08/06/2026
حضرت مولانا سعید احمد حبیب صاحب کی تعزیت، اظہارِ افسوس اور اہم اصلاحی پیغام
مورخہ 08 جون بروز پیر، حضرت مولانا سعید احمد حبیب صاحب نائب مہتمم جامعہ ضیاء العلوم پونچھ وصدر تنظیم علماء اہلِ سنت والجماعت ضلع پونچھ، گاؤں اڑائی میں تشریف لائے۔ حضرت کا یہ دورہ ایک نہایت المناک، دل خراش اور انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والے افسوسناک سانحہ کے پس منظر میں تھا، جس میں ایک کم سن معصوم بچی چند روز سے لاپتہ رہنے کے بعد مردہ حالت میں پائی گئی۔
حضرت مولانا سعید احمد حبیب صاحب جناب مشتاق احمد صاحب کے گھر پہنچے اور اہلِ خانہ سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار فرمایا۔ اس موقع پر حضرت نے انتہائی درد بھرے الفاظ میں والدین اور لواحقین کو صبر و استقامت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے اور آزمائش کی گھڑی میں صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھے۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور ان کے لیے بے شمار اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔
حضرت نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں بلکہ پورے معاشرے، پوری ملت اور پوری انسانیت کا درد ہے۔ ایک معصوم بچی کے ساتھ پیش آنے والا یہ سانحہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ایسے واقعات معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں اور ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں۔
اس موقع پر حضرت نے گاؤں کے معززین، علماء کرام، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور تمام سیاسی و سماجی جماعتوں کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اس اندوہناک واقعہ کے مجرم کو قانون کے کٹہرے تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں۔ حضرت نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام خصوصاً ایس ایس پی صاحب، ڈی ایس پی صاحب اور ایس ایچ او صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلع میں کئی پیچیدہ معاملات موجودہ انتظامیہ کی کوششوں سے حل ہوئے ہیں، لہٰذا امید ہے کہ اس حساس اور اہم مقدمہ میں بھی مزید تیزی اور سنجیدگی کے ساتھ کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ قاتل جلد از جلد منظرِ عام پر آئے اور اسے قرار واقعی سزا مل سکے۔
حضرت مولانا نے اپنے خطاب میں اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے نہایت اہم نکات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ والدین اپنی اولاد کی دینی، اخلاقی اور تربیتی نگرانی کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔ گھروں میں دینی ماحول قائم کیا جائے، نماز، روزہ، قرآنِ کریم کی تعلیم اور اسلامی اخلاق کو فروغ دیا جائے۔ بچوں کو نشہ آور اشیاء، بے حیائی، فحاشی، برے دوستوں اور ہر اس راستے سے دور رکھا جائے جو انہیں گمراہی اور تباہی کی طرف لے جاتا ہو۔
حضرت نے فرمایا کہ مساجد کو آباد کرنا، بچوں کو نماز کا پابند بنانا، دین سے وابستگی پیدا کرنا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جب معاشرے میں دین، اخلاق اور خدا خوفی کمزور ہو جاتی ہے تو جرائم، ظلم اور بے راہ روی جنم لیتی ہے۔ اس لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اصلاحِ معاشرہ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
آخر میں حضرت مولانا سعید احمد حبیب صاحب نے نہایت رنج و الم کے ساتھ فرمایا کہ یہ بچی صرف اپنے والدین کی نہیں بلکہ ہم سب کی بچی تھی۔ اس سانحہ نے ہم سب کے دلوں کو غمگین کر دیا ہے۔ ہم اس غم کی گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور ہر ممکن تعاون کے لیے حاضر ہیں۔
حضرت نے دعا فرمائی:
"اے اللہ! مرحومہ بچی کی کامل مغفرت فرما، اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا، اس کے والدین اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرما، ان کے غم کو اپنے فضل و کرم سے آسان فرما، اور اس ظلم کے مرتکب مجرم کو جلد از جلد بے نقاب فرما کر اسے عبرتناک انجام تک پہنچا۔ یا اللہ! ہمارے معاشرے کو امن، سلامتی، دین داری اور پاکیزگی عطا فرما، اور ہر قسم کے فتنوں، جرائم اور برائیوں سے محفوظ فرما۔ آمین یا رب العالمین