Ar-Rasheed Memorial School, That Road Barli Manda

Ar-Rasheed Memorial School, That Road Barli Manda to create educational awareness and bring a seachange through the best quality of learning

आज अल्हम्दुलिल्लाह, (Ar-Rasheed Memorial School, That Road Barli Manda) में  दसवीं बोर्ड कक्षा के वार्षिक परिणाम अत्यंत ...
24/03/2026

आज अल्हम्दुलिल्लाह, (Ar-Rasheed Memorial School, That Road Barli Manda) में दसवीं बोर्ड कक्षा के वार्षिक परिणाम अत्यंत शानदार और उत्साहवर्धक रहे।
सभी प्रिय विद्यार्थियों ने उत्कृष्ट परिणामों के साथ बेहतरीन प्रदर्शन किया। जिस मेहनत, लगन, दृढ़ संकल्प और उत्साह के साथ हमारे विद्यार्थियों ने अपनी शैक्षिक जिम्मेदारियों को निभाया, वह वास्तव में सराहनीय और प्रशंसनीय है। उनके उत्कृष्ट परिणाम और अंक इस बात का स्पष्ट प्रमाण हैं कि निरंतर प्रयास, दृढ़ निश्चय और हौसलौं के साथ सफलता अक्सर सुनिश्चित हो जाती है।
इस शानदार सफलता के पीछे हमारे सम्मानित शिक्षकों और विश्वसनीय टीचर्स की दिन-रात की मेहनत, समर्पण और उनकी निरंतर मार्गदर्शना का बहुत बड़ा योगदान है। उन्होंने न केवल अपने विद्यार्थियों के चरित्र निर्माण और सही मार्गदर्शन का कर्तव्य निभाया, बल्कि अपनी निरंतर मेहनत और सच्ची कोशिशों से अपने संस्थान का नाम भी रोशन किया।
मैं दिल की गहराइयों से सभी शिक्षकों, स्टाफ, संस्थान के सदस्यों और विशेष रूप से प्रिंसिपल साहब का हार्दिक धन्यवाद करता हूँ, जिनकी चिंताओं और दिन-रात की कोशिशों के परिणामस्वरूप यह महान सफलता संभव हुई।
दुआ है कि अल्लाह रब्बुल इज़्ज़त हम सभी की मेहनतों और कोशिशों को स्वीकार फरमाए और भविष्य में भी इसी तरह की सफलताओं का सिलसिला जारी रहे।
सभी सफल विद्यार्थियों को दिली मुबारकबाद! निःसंदेह यह सफलता हमारे विद्यार्थियों के उज्ज्वल भविष्य की शुभ सूचना है। अल्लाह तआला उन्हें और अधिक सफलताओं और उच्च प्रगति से नवाजे।
आमीन, बिजाहे सैय्यिदुल मुरसलीन

23/03/2026
18/02/2026

*باسمہ سبحانہ تعالیٰ*
*فروغ شمع تو باقی رہے گا صبح محشر تک*
*مگرمحفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

یقیناً گردشِ ایّام کا اٹل فرمان یہی ہے کہ اس نیلگوں گنبدِ افلاک کے سائے تلے سانس لینے والی ہر روح کو ایک نہ ایک دن کل نفس ذائقہ الموت کی صدا پر لبیک کہنا ہے۔ دارِ فنا کی یہ مسافت ازل سے مقدر ہے، نہ اس سے کسی کو فرار نصیب ہوا ہے اور نہ انکار کی کوئی سبیل میسر آئی ہے۔ مگر اس قافلۂ رفتگاں میں بعض نفوسِ قدسیہ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی رحلت محض ایک جسم کا سقوط نہیں بلکہ ایک عہدِ روشن کا غروب ہوتا ہے، ایسے آفتاب کہ جن کے ڈھلنے سے فضاؤں میں دیر تک گہرا سنّاٹا طاری رہتا ہے۔
انہی نفوسِ طیّبہ میں میرے مشفق و محسن، حضرت مولانا رئیس الدین صاحب قاسمی ۔نور اللہ مرقدہ۔ سابق مھتمم مدرسہ خدیجۃ الکبری للبنات ننؤ کی ذاتِ والا صفات بھی تھی۔ آپ محض ایک منتظم نہ تھے، بلکہ علم و حلم کے استعارہ، اخلاص و ایثار کے پیکر، اور شفقت و مروّت کے زندہ عنوان تھے۔ آپ کی شخصیت کسی ایک ادارے کی چار دیواری تک محدود نہ تھی، وہ خود ایک انجمن ،ایک تحریک اور ایک دبستانِ فکر کی حیثیت رکھتی تھی۔ آپ کی موجودگی دلوں کے لیے طمأنینت، ذہنوں کے لیے رہنمائی اور قلوب کے لیے چراغِ یقین تھی۔
چند روز قبل جب آپ راہی ملک عدم ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے وقت کی دھڑکن بھی لمحہ بھر کو ٹھہر گئی ہو۔ وہ اپنے محبوبِ حقیقی کے حضور سرخرو ہو کر حاضر ہوئے اور اپنے پس ماندگان کو حزن و الم کے ایسے بحرِ بیکراں کے سپرد کر گئے جس کی موجیں ابھی تک ساحلِ دل سے ٹکرا رہی ہیں۔ کل تک جن محفلوں میں آپ کی مسکراہٹوں کی روشنی بکھری رہتی تھی، آج وہاں سکوت کی دبیز چادر تنی ہوئی ہے۔ جن آنکھوں میں امید کے چراغ روشن تھے، وہ اب اشکوں کے سیلاب سے تر ہیں۔
آپ کی رحلت نے نہ صرف ایک ادارے کو سوگوار کیا بلکہ صوبۂ راجستھان کے دینی و علمی افق پر ایک ایسا خلا پیدا کر دیا جسے پُر کرنا سہل نہیں۔
آپ کا رخصت ہوجانا گویا ایک چراغِ دیرینہ کا گل ہو جانا ہے، جس کی لو سے نسلیں منور ہوتی رہیں۔
ایسے الم انگیز موقع پر شورش کاشمیری کے یہ اشعار بے ساختہ دل کی ترجمانی کرنے لگتے ہیں۔

عجب قیامت کا حادثہ ہے، اشک ہیں آستیں نہیں ہے
زمیں کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہرِ مبیں نہیں ہے
تری جدائی میں مرنے والا وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے۔
مگر تری مرگِ ناگہانی کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

واقعی، عقل اگرچہ تقدیر کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کر چکی ہے، مگر دل اب بھی اس حقیقت کو ماننے پر آمادہ نہیں کہ وہ سراپا اخلاص، وہ مجسم شفقت، وہ پیکرِ استقامت اب ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو چکا ہے۔
بے شک اس ہنگامۂ کون و فساد میں موت ایک ایسی ہمہ گیر حقیقت ہے جو ہر ذی روح کے تعاقب میں سرگرداں ہے۔ ازل سے ابد تک باقی رہنے والی ذات صرف ربِّ لم یزل و لایزال کی ہے، اس کے سوا ہر وجود گردِ راہ ہے، ہر قامت سایۂ دیوار، اور ہر سانس عارضی امانت۔ فنا مخلوق کا مقدر اور احتیاج اس کی فطری مہر ہے۔ انسان۔ یہ تاجدارِ ارض و سما، خلاصۂ ہستی اور اشرف المخلوقات۔ اپنی شوکت پر اگرچہ نازاں رہتا ہے، مگر اس کی حقیقت چند لرزتے ہوئے سانسوں سے زیادہ کیا ہے؟
؎ کریں کیا اپنی ہستی کا یقیں ہم
ابھی سب کچھ، ابھی کچھ بھی نہیں ہم
کاتبِ ازل نے جس جان کے لیے جو ساعت رقم کر دی، اس میں نہ تقدیم کی گنجائش ہے نہ تاخیر کی مجال۔ وقت کی میزان میں ایک لمحہ بھی ادھر اُدھر نہیں ہوتا، تقدیر کے صحیفے میں جو ثبت ہو گیا، وہی نافذ ہو کر رہتا ہے۔ مگر انسان نشۂ غفلت میں اس اٹل سچائی کو بھلا بیٹھتا ہے، حالاں کہ ہر سانس اپنے دامن میں پیامِ فنا لیے آتا ہے۔گویا زندگی خود اپنی ناپائیداری کا اعلان کر رہی ہو۔
؎ آدمی نشۂ غفلت میں بھلا دیتا ہے
ورنہ جو سانس ہے ہر وقت پیغامِ فنا دیتا ہے
حیات اور ممات کے درمیان فاصلہ آخر کتنا ہے؟ یہ سرائےِ فانی ابتدا ہی سے کوچ گاہ ہے، یہاں قیام نہیں، فقط سفر ہے۔اور سفر بھی اُس روز تک، جب ہر نفس کو اپنے انجام سے ہمکنار ہونا ہے۔
؎ موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ تو کل ہماری باری ہے
اسی ازلی دستور کے تحت حضرت مولانا مرحوم کو بھی ایک دن اس دارِ فانی سے کوچ کرنا تھا۔ مگر ان کی رحلت نے گویا پورے خطۂ مارواڑ کو سوگوار کر دیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے علم و عمل کا درخشاں آفتاب یکایک افق کے اُس پار اتر گیا ہو اور چار سُو ایک مہیب سکوت نے ڈیرے ڈال دیے ہوں۔ جب ایک معمولی سنگریزہ بھی سطحِ آب پر گرتا ہے تو موجوں میں ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے، جب ایک تنکا ہوا میں بکھرتا ہے تو فضا میں اضطراب جاگ اٹھتا ہے۔یہاں تو ایک عبقری شخصیت رخصت ہوئی تھی، پھر فضا کیوں نہ مغموم ہوتی، افق کیوں نہ مکدر ہوتا؟
ان کی حیات آزمائشوں کی کٹھالی سے گزر کر نکھری تھی، مگر کوئی ابتلا ان کے لبوں کی خلقی تبسم کو نہ چھین سکی۔ وہ مسکراہٹ صبر کا عنوان تھی، وقار کی تفسیر اور یقینِ محکم کی روشن دلیل۔ اور پھر وہ آخری تبسم۔ جو گویا حیات کی تمام مشقتوں پر خطِ تنسیخ کھینچ کر ہمیں صبر و رضا کا لازوال درس دے گیا۔
بعض ہستیاں محض افراد نہیں ہوتیں، عہدوں کی علامت اور زمانوں کی ترجمان ہوتی ہیں۔ ان کی وفات صرف ایک جسم کا انہدام نہیں، ایک عہد کا اختتام ہوتی ہے۔ ان کے جانے کے بعد آدمی اپنی سانسوں کو بھی اجنبی سا محسوس کرنے لگتا ہے، جیسے زندگی کی معنویت ہی کہیں اوجھل ہو گئی ہو۔ حضرت مولانا مرحوم کی رحلت کی خبر نے میرے دل میں بھی کچھ ایسا ہی خلش انگیز ارتعاش پیدا کیا۔ گویا اپنی بے بضاعتی اور کم مائیگی کا آئینہ اچانک سامنے آ کھڑا ہوا ہو۔
وہ اپنے خدوخال کی دل آویزی، کردار کی پاکیزہ نجابت اور مزاج کی شیریں شرافت کے اعتبار سے اُن نادرۂ روزگار انسانوں میں تھے جنہیں صدیوں کی گردشِ ایام بڑی ریاضت کے بعد جنم دیتی ہے۔ ایسے نفوسِ قدسیہ خاک کے پردوں سے یوں ہی بے نقاب نہیں ہوتے، فلک کو بھی ان کی تخلیق کے لیے مدتوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
چنانچہ خدائے سخن میر تقی میر نے کیا خوب فرمایا تھا،
مت سہل ہمیں سمجھو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
بلاشبہ، حضرت مولانا مرحوم بھی انہی منتخب ہستیوں میں سے تھے۔ وہ چراغ جو بجھ کر بھی روشنی کی یاد چھوڑ جاتا ہے، وہ صدا جو خاموش ہو کر بھی دلوں میں گونجتی رہتی ہے، اور وہ نقش جو مٹ کر بھی تاریخ کے اوراق پر ثبت رہتا ہے۔
حضرت مولانا مرحوم اُس نسلِ نایاب کے افراد میں سے تھے جنہیں زمانہ محض ایک شخص کے طور پر نہیں، بلکہ ایک عہد کے عنوان کے طور پر یاد رکھتا ہے۔ وہ چراغِ راہ بھی تھے اور مینارِ ہدایت بھی، وقارِ علم کی ایسی تابندہ مثال کہ اُن کی ذات میں دانش کی سنجیدگی اور دل کی نرمی یکجا ہو گئی تھی۔ اُن کا وجود کسی ایک نام یا تعارف کا محتاج نہ تھا۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن، ایک درسگاہ، ایک خاموش مگر مؤثر تحریک تھے۔ آج اگرچہ وہ پردۂ ظہور سے اوجھل ہو چکے ہیں، مگر اُن کی مسکراہٹ کی روشنی، اُن کی نصیحتوں کی حرارت اور اُن کی دعاؤں کی خوشبو ہمارے دلوں کے آنگن میں ہمیشہ مہکتی رہے گی۔ یہی اُن کی حیاتِ جاوداں ہے اور یہی ہمارا سرمایۂ افتخار۔
اُن کے علم و فضل کی پہنائیاں بظاہر پردۂ خفا میں رہیں؛ مگر جن آنکھوں نے اُن کی کشادہ پیشانی پر جھلملاتے فکر کے نقوش کو پڑھا، وہ جانتی ہیں کہ وہاں بصیرت کا ایک چراغ ہمیشہ فروزاں رہتا تھا۔ وہ درجۂ کمال کی انکساری کا پیکر تھے۔ شہرت کی بلند مسند اُن کے لیے کبھی کشش نہ رکھتی تھی۔ انہوں نے گمنامی کی پُرسکون وادی کو اختیار کیا، گویا خود کو حاسدانہ نگاہوں کی گرد سے محفوظ رکھنا چاہتے ہوں۔ یوں قدرت نے بھی انہیں سکونِ دل کی دولت عطا کی اور بے شمار آزمائشوں سے بچا لیا۔
اخلاقِ حسنہ اُن کی سرشت میں اس طرح رچے بسے تھے جیسے خوشبو گل کی پنکھڑیوں میں۔ خوش مزاجی اُن کا شعار، شیریں بیانی اُن کا ہنر، اور مروّت اُن کی طبیعت کا جوہر تھا۔ حاضر و غائب یکساں، اصول پر ثابت قدم، اور تعصّب سے یکسر بیگانہ۔ یہ اوصاف اُن کے وجود کا روشن عنوان تھے۔ اُن کی گفتگو میں وقار کی ٹھہراؤ بھری لہر تھی، وضع قطع میں نفاست کا جلال، اور نشست و برخاست میں متانت کا جمال۔ سب سے بڑھ کر قول و عمل کی ہم آہنگی نے انہیں تقویٰ کے بلند مقام پر متمکن کر دیا تھا۔
اُن کی باتوں میں حلاوت کا رس بھی تھا اور حق گوئی کی وہ خفیف سی تلخی بھی، جو دراصل صداقت کا ذائقہ ہوتی ہے۔ وہ مصلحت کی دبیز چادر اوڑھ کر حق بات سے گریز کرنے والوں میں سے نہ تھے، سرِ بزم بھی صداقت کا عَلَم بلند رکھتے اور تامّل کو قریب نہ آنے دیتے۔
وقار و متانت گویا اُن پر تمام ہو گئی تھی۔ نفاست پسند طبیعت کے باوجود سادگی اُن کا طرۂ امتیاز تھی۔ عزیزوں، شاگردوں اور محتاجوں سے اُن کا برتاؤ پدرانہ شفقت کا آئینہ دار تھا۔ اُن کے لب و لہجے کی دل نشینی ایسی کہ سننے والا بے اختیار گرویدہ ہو جائے۔ خوش اطواری، شرافت، شائستگی، خلوص اور وسیع المشربی۔ یہ سب اوصاف اُن کی ذات میں اس طرح مجتمع تھے کہ گویا ایک کامل شخصیت کا مرقع سامنے ہو
میرے لیے اُن سے وابستگی محض عقیدت نہ تھی، بلکہ سرمایۂ حیات تھی۔ جب اُن کی شاداب محبتیں اور خلوص آمیز شفقتیں یاد آتی ہیں تو آنکھوں کی دہلیز پر نمی اتر آتی ہے۔

آہ! وہ کون سا لفظ ہے جو ان کے اوصافِ جمیلہ کا احاطہ کر سکے، اور کون سا اسلوب ہے جو ان کی عظمتِ کردار کا حق ادا کر سکے؟ وہ سراپا وقار تھے، مجسمِ اخلاص تھے، حلم و شفقت کی ایسی دل نشیں تفسیر کہ دیکھنے والا احترام سے جھک جاتا اور ملنے والا محبت سے بھیگ جاتا۔ خرد نوازی ان کی فطرت تھی اور شفقت ان کی سرشت، اپنے چھوٹوں کے لیے سایۂ شفیق، اور بڑوں کے لیے نمونۂ صدق و وفا۔ ایسے نفوسِ قدسیہ زمانوں کی گرد میں گم ہو کر بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتے ہیں۔ مگر اپنی حیات میں خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔
آج جب وہ کاروانِ ہستی سے رخصت ہو چکے ہیں تو دل کے نہاں خانوں میں ایک گہرا سکوت اتر آیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آدمیت کا ایک روشن چراغ گل ہو گیا ہو، جیسے مروّت کا ایک باب بند ہو گیا ہو
مردند و آدمیت بخاک بروند۔
یہ مصرعہ اب محض الفاظ نہیں رہا، ایک عہدِ رفتہ کی بازگشت بن کر سماعتوں میں گونج رہا ہے۔
کچھ شخصیات آتشِ نُمود کی طرح ہوتی ہیں۔چمکتی ہیں، خیرہ کرتی ہیں، مگر جلد بجھ بھی جاتی ہیں۔ ان کی قربت وقتی سرشاری تو عطا کرتی ہے، مگر روح کی پیاس نہیں بجھاتی۔ اس کے برعکس کچھ ہستیاں شمعِ خاموش کی مانند ہوتی ہیں، ان کی لو مدھم سہی، مگر اس کی حرارت میں دوام ہوتا ہے۔ وہ آنکھوں کو نہیں، دلوں کو منور کرتی ہیں، وہ شور نہیں کرتیں، اثر چھوڑتی ہیں۔ مولانا مرحوم اسی قبیل کے مردِ درویش تھے۔ ان کی محفل میں بیٹھنے والا ایک لطیف سی طمانیت اپنے باطن میں اترتی ہوئی محسوس کرتا۔ ایسی طمانیت جو لفظوں سے ماورا اور تصنع سے پاک تھی۔ ان کی گفتگو میں بناوٹ کا شائبہ نہ تھا، ان کے لب و لہجے میں اخلاص کی وہ مہک تھی جو دیر تک روح کے دریچوں میں بسی رہتی تھی۔
ان کی حیاتِ مستعار کا ہر لمحہ احیائے دین اور اشاعتِ علم کے نام وقف تھا۔ وہ علم کو زینت نہیں، امانت سمجھتے تھے، اور خدمت کو منصب نہیں، سعادت جانتے تھے۔ ان کا جینا دینِ حنیف کی سربلندی کے لیے تھا، اور ان کا وصال بھی اسی سلسلۂ خدمت کی تکمیل معلوم ہوتا ہے۔ شبانہ روز کی ریاضت، خاموش محنت، اور بے لوث جدوجہد کے ذریعے انہوں نے علم و عمل کا ایسا استعارہ قائم کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے مینارۂ نور ہے۔ ان کی سادگی میں جلال تھا، ان کے حلم میں وقار، اور ان کے سکوت میں ایک بلیغ پیغام۔
یہ قانونِ فطرت ہے کہ اجسام فنا ہو جاتے ہیں، مگر اخلاص سے تراشے گئے نقوش کبھی مٹتے نہیں۔ جسم خاک کی آغوش میں اتر جاتا ہے، مگر کردار کی خوشبو زمان و مکان کی سرحدوں سے ماورا ہو کر پھیلتی رہتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ ایک عہد کی شناخت بن جاتے ہیں، اور ان کا ذکر دلوں میں چراغِ جاوداں کی طرح فروزاں رہتا ہے۔ نہ مدھم پڑتا ہے، نہ گل ہوتا ہے۔

حضرت مولانا مرحوم کا ذکر دراصل ایک عہدِ وفا، ایک روایتِ صداقت اور ایک داستانِ اخلاص کا ذکر ہے۔ اُن کی یادیں ہمارے لیے رہنمائی کی روشنی ہیں، اور اُن کی تعلیمات ہمارے کردار کی تعمیر کا سرمایہ۔
وہ اگرچہ ظاہراً اس دنیا سےرخصت ہو گئے، مگر اُن کا فیضانِ نظر اور اثرِ سخن ہمیشہ ہمارے قلوب کو منور کرتا رہے گا۔ یہی اُن کی بقا ہے، یہی اُن کی عظمت کا دوام۔

اللہ ربّ العزّت ان کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے حسنات کو میزانِ اعمال میں گراں قدر بنائے، اور ان کے فیوض و برکات کو جاریۂ خیر کی صورت میں تا قیامِ قیامت باقی رکھے۔ پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل سے سرفراز فرمائے، اور اس مردِ خدا کو فردوسِ بریں میں اعلیٰ مقامات عطا کرے۔اور ہمیں ان کے نقوشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو صرف آنسوؤں سے نہیں، بلکہ ان کے مشن کی تجدید سے یاد رکھا کرتی ہیں

أمطر الله علیہ شآبیب الرحمۃ و الغفران، وأفسح لہ فی قبرہ مدّ البصر، وجعل الجنۃ مثواہ ومأواہ۔

*ازقلم✍🏻*
*محمد رشیدی القاسمی*

06/02/2026

جامعہ الرشید کے ہونہار طالب علم، محمد ساحل ڈیڈوانہ، کو تکمیلِ حفظ قرآن کی عظیم سعادت حاصل کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ یہ شرف صبر و استقامت، اور طالب علم کی مسلسل محنتوں کا روشن پھل ہے۔آج ان کے گھر پر شکرانے کی پرنور تقریب میں، ہمارے ادارے کی جانب سے انہیں بطور تحفہ ایک یادگار دیوار گھڑی پیش کی گئی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس لازوال اور بیش بہا نعمت کی دائمی قدر و منزلت عطا فرمائے اور علم و عمل کی مزید توفیق بخشے، اور عزیزم کے آئندہ تعلیمی سفر کو اور بھی روشن ، کامیاب فرماکر اپنی رحمتوں سے خوب معمور فرمائے۔

31/12/2025

دارالعلوم دیوبند کے زمانہ قیام میں ہمارے سینئر درسی ساتھی رہے جناب مولوی عبد الرؤف صاحب چین پورہ اور انکی پوری ٹیم کا آج احاطہ جامعہ الرشید میں خیر مقدم کیا گیا۔۔۔

Address

Pokaran

Telephone

+19782687108

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ar-Rasheed Memorial School, That Road Barli Manda posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Ar-Rasheed Memorial School, That Road Barli Manda:

Shortcuts

Share

Category