علماءاحناف،دیوبند۔الہند

علماءاحناف،دیوبند۔الہند ''DAWAT'' KHUD 'DAAIE' KE LIYE HAI.

بلـّغوا عني ولو آية

"BALLIGHU ANNI WALAU AYAH" (Convey from ME Even a SINGEL VERSE~Sahih-AL-Bukhari.
(1)

►My Name: Muslim
►My Identity: Islam
►My Purpose: Peace
►My Aim: JANNAH
►My Favorite and Ideal Personality: Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم
►My Favorite Book: Holy Qur'an
►Principle of living a Life: Qur'an and Sunnah
ALHUMDULILAH, AM MUSLIM^^

22/08/2026

حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم
کی پیدائش پر دیوبندی، بریلوی
اور دیگر مسالک، سبھی کے یہاں خوشی
منانے کا ثبوت ہے لیکن دیوبندی اس طریقے کو
اپناتے ہیں جس کاحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
حکم دیا ہے، یعنی پیر کے دن چپکے سے روزہ رکھو، کیونکہ اس دن حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہے: (مولانا) ثمیرالدین قاسمی (انگلینڈ) ( )

"یادکیجئے وہ پانچ گھنٹے کا اندھیرا... جس نے دنیا کی تقدیر بدل دی!"ذرا تصور کیجئے، 3 جولائی 1977ء کی ایک خاموش رات۔ لندن ...
21/08/2026

"یاد
کیجئے وہ
پانچ گھنٹے کا اندھیرا...
جس نے دنیا کی تقدیر بدل دی!"
ذرا تصور کیجئے، 3 جولائی 1977ء کی ایک خاموش رات۔ لندن کے ہیمرسمتھ اسپتال کا ایک تاریک کمرہ۔ ایک بہت بڑی، خوفناک اور لوہے کی گونجتی ہوئی مشین کے اندر ایک گمنام انسان لیٹا ہوا ہے۔ کوئی کیمرہ نہیں، کوئی میڈیا نہیں، باہر دنیا کو خبر تک نہیں کہ اندر کیا ہونے جا رہا ہے۔ اگر وہ مشین پھٹ جاتی یا یہ تجربہ ناکام ہوجاتا تو شاید تاریخ اسے ایک پاگل پن کہتی۔ مگر وہ انسان... پورے پانچ گھنٹے تک پتھر کی طرح بالکل بے حرکت لیٹا رہا۔)
کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ گمنام شخص کون تھا؟ اور اس کے ساتھ کیا ہورہا تھا؟
آج ہم اسپتالوں میں جو MRI Scan کرواتے ہیں، جس کی بدولت چند سیکنڈوں میں جسم کے اندر چھپے کینسر، ٹیومر اور دماغی بیماریوں کا پتہ لگ جاتا ہے... اس کی شروعات اتنی آسان نہیں تھی۔
وہ خوفناک تجربہ اور جان کا جوکھم
اس سے پہلے دنیا صرف X-Ray کو جانتی تھی، جو انسانی ہڈیوں کو تو دکھا سکتا تھا لیکن دل، دماغ اور پٹھوں جیسے نازک اعضاء کی اندرونی سچائی سے ناواقف تھا—اور سب سے بڑھ کر، وہ شعاعیں جان لیوا ریڈی ایشن سے بھری ہوتی تھیں۔
اس نامعلوم رضاکار نے جب اس بھاری بھرکم، گرجتی ہوئی مقناطیسی مشین میں قدم رکھا، تو کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ وہ زندہ باہر آئے گا یا نہیں!
پانچ گھنٹے...
بغیر ہلنے جلنے کے...
طاقتور مقناطیسی لہروں اور ریڈیو ویوز کے درمیان گھیرے میں!
جب وہ باہر نکلا، تو انسانی تاریخ کا وہ شاہکار رونما ہوچکا تھا جسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا تھا: انسان کے اندر کا پورا ڈھانچہ، عضلات، دماغ اور رگیں پہلی بار اتنی صاف دکھائی دے رہی تھیں جیسے شیشے کا کوئی گھر ہو۔

جب ایجادات کو پاگل پن سمجھا جاتا ہے:
آج ایم آر آئی محض 15 سے 60 منٹ کا کھیل لگتا ہے، لیکن شروع میں یہ مشینیں اتنی بڑی، مہنگی اور سست تھیں کہ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدانوں نے کہا تھا: "یہ کبھی اسپتالوں میں عام نہیں ہوسکتی!" مگر کچھ لوگوں کی ضد نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ (منقول) ( )

انتہائی رنج و الم کیساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ حضرت مولانا راشد صاحب (میل کھیلڑہ، راجستھان مدرسہ کے ذمہ دار) کے جواں سا...
20/08/2026

انتہائی
رنج و الم کیساتھ
یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ
حضرت مولانا راشد صاحب (میل
کھیلڑہ، راجستھان مدرسہ کے ذمہ دار)
کے جواں سال فرزند دلخراش سڑک حادثے میں
اس دارِفانی سے کوچ کرگئے ہیں۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ اس اچانک اور صدمہ جاں کاہ پر مل کھیڑہ اور گردونواح کے تمام دینی و سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جوان بیٹے کی جدائی کا یہ صدمہ والدین اور خاندان کے لئے انتہائی شُاق اور ناقابلِ برداشت ہے۔ ہم بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں کو درگزر فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور حساب و کتاب کو آسان کرے۔ نیز اللہ تعالیٰ والدِ محترم حضرت مولانا راشد صاحب اور تمام سوگوار خاندان کو صبرِجمیل نصیب فرمائے اور اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) (منقول) ( )

20/08/2026

چونکہ
عید میلاد النبی
صلی اللہ علیہ وسلم
کے منانے کے لئے نہ کوئی حدیث ہے،
نہ کوئی قول صحابی ہے، اس لئے ہم دیوبندی
عید میلاد النبی نہیں مناتے۔ پھر سڑک پر جماعت بناکر نکلنے میں ریا اور نمود بھی ہے، جس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، اس لئے بھی نہیں مناتے (مولانا) ثمیرالدین قاسمی (انگلینڈ) ( )

"مسلسل بارش کے دوران دارالعلوم دیوبند کی تاریخی عمارت کو خطرہ لاحق،’باب الظاہر‘ کا ایک حصہ گرگیا، ایک دو دن میں منہدم کر...
20/08/2026

"مسلسل
بارش کے دوران
دارالعلوم دیوبند کی
تاریخی عمارت کو خطرہ لاحق،
’باب الظاہر‘ کا ایک حصہ گرگیا، ایک
دو دن میں منہدم کرنے کا فیصلہ"
دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ کی جانب سے باب الظاہر کی عمارت کے حوالے سے ایک اہم اعلان جاری کیا گیا ہے۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ مسلسل بارش کے باعث عمارت کی حالت خستہ ہوگئی ہے اور چھت کا ایک حصہ گرچکا ہے۔ مزید کسی حادثے کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ نے اس عمارت کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی طالب علم اس عمارت میں رہائش پذیر ہے تو وہ فوراً اپنا کمرہ خالی کردے۔ جن کمروں پر تالے لگے ہوئے ہیں، ان کے تالے کھول کر سامان نکالنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق عمارت کو ایک دو دن کے اندر منہدم کیا جائے گا تاکہ مسلسل بارش کے باعث کسی بڑے حادثے کا خطرہ نہ رہے۔ واضح رہے کہ ’باب الظاہر‘ دارالعلوم دیوبند کی تاریخی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ دستیاب تاریخی حوالوں کے مطابق یہ عمارت دارالعلوم کے دورِ اہتمام میں تعمیر ہوئی تھی اور اس میں متعدد کمرے اور بڑی درسگاہیں شامل تھیں۔ یعنی ایک تاریخی عمارت، جس سے برسوں کی تعلیمی یادیں وابستہ ہیں، اب خستہ حالی اور حفاظتی خدشات کے باعث منہدم کئے جانے کے مرحلے میں پہنچ گئی ہے۔نوٹ: بعض ذرائع کے مطابق مذکورہ بیان پچھلے سال کا ہے جو آج ہی کی تاریخ میں پھر سے وائرل ہوا ہے۔ (منقول) ( )

"خطا  نسیان اور اکراہ:  امتِ محمدیہ کے لئے ربانی معافی کا جامع اصول"عن ابن عباسٍ رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله ع...
20/08/2026

"خطا
نسیان اور اکراہ:
امتِ محمدیہ کے لئے
ربانی معافی کا جامع اصول"
عن ابن عباسٍ رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((إن الله تـجاوز لي عن أمتي الـخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه))؛ حديث حسن، رواه ابن ماجَهْ والبيهقي وغيرهما.
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے میری امت کے حق میں خطا کو، بھول کو، اور ہر اس چیز کو جس پر انہیں زبردستی مجبور کیا جائے، درگزر فرما دیا ہے۔" یہ حدیث حسن ہے، اور اسے ابنِ ماجہ، بیہقی اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔
حدیث کی عظمت و مقام:
• امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس حدیث میں بے شمار فوائد اور نہایت اہم مسائل جمع ہیں؛ میں نے ان پر مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے، جس کی تفصیل اس کتاب میں نہیں سماسکتی۔"
• علامہ طُوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "یہ حدیث عام نفع کی حامل اور نہایت عظیم مرتبہ رکھتی ہے؛ بلکہ اسے نصفِ شریعت کہا جا سکتا ہے۔"
• بعض علماء نے فرمایا: "یہ حدیث اسلام کا نصف حصہ قرار دیئے جانے کے لائق ہے۔"
مشکل الفاظ کی وضاحت:
• تجاوز: یعنی معاف کر دیا، یا مواخذہ اٹھالیا۔
• لي: یعنی میری خاطر، میرے مقام کی تعظیم میں۔
• الخطأ: وہ کام جو بغیر قصد و ارادہ کے سرزد ہوجائے۔
• النسيان: علم کے بعد بھول جانا، بغیر ارادہ کے۔
• استُكرِهوا عليه: جس پر زبردستی مجبور کر دیے جائیں۔
حدیث کی تشریح
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر خاص کرم فرمایا کہ:
• خطا یعنی غیر ارادی غلطی پر کوئی گناہ نہیں۔
• بھول چوک پر بھی مواخذہ نہیں؛ اگرچہ بعض اوقات بھول کے نتیجے میں شرعی حکم لازم آسکتا ہے، جیسے بھول کر بے وضو نماز پڑھ لی جائے، تو گناہ نہیں، مگر نماز لوٹانا لازم ہوگا۔
• اکراہ یعنی زبردستی کروائے گئے قول یا فعل پر بھی گناہ نہیں۔ لیکن قتل اس سے مستثنیٰ ہے؛ اگر کسی کو قتل پر مجبور کیا جائے تو نہ قاتل کو معافی ہے اور نہ مجبور کرنے والے کو، کیونکہ اپنی جان بچانے کے لئے کسی دوسرے کی جان لینا جائز نہیں۔
حدیث کے اہم فوائد:
1. امتِ محمدیہ ﷺ کا شرف و کرم اور اللہ کے نزدیک اس کا بلند مقام۔
2. خطا، نسیان اور اکراہ میں گناہ اٹھ جاتا ہے، مگر شرعی حکم باقی رہ سکتا ہے۔
3. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی فضیلت۔
4. دینِ اسلام کی وسعت، سہولت، رحمت اور عدمِ سختی۔ (بشکریہ: محمد انعام الحق قاسمی، ریاض سعودی عرب، 30 جولائی 2026) ( )

نہایت رنج و غم کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ مدرسہ فرقانیہ، گونڈہ کے معزز استاذ اور مخلص عالمِ دین حضرت مولانا عبدالحفیظ ...
19/08/2026

نہایت
رنج و غم کے ساتھ
یہ خبر موصول ہوئی کہ مدرسہ
فرقانیہ، گونڈہ کے معزز استاذ اور مخلص عالمِ دین
حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب آج اس دارِفانی سے رخصت ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا کی وفات اہلِ علم، طلبہ اور تمام متعلقین کے لئے ایک عظیم صدمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحبؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور تمام متعلقین کو صبرِجمیل اور اجرِ عظیم نصیب فرمائے۔ اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ واسکنہ فسیح جناتک، وارفع درجاتہ فی علیین۔ آمین یا رب العالمین۔ (منقول) ( )

"کیاکاروباریلوگوں کے لئے گاہکوں کی نفسیات کو سمجھنا ضروری نہیں ہے؟"کاروبار کرنا ہے تو گاہک کو پہچانیے، ان میں مندرجہ ذیل...
19/08/2026

"کیا
کاروباری
لوگوں کے لئے گاہکوں
کی نفسیات کو سمجھنا ضروری نہیں ہے؟"
کاروبار کرنا ہے تو گاہک کو پہچانیے، ان میں مندرجہ ذیل پندرہ نکات اہم تسلیم کئے گئے ہیں۔ کئی سال پہلے امریکہ کی ایک بڑی سپر مارکیٹ چین نے ایک عجیب تجربہ کیا۔ انہوں نے دکان میں مفت پنیر کے نمونے رکھے، ایک دن چھ اقسام کے پنیر رکھے، دوسرے دن صرف چوبیس اقسام رکھے۔ نتیجہ حیران کن تھا، جس دن چھ اقسام تھے، وہاں دس گنا زیادہ لوگوں نے خریداری کی۔ زیادہ انتخاب نے گاہک کو خریدنے کے بجائے الجھن میں ڈال دیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ گاہک کا ذہن اس طرح کام نہیں کرتا جیسا کاروباری لوگ سمجھتے ہیں، اور جو شخص کاروبار شروع کرنے سے پہلے گاہک کی نفسیات نہیں سمجھتا وہ اندھیرے میں تیر چلاتا ہے۔ آئیے ان پندرہ نکات پر بات کرتے ہیں جو ہر کاروباری شخص کو معلوم ہونے چاہئیں:
1-پہلی بات یہ ہے کہ گاہک قیمت نہیں دیکھتا، وہ موازنہ دیکھتا ہے۔ ایک ہزار روپے کی چیز مہنگی لگے گی اگر ساتھ پانچ سو کی چیز رکھی ہو، اور سستی لگے گی اگر ساتھ دو ہزار کی چیز رکھی ہو۔ یعنی قیمت کا کوئی مطلق پیمانہ نہیں، ہر فیصلہ نسبتی ہوتا ہے۔

2-دوسری بات، انسان نقصان سے اتنا ڈرتا ہے جتنا فائدے سے خوش نہیں ہوتا۔ ماہرینِ نفسیات نے دکھایا کہ سو روپے کھونے کا دکھ سو روپے پانے کی خوشی سے دگنا شدید ہوتا ہے۔ اسی لئے “چھوٹ ختم ہونے والی ہے” کا جملہ "نیا آفر آیا ہے" سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
3-تیسری بات، گاہک فیصلہ عقل سے نہیں، جذبے سے کرتا ہے، پھر عقل سے اس کا جواز تلاش کرتا ہے۔ اسی لیے صرف فیچرز بتانا کافی نہیں، پہلے احساس جگانا ضروری ہے۔
4-چوتھی بات، بہت زیادہ انتخاب دراصل فروخت کم کرتا ہے، جیسا کہ اوپر پنیر کی مثال میں دیکھا۔ دماغ محدود آپشنز کو آسانی سے پروسیس کرتا ہے۔
5-پانچویں بات، لوگ چیز نہیں خریدتے، وہ اس چیز سے جڑی کہانی خریدتے ہیں۔ ایک ہی گھڑی اگر عام دکان میں ہو تو کچھ اور قیمت پائے گی، اور اگر اس کے ساتھ کہانی جڑی ہو تو مختلف قیمت پائے گی۔
6-چھٹی بات، انسان کسی چیز کا مالک بنتے ہی اسے زیادہ قیمتی سمجھنے لگتا ہے۔ اسی لیے مفت ٹرائل دینے سے خریداری کا امکان بڑھ جاتا ہے، کیونکہ استعمال کے بعد چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔
7-ساتویں بات، پہلی قیمت جو گاہک کو دکھائی جائے، اس کے بعد کے تمام فیصلوں پر اثر ڈالتی ہے۔ اگر پہلے مہنگی چیز دکھا دی جائے تو اگلی چیز سستی محسوس ہوگی، چاہے وہ حقیقت میں مہنگی ہو۔
8-آٹھویں بات، بھیڑ کی نفسیات بہت طاقتور ہوتی ہے۔ جب گاہک دیکھتا ہے کہ دوسرے لوگ کوئی چیز خرید رہے ہیں یا کسی دکان پر رش ہے، تو اس کا اعتماد بڑھ جاتا ہے، چاہے وہ چیز جانچے بغیر۔
9-نویں بات، بہت آسانی سے دستیاب چیز کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ کمیابی کا احساس، چاہے مصنوعی ہی کیوں نہ ہو، طلب بڑھا دیتا ہے۔
10-دسویں بات، گاہک تفصیلی وضاحت سے زیادہ سادہ اور یقین بھرے جملے پر بھروسہ کرتا ہے۔ پیچیدہ وضاحت شک پیدا کرتی ہے، سادگی اعتماد دیتی ہے۔
11-گیارہویں بات، انسان تکلیف اور خوشی دونوں کو اختتام سے یاد رکھتا ہے۔ کسی تجربے کا آخری لمحہ پورے تجربے کی یاد بن جاتا ہے، اسی لیے خریداری کے بعد کا آخری تاثر شروع سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
13-بارہویں بات، رنگ اور ماحول لاشعوری طور پر خرچ کرنے کی رفتار بدلتے ہیں۔ سست موسیقی گاہک کو دکان میں زیادہ دیر رکھتی ہے اور زیادہ خریداری کرواتی ہے۔
13-تیرہویں بات، جب گاہک کو ذاتی طور پر مخاطب کیا جائے، نام لے کر یا اس کی پسند کے مطابق تجویز دی جائے، تو خریداری کا امکان نمایاں بڑھ جاتا ہے۔ عمومی اشتہار سے ذاتی توجہ زیادہ مؤثر ہے۔
14-چودہویں بات، انسان اپنے فیصلے پر قائم رہنا چاہتا ہے، چاہے وہ غلط ثابت ہو رہا ہو۔ اسی لیے ایک بار خریداری کرنے والا گاہک دوبارہ اسی برانڈ کی طرف لوٹتا ہے، محض عادت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے پرانے فیصلے کو درست ثابت کرنے کی خواہش سے۔
15-پندرہویں اور آخری بات، گاہک کا اعتماد جیتنا فروخت سے زیادہ اہم ہے۔ جو کاروبار قلیل مدتی منافع کی بجائے طویل مدتی بھروسہ بناتا ہے، وہی آخر میں پائیدار رہتا ہے۔
سو، کاروبار شروع کرنے سے پہلے سرمایہ، جگہ اور مصنوعات کا سوچنا کافی نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ گاہک کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔ جو یہ سمجھ لے، وہ آدھی جنگ جیت چکا ہوتا ہے۔ (بشکریہ: جاوید تیموری) ( )

کسی کو مشورہ کب دینا چاہئے اور کب نہیں؟ ملاحظہ فرمایئے کے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف کیا ہے:
18/08/2026

کسی
کو مشورہ کب
دینا چاہئے اور کب نہیں؟
ملاحظہ فرمایئے کے حضرت تھانوی
رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف کیا ہے:

"  # موجودہ ماحول اور مسلم خواتین کی دینی ذمہ داریاں"آج ملک کی صورتِ حال کسی بھی باشعور شخص سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ملک میں م...
17/08/2026

" # موجودہ
ماحول اور مسلم
خواتین کی دینی ذمہ داریاں"
آج ملک کی صورتِ حال کسی بھی باشعور شخص سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ملک میں مسلمانوں کو سیاسی اور سماجی اعتبار سے اچھوت بنا دیا گیا ہے۔ آئے دن ان کے دین و مذہب کے ساتھ کھلواڑ ہورہا ہے۔ مسلمانوں کو ان کی تہذیب و روایات، اخلاق و اقدار سے دور کرنے کی منظم سازشیں کی جا رہی ہیں۔ مسلم بچوں اور بچیوں سے مذہبی شناخت ختم کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں۔ خاص طور پر تعلیم کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ قدیم دیومالائی کہانیوں کو ہندوستان کی تہذیبی روایات کا نام دے کر مسلمانوں پر تھوپا جارہا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں مسلم بچوں اور بچیوں کو ایسے ایسے کام کرنے کے لئے کہا جاتا ہے جن سے ان کے ایمان اور عقیدے کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ مسلم بچیاں نشانے پر ہیں۔ تعلیم کے ذریعے ان کے ذہنوں میں نام نہاد آزادی، مذہب بیزاری، بے حیائی اور بے دینی پیدا کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مسلم بچیاں بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہیں۔ آج بعض مسلم بچیاں نشے کی عادی بن رہی ہیں، جسم فروشی کر رہی ہیں، بے حیائی کے ساتھ غیروں کے ساتھ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہی ہیں، اور بعض مرتبہ اپنی مخصوص شناخت، یعنی برقع اور حجاب، کے ساتھ بھی اس کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یہ سب کچھ کرنے پر انہیں کوئی براہِ راست آمادہ نہیں کررہا؛ بلکہ مغرب کی نقالی، بگڑتا ہوا تعلیمی ماحول اور صحیح تربیت کا فقدان انہیں اس راستے پر لے جا رہا ہے۔ خاص طور پر گھریلو تربیت کا نہ ہونا اور والدین کا اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل رہنا نسلِ نو کی تباہی کا ذریعہ بن رہا ہے۔

اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

دوسری طرف اسلام مخالف طاقتوں کی شبانہ روز محنتیں اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ پوری قوت کے ساتھ مختلف تنظیمیں تمام آلات و وسائل کے ساتھ اس پر کام کر رہی ہیں۔ وہ مسلم بچیوں کو ٹارگٹ کر رہی ہیں۔ دراصل وہ سماج میں عورتوں کی قوت کو سمجھتی ہیں۔ خواتین حقیقت میں کسی سماج یا تہذیب کا سب سے مضبوط حصہ ہوتی ہیں۔ خواتین کو مذہب، تہذیب اور اخلاق و اقدار کا سب سے بڑا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ دشمنانِ اسلام جانتے ہیں کہ اگر مسلم خواتین کو بگاڑ دیا جائے یا انہیں بھگوا جال میں پھنسا لیا جائے تو یہ براہِ راست مسلم سماج کی نفسیات پر حملہ ہوگا، اور دوسری طرف اس سماج میں بے راہ روی کو فروغ دینا آسان ہو جائے گا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ انتہا پسند تنظیموں کے زیرِ اثر بہت سے نوجوان اس میدان میں ملازمت کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ مسلم بچیوں کو محبت کے جال (Love Trap) میں پھنسا کر ان کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں، انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں، اور بعض مرتبہ پوری جماعت مل کر ان کی اجتماعی عصمت دری کرتی ہے۔ پھر یا تو انہیں سڑک پر بے سہارا چھوڑ دیا جاتا ہے یا انہیں موت کی آغوش میں سلا دیا جاتا ہے۔ یہ ساری چیزیں روزانہ ہی سوشل میڈیا اور اخبارات کی زینت بن رہی ہیں۔ ہر شخص اس طرح کے واقعات کو پڑھ رہا ہے، دیکھ رہا ہے اور افسوس کررہا ہے:
حیراں ہوں سر کو پیٹوں یا پیٹوں جگر کو میں

بعض مسلم بچیاں پیار و محبت میں آکر اپنا مذہب تبدیل کر رہی ہیں، ماں باپ کی محبت اور رشتہ داروں سے تعلق توڑ کر اپنے غیر مذہب دوست کے لئے اپنا سب کچھ قربان کررہی ہیں، ماتھے پر تلک لگا رہی ہیں، پوجا پاٹ کی تصاویر شیئر کررہی ہیں۔ یہ سب کرنے کے بعد اگر انہیں کچھ نصیب ہوتا ہے تو وہ یہی اجتماعی عصمت دری، بے عزتی، دردناک موت اور دین و دنیا کی بربادی ہے:
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم

ایسے موقع پر دوسروں کو قصوروار قرار دینے سے بہتر ہے کہ ہم اپنا جائزہ لیں۔ ہم نے اپنی بچیوں کے ایمان کی کس درجے فکر کی ہے؟ ان کی تربیت کے لیے ہم نے کیا لائحۂ عمل تیار کیا ہے؟ آزادانہ رجحان، بے محابا اختلاط اور بگڑتے کردار کو ختم کرکے مذہب کی اہمیت پیدا کرنے اور ایمان کی قدر و قیمت سمجھانے کے لئے ہمارے پاس کیا نظام ہے؟ ایمان ایک انسان کے پاس سب سے قیمتی دولت ہے، اور ایمان کے لٹیرے ہماری بچیوں کے ایمان کا ہر قیمت پر سودا کرنے کے لئے تیار ہیں؛ لیکن ہم نے ان کے ایمان کی حفاظت کے لئے کس طرح کی جدوجہد کی ہے؟ یہ ایک سوال ہے اور ہمارے لئے لمحۂ فکریہ بھی۔

اس مشکل وقت میں ایک خوش آئند پہلو یہ بھی ہے کہ بعض مسلم خواتین میں دینی بیداری پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ان کے اندر دینی شعور بیدار ہورہا ہے۔ بنات کے دینی مدارس سے بچیوں میں دینی حمیت جنم لے رہی ہے۔ اسلام مخالف ماحول میں ایک طبقے میں دین سیکھنے کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔ وہ آن لائن کے ذریعے بھی دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، اور ان میں اسلام کا شعور، ملت کا درد، ایمان کی عظمت، ارتداد سے نفرت، خدا کا خوف، جنت و جہنم کا تصور، آخرت کی کامیابی کا یقین اور دنیا کے فنا ہوجانے کا احساس پایا جاتا ہے۔ اس سخت مخالف ماحول میں، جب کہ ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا ہے، مسلم خواتین کا یہ طبقہ امید کی نئی کرن ہے۔

دین سے وابستہ خواتین اس وقت بڑی ذمہ داری انجام دے سکتی ہیں۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور میدانِ عمل میں آجائیں تو حالات کا رخ موڑ سکتی ہیں۔ جو مسلم بچیاں بے راہ روی کا شکار ہیں اور آزادی کے جنون میں مذہب سے دور نکل چکی ہیں، ان کی تربیت کا فریضہ انہی خواتین کے ذمہ ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین ان کے درمیان زیادہ بہتر کام کر سکتی ہیں۔

اسلام میں دعوت کا خاص تصور پایا جاتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبے میں بھی اس کی تاکید فرمائی:
«فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ»
یعنی آج جو لوگ موجود ہیں اور میری بات سن رہے ہیں، وہ میری بات ان لوگوں تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں تک اسے پہنچائیں۔

ایک حدیث میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً»
یعنی میری طرف سے اگر ایک آیت یا ایک بات بھی تم نے سیکھی ہے تو اسے دوسروں تک پہنچاؤ۔
موجودہ زہرآلود فضا میں دین سے وابستہ خواتین بہتر کردار ادا کرسکتی ہیں۔ انہیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان کا دین انہیں پردے میں رہنے کا پابند ضرور کرتا ہے، لیکن دین کی تبلیغ سے نہیں روکتا؛ بلکہ انہیں دین کی دعوت و تبلیغ کا حکم دیتا ہے۔ سماج کو بہتر بنانے کی جس طرح ذمہ داری مردوں پر ہے، اسی طرح عورتوں پر بھی ہے۔ قرآنِ کریم میں امر بالمعروف کا حکم صرف مردوں کو نہیں، بلکہ عورتوں کو بھی دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور آپ کے بعد بھی خواتین معاشرے کی اصلاح کی فکر کیا کرتی تھیں۔

سوال یہ ہے کہ موجودہ وقت میں دین دار خواتین کس طرح اپنی ذمہ داری کو انجام دے سکتی ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنے علاقے میں ایسی بچیوں کی فہرست تیار کریں جو بالغ ہو چکی ہیں اور اسکول، کالج یا ملازمت سے وابستہ ہیں، اور ان پر نظر رکھیں کہ ان کی دینی و اخلاقی تربیت کس سطح پر ہے۔ اپنے گھروں میں یا کسی مناسب عوامی مقام پر چھوٹے چھوٹے پروگرام منعقد کریں، جن میں ایمان و یقین کی باتیں کی جائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و شریعت سے واقف کروایا جائے، ایک مسلم خاتون کے فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے، اور یہ بتایا جائے کہ وہ کس حد تک ان ذمہ داریوں کو ادا کر رہی ہیں۔ اگر ہر علاقے میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ایسے پروگرام ہوں، بچیوں کو ان میں شامل کیا جائے اور ان کی مسلسل رہنمائی کی جائے تو امید ہے کہ ارتداد کے اس سیلاب کے آگے بند باندھا جاسکتا ہے۔

جو بچیاں ابھی نابالغ ہیں، ان کی ماؤں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شروع ہی سے اپنی بچیوں کی دینی تربیت کریں، اور اگر مائیں خود تربیت یافتہ نہیں ہیں تو پہلے ان پر محنت کی جائے، تاکہ ان کا ذہن و مزاج دینی بن سکے۔

ایسی بچیاں جو بے دینی کے ماحول میں زندگی گزار رہی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم دیندار خواتین ان سے دوستی کریں، ان کے قریب ہوں، اور حکمت و محبت کے ساتھ انہیں آہستہ آہستہ اسلام کی طرف راغب کریں، تاکہ وہ دوسروں کے ہاتھوں کا کھلونا نہ بنیں۔

جو بچیاں ملازمت کررہی ہیں، ان میں بھی بے حیائی کا ایک طوفان نظر آتا ہے۔ ان پر بھی خصوصی محنت کی ضرورت ہے۔ اگر دیندار خواتین نے اپنی دعوت کا یہ میدان منتخب کرلیا، اور ان کی محنت سے ایک بچی بھی جہنم میں جانے سے بچ گئی، تو یقین جانئے کہ یہی ان کی نجات کے لئے کافی ہوگا۔
(بقلم: مفتی امانت علی قاسمی، استاذ و مفتی، دارالعلوم وقف دیوبند) ( )

Address

India New Delhi
New Delhi
110019

Telephone

+919250363500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when علماءاحناف،دیوبند۔الہند posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category