2025 में सदकए फितर कितना है? 2025 Me Sadqaye Fitra Kitna Hai? Fitra Nikalne Ka Tareeqa? फितरा 2025
Asrar Najmi Official
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Asrar Najmi Official, Educational Research Center, Sunni Madeena Masjid Kuddalwadi Chikhali, Pune.
Ye Molana Asrar Quadri Najmi (Owner Quadri Agency youtube channel) Ka Official page Hai
Quadriagency Channel Link ���
https://youtube.com/@quadriagency?si=0sBuvo0OuXOUp5Xj
https://www.youtube.com/@asrarquadriofficial8610
24/03/2025
पहले सावरकर "माफीवीर" था , अब "वीर" है
- "बाबर की औलाद आचार्य प्रमोद" 🤡🤡🚩🚩
बरेलवी अपने आला हज़रत इमाम अहमद रज़ा को '' खुदा '' मानते हैं? देवबंदी की दलील के साथ जबरदस्त धुलाई
गैर मुस्लिम को जकात देना कैसा है? भीक मांगने वालों को जकात देना कैसा है? Ghair Muslim Ko Zakat Dena?
20/03/2025
*_________اورنگزیب ظالم یا عادل؟*
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
قریب مہینہ بھر پہلے ایک پروپیگنڈہ فلم رلیز ہوئی۔جس میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کو انتہائی ظالم اور سفاک شہنشاہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ڈائریکٹر نے مراٹھا سردار سنبھاجی کی موت کو نہایت اذیت ناک طریقے پر پکچرائز کیا۔پروپیگنڈہ اسکرپٹ، اذیت ناک پکچرائزیشن، مرکزی اور صوبائی حکومت کی تشہیر نے ڈائریکٹر اور حکومت دونوں کی مراد کو پورا کر دیا۔ریلیز ہوتے ہی فلم موضوع بحث بن گئی۔پروپیگنڈے کا اثر یہاں تک پہنچا کہ حضرت اورنگزیب کی قبر توڑنے، اس پر بیت الخلا بنانے کے مطالبات کیے جانے لگے ہیں۔حالات ایسے بن گیے ہیں کہ کسی بھی وقت ان کی قبر پر حملہ ہو سکتا ہے۔
سترہ مارچ کو بجرنگ دَل نے پونا، ناسک، اورنگ آباد اور ناگپور جیسے کئی شہروں میں قبر ہٹانے کو لیکر احتجاجی کال دی۔ناگپور کے احتجاج میں اورنگزیب کی مصنوعی قبر بنا کر کلمہ شریف لکھی ہوئی چادر ڈال کر نذر آتش کیا گیا۔جس کو لیکر فساد برپا ہوگیا۔نوبت آگ زنی اور گرفتاری تک پہنچی۔شدت پسندوں کے حالیہ ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں یہی تماشا کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
_______اورنگزیب کا طرز عمل
اورنگزیب عالمگیر اصول پسند اور منصف مزاج بادشاہ تھے۔انہوں نے مخالفین کے ساتھ مہذب اور فیاضانہ برتاؤ کیا۔چھترپتی شواجی کو تمام تر دشمنی کے باوجود ایک نہیں دو دو بار امان دی، ساتھ ہی پانچ ہزاری منصب سے بھی نوازا۔
معاہدہ پورندر(1665) کے تحت شواجی نے اپنے بیٹے سنبھاجی کو بھی مغل حکومت کی تحویل میں دے دیا تھا۔اس طرح سنبھاجی نے ایک سال مغل سرپرستی میں گزارا۔تحویل میں ہونے کے باوجود اورنگزیب نے فیاض بادشاہ کی طرح سات سالہ بچے کو بھی پانچ ہزاری منصب دے کر شواجی کی سرداری کا مان رکھا۔
سنبھاجی کی عمر اکیس سال تھی جب اس کے والد نے ناراض ہوکر اسے پنہالہ قلعے میں قید کر دیا۔جیسے تیسے سنبھاجی فرار ہونے میں تو کامیاب ہوگیا لیکن اسے ایک مضبوط پناہ گاہ کی تلاش تھی۔ایک بار پھر اورنگزیب ہی سنبھاجی کے کام آئے۔اسے پناہ دی، سات ہزاری منصب کے ساتھ سابقہ عزت سے نوازا۔فوج میں شامل کیا۔اسی دوران سنبھاجی نے اپنے والد شواجی کے خلاف بھوپال گڈھ جنگ(1679) میں مغل سپاہی کے طور پر حصہ لیا۔ان احسانات کے باوجود سنبھاجی کچھ ہی دنوں بعد پھر سے شواجی سے جا ملا۔شواجی کی موت کے بعد سنبھاجی نے مغل حکومت کے خلاف چھاپہ مار مہم چھیڑ دی۔تقریباً آٹھ سال تک مسلسل لوٹ پاٹ سے سلطنت کو خوب نقصان پہنچایا، مجبوراً اورنگزیب کو اس کی طرف دھیان دینا پڑا۔نتیجہ سنبھاجی کی گرفتاری اور موت پر نکلا۔
سنبھاجی کی موت کے بعد ان کے بیٹے شاہو جی کی دیکھ ریکھ مغل سلطنت ہی کی جانب سے ہوئی۔سنبھاجی کی اہلیہ یے سو بائی کو بھی نہایت احترام کے ساتھ رکھا گیا۔شاہو جی تقریباً 18 سال تک مغل تحویل میں رہ کر جوان ہوئے۔
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں یہ سوال ہر انصاف پسند انسان سے جواب چاہتا ہے اگر اورنگزیب اتنے ہی سخت دل اور مذہباً متعصب تھے تو سنبھاجی کو دو دو بار منصب وعزت دینے کی کیا ضرورت تھی؟
سنبھاجی کی موت کے بعد اس کے بیٹے کی پرورش کیا ضرورت تھی؟
بھلا کون انسان اپنے دشمن کے بیٹے کو اٹھارہ سال تک پالتا ہے؟
کون اپنے دشمن کی بیوی کو بہن جیسی عزت و وقار کے ساتھ رکھتا ہے؟
یہ طرز عمل آج بھی اورنگزیب عالمگیر کے انصاف اور بلند کردار کی گواہی دیتا ہے۔جسے کوشش کے باوجود تاریخ سے نہیں مٹایا جا سکتا۔
*__________سنبھاجی کے بیٹے کا طرز عمل*
سنبھاجی کی موت کے بعد ان کی بیوی یے سو بائی اور بیٹا شاہو جی مغل تحویل میں لے لیے گیے تھے۔تحویل کے باوجود اورنگزیب نے ان کے ساتھ نہایت ہمدردی اور مہربانی کا سلوک کیا۔یہی وجہ ہے کہ شاہوجی ساری زندگی اورنگزیب عالمگیر کے تئیں مخلص رہے۔ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی قبر پر سلام کرنے حاضر ہوتے اور احترام کے ساتھ گلہاے عقیدت پیش کرتے۔انہوں نے ستارا شہر میں اورنگزیب کی شہزادی زینت النسا بیگم کے نام سے بیگم مسجد بھی تعمیر کرائی۔جو آج بھی اورنگزیب کے مخالفین کے منہ پر ایک کرارا طمانچہ ہے۔
اپنے باپ کے قاتل کی قبر پر پھول چڑھانا کوئی آسان کام ہے؟
یقیناً شاہوجی اورنگزیب کا منصفانہ کردار اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔اس لیے باپ کے قتل کے باوجود انہیں اورنگزیب سے عقیدت تھی۔
بیگم مسجد آج بھی اورنگزیب کے تئیں شاہوجی کے احترام و عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شاہوجی کا یہ طرز عمل ان تمام شر پسندوں کو بہترین جواب ہے کہ جب سنبھاجی کے سگے بیٹے نے اورنگزیب کی قبر کا سارا زندگی احترام کیا تو آج تم کس منہ سے ان کی قبر ہٹانے کی بات کرتے ہو؟
کیا ان شرپسندوں کی محبت شاہوجی مہاراج سے بڑھ کر ہے؟
یقیناً یہ سارا ہنگامہ سیاسی فائدہ اٹھانے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کیا جارہا ہے تاکہ عوام ایسے ہی جذباتی ہنگاموں میں لگی رہے اور یہ بے فکری سے حکومت کرتے رہیں۔
*___________موجودہ حالات میں کیا کریں؟*
حالات کی سنگینی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ دو محاذ پر کام کیا جائے:
اولاً سپریم کورٹ میں مسلم مخالف ایشوز اور تحریک کو لیکر ایک رٹ داخل کی جائے اور کورٹ سے اس پر تفصیلی شنوائی اور مستقل حل کی گزارش کی جائے۔کورٹ کو بتایا جائے کہ معاملہ محض کسی قبر/مسجد/جائداد یا دکان مکان کا نہیں رہ گیا ہے۔اب تو باضابطہ قوم مسلم کا وجود نشانے پر ہے اس لیے جس طرح ملک کی پس ماندہ اور دلت اقوام کو ایس سی ایس ٹی ایکٹ کی طرح قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے ویسے ہی مسلمانوں کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ مسلمان روز روز کی اذیت وتکلیف سے نجات حاصل کر سکیں۔
دوسرا کام یہ کیا جائے کہ کچھ نمایاں افراد براہ راست وزیر اعظم سے بات کریں۔نمایاں افراد میں سے کچھ تو وہ ہیں جو صرف مذہبی ومسلکی امور ہی سے دل چسپی رکھتے ہیں۔اس طرح کے امور کا شاید انہیں علم ہی نہیں ہوتا یا وہ ان امور سے لاتعلق رہنا ہی پسند کرتے ہیں۔ایسے میں وہ افراد جو عموماً سیاسی وسماجی کاموں سے دل چسپی اور وابستگی رکھتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ اپنے تعلقات بروئے کار لائیں اور مسلم مخالفت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر وزیر اعظم سے دخل دینے کی اپیل کریں۔ہم نے دیکھا ہے کہ مختلف مواقع پر بہت سارے خانقاہی/مذہبی/سماجی حضرات سے وزیر اعظم کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔کیا ہی اچھا ہو کہ ایسے افراد قومی جذبے کے ساتھ وزیر اعظم کو حالات کی سنگینیوں سے باخبر کرائیں۔اور ان سے بیان جاری کرانے نیز سنجیدہ اقدامات کرنے کی اپیل کریں۔
ہو سکتا ہے اس تجویز پر بعض لوگ یہ کہیں کہ موجودہ حالات تو انہیں کے نظریاتی ورکروں کی دین ہیں، وہ اس سلسلے میں کوئی اقدام کیوں کرنے لگے؟
یاد رکھیں!
جمہوریت میں خود ہی سوچنے اور نتیجہ نکالنے سے بہتر ہوتا ہے کہ دستیاب مواقع کا پورا استعمال کیا جائے۔ملاقات کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے۔کئی بار نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ چہروں کا مَان رکھنا پڑتا ہے۔کیا پتا ایسی کسی ملاقات سے معاملات کو سنبھالنے میں تھوڑی بہت مدد مل جائے۔باقی قانونی طور پر اپنی محنت جاری رکھی جائے۔ایک اہم کام علمی و سماجی سطح پر محنت کرنا بھی ہے۔جس کا اثر یقینی ہے لیکن اس کے لیے زمینی محنت، صبر اور استقامت درکار ہے۔اگر قوم مسلم کو عزت و وقار کے ساتھ جینا ہے تو کوشش کرنا لازمی ہے۔کوشش کرنے والے ایک دن ضرور کامیاب ہوتے ہیں۔
دل نا امید تو نہیں ، ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
19 رمضان المبارک 1446ھ
20 مارچ 2025 بروز جمعرات
Zakat Kis Ko Dena Chahiye? कादरी एजूकेशनल वेल्फेयर सोसाइटी की जकात सदकात फितरे से मदद जरूर करें
जो लोग रोजा रखते हैं लेकिन तरावीह नहीं पढ़ते हैं वह लोग ध्यान से सुन लें || Taraveeh Na Padhna Kaisa Hai?
रोजा रखकर दिन भर सोना कैसा है? Roze Ki Halat Me Din Bhar Sona Kaisa Hai? रोजे में पूरा दिन सोना कैसा है?
मुसलमान रमजान में रोजा क्यों रखते हैं? Hindu Baba Ne Bataya Ramazan Aur Roza Ka Matlab? Ramazan&Roza
अल्लाह की कुदरत देखिए रूस में यह एक जगह है जिसमें आपको यकीन नहीं होगा खुद देखिए 1,पानी में कितना भी भारी पत्थर फेंका पानी में तैरता है 2, कोई चीज खाई में फेंकी जाती है वह वापस आपकी तरफ आ जाती है 3,पानी के चश्मा जिसको पी सकते हैं उसमें आग लगाओ आग लग जाती है अल्लाह हो अकबर 🤲🤲🤲🤲🤲
11/03/2025
پیارے بیٹے !
اللہ کریم تمہیں سلامت رکھے !
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہواور زوالِ نعمت سے پناہ مانگو !
کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ تمہیں خط لکھوں ، تم نے درسِ نظامی میں داخلہ تو لے لیا لیکن یاد رکھنا یہ راہ کوئی آسان بھی نہیں قدم قدم پر ازلی دشمن ابلیس سائے کی طرح ہمارے ساتھ ہے اور چاہتا ہے کہ ہمیں بہکا دے ۔
میں نے ایک قصہ پڑھا توسوچا تمہیں ضرور سناؤں یہ بیسویں صدی کی ابتداء کی بات ہے عبد اللہ القصیمی نام کا ایک بہت بڑا علمی نام دنیا کےسامنے آیا ۔۔۔ عبد اللہ سعودی عرب میں پیدا ہوا اور اس وقت دنیاکے سیاسی حالات میں بہت بڑی تبدیلی تھی خلافتِ عثمانیہ اپنی آخری سانسیں لے چکی تھی اور سعودی عرب میں وہابی مذہب کی ترویج واشاعت زور و شور سے جاری تھی ۔اسی ماحول میں القصیمی نے آنکھ کھولی ۔
القصیمی کی ذہانت کا جواب نہیں تھا، بچپن ہی سے حساس اور محنتی تھا جوانی میں تو القصیمی کی صلاحیتوں نے وہ علمی جوہر دکھائے کہ علمی دنیا حیران رہ گئی ۔۔۔
1927 کے دوران جامعہ ازہر مصر میں القصیمی نے داخلہ لیا اور بیس سال کے اس طالب علم نے ازہر کے فلاسفرز اور اسکالرز کی ناک میں دم کرکے رکھا، القصیمی نے ازہر کے نامور اسکالر یوسف دجوی کی کتاب کے رد میں "البروق النجدية" کتاب لکھ کر تہلکہ مچا دیا، کتاب عرب دنیا میں پھیل گئی ازہر یونیورسٹی نے ان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا، انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا ۔
ان کی دوسری کتاب "الصراع الإسلام و الوثنية" اسلام اور نیشنل ازم کا ٹکراؤ اس کتاب نے تو دھوم ہی مچادی۔
کتاب اتنی مقبول ہوئی کہ عرب دنیا میں القصیمی ابن تیمیہ ثانی سے پکارا جانے لگا، مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ القصیمی کی مدح میں امام کعبہ نے خانہ کعبہ میں قصیدہ پڑھا۔
اس زمانے میں عرب کے علماء یہ کہنے لگے کہ عبداللہ نے یہ کتاب لکھ کر جنت کا مہر ادا کر دیا ہے ۔
عبد اللہ القصیمی نے دفاع اسلام پر جو کتب لکھیں اس کی شہرت کی گونج عرب دنیا میں اپنا لوہامنوا چکی تھی ۔۔۔لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ یہ شخص اسلام سے باغی ہو گیا ۔۔۔دائرہ اسلام سے نکل گیا او رملحد بن گیا ۔
میرے بیٹے ! یہ محض کوئی کہانی نہیں بلکہ داستانِ عبرت ہے ۔۔۔جو شخص ساری زندگی اسلام کی وکالت کرتا رہا اب اس کا قلم اسلام کے خلاف ہی زہر اگلنے لگا۔۔۔ اس نے اسلام کے خلاف ایک کتاب "هذي هي الاغلال" یہ ہیں زنجیریں ،لکھ ڈالی جس میں انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں کے پیچھے رہنے میں نمازوں کے اوقات سبب ہیں، عبادات کو انہوں نے گلے میں پڑی زنجیروں سے تشبیہ دی اور خدا کے وجود کا انکار کردیا۔
عرب دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا ، اس کتاب کا کئی عرب علماء نے جواب بھی دیا اور اس پر شدید تنقید بھی کی گئی عرب دنیا میں اس کتاب پر پابندی لگا دی گئی ۔
اسے توبہ کی توفیق بھی نصیب نہیں ہوئی اور یہ اسی الحاد کی حالت میں 1996 میں مر گیا ۔
میرے بیٹے ! اللہ سے ڈرتے رہنا !
بدبختی بتاکر نہیں آتی جس کیلئے حرم میں دعا ہوتی تھی جس کے لیے اہل علم کی مجالس میں کہنےوالے یہ کہتے تھے کہ القصیمی نے جنت کا مہر ادا کردیا اس کا جنازہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا ۔۔۔
تم یقیناً جاننا چاہو گے کہ وہ اسباب کیا تھے جس کی وجہ سے القصیمی کو ان حالات سے دو چار ہونا پڑا ۔
اس کے بارے میں ایک بات یہ بہت مشہور ہوئی کہ یہ بیروت میں ایک خوب صورت عیسائی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہو گیا تھا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ خراب ہو گیا ۔
میرے بیٹے !تو ایک بات یہ جان لو ! فسق و فجور سے خود کو دور رکھنا اور ہر نا محرم سے ایک فاصلہ لازمی رکھنا۔
دوسری وجہ غرور و تکبرتھا ، القصیمی اپنی تعریف اور علمی مقام کے سامنے کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اس میں ، میں بھی بہت تھی اس غرور و تکبر نے اس کو تباہ کر دیا۔
تیسری وجہ بحث و مباحثہ تھا،اسے بحث کرنے کی عادت تھی ، یہ ہر چیز کو بحث کے میزان پر رکھتا شک کے ترازوں میں تولتایہاں تک کہ یہ اپنے وجود پر بھی سوالات اٹھاتا تھا۔
چوتھی وجہ، مخالف فکر کی کتب کا حد سے زیادہ غیر ضروری مطالعہ تھا۔
میرے بیٹے ! باطل قوتیں بھی فکر کی دنیا میں اپنے ہتھیاروں کےساتھ ہی حملہ آور ہوتی ہیں ۔۔۔کبھی کبھی ان کی زد میں آنے سے بڑے سے بڑا علامہ ، فہامہ بھی نہیں بچ پاتا۔ہمہ وقت اللہ کافضل و کرم طلب کرتے رہنا ۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعاکرتے ہیں
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةًۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ(۸)
اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بے شک تو ہے بڑا دینے والا
میرے بیٹے !
تمہاری شہرت ، نیک نامی ، تمہاری خدماتِ دین ، تمہاری تصانیف و تقاریر سب اسی وقت کامیاب قرار پائیں گی جب تمہارا خاتمہ بالخیر ہو،بس اس وقت یہ دیکھا جائے گا کہ جام ٹوٹا ہے یا توبہ ۔۔۔
ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا اپنے انجام کا سوچنا کہ خاتمہ بالخیر ہو جائے ۔
اللہ تعالیٰ تمہارا حامی و ناصر ہو
والسلام
اسمٰعیل بدایونی
10 مارچ 2025
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Sunni Madeena Masjid Kuddalwadi Chikhali
Pune
411062