موسمی صورتحال کے پیش نظروادی کے تمام سرکاری وغیر سرکاری سکولوں میں تدریسی نظام 4 مارچ سے بحال ہوگا ۔
Govt.Girls UPS Mandoora
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Govt.Girls UPS Mandoora, School, mandoora, Pulwama.
As an institution our aim is to produce tolerant , creative ,optimistic and balanced individuals....we are committed to give our best so as to transform the society ....we believe that each individual is unique possesing unique talents ..
24/07/2023
18/03/2023
Come and give us a chance to serve u....
04/08/2022
Education is not restricted to classroom instructions only. Knowledge gained through experience is eternal...
buds at shikargah for an outing #
01/03/2022
As the schools are going to re open from 02.03.2022 all the students are directed to follow SoPs and take note of following:
1.The attendance time is 10.30 am, however the reporting time shall be 10.15 am
2. Use of mask is mandatory and every student is bound to wear mask.
3. Students should Wash hands frequently.
4.Students shall not share eatables and shall carry their own water bottles.
5. In case of flu like symptoms students should see a doctor and rest at home.
6. Students shall be thermally screened for body temperature.
7.Uniform is not mandatory .
Copied
کامیابی کا راز
استاد نے کلاس میں موجود تمام بچوں کو ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔’’سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔‘‘یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گیا۔کچھ لمحوں کے لیے کلا س میں خاموشی چھاگئی ،ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تاب نظروں سے دیکھ رہا تھااور ہر گزرتے سیکنڈ کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہورہا تھا۔دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آکر کلاس روم کا جائزہ لیا۔پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں جبکہ باقی تمام بچے ٹافی کھاکر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کررہے تھے۔استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اورپڑھانا شروع کردیا۔
کچھ سالوں بعد استاد ،جس کا نام پروفیسر والٹر مشال تھا ،نے اپنی وہی ڈائری کھولی اور ان سات بچوں کے نام نکال کر ان کے بارے میں تحقیق شروع کی ۔کافی تگ و دُو کے بعد ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں کافی ترقی کرچکے ہیں اور ان کا شمار کامیاب افراد میں ہوتاہے۔پروفیسر والٹر نے اپنی کلاس کے باقی طلبہ کا بھی جائزہ لیا،معلوم ہواکہ ان میں اکثر لوگ ایک عام سی زندگی گزاررہے تھے جبکہ کچھ افراد ایسے بھی تھے جن کو سخت معاشی اور معاشرتی حالات کا سامنا تھا۔
اس تمام تر کاوش اورتحقیق کا نتیجہ پروفیسر والٹر نے ایک جملے میں نکالااور وہ یہ تھا کہ
’’جو انسان دس منٹ تک صبر نہیں کرسکتا وہ زندگی میں ترقی نہیں کرسکتا۔‘‘
اس ریسرچ کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی او ر اس کا نام ’’مارش میلو تھیوری‘‘ پڑگیا۔کیونکہ پروفیسر والٹر نے بچوں کو جو ٹافی دی تھی اس کا نام ’’مارش میلو‘‘تھا جو فوم کی طرح نرم تھی ۔اس تھیور ی کے مطابق دنیا کے کامیاب ترین افراد میں اور بہت ساری خوبیوں کے ایک ساتھ ایک خوبی ’’صبر‘‘ کی بھی پائی جاتی ہے۔کیونکہ یہ خوبی انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھاتی ہے جس کی بدولت انسان سخت حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتااور یوں وہ ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتاہے۔
تاریخ کے کامیاب ترین شخصیات کی زندگیوں پر اگر نظر دوڑائیں تو سرِ فہرست حضور نبی کریم ﷺ کا نام آتا ہے ۔ان کی زندگی کے اکثرواقعات ایسے ہیں جہاں بظاہر نقصان نظر آرہا تھا مگر آپ ﷺ نے اپنی بصیرت سے ان کو قبول کیا ، صبر سے کام لیا اور پھراگلے وقتوں میں اس کے بہترین ثمرات نکلے۔اس مثال کا ایک واقعہ صلح حدیبیہ کا ہے ، جس میں کفارکی طرف سے ناانصافی پر مبنی غیر مناسب شرائط کا مطالبہ تھا۔آپ ﷺ نے اس معاہدے کو قبول کیااور پھرکچھ عرصے بعد دنیا نے اس بصیرت کا شاندار نتیجہ فتحِ مکہ کی صورت میں دیکھا۔
اپنی فطرت اور عادت میں’’صبر‘‘شامل کرنے والوں کو ہمیشہ کامیابی ملتی ہے۔اسلامی آداب میں بھی عجلت اور جلدی بازی سے منع کیا گیا ہے ۔چنانچہ قرآن حکیم میں اللہ ارشاد فرماتاہے ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ جبکہ اس کے برعکس جن افراد میں اس صفت کی کمی ہوتی ہے ان کو ہمیشہ نقصان اٹھانا پڑتاہے ۔نفسیات کی رُو سے ’’بے صبری‘‘ کا مطلب انسان کا اپنے پریشان کن جذبات کو درست طریقے سے سمجھ نہ پانا ہے۔جیسے جیسے انسان کو پریشان کن جذبات تنگ کرتے ہیں وہ بے صبرا ہوتا جاتاہے۔ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات کی بنیادی وجہ ’’بے صبری‘‘ ہے ۔بالخصوص پاکستان میں اس کی شرح بہت زیادہ ہے ۔لوگ ٹریفک سگنل پر ایک منٹ تک انتظا ر نہیں کرسکتے،جلدی نکلنے کی کوشش میں وہ تیز رفتاری اختیار کرتے ہیں اور اسی تیز رفتاری میں وہ اپنا اور دوسروں کا جانی اور مالی نقصان کرڈالتے ہیں ۔
خاندانی مسائل پر کام کرنے والے اداروں کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہمارے ہاں ازدواجی رشتوں میں اختلافات اور طلاق کی بڑی وجہ بے صبری اور جلدی بازی ہے۔حساس رشتوں میں صبر سے کام نہیں لیا جاتا،جلد بازی میں فیصلہ کرلیا جاتا ہے اور نوبت طلاق تک جاپہنچتی ہے،جس پر بعد میں خوب پچھتاوا ہوتاہے مگر ۔۔۔وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتاہے۔دیگر خاندانی اور معاشرتی رشتے بھی اسی وجہ سے زوال کا شکارہو جاتے ہیں۔
صبر سے کام لے کر اَمر ہوجانے والوں میں ایک نام سقراط کا بھی ہے ،جس کو فلسفے کی دنیا کا امام جانا جاتاہے ۔ اس نے ناموافق حالات اور قیدوبند کی مشکلات کے باوجود صبر کا دامن تھامے رکھا۔ اپنے نظریات کی پاداش میں اس کو قید کیا گیا۔جیل میں اس کی خیرخواہوں نے اسے نکالنا چاہا مگر وہ نہ مانا،بالآخر اس کو زہر کا پلاکر موت دے دی گئی ،وہ بظاہر مرگیا مگراس کا نام اوراس کے افکار و نظریات آج بھی زندہ ہیں ۔
ایڈیسن جس کی غیر معمولی ایجادات کی بدولت آج ساری دنیااس کو جانتی ہے ،وہ اتنا بڑا سائنسدان نہ ہوتا اگر اس کی والدہ نے سکول سے آئے ہوئے خط کو پڑھ کر صبر سے کام نہ لیا ہوتا،جس میں لکھا تھا کہ’’ آپ کا بچہ انتہائی ناقابل ہے اور ہمارا سکول اس کو مزید نہیں پڑھاسکتا۔‘‘نفسیاتی طورپر اس مشکل گھڑی میں انہوں نے کوئی جلد بازی نہیں کی اور نہ سکول کے خلاف کوئی شکایت کی بلکہ بہت ہی خوب صورت انداز میں اپنے بیٹے کویقین دلایا کہ وہ ایک عظیم انسان بن سکتا ہے اور پھرواقعی وہ نالائق بچہ،ایک بڑاسائنسدان بن گیا۔
’’مارش میلو تھیوری‘‘کے تناظر میں اگر ہم ان تمام واقعات اور شخصیات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ مشکل حالات کے باوجود بھی انہوں نے صبر سے کام لیا، جلد بازی نہیں کی اور نہ ہی سطحی فیصلے کیے ،جس کی وجہ سے وہ اپنے مقصد اور مشن میں کامیا ب ہوگئے اور آج دنیا ان کے ناموں کے گُن گاتی ہے۔
20/08/2020
Copied
بچوں میں خود اعتماد ی کو کیسے بڑ ھا یا جائے؟
ایک ایسی ذہنی کیفیت اور رویہ جس میں ا نسان کویقین ہوتا ہے کہ وہ اپنی قابلیت کا بہترین استعمال کر کے زندگی میں کا میاب ہو سکتا ہے خود اعتمادی کہلاتا ہے۔’’ انسان کا کوئی بھی احساس اس سے بہترنہیں کہ وہ یہ یقین کرنے لگے کہ وہ اپنے حالات سے کہیں طاقت ور ہے(بروس بارٹن)اپنی ذاتی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا زندگی میں کامیابی کی ضمانت ہے اوریہ خود اعتمادی ہی ہے جس کی بدولت انسان پہاڑ کی چوٹیوں کو سر کرنے سے لے کر سمندورں کی گہرائیوں تک جا پہنچتا ہے۔دنیا میں جتنے بھی کا میاب انسان گزرے ہیں ان کی کامیابی کا سبب ان کی خود اعتمادی،قوت ارادی اور مسلسل کو شش رہی ہے اور در حقیت خود اعتمادی انسان کو عام سے خاص بناتی ہے۔
خو داعتمادی جیت کے لیے ایک زبر دست ہتھیار ہے اور جیت اسی کی ہوتی ہے جو خود پر اور اپنی صلاحیتوں پریقین رکھتا ہو۔
شیکسپیئر کا قول ہے،’میں نے دنیا کے خوب صورت نظارے دیکھ لئے لیکن اس منظر سے حسین کوئی منظر نہیں کہ میں کسی بچے کو پراعتماد دیکھوں‘۔ کسی بھی انسان کے پر اعتمادہونے میں اس کے والدین کی تر بیت اہم کردار ادا کرتی ہے اور والدین کی تر بیت کا اندازبچے کی ذہنی نشوونما پر اثر انداز ہوتا ہے اس لیے والدین کو چاہیے کہ ایسا انداز تر بیت اپنائیں جن سے ان کے بچے پر اعتماد ہوں۔پر اعتماد بچے اپنی ذمہ داریوں، زندگی کے چیلنجز،فرسڑیشن، اپنے مثبت اور منفی جذبات کو احسن طریقے سے ہینڈل کرتے ہیں۔ خود اعتمادی والدین کی طرف سے دیے گئے تحفوں میں سے بہترین تحفہ ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ والدین ایسے کون سے اقدامات اپنائیں جن کی مدد سے وہ بچے کی شخصیت کو پر اعتماد بنا سکتے ہیں۔
بچے کو پر اعتماد بنانے میں سب سے اہم کردار گھر کا ماحول ہوتا ہے۔والدین کا آپس میں اور بچوں سے پیار و محبت بھرا تعلق بچوں میں خود اعتمادی لاتا ہے جب بچہ کو پیار ملتا ہے تو بچے اپنے گھر میں،محلے میں، دوستوں میں،سکول اورکالج میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے۔غیر مشروط محبت بچے کو پراعتماد بنانے کی بنیادی اکائی ہے۔جہاں تعریف کی ضرورت ہو تو بچے کی حقیقی تعریف ضرور کریں اگر بچہ کسی کام میں ناکام ہو گیا ہے تو اس کی کوشش کی تعریف ضرور کر یں اور اس کو بتائیں کہ وہ دوبارہ کوشش کر سکتا ہے۔ بچوں میں جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اس طرح وہ سیکھتے ہیں کہ کامیابی کے لیے کتنی محنت کی ضرورت ہوتی ہے؟اپنی کمزر ویوں پر کس طرح قابو پانا ہے اور اپنے مقصدکو کیسے حاصل کرنا ہے؟ والدین کو چاہیئے کہ بچے کو حقیقت سے قریب مقاصد روشناس کرواہیں مثال کے طور بچہ کو کرکٹ کا شوق ہے اور وہ انٹرنیشنل کرکٹر بننا چاہتا ہے تو اس کی رہنمائی کریں کہ پریکٹس اور محنت کے ذریعے اسے سب سے پہلے اپنے سکول کی ٹیم کا حصہ بننا ہے پھر آہستہ آہستہ اپنے مقصد کی طرف بڑھتا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ والدین بچوں کو بتائیں کہ ہر وقت ہر کوئی کامیاب نہیں ہوتا،ناکامیاں زندگی کا حصہ ہیں۔بچے کی رہنمائی کریں کہ ناکامیوں کے بارے میں بات کریں اور ناکامی کی وجوہات کو جاننے کی کوشش کرے اور غلطیوں سے سبق حاصل کرے۔
بچوں کو پر اعتماد بنانے کے لیے ان سے ان کی عمر کے مطابق کام کروائیں جیسا کہ اپنے جوتے صاف کرنا،اپنا کمرہ صاف کرنا،ناشتہ بناناوغیرہ۔جب بچہ کچن میں کام کر رہا ہوتو اس کے پاس ضرو ر موجود رہیں لیکن اس کی مدد نہ کریں۔ان کو اپنے چھوٹے مسائل خود حل کرنے دیں جیسا کہ پارک میں کھیل کے دوران دوستوں میں اگر جھگڑا ہو جائے اگر والدین وہاں موجود بھی ہوں تو بھی بچے کو خود جھگڑے کو نبٹانے دیں اور جب وہ اپنے مسئلے کو احسن طریقے سے حل کر لیں تو ان کی حوصلہ افزائی اور تعریف کی جائے۔ بچہ اپنے والدین کو آئیڈیل مانتا ہے اور والدین سے سیکھتا ہے تو والدین کو چاہیے کہ اپنے آپ کو رول ماڈل بنائیں۔بچوں کوگھر کے اصولوں کا پاپند کریں،اگر بچہ گھر کے اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہو رہا ہے تو اس کو پیار سے،سختی سے والدین ان پر عمل پیرا کرواہیں اس طرح بچہ ڈسپلن سیکھے گا۔ بچوں کی ہر بات پر ہاں نہ کہیں ورنہ وہ ہر بات منوانے کی کوشش کریں گے اور ضدی ہوجائیں گے،ان کو انکار سننے کی بھی عادت بھی ڈالیں ا یک تو بچہ اس سے صحیح اور غلط کا فرق سمجھ پائے گا اور دوسرا اس میں ضدی اور ہٹ دھرم رویہ بھی نہیں نمو پائے گاجو کہ بچہ کی معاشرتی زندگی کے لیے مفید ہے۔ بچہ پر دوستوں کا بہت پر یشر ہوتا ہے جب بچے کو انکار سننے کی عادت ہوتی ہے توبچے کو پتا ہو تاکہ اپنے دوستوں کی بے جا فرمائش کو انکار کیسے کرنا ہے؟ بعض اوقات والدین بچوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی عمر سے زیادہ میچور رویہ کا مظاہرہ کریں اور جب بچے ایسا کر نہیں کر پاتے تو والدین ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں تو بچہ اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔والدین بچوں کے ساتھ کھیلیں ان کو لیڈر بنادیں اس سے بچے میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں اوراس طرح بچہ اپنے آپ کو اہم سمجھے گا اور پر اعتماد ہوگا۔ایک پر اعتماد بچے کو اپنی صلاحیتوں کا حقیقی ادراک ہوتا ہے۔بچے کو اس کے نام سے پکاریں،اس کے نا م کو بگاڑ کر نہ پکاریں اور اس کو بے جا تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔گھر کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بچوں سے رائے لیں اور ان کی رائے کا احترام کریں۔بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو ان میں بہت تجسس ہوتا ہے اور وہ والدین سے سوال کرتے ہیں تو والدین کو چاہیے کہ ان کے سوالات کے جوابات ضرور دیں اس سے بچے میں خود اعتمادی بڑھتی ہے۔بچے کی کامیابی کو پر جوش انداز میں منائیں تو ان کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ مزید مقاصد کے حصول کے لیے کوشش کریں گے۔ان کو وقت کا پابند بنائیں تاکہ ہر کام کو وقت پر کرنے کے عادی ہوں اور وقت کی پاپندی کامیابی کی ضمانت ہے۔بچے کے شوق کی حوصلہ افزائی کریں مثال کے طور اگر بچے کو میوزک کا شوق ہے یافٹبال کھیلنے کا شوق ہے تو اس کی حوصلہ شکنی نہ کریں لیکن اگر بچہ اپنا تمام وقت اس میں صرف کر رہا ہو تو پھر والدین اس کے شیڈول کو ترتیب دیں تاکہ اس کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔ دنیا میں بے شمار ایسے افراد ہیں جہنوں نے اپنے شوق میں اتنی مہارت حاصل کی کہ وہ ان کا پروفیشن بن گیا جیسا کہ مائیکل جورڈن،مائیکل جیکسن،وسیم اکرم وغیرہ شامل ہیں۔ بچے میں خود اعتمادی کو بڑھانے کے لیے بچے کو بازار لے کر جائیں اور اس سے کہیں کہ وہ کوئی چیز خریدے جب بچہ شاپنگ کرتا ہے تو اس میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نمو پاتی ہے،بچے کو روپے پیسے کا حساب کرنا آتا ہے اور اس سے بچے میں خوداعتمادی آتی ہے۔
بچے کو اگر اپنی قابلیت اور ذہانت پر یقین ہو تو اس کی ذات کی روشنی سورج جیسی ہوتی ہے جس سے نہ صرف وہ خود روشن ہوتا ہے بلکہ دوسرں کے لیے روشنی کا باعث ہوتا ہے۔والدین کی توجہ اور مثبت رویہ بچے کو پراعتماد بنا تاہے اس لیے والدین کا فرض ہے کہ بچوں کی تربیت کا بہترین انداز اپنائیں تاکہ بچے معاشرے کے مفید شہری بن سکی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Mandoora
Pulwama
192123