Baitul Uloom Ajgara

Baitul Uloom Ajgara السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

05/12/2025
24/10/2025

قاری توحید احمد صاحب قاسمی
صدر مدرس، مدرسہ بیت العلوم السلفیہ، نواب گنج اجگرا

یہ وہ محترم شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی خدمت کے لیے چُن لیا ہے۔ ان کی آواز میں وہ تاثیر، وہ مٹھاس، اور وہ جادو ہے جو دلوں کو چھو لیتا ہے۔ بچے ان کی قراءت سے قرآن سیکھ رہے ہیں، اور جو سنتا ہے، وہ بے اختیار سبحان اللہ کہہ اُٹھتا ہے۔

کاش! میں بھی ان کے شاگردوں میں شامل ہوتا، اور ان کی زبانِ مبارک سے قرآن پڑھنے کا شرف حاصل کرتا۔ 🌹
اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے، آواز میں مزید نکھار عطا فرمائے، اور انہیں قرآن کی خدمت کا اجر
عظیم عطا کرے۔

🖋️🖋️تابش اِرشاد ندوی








قوم "عاد : قوم عاد ایک ایسی قوم تھی جوبڑے طاقتور تھے 40 ہاتھ جتنا قد800 سے 900 سال کی عمر نہ بوڑھے ھوتےنہ بیمار ھوتے نہ ...
28/07/2025

قوم "عاد :
قوم عاد ایک ایسی قوم تھی جو
بڑے طاقتور تھے
40 ہاتھ جتنا قد
800 سے 900 سال کی عمر
نہ بوڑھے ھوتے
نہ بیمار ھوتے
نہ دانت ٹوٹتے
نہ نظر کمزور ھوتی
جوان تندرست و توانا رہتے
بس انھیں صرف موت آتی تھی
اور کچھ نہیں ھوتا تھا
صرف موت آتی تھی
ان کی طرف اللہ تعالی نے حضرت ھود علیہ السلام کو بھیجا
انھوں نے ایک اللہ کی دعوت دی
اللہ کی پکڑ سے ڈرایا
مگر وہ بولے
اے ھود ! ہمارے خداوں نے تیری عقل خراب کر دی ھے
جا جا اپنے نفل پڑھ
ہمیں نہ ڈرا
ہمیں نہ ٹوک
تیرے کہنے پر کیا ہم اپنے باپ دادا کا چال چلن چھوڑ دیں گے
عقل خراب ھوگئی تیری
جا جا اپنا کام کر
آیا بڑا نیک چلن کا حاجی نمازی
تیرے کہنے پر چلیں تو ہم تو بھوکے مر جائیں
انھوں نے شرک ظلم اور گناھوں کے طوفان سے اللہ کو للکارا
تکبر اور غرور میں بد مست بولے
،
،
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴿١٥﴾
اب قوم عاد نے تو بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے ہم سے زور آور کون ہے؟ (۱) کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے اسے پیدا کیا وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے، (۲) وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا (۳) انکار ہی کرتے رہے۔
کوئی ھے ہم سے ذیادہ طاقتور تو لاو ناں ؟
ہمیں کس سے ڈراتے ھو ؟
اللہ نے قحط بھیجا
بھوک لگی
سارا غلہ کھاگئے
مال مویشی کھا گئے
حرام پر اگئے
چوھے بلی کتے کھاگئے
سانپ کھاگئے
درخت گرا کر اسکے پتے کھا گئے
بھوک نہ مٹی
نہ بارش ھوئی نہ قطرہ گرا نہ غلہ اگا
پھر تنگ آکر اپنا ایک وفد بیت اللہ بھیجا
ان کا دستور تھا جب مصیبت آتی تو اوپر والے کو پکار اٹھتے
جب دور ھوجاتی تو اپنے بتوں کو پوجنے لگتے
بیت اللہ وفد گیا اور کہا کہ ہمارے لئے اللہ سے دعا کرو کہ بارش برسائے
اللہ نے3 بادل پیش کئے
کالا
سفید
سرخ
اللہ نے فرمایا ان میں سے ایک کا انتخاب کرو
انھوں نے آپس میں مشورہ کیا
کہ سرخ میں تو ھوا ھوتی ھے
سفید خالی ھوتا ھے
کالے میں پانی ھوتا ھے
کالا مانگو
اللہ تعالی نے کہا واپس پہنچو بادل بھیجتا ھوں
وہ خوشی خوشی واپس آئے
سب لوگ ایک میدان میں جمع ھوئے
بادل آیا
وہ ناچنے لگے کہ اب بارش ھوگی
قحط مٹے گا
کھانے کو ملے گا
کیا پتا تھا
کہ وہ بارش نہیں اللہ کا عذاب ھے
جو تم ھود سے کہتے تھے کہ
لے آ ! جس سے ہم کو ڈراتا ھے
اس بادل مین ایسی تند و تیز ھوا تھی کہ
جس نے ان کو اٹھا مارا ان کے گھر اڑا دئیے
60 ہاتھ کے قد اور لوگ تنکوں کی طرح اڑ رہے تھے
ھوا ان کے سروں کو ٹکراتی تھی اتنی زور سے ٹکراتی کہ ان کے بھیجے نکل نکل کر منہ پر لٹک گئے
بعض لوگ بھاگ کر غار میں گھس گئے کہ یہاں تو ھوا نہیں آ سکتی
مگر میرے رب کا حکم ھو کر رہتا ھے
ھوا غار میں بگولے کی طرح داخل ھوتی اور انکو باہر اٹھا کر پھینک دیتی
اللہ نے فرمایا
فھل تری من باقیہ
کیا کوئی باقی بچا ھے ؟
اللہ تعالی نے ان کو ہلاک کر کے دکھایا کہ جب تم اللہ کی اس کے رسول کی نافرمانی کروگے
اللہ تم پر ایسی جگہ سے عذاب بھیجے گا جہاں سے گمان بھی نہ ھوگا
جو گناہ قوم عاد نے کیا
کیا وہ ہم نہیں کر رہے
کیا ہم اللہ کی حدوں کا پار نہیں کر گئے
کیا ہم نے اللہ کو اپنی نافرمانی سے نہیں للکارا ھوا ھے
توبہ کرو
اللہ سے ڈرو
قرآن پڑھو
جن گناھوں کو ہم معمولی سمجھتے ہیں اللہ نے ان گناھوں پر پوری پوری قومیں زمین بوس کر دی ہیں
استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ
👉....😭😭😭..... 👈

27/02/2025

ماشاء اللہ کیا ہی خوبصورت لہجہ اور آواز میں بچی نے نعت کو پڑھا ہے

16/06/2024

کتوں کے لیے قربانی نا کیجئے خدارا

(یہ پوسٹ ہر مسلمان کے لیے پڑھنا لازم ھے)

السلام علیکم

یہ واقعہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان کا ھے ۔
ایک باپ جو کہ قربانی نہیں کر پا رہا اس کی روداد سنیے۔

بابا.... بابا .... ہمیں بھی گوشت ملے گا نا ؟

میں نے کہا : ہاں ہاں کیوں نہیں بِالکُل ملے گا۔۔

لیکن بابا ....پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیں گوشت نہیں دیا تھا،
اب تو پورا سال ہو گیا ھےگوشت دیکھے ہوئے بھی۔۔۔

میں نے بڑے پیار سے سمجھایا :بیٹا اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا،
میری پیاری بیٹی، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیۓ۔۔
میری بیٹی پھر بولنے لگی ۔۔
ساتھ والے انکل قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیں،
اور سامنے والے چاچا اقبال بھی تو بکرا لے کر آئےہیں،

میں دل میں سوچ رہا تھا کہ ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے،
امیر لوگ تو سارا سال گوشت ہی کھاتے ہیں،

یہی سوچتے ہوئے میں عید کی نماز کیلے مسجد کی طرف چل پڑا ۔
وہاں بھی مولوی صاحب بیان فرما رہے ہیں
کہ قربانی میں غریب مسکین لوگوں کونہیں بھولنا چاہئے۔۔
ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔۔۔۔

خیر میں بھی نماز ادا کر کےگھر پھنچ گیا،

کوئی گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد میری بیٹی بولی۔۔

بابا ابھی تک گوشت نہیں آیا ،

بڑی بہن رافیہ بولی ۔۔ چپ ہو جاٶ شازی بابا کو تنگ نہ کرو

میں چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا اور نظرانداز کرتا رہا ۔۔
کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو شازیہ کی ماں بولی۔
سنیۓ میں نے تو پیاز ٹماٹر بھی کاٹ دیۓہیں۔ لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا،
کہیں بھول تو نہیں گئے ہماری طرف گوشت بجھوانا۔۔۔۔
آپ خود جا کر مانگ لائیں،

میں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کیا عجیب بات کر رہی ہے ۔
میں نے نرمی سے کہا ۔۔
دیکھو شازیہ کی ماں۔۔۔۔ تمہیں تو پتہ ھے آج تک ہم نےکبھی کسی سے مانگانہیں ،
اللہ کوئی نہ کوئی سبب پیدا کرے گا۔۔

دوپہر گزرنے کے بعد شازیہ کے بار بار اصرار پر پہلے دوسری گلی میں ایک جاننے والے ڈاکٹر صاحب کے گھر گئے،
بیٹی کا مایوسی سے بھرا چہرہ برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔
اس لئیے مجبوراً اس کو ساتھ لے کر چل پڑا ۔۔۔

ڈاکٹر صاحب دروازے پر آئے تو میں بولا ۔۔

۔ ڈاکٹر صاحب میں آپ کاپڑوسی ہوں کیا قربانی کا گوشت مل سکتاہے؟
یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا،
اور حقارت سے بولے پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں گوشت مانگنے،
تڑاخ سے دروازہ بند کر دیا ۔۔
توہین کے احساس سے میری آنکھوں میں آنسو آ گۓ۔۔
لیکن بیٹی کا دل نہ دکھے ،آنسووں کو زبردستی پلکوں میں روکنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔

آخری امید اقبال چاچا ۔۔بو جھل قدموں سے چل پڑا ۔۔
ان کے سامنے بھی بیٹی کی خاطر گوشت کیلے دست سوال۔

اقبال چاچا نے گوشت کا سن کرعجیب سی نظروں سے دیکھا اور چلےگۓ۔
تھوڑی دیر بعد باھرآۓ تو شاپر دے کرجلدی سے اندر چلۓ گۓ۔
جیسے میں نے گوشت مانگ کر گناہ کر دیا ہو۔۔
گھر پہنچ کر دیکھا تو صرف ہڈیاں اور چربی ۔۔

خاموشی سے اٹھ کرکمرے میں چلے آیا اور بے آواز آنسو بہتے جارہے تھے ۔
بیوی آئی اور بولی کوئی بات نہیں۔۔ آپ غمگین نہ ہوں۔
میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔

تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئی ۔
اور بولی بابا
ہمیں گوشت نہںں کھانا ۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ۔۔
لیکن میں سمجھ گیا کہ بیٹی باپ کو دلاسہ دے رہی ہے ۔۔

بس یہ سننا تھا کہ میری آنکھوں سے آنسو گرنےلگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
لیکن رونے والا میں اکیلا نہیں تھا۔۔
دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا رہی تھی
اتنے میں پڑوس والے اکرم کی آواز آئی ۔۔
جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا۔۔
آزاد بھائی ،
دروازہ کھولو،
دروازہ کھولا۔۔
تو اکرم نے تین چار کلوگوشت کا شاپر پکڑا دیا،
اور بولا ،
گاٶں سے چھوٹا بھائی لایا ہے۔
اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے۔
یہ تم بھی کھا لینا
خوشی اورتشکر کے احساس سےآنکھوں میں آنسو آ گۓ ۔
اور اکرم کے لیۓ دل سے دعا نکلنے لگی۔
گوشت کھا کر ابھی فارغ ھوۓ ہی تھے کہ بہت زور کا طوفان آیا ۔
بارش شروع ہو گئ۔ اسکے ساتھ ہی بجلی چلی گئی۔
دوسرے دن بھی بجلی نہی آئی۔
پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹرانسفارمر جل گیا۔

تیسرے دن میری بیٹی شازیہ اور میں باہر آئے تو دیکھا کہ،
اقبال چاچا اور ڈاکٹر صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے ۔
جو بجلی نہ ہونےکی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔
اور اس پر کُتے جھپٹ رہے تھے۔
شازیہ بولی ،
بابا ۔
کیا کُتوں کے لیۓ قربانی کی تھی ؟
وہ شازیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گئے ۔

اقبال چاچا اور ڈاکٹر صاحب نے یہ سُن کر گردن جھکا لی۔


یہ صِرف تحریر ھی نہیں،گذشتہ چند سالوں میں قربانی کے موقع پر آنکھوں دیکھا حال ہے۔
خدارا احساس کریں غریب اور مسکین لوگوں کا جو آپ کے آس پاس ہی رہتے ہیں۔

Address

BAITUL ULOOM AJGARA
Naugarh
272153

Telephone

+918353908915

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Baitul Uloom Ajgara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Baitul Uloom Ajgara:

Shortcuts

Share

Category