25/06/2026
"اگر
بیوی کی زندگی
میں مہر ادا نہ کیا ہو
تو اس کے مرنے کے بعد مہر
کی ادائیگی لازم رہے گی یا نہیں؟"
(دارالافتاء والتحقیق جامعۃ الابرار)
( )
''DAWAT'' KHUD 'DAAIE' KE LIYE HAI.
بلـّغوا عني ولو آية
"BALLIGHU ANNI WALAU AYAH" (Convey from ME Even a SINGEL VERSE~Sahih-AL-Bukhari.
►My Name: Muslim
►My Identity: Islam
►My Purpose: Peace
►My Aim: JANNAH
►My Favorite and Ideal Personality: Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم
►My Favorite Book: Holy Qur'an
►Principle of living a Life: Qur'an and Sunnah
ALHUMDULILAH, AM MUSLIM^^
25/06/2026
"اگر
بیوی کی زندگی
میں مہر ادا نہ کیا ہو
تو اس کے مرنے کے بعد مہر
کی ادائیگی لازم رہے گی یا نہیں؟"
(دارالافتاء والتحقیق جامعۃ الابرار)
( )
24/06/2026
ایک
افسوسناک خبر
یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند
کے رکن شوریٰ مولانا سید انظر حسین
میاں دیوبندی کا انتقال ہوگیا ہے۔ موصولہ تفصیلات
کے مطابق دیوبند کے معروف علمی خانوادے سے تعلق رکھنے والے اور دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ مولانا سید انظر حسین میاں دیوبندی کا گزشتہ رات تقریباً 11 بجے مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اس اچانک سانحہ سے مدارس کے ذمہ داران اور اہل دیوبند میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی: سمیر چودھری ( )
24/06/2026
سعودی
پریس ایجنسی (SPA)
کی جانب سے مدینہ منورہ میں
واقع رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم
کی مسجد، مسجدِ نبویؐ کی ایک انتہائی خوبصورت اور تاریخی تقابلی تصویر جاری کی گئی ہے، جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل موہ لیے ہیں۔ اس تصویر میں 1975 اور موجودہ سال 2026 کے درمیان مسجدِ نبویؐ کے نقشے، رقبے اور تعمیراتی ترقی کا شاندار موازنہ دکھلایا گیا ہے۔ تصویر کے اوپری بلیک اینڈ وائٹ حصے میں سال 1975 کی مسجدِ نبویؐ دکھائی گئی ہے، جہاں گنبدِ خضریٰ کے گرد محدود دالان، چند مینار اور سادہ صحن موجود تھے، جس میں زائرین کا مختصر ہجوم دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر کے نچلے رنگین حصے میں سال 2026 کی جدید ترین اور وسیع مسجدِ نبویؐ کا پرجلال منظر ہے۔ شاہ عبداللہ اور شاہ سلمان کے دور میں ہونے والی حالیہ تاریخ ساز توسیعی منصوبوں کے بعد اب مسجدِ نبویؐ میں لاکھوں حجاج کے لئے خوبصورت برقی چھتریاں، درجنوں بلند و بالا مینار اور مطاف و صحن کا ایک وسیع سمندر نظر آرہا ہے۔ تصویر پر عربی زبان میں "عناية ورعاية" (توجہ اور دیکھ بھال) لکھا ہے، جو اس بات کی عکاسی ہے کہ سعودی قیادت نے حرمین شریفین کے تقدس اور زائرین کی سہولت کے لیے اپنے تمام تر وسائل وقف کر رکھے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس خوبصورت تقابلی منظر کو دیکھ کر لاکھوں صارفین سبحان اللہ پکار اٹھے ہیں اور روضۂ رسولؐ کی اس خوبصورتی کو اپنے واٹس ایپ اور فیس بک پر شیئر کررہے ہیں۔ (منقول) ( )
23/06/2026
"چار
چیزوں سے
عار نہ کی جائے
اگرچہ اس پر سخت بار کیوں نہ ہو"
(کتاب: فضیلت علم وحکمت۔ ص⁷⁸) ( )
کبرنی موت الکُبَراء
ذھب الکرام فسدت غیر مسود
ومن الشقاء تفرد بالسؤدد،
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اس پیرانہ سالی میں عاجزی اور تواضع قابل فخر، آبدیدہ ہوکر طلباء عظام کو اجازت حدیث، قاسم العلوم ملتان ( )
21/06/2026
"میاں
بیوی كے باہمی
حقوق كیا ہیں۔۔۔؟"
سوال: حضرت مفتی صاحب!
شوہر کا بیوی پر اور بیوی کا شوہر پر کیا حقوق ہیں؟
جواب نمبر: 155801
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:176-130/L=2/1439
شوہر کے ذمہ بیوی کے حقوق یہ ہیں: (۱) اپنی حیثیت ووسعت کے موافق بیوی کے نان ونفقہ کا بہتر سے بہتر انتظام کی کوشش کرے۔(۲) خادمہ ونوکرانی کے بجائے رفیقہٴ حیات سمجھے۔ (۳) بلاضرورت سختی وڈانٹ ڈپٹ کا معاملہ نہ کرے۔ (۴) اس کی جانب سے خلافِ مزاج وطبیعت امور پیش آنے پر حتی الامکان صبر سے کام لے۔ (۵) اس کو دینی احکام، مسائل وآداب سکھلاتا رہے اور اس کو شریعت بالخصوص پردہ شرعی وغیرہ کے اہتمام کی تاکید کرتا رہے۔ (۶) گاہے گاہے حسب موقع وسہولت ماں باپ اور دیگر محرم رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت دیدیا کرے۔ (۷) مارنے پیٹنے سے گریز کرے، اور اگر کبھی مارنا سخت ناگزیر ہو تو لکڑی وغیرہ کا استعمال نہ کرے صرف ہاتھ سے مارے اور سر اور دیگر اہم اعضاء پر نہ مارے۔
اور بیوی کے ذمہ شوہر کے حقوق یہ ہیں: (۱) ہرجائز کام میں اس کی اطاعت، ادب، خدمت، دلجوئی اور رضاجوئی کا بھرپور اہتمام کرے۔ (۲) اس کے ساتھ کبھی بھی بے ادبی اور گستاخی کا انداز اختیار نہ کرے۔ (۳) اس کی وسعت وحیثیت سے زیادہ کسی چیز کی فرمائش نہ کرے۔ (۴) اپنی ذات کے سلسلہ میں اس کے حق میں ہرگز کوئی خیانت نہ کرے۔ (۵) اس کا مال اس کی اجازت کے بغیر کہیں خرچ نہ کرے۔ (۶) شوہر کی رعایت میں اس کے ماں باپ اور بہنوں کے ساتھ اچھے سلوک کا اہتمام کرے۔(۷) شوہر اگر کسی بات پر ڈانٹ ڈپٹ کرے اور کچھ کہے تو ترکی بہ ترکی اس کو جواب نہ دے اگرچہ وہ ناحق پر ہو، البتہ غصہ ختم ہونے کے بعد کسی موقع سے صحیح بات کی وضاحت کردے تاکہ اس کا دل صاف ہوجائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند ( )
دسویں
محرم کو دو چیزیں
نہیں کرنی چاہئیں اور دو چیزیں
کرنی چاہئیں۔ اس دن رونا پیٹنا نہیں چاہئے۔
اس دن ڈھول ڈھماکا نہیں کرنا چاہئے۔ اس دن روزہ
رکھنا چاہئے، اور اسی دن حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی ہے، اس لئے ان کے لئے دعا کرنی چاہئے: ثمیرالدین قاسمی (انگلینڈ) ( )
سعودی
عرب میں نئے
اسلامی سال کے
آغاز پر غلافِ کعبہ تبدیل
کردیا گیا ہے۔ مسجد الحرام میں
منعقدہ اس روح پرور تقریب میں کسوہ فیکٹری کے 250 ماہرین اور حرمین انتظامیہ کے کارکنان نے حصہ لیا، اور یہ عمل تقریباً 4 گھنٹوں میں مکمل ہوا۔ واضح رہے کہ 2022 سے غلافِ کعبہ کی تبدیلی ہر سال یکم محرم کو کی جاتی ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ 9 ذی الحجہ کو تبدیل کیا جاتا تھا۔ (بشکریہ: القلم) ( )
18/06/2026
📖 ہر
حرف کو اس
کی صحیح آواز سے
ادا کرنا ہی تجوید کہلاتا ہے۔
تجوید صرف خوبصورت آواز کا نام نہیں بلکہ یہ قرآن کریم کو اسی انداز میں پڑھنے کا طریقہ ہے جس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو سکھایا۔
اگر کسی حرف کی ادائیگی غلط ہوجائے تو:
❌ معنی تبدیل ہوسکتے ہیں
❌ لفظ کا مفہوم متاثر ہوسکتا ہے
❌ تلاوت کی خوبصورتی ختم ہوجاتی ہے
اسی لئے مخارج، صفات اور درست تلفظ سیکھنا ہر قرآن پڑھنے والے کے لیے نہایت ضروری ہے ✨
اس educational post میں:
✅ تجوید کی بنیادی اہمیت
✅ صحیح ادائیگی کی ضرورت
✅ غلط تلفظ کے نقصانات
✅ آسان انداز میں سمجھایا گیا ہے
📌 اس پوسٹ کو Save کریں تاکہ بار بار پڑھ سکیں۔
کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی صحیح تلاوت سیکھ سکیں۔
(منقول) ( )
tajweed, makharij, quran pronunciation, learn quran, tajweed rules, arabic pronunciation, islamic education, quran learning, noorani qaida, correct recitation, islamic knowledge
17/06/2026
(ملفوظ:
لوگوں نے نفسانی لذات
کے حصول کو ضرورت کا نام دے دیا ہے)
(ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ)
"لوگوں نے نفسانی لذات کے حصول کو ضرورت کا نام دے دیا ہے"
ارشاد فرمایا کہ بعض لوگ عذر کرتے ہیں کہ ہم ناجائز معاملات رشوت ستانی وغیره ضرورت کی وجہ سے کرتے ہیں مگر حقیقت میں وہ لوگ جس کو ضرورت کہتے ہیں وہ ضرورت بھی نہیں بلکہ محض حظوظِ نفسانیہ ہیں جن کا نام ضرورت رکھ دیا ہے، مثلاً کسی کی نوکری کے پیسے میں اتنی گنجائش ہے کہ معمولی درمیانی قیمت کے کپڑے پہن سکتا ہے مگر بیش قیمت زرق برق کپڑے بنانے کی گنجائش نہیں۔ اس صورت میں عقلمند آدمی کبھی ایسے گراں قدر کپڑوں کی ضرورت تسلیم نہیں کرسکتا کہ جس ضرورت کے واسطے رشوت لینا پڑے اور اگر اس پر بھی کچھ تنگی ہو تو آخر صبر کی تعلیم اسی حالت کے لئے ہے اور جو مرتبہ صبر سے گزر جائے تو ایسے لوگوں کی امداد کے واسطے شریعت نے خاص قواعد مقرر کئے ہیں ان سے منتفع (فائدہ مند) ہونا چاہئے۔ (سیرت الصوفی، دعوات عبدیت جلد اول، صفحہ ۵۷، خطباتِ حکیم الامت، جلد۱۱، صفحہ ۵۰۰) ( )