31/05/2026
https://youtu.be/QFKEvvQo6jw?si=TylaVHB3CzLsOoSY
خطبۂ عیدالأضحی (۱۴۴۷/۲۰۲۶) جامعہ اسلامیہ سنابل ، نئی دہلی
Khutbae Eidul Adha (1447/2026) Jamia Islamia Sanabil New Delhi by 28.05.2026 / 10.12.1447
30/05/2026
https://youtu.be/9VXfRUZYV_A?si=jLUH292bgb_s_lgQ
ایک ایسی سنت جس کو عموما بھلا دیا گیا ، خطبۂ جمعہ
Ek Esi Sunnat Jis ko Umooman Bhula diya Gaya, Khutbae Juma 29.05.2026/ 11.12.1447
Ek Esi Sunnat Jis ko Umooman Bhula diya Gaya, Khutbae Juma by Shk Mohammad Rahmani 29.05.2026
ایک ایسی سنت جس کو عموما بھلا دیا گیا ، خطبۂ جمعہ جوگا بائی Ek Esi Sunnat Jis ko Umooman Bhula diya Gaya, Khutbae Juma Joga Bai 29.05.2026/ 11.12.1447
29/05/2026
عیدقرباں اور حج بیت اللہ توحید باری تعالی کے بنیادی مظاہر ہیں ، مسلمانوں کو اس پر غور کرنا چاہئے ۔ (مولانا محمدرحمانی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنوبی دہلی کی مرکزی عید گاہ سے موجودہ احوال، پر امن بقائے باہم ، غیر اقوام کے حقوق کی ادائیگی اور ملکی آئین کی پاسداری کی اپیل پر جامع خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریس ریلیز ،29 مئی 2026
ابواکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر نئی دہلی کے زیر اہتمام جنوبی دہلی میں واقع جامعہ اسلامیہ سنابل کے وسیع میدان کی عید گاہ میں ہزاروں مسلمان مرد وخواتین کو سنٹر کے صدر مولانا محمد رحمانی نے عید الأضحی کے خطبہ میں خطاب کرکے اسلامی عقائد اور بنیادوں کی طرف رجوع کرنے پر ابھارا اور موجودہ احوال پر بھی گفتگو فرمائی ۔ مولانا نے امام الموحدین ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے مختلف گوشوں پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ توحید کے اعلان اور شرک سے براءت کے سلسلہ میں اللہ رب العالمین نے ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ کئی بار قرآن مجید میں فرمایا ہے اور اسی بنیاد پر انکی زندگی کو ہمارے لئے اسوہ اور آئیڈیل قرار دیا ہے ۔ مولانا نے حجاج کے ذریعہ بلند کئے جانے والے تلبیہ اور عیدین کی تکبیرات کا تذکرہ کرتے ہوئے بالخصوص عیدالأضحی کے مبارک تہوار کو توحید کے پاکیزہ نعروں کے ذریعہ فضاؤں کو بلند کرنے والا تہوار بتایا اور اسکے بعد ابراہیم علیہ السلام کی آزمائشوں کا تذکرہ کرکے پہلے اللہ کے حکم پر اپنی شریک حیات اور گود کے بچے اسماعیل علیہ السلام کو بے آب گیاہ سرزمین پر چھوڑنے اور پھر جب بچہ جوان ہوگیا تو اسے اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا تذکرہ کیا۔اسکے بعد ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے اپنے والد آزر اور انکی قوم سے توحید کی بنیاد پر بائیکاٹ اور ستاروں ، چاند اور سورج کی مثالوں کے ذریعہ شرک کی تردید اور ایک رب کی عبادت کا تذکرہ کیا گیا ۔
خطیب محترم نے سورۂ حج کی کئی آیات کا ذکر کیا جنمیں توحید کی بنیادیں ، شرک سے بے زاری اور اہل ایمان کے شعار پر گفتگو کی گئی ہے ۔ شرک کرنے والے کی مثال بیان کرتے ہوئے رب کائنات نے فرمایا کہ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑتا ہے پھر یا تو اسے پرندے اچک لے جاتے ہیں یا ہوائیں اڑا کر دور دراز کی جگہ پر پھینک دیتی ہیں جبکہ اللہ کے شعائر کا احترام کرنے والے اپنے دلوں کے تقوی کی بنیاد پر شعائر کا احترام کرتے ہیں ، مولانا نے واضح کیا کہ حرمین کا احترام ، صحابۂ کرام کی تعظیم ، قرآن مجید کی عظمت اور دیگر اسلامی عقائد کا تحفظ درحقیقت اسی تقوی کی بنیاد پر ہوتا ہے اور جو اسلامی شعائر کا احترام نہیں کرتے وہ نہ متقی ہو سکتے ہیں اور نہ اسلامی قیادت کے اہل ہو سکتے ہیں ۔ مسلمانوں کے شعائر کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : تمہارا رب تنہا اور ایک ہے تم اسکی اطاعت اور فرمانبرداری کرو اور عاجزی اختیار کرو ، مؤمن وہ ہوتا ہے جو اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اسکا دل تھرا جاتا ہے ، وہ مصائب پر صبر کرتا ہے ، نماز قائم کرتا ہے اور اللہ کے دیے ہوئے مال سے خرچ کرتا ہے ۔ آگے فرمایا کہ قربانی کے جانور کا نہ خون اللہ کو پہونچتا ہے اور نہ گوشت پہونچتا ہے بلکہ تمہارا تقوی پہوچتا ہے اور پھر رب کائنات نے ان شعائر کو اپنانے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ خود مؤمنوں کی طرف سے انکے دشمنوں کو ہٹا دیتا ہے ۔
مولانا رحمانی نے واضح کیا کہ اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو خانۂ کعبہ کا مقام متعین کرکے اس شرط پر انکی تولیت میں دیا تھا کہ اس مبارک مقام کو شرک وبدعات کے گندگی سے پاک رکھا جائے اور توحید کی بنیاد پر طواف کرنے والوں ، نماز ، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے آباد رکھا جائے اور یہ اللہ کا فضل ہے کہ آج بھی توحید وسنت کی بنیادوں پر اسکی تولیت اور نگہبانی کو اختیار کرنے والے حرمین شریفین کے متولی اور نگراں ہیں اور بڑے پیمانہ پر اسکی خدمات کو انجام دے رہے ہیں ۔ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ توحید باری تعالی ، سنت رسول کی عظمت اور صحابۂ کرام کے احترام کی بنیادوں پر آج بھی ہمیں اپنی زندگی کی بنیادیں قائم کرنی چاہئے اور ان بنیادوں کی مخالفت کرنے والوں سے براءت کا اعلان کر دینا چاہئے ۔ کیوں کہ یہی بنیادیں ہمیں دنیا میں عزت ووقار عطا کرتی ہیں اور انہیں کی بنیادوں پر قبر اور آخرت کے مراحل کی کامیابی کی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں ۔
خطیب محترم نے ملکی اور عالمی احوال پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جہاں ایک جانب دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمان حاشیہ پر کھڑا ہے اور کوئی بھی سیاسی پارٹی اور حکومت انکے لئے سنجیدہ نظر نہیں آتی ہے اور نہ ہی خود مسلم قیادت نے مسلمانوں کے لئے اعلی تعلیم اور خالص اسلامی تربیت کا کوئی ٹھوس اقدام کیا ہے وہیں دوسری جانب ملکی سطح پر ایسے بے شمار مسائل بھی ہیں جن سے ساری اقوام جوجھ رہیں ہیں مثلا بھکمری ، غربت ، تعلیم کے حصول کی مشکلات ، نیٹ کے پیپر کا لیک ہونا اور خودکشی کے واقعات ، لنچنگ ، بدامنی ، بے چینی ، کرپشن ، چوری چکاڑی اور ڈاکہ زنی ، خواتین کا غیر محفوظ ہونا بلکہ چار سال کی بچی کا ریپ ، ایپسٹین فائلز کو اپنی نام نہاد شرافت کو بچانے کے لئے دبانے کی کاوشیں ، نیوز چینلز کا بے تکا انداز اور فضول بکواس کرنا ، الیکشن کے ایام میں سیاسی پارٹیوں کی اخلاقی گراوٹ ، جنگی احوال میں ایران اور اسرائیل کی مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ کاوشیں ، ملک اور عالمی اقتصاد کی چرمراتی صورت حال ، مسجدوں کا ویران ہونا اور مزاروں پر بھیڑ وغیرہ اہم مسائل ہیں جن کی اصلاح پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
خطبۂ عید میں یہ اپیل بھی کی گئی کہ اسلامی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ پرامن بقائے باہم کی پاسداری اور غیر اقوام کے حقوق کی ادائیگی ہیں جن سے عموما مسلمان واقف نہیں ہیں آج ضرورت ہے کہ علمائے حق آگے آئیں اور رسول الرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کئے گئے میثاق مدینہ کے بنود کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کی تربیت کی جائے اور انکو غیر مسلموں کے حقوق کی تفاصیل سکھائی جائیں اور امن وسلامتی کے قیام کے لئے ملکی آئین کی پاسداری کے لئے تیار کیا جائے اور بتایا جائے کہ مسائل کا حل سڑکوں پر نکلنے اور بھیڑ کرنے میں نہیں ہے بلکہ اپنا احتساب کرنے اور اپنی اصلاح کی ذمہ داری میں ہے ، جب تک ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ ہم پر آنے والے مصائب خود ہماری غلطیوں اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں تب تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے ۔
اخیر میں عیدالأضحی کے موقع سے صفائی ستھرائی کے خصوصی اہتمام کی اپیل ، غیر اقوام کے جذبات کے احترام کا خیال رکھنے اور قربانی کے جانوروں کی تصویر اور ویڈیوز سے اجتناب کی اپیل اور دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا ۔
(آفس سکریٹری)
مکمل خطبۂ عید سننے کے لئے درج ذیل لنک پر جائیں :
Khutbae Eidul Adha (1447/2026) Jamia Islamia Sanabil New Delhi by Shk Mohammad Rahmani 28.05.2026
خطبۂ عیدالأضحی (۱۴۴۷/۲۰۲۶) جامعہ اسلامیہ سنابل ، نئی دہلی Khutbae...
29/05/2026
https://youtu.be/QFKEvvQo6jw?si=TylaVHB3CzLsOoSY
خطبۂ عیدالأضحی (۱۴۴۷/۲۰۲۶) جامعہ اسلامیہ سنابل ، نئی دہلی
Khutbae Eidul Adha (1447/2026) Jamia Islamia Sanabil New Delhi by 28.05.2026 / 10.12.1447
Khutbae Eidul Adha (1447/2026) Jamia Islamia Sanabil New Delhi by Shk Mohammad Rahmani 28.05.2026
خطبۂ عیدالأضحی (۱۴۴۷/۲۰۲۶) جامعہ اسلامیہ سنابل ، نئی دہلی Khutbae...
27/05/2026
Eidul Adha 1447 / 2026
عیدالأضحی
27/05/2026
https://youtu.be/fBVt5yD3eAc?si=1fAxUvtCZcXdOwBX
عیدالأضحی ۱۴۴۷ / ۲۰۲۶ پر چند ضروری اپیلیں
Some Important Appeals On Eidul Al-Adha 1447 26.05.2026
26/05/2026
عید الأضحی پر صفائی ستھرائی اور ملکی آئین کا خیال رکھیں اور ممنوعہ جانور کی قربانی نہ کریں ۔ (مولانا محمد رحمانی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر اقوام کے جذبات کا احترام ، سڑکوں پر نماز ادا کرنے سے پرہیز اور حکومت کی گائڈ لائن کا خیال رکھنے کی اپیل ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریس ریلیز ۔ 26 مئی 2026
ابولکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی نے جاری کردہ پریس ریلیز اور ایک مختصر ویڈیو کے ذریعہ ایک اپیل جاری کی ہے جسمیں مسلمانوں سے چند گزارشات اور اپیلیں کی گئی ہیں ، مولانا نے جاری کردہ اپیل میں مسلمانوں اور ہم وطن افراد سے بالخصوص عیدالأضحی کے مبارک موقع پر امن و سلامتی برقرار رکھنے اور بے چینی کے تمام عناصر سے مکمل پرہیز کرنے کی اپیل کی اور فرمایا کہ ملکی قوانین کی پاسداری کا مکمل لحاظ رکھا جائے اور الگ الگ صوبوں میں جاری کردہ حکومت کی گائڈ لائن کا خیال رکھا جائے ۔ اس مبارک موقع سے صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے ، راستوں پر گندگی پھینکنے ، خون بہانے وغیرہ سے مکمل پرہیز کیا جائے ۔
مولانا نے اس موقع سے دوسری اقوام کے جذبات کا خیال رکھنے کی بھی اپیل کی ۔ مثلا قربانی کا جانور لانے لے جانے میں احتیاط رکھنا ، سڑکوں یا کھلے مقامات پر جانور ذبح کرنے سے پرہیز کرنا ، راستوں پر گندگی پھینکنے سے اجتناب کرنا وغیرہ اور اسی طرح ممنوعہ جانور کی قربانی سے مکمل پرہیز کرنا ، مولانا نے یہ بھی واضح کیا کہ ہمیں اسلام بھی اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ہم جہاں زندگی گزارتے ہیں وہاں کے قوانین کا احترام کریں لہاذا ہمیں اسکا مکمل خیال رکھنا چاہئے ۔
مولانا نے یہ اپیل بھی کی کہ قربانی کے جانوروں کی تصاویر اور ویڈیوز نشر اور وائرل کرنے یا بالخصوص انکو ذبح کرتے وقت کی تصاویر اور ویڈیوز نشر کرنے سے بھی مکمل پرہیز کیا جائے کیوں کہ اس سے بھی دوسری اقوام کے جذبات کو ٹھیس پہونچتی ہے اور ہمارا اسلام بھی ان چیزوں کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس سے ہماری عبادت کے ضائع ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے ۔
مولانا نے راستوں پر نماز ادا کرنے سے بچنے کی بھی اپیل کی اور فرمایا کہ اسلام نے سات مقامات پر نماز ادا کرنے سے روکا ہے اور ان سات مقامات میں سے ایک راستے اور سڑک بھی ہیں لہاذا سڑک پر نماز ادا نہیں کرنی چاہئے اور اگر کہیں آبادی زیادہ ہے اور عید گاہ یا مسجد تنگ ہیں تو بھیڑ کو تقسیم کرنے کے لئے آدھے یا ایک گھنٹے کی فاصلہ سے نماز کی دو جماعتیں ہو سکتی ہیں تاکہ آدھے لوگ پہلی جماعت کے ساتھ اور آدھے لوگ دوسری جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلیں ۔ مولانا نے ایک اپیل یہ بھی کی کہ اگر کوئی معاملہ خراب ہونے کا خدشہ ہو تو قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے پولیس اور مقامی ذمہ داران سے بات کرکے انکے ذریعہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔
مولانا اس موقع سے عید کی مبارک باد بھی پیش کی اور خوشی کے اس موقع پر امن وسلامتی کے لئے دعائیں بھی کیں ۔
(آفس سکریٹری)
مکمل اپیل سننے کے لئے درج ذیل لنک پر جائیں :
Some Important Appeals On Eidul Al-Adha 1447 by Shk Mohammad Rahmani 26.05.2026
عیدالأضحی ۱۴۴۷ / ۲۰۲۶ پر چند ضروری اپیلیں Some Important Appeals On Eidul Al-Adha 1447 26.05.2026