27/08/2022
آج پیسہ وہ صابن گیا جو ہر قسم کے داغ کو صاف کر دیتا ہے
جس کے پاس جتنا پیسہ ہو وہ اتنا زیادہ صاف تصور کیا جاتا ہے
اگر کسی پیسہ والے گھر کا لڑکا ہوں یا لڑکی، عورت ہو یا مرد کچھ غلط کریں تو اسے غلط نہیں کہا جاتا ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ یہ تو اسٹائل ہے، کوئی دقت نہیں ہے اس کے پاس پیسہ ہے، یہ پیسہ والے لوگ ہیں لیکن اگر وہی غلطی یا اس سے خفیف کام کسی غریب سے سرزد ہوجائے تو وہ بہت بڑا مجرم تصور کیا جاتا ہے
آخر ایسا کیوں امیر غلط کرے تو اسے دبا دیا جائے، اسٹائل تصور کیا جائے اور عزت برقرار رہے بلکہ مزید عزت بڑھ جائے اور اگر غریب کرے تو ذلیل کیا جائے، سب کو بتایا جائے بلکہ اسے زندہ لاش بنا دیا جائے اور چھوٹی چھوٹی بات پر اس کا جینا حرام کر دیا جائے
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ غلطی غلطی ہے چاہے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھنے والا کرے، پیسہ والا کرے وہ بھی مجرم، غریب کرے وہ بھی مجرم
آج چاہے گاؤں ہو یا شہر ہر جگہ کے معاملات اس تعلق سے یکساں ہیں
اور جو عقلمند تصور کئے جاتے ہیں ان کا کیا کہنا ہے پیسہ والے کی بات (غلطی) ہو تو چپ چاپ رہنا اور غریب کی بات ہو تو ظاہر کرنا، ذلیل و رسوا کرنا اس کو جیتے جی مار ڈالنا ان کا مشغلہ بن چکا ہے
امیر سے ناانصافی کا پیسہ (وہ پیسہ اصل میں آگ اور زہر سے بھی زیادہ خطرناک ہوتاہے) لیکر انصاف و حق سے گریز کرتے ہیں اور غریب تو کچھ دے نہیں سکتا اس لئے ان کا جینا دوبھر کرتے ہیں
حیرت کی بات تو یہ کہ کچھ عقلمند کہلانے والوں نے اس ناانصافی کرنے کو ہی اصل ذریعہ کمال سمجھ رکھا ہے
تو ایسے عقلمند کہلانے والے حضرات یاد رکھیں یہ دونظری(ناانصافی) کرکے دنیا میں تو عزت و ناموری حاصل کرلیں گے لیکن آنکھ بند ہوتے ہی پتہ چل جائے گا کوئی بچانے والا نہ ہوگا کوئی کام آنے والا نہ ہوگا
لہٰذا عقل کا صحیح استعمال کریں انصاف سے کام لیں ہمیشہ ہر کسی کے ساتھ انصاف والا فیصلہ کریں انصاف کو فروغ دیں ناانصافی سے ہجرت کریں انصاف کو وطن بنائیں اس کا فائدہ دنیا میں بھی ملے گا اور آنکھ بند ہونے کے بعد بھی وہ انعامات ملیں گے کہ مزے کو بھی مزہ آجائے گا.
🖋️کثیر السيئات
محمد عادل رضا قادری حنفی
26/8/22