ اہل خیر حضرات کہ توجہ آج بھی الحمد اللہ اس ادارہ پر ویسی ہی مرکوز ہے جیسی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں تھی، کیونکہ وہ کل بھی اس مدرسہ کا تعاون صرف اللہ تعالیٰ کے لئے کر رہے تھے جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات ہے ، اور آج بھی کر رہے ہیں تو اسی خدا کی رضا کے لیے جو موت سے پاک ہے ،ان کی نظریں صرف اللہ کی طرف ہوتی ہیں، اللہ کے ولیوں،اور دینی شخصیتوں سے ان کی محبت و الفت کی وجہ بھی اللہ رب العالمین کی ہی ذات ہوتی ہے ۔
اللہ ایسے حضرات کو دنیوی و اُخروی کامیابیوں سے بھرپور نوازے. آمین یا رب العالمین 🤲۔
عمران مطلوب ندوی۔
مدرسہ کا تعاون آپ اس نمبر پر کر سکتے ہیں:
7250441393. phonepe📱.