27/10/2025
برکات حنفی
*Follow Us �*
https://www.facebook.com/Hanafi-Channel-108036948242917/
27/10/2025
برکات حنفی
26/01/2023
PAIGHAM E HANAFI
آج پیسہ وہ صابن گیا جو ہر قسم کے داغ کو صاف کر دیتا ہے
جس کے پاس جتنا پیسہ ہو وہ اتنا زیادہ صاف تصور کیا جاتا ہے
اگر کسی پیسہ والے گھر کا لڑکا ہوں یا لڑکی، عورت ہو یا مرد کچھ غلط کریں تو اسے غلط نہیں کہا جاتا ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ یہ تو اسٹائل ہے، کوئی دقت نہیں ہے اس کے پاس پیسہ ہے، یہ پیسہ والے لوگ ہیں لیکن اگر وہی غلطی یا اس سے خفیف کام کسی غریب سے سرزد ہوجائے تو وہ بہت بڑا مجرم تصور کیا جاتا ہے
آخر ایسا کیوں امیر غلط کرے تو اسے دبا دیا جائے، اسٹائل تصور کیا جائے اور عزت برقرار رہے بلکہ مزید عزت بڑھ جائے اور اگر غریب کرے تو ذلیل کیا جائے، سب کو بتایا جائے بلکہ اسے زندہ لاش بنا دیا جائے اور چھوٹی چھوٹی بات پر اس کا جینا حرام کر دیا جائے
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ غلطی غلطی ہے چاہے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھنے والا کرے، پیسہ والا کرے وہ بھی مجرم، غریب کرے وہ بھی مجرم
آج چاہے گاؤں ہو یا شہر ہر جگہ کے معاملات اس تعلق سے یکساں ہیں
اور جو عقلمند تصور کئے جاتے ہیں ان کا کیا کہنا ہے پیسہ والے کی بات (غلطی) ہو تو چپ چاپ رہنا اور غریب کی بات ہو تو ظاہر کرنا، ذلیل و رسوا کرنا اس کو جیتے جی مار ڈالنا ان کا مشغلہ بن چکا ہے
امیر سے ناانصافی کا پیسہ (وہ پیسہ اصل میں آگ اور زہر سے بھی زیادہ خطرناک ہوتاہے) لیکر انصاف و حق سے گریز کرتے ہیں اور غریب تو کچھ دے نہیں سکتا اس لئے ان کا جینا دوبھر کرتے ہیں
حیرت کی بات تو یہ کہ کچھ عقلمند کہلانے والوں نے اس ناانصافی کرنے کو ہی اصل ذریعہ کمال سمجھ رکھا ہے
تو ایسے عقلمند کہلانے والے حضرات یاد رکھیں یہ دونظری(ناانصافی) کرکے دنیا میں تو عزت و ناموری حاصل کرلیں گے لیکن آنکھ بند ہوتے ہی پتہ چل جائے گا کوئی بچانے والا نہ ہوگا کوئی کام آنے والا نہ ہوگا
لہٰذا عقل کا صحیح استعمال کریں انصاف سے کام لیں ہمیشہ ہر کسی کے ساتھ انصاف والا فیصلہ کریں انصاف کو فروغ دیں ناانصافی سے ہجرت کریں انصاف کو وطن بنائیں اس کا فائدہ دنیا میں بھی ملے گا اور آنکھ بند ہونے کے بعد بھی وہ انعامات ملیں گے کہ مزے کو بھی مزہ آجائے گا.
🖋️کثیر السيئات
محمد عادل رضا قادری حنفی
26/8/22
یوم عشرہ میں سبیل لگانے اور کھانا کھلانے اور لنگرلٹانے کا شرعی حکم
============================
پانی یاشربت کی سبیل لگانا جبکہ بہ نیت محمود اور خالصاً لوجہ اللہ ثواب رسانی ارواح طیبہ ائمہ اطہار مقصود ہوبلاشبہہ بہترومستحب وکارثواب ہے
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب تیرے گناہ زیادہ ہوجائیں توپانی پرپانی پلاگناہ جھڑجائیں گے جیسے آندھی میں پیڑ کے پتّے۔ (اس کو خطیب نے انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیان کیا)
اسی طرح کھاناکھلانا لنگر بانٹنا بھی مندوب وباعث اجرہے
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالٰی اپنے اُن بندوں سے جولوگوں کوکھانا کھلاتے ہیں فرشتوں کے ساتھ مباہات فرماتاہے کہ دیکھو یہ کیسااچھاکام کررہے ہیں(اس کو ابوالشیخ نے ثواب میں حسن سے مرسلاً روایت کیا)
مگرلنگرلٹاناجسے کہتے ہیں کہ لوگ چھتوں پربیٹھ کر روٹیاں پھینکتے ہیں، کچھ ہاتھوں میں جاتی ہیں کچھ زمین پر گرتی ہیں، کچھ پاؤں کے نیچے ہیں، یہ منع ہے کہ اس میں رزق الٰہی کی بے تعظیمی ہے، بہت علماء نے تو روپوں پیسوں کالٹانا جس طرح دلہن دولہا کی نچھاور میں معمول ہے منع فرمایا کہ روپے پیسے کو اللہ عزوجل نے خلق کی حاجت روائی کے لئے بنایاہے تو اسے پھینکنا نہ چاہئے، روٹی کاپھینکنا توسخت بیہودہ ہے
(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد ٢٤،صفحہ١١١)
طالب دعا :محمد عادل رضا قادری حنفی
============================
چند مسائل (٢)
فرض نمازوں میں ایک ہی رکعت میں ایک سورۃ کی تکرار مناسب نہیں ہے . مگر ایسا کرنے سے سجدہ سہوہ بھی لازم نہیں.
(تکرار یک سورت در یک رکعت اولی نابائستگی باشد. فتاویٰ رضویہ ج٣)
البتہ سورہ فاتحہ کی تکرار سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے.
آیت کی تکرار سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔
تکرار بولتے ہیں کسی کام کو ایک سے زیادہ مرتبہ کرنا چاہے دو مرتبہ ہو یادو سے زائد
🖋️محمد عادل رضا قادری حنفی
*سورہ فاتحہ کے پندرہ مشہور نام*
سورہ فاتحہ کے متعددنام ہیں اور ناموں کا زیادہ ہونا ا س کی فضیلت اور شرف کی دلیل ہے،اس کے مشہور 15 نام یہ ہیں:
*فَاتِحَۃُ الْکِتَابْ*
سورۂ فاتحہ‘‘ سے قرآن پاک کی تلاوت شروع کی جاتی ہے اوراسی سورت سے قرآن پاک لکھنے کی ابتداء کی جاتی ہے ا س لئے اسے ’’فَاتِحَۃُ الْکِتَابْ‘‘ یعنی کتاب کی ابتداء کرنے والی کہتے ہیں۔
*سُوْرَۃُ الْحَمدْ*
اس سورت کی ابتداء’’اَلْحَمْدُ لِلّٰه‘‘ سے ہوئی ،اس مناسبت سے اسے ’’سُوْرَۃُ الْحَمدْ‘‘ یعنی وہ سورت جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی گئی ہے،کہتے ہیں۔
*اُمُّ الْقُرْآنْ*
*اُمُّ الْکِتَابْ*
سورہ ٔفاتحہ‘‘ قرآن پاک کی اصل ہے ،اس بناء پر اسے ’’اُمُّ الْقُرْآنْ‘‘ اور ’’اُمُّ الْکِتَابْ‘‘ کہتے ہیں۔
*اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ*
یہ سورت نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے یا یہ سورت دو مرتبہ نازل ہوئی ہے اس وجہ سے اسے ’’اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ‘‘ یعنی بار بار پڑھی جانے والی یا ایک سے زائد مرتبہ نازل ہونے والی سات آیتیں ، کہا جاتا ہے۔
*سُوْرَۃُ الْکَنزْ*
*سُوْرَۃُ الْوَافِیَہْ*
*سُوْرَۃُ الْکَافِیَہْ*
دین کے بنیادی امور کا جامع ہونے کی وجہ سے سورۂ فاتحہ کو’’سُوْرَۃُ الْکَنزْ،سُوْرَۃُ الْوَافِیَہْ‘‘ اور ’’سُوْرَۃُ الْکَافِیَہْ‘‘ کہتے ہیں۔
*سُوْرَۃُ الشِّفَاءْ*
*سُوْرَۃُ الشَّافِیَہْ*
شفاء ‘‘ کا باعث ہونے کی وجہ سے اسے’’سُوْرَۃُ الشِّفَاءْ‘‘ اور ’’سُوْرَۃُ الشَّافِیَہْ‘‘کہتے ہیں۔
*سُوْرَۃُ الدُّعَاءْ*
*سُوْرَۃُ تَعْلِیْمِ الْمَسْئَلَہْ*
*سُوْرَۃُالسُّوَالْ*
*سُوْرَۃُ الْمُنَاجَاۃْ*
*سُوْرَۃُ التَّفْوِیْضْ*
دعا‘‘ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اسے’’سُوْرَۃُ الدُّعَاءْ،سُوْرَۃُ تَعْلِیْمِ الْمَسْئَلَہْ، سُوْرَۃُالسُّوَالْ، سُوْرَۃُ الْمُنَاجَاۃْ‘‘اور’’سُوْرَۃُ التَّفْوِیْضْ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
(ماخوذ از تفسیر صراط الجنان)
طالب دعا : کثیر السيئات
*محمد عادل رضا قادری حنفی*
توجہ طلب بات قربانی کے متعلق
بعض لوگ پورے گھر کی طرف سے صِرْف ایک بکرا قُربان کرتے ہیں حالانکہ بعض اَوقات گھر کے کئی اَفراد صاحِبِ نصاب ہوتے ہیں اور اِس بِنا پر ان ساروں پر قربانی واجِب ہوتی ہے ان سب کی طرف سے الگ الگ قربانی کی جائے ۔ایک بکرا جو سب کی طرف سے کیا گیا کسی کا بھی واجِب ادا نہ ہوا کہ بکرے میں ایک سے زیادہ حصّے نہیں ہوسکتے کسی ایک طے شدہ فردہی کی طرف سے بکرا قربان ہوسکتا ہے۔
🖋️کثیر السيئات
محمد عادل رضا قادری حنفی
02/07/2022
آج کا پیغام. 2/7/22
30/06/2022
آج کا پیغام 30/6/22
اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق میں، اشرف ترین مخلوق یعنی حضرت انسان، جتنا آج دکھی اور پریشان ہے، شاید ہی کسی زمانے میں اتنا بے چین و پریشان، غم زدہ اور مایوس ہوا ہوگا کیونکہ دل کو اذیت پہنچانے اور دکھ دینے والے اسباب بے قید و بے حساب ہر طرف موجود ہیں بلکہ جان بوجھ کر پیدا کئے گئے ہیں، تاکہ یہ حساس اور فرحاں مخلوق اور زیادہ بے چین و پریشان ہو
لیکن یاد رہے کہ آج بھی بہاریں آسکتی ہیں، فرحت و مسرت کے چمن لگ سکتے، محبت و الفت کی فضاء معطر ہوسکتی ہے
اگر گفتار کے زہر سے خاص و عام کو مارنا بند کر دیا جائے، اگر نفرت و حسد کے سمندر سے نکل کر اختلافات و انانیت کے بدلے اخلاص کو فروغ دیں، اگر مقصد تخلیق کو جان لیں، اور سنت مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اوڑھنا بچھونا بنا لیں.
آج بھی کچھ لوگ اتنا خوبصورت بولتے ہیں کہ انسان کی سماعتیں ان کو سننے سے کبھی بےزار نہیں ہوتیں خوش گفتار ہونا بھی ایک نعمت ہے کہ لفظ ادا ہوں اور دل میں اتر جائیں لہجے میں وہ تاثیر دے کہ الفاظ سماعتوں سے گزر کر روح میں اتر جائیں.
حدیث پاک میں ہیں فرائض کے بعد اللہ پاک کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل مسلمانوں کے دل میں خوشی داخل کرنا ہے۔(معجم الکبیر 11/59،حدیث:11079)
تیرا اپنے بھائی کے دل ناشاد میں خوشی داخل کرنا ان پسندیدہ ترین اعمال میں سے ہے، جو مغفرت کا مستحق بنانے والے ہیں.
(طبرانی، معجم کبير، 3 : 84)
حسن اخلاق اور عمدہ اوصاف کے ذریعہ دل جیتا جاسکتا ہے، دل کو خوش کرنے ایک بہترین طریقہ مخاطب سے مسکرا کر بات کرنا بھی ہے، موقع مناسبت سے مسکرانہ نبی کریم کریم سنت مبارکہ ہے
عمدہ گفتار اور حسن اخلاق سے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں.
🖋️ کثیر السيئات
محمد عادل رضا قادری حنفی
29/06/2022
آج کا پیغام 29/6/22
28/06/2022
آج کا پیغام 28/6/22