Mohammad Jilani naeemi

Mohammad Jilani naeemi islamic mzaamen Darul Uloom Deoband

ایسا نہ ہو کہ ہم ترس جائیں کہ بچے مسجد کیوں نہیں آتے!از قلم ۔ محمد جیلانی نعیمی میرے عزیزو! ذرا لمحہ بھر کو آنکھیں بند ک...
13/09/2025

ایسا نہ ہو کہ ہم ترس جائیں کہ بچے مسجد کیوں نہیں آتے!

از قلم ۔ محمد جیلانی نعیمی

میرے عزیزو! ذرا لمحہ بھر کو آنکھیں بند کر کے سوچئے… وہ مسجدیں جو کبھی بچوں کی ہنسی، شرارت اور بھاگنے دوڑنے کی آوازوں سے گونجتی تھیں، کیا آج ویسی ہی ہیں؟ کیا وہی منظر باقی ہیں کہ بچے دوڑتے ہوئے اذان پر مسجد کا رُخ کریں؟ نہیں! آج حال یہ ہے کہ مسجدوں کی صفیں بڑوں تک سے خالی ہو رہی ہیں اور بچے… بچے تو مسجد کا راستہ ہی بھولتے جا رہے ہیں۔
کچھ دن پہلے کی بات ہے، میں عشا کی نماز پڑھ رہا تھا۔ نماز کے دوران ایک بچے کے رونے کی آواز آئی۔ نماز میں تو خلل نہ پڑا مگر دل ٹوٹ سا گیا۔ دل سے یہ دعا نکلی کہ یا اللہ! ہمارے گھروں کے بچے تیرے گھروں میں آتے رہیں۔ کاش! ہماری مساجد ہمیشہ بچوں کی رونق سے آباد رہیں۔
یاد کیجیے! کچھ دہائیاں پہلے کے منظر… مسجد میں بچے ہنستے کھیلتے آتے تھے۔ بعض اوقات شرارت بھی کرتے تھے، بڑوں کو الجھن بھی ہوتی تھی، مگر اس سب کے باوجود مسجد کے ماحول میں بچوں کا ہونا باعثِ رحمت تھا۔ کیونکہ مسجد میں ان کا آنا ہی ان کے دلوں میں دین کی محبت اور اللہ کے گھر سے انسیت پیدا کرتا تھا۔
مگر آج… آج والدین خود بھی مسجد سے غافل ہیں اور اپنے بچوں کو بھی مسجد کا راستہ نہیں دکھاتے۔ بچے گھنٹوں موبائل، ٹی وی اور کھیل کود میں لگے رہتے ہیں مگر مسجد کے منبر و محراب انہیں اپنی طرف نہیں کھینچتے۔ کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں ہے؟

مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا:
“اگر مساجد میں بچوں کی آوازیں نہ آئیں تو ہمیں اپنی آنے والی نسل کے لیے فکر مند ہونا چاہیے۔”

بھائیو! یہ الفاظ معمولی نہیں، یہ صدیوں کی بصیرت ہیں۔ اگر آج ہم نے اپنے بچوں کو مسجد سے نہ جوڑا تو کل ہماری نسلیں مسجد کو اجنبی سمجھیں گی۔ پھر وہ وقت آئے گا کہ مسجدیں ویران ہو جائیں گی اور ہم ترس کر کہیں گے:
“کاش! ہم نے بچپن ہی سے اپنے بچوں کو مسجد سے جوڑ دیا ہوتا۔”
یاد رکھو! اگر ہم نے اپنے بچوں کو مسجد اور قرآن سے جوڑ دیا تو یہی بچے کل ایمان کے چراغ بنیں گے، انہی کے سینوں میں نماز کی روشنی ہوگی، انہی کی دعاؤں سے ہمارے گھروں میں برکت اترے گی۔ لیکن اگر ہم نے انہیں دنیا کے کھیل تماشوں اور غفلتوں کے حوالے کر دیا تو یہ محرومی ہمارے حصے میں آئے گی۔

اے اللہ! ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو مسجد، قرآن اور دین سے جوڑ دے۔ ہمیں وہ توفیق عطا فرما کہ ہم اپنے گھروں کے ننھے منے چراغوں کو تیرے گھروں تک لے کر جائیں تاکہ تیری مسجدیں ہمیشہ آباد رہیں۔ آمین یا رب العالمین۔

جشنِ میلاد النبی ﷺ اور آج کا مسلمانربیع الاول کا مہینہ اہلِ ایمان کے دلوں کے لیے خوشی اور غم کا سنگم ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے...
05/09/2025

جشنِ میلاد النبی ﷺ اور آج کا مسلمان

ربیع الاول کا مہینہ اہلِ ایمان کے دلوں کے لیے خوشی اور غم کا سنگم ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جب کائنات میں رحمتوں کا نزول ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب، خاتم النبیین ﷺ کو دنیا میں بھیجا۔ یہ دن انسانیت کی قسمت بدلنے کا دن تھا۔ اندھیروں میں ڈوبی دنیا کو روشنی ملی، ظلم کے بوجھ تلے دبے انسان کو آزادی ملی، اور بگڑی ہوئی انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ لیکن اسی مہینے میں وہ لمحہ بھی آیا جب وہی رحمتِ عالم ﷺ اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ ایک طرف ولادت کی خوشبو دلوں کو معطر کرتی ہے تو دوسری طرف وصال کا غم روح کو لرزا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مہینہ جتنا خوشی کا ہے اتنا ہی غم کا بھی ہے۔
میلاد کا مقصد محض چراغاں کرنا، جلوس نکالنا یا نعتیں پڑھ لینا نہیں۔ یہ سب اظہارِ محبت کے طریقے ہیں، لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ ہم حضور ﷺ کی سیرت کو یاد کریں اور اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالیں۔ قرآن ہمیں یہی پیغام دیتا ہے:
"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"
(یقیناً رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔)

ولادت کی خوشی اور وصال کا غم

جب ہم میلاد مناتے ہیں تو دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنی سب سے بڑی نعمت عطا کی۔ لیکن جیسے ہی یہ خیال آتا ہے کہ اسی ماہِ مبارک میں وہ نعمت ہم سے جدا بھی ہو گئی، دل لرز جاتا ہے۔ آنکھیں خود بخود نم ہو جاتی ہیں۔ امت کی یتیمی کا وہ غم آج بھی دلوں کو تڑپاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خوشی اور غم ایک ساتھ گلے مل رہے ہوں۔ یہ حقیقت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اگر ہم واقعی حضور ﷺ کے عاشق ہیں تو ہمیں ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں زندہ کرنا ہوگا۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا پیغام

حضور ﷺ کی زندگی سراپا روشنی ہے:
آپ ﷺ نے بتایا کہ اصل عظمت نہ دولت میں ہے، نہ طاقت میں، بلکہ سچائی اور تقویٰ میں ہے۔
آپ ﷺ نے عدل قائم کیا اور دشمن بھی آپ کو "امین" کہنے پر مجبور ہو گئے۔
آپ ﷺ نے یتیموں، مسکینوں اور بے سہارا لوگوں کے دلوں کو سکون دیا۔
آپ ﷺ نے علم کو زندگی کا زیور بنایا اور جہالت کو زوال کی جڑ بتایا۔
آپ ﷺ نے امت کو اتحاد اور بھائی چارے کا درس دیا اور فرمایا کہ "تم سب ایک جسم کی مانند ہو۔"

آج کا مسلمان

افسوس! آج ہم میلاد مناتے ہیں مگر اس کی اصل روح سے دور ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے سچائی کو اپنا شعار بنایا، اور ہم جھوٹ اور فریب میں مبتلا ہیں۔
آپ ﷺ نے اخوت و محبت کو عام کیا، اور ہم نفرت و فرقہ واریت میں بٹ گئے ہیں۔
آپ ﷺ نے علم کو روشنی بنایا، اور ہم جہالت میں ڈوب گئے ہیں۔
آپ ﷺ نے عدل قائم کیا، اور ہم ظلم و ناانصافی کے عادی ہو گئے ہیں۔

ہمارا فریضہ

اگر واقعی ہم میلاد منانے والے ہیں تو ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ:
1. ہم اپنے اخلاق کو حضور ﷺ کے اخلاق سے سنواریں۔
2. ہم اپنی معیشت کو دیانت و انصاف پر قائم کریں۔
3. ہم اپنی خوشیوں کو یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کے ساتھ بانٹیں۔
4. ہم اپنی تعلیم و تربیت کو قرآن و سنت کی روشنی میں استوار کریں۔
5. ہم فرقہ واریت کو چھوڑ کر اتحاد اور بھائی چارے کو اپنائیں۔

ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنی سب سے بڑی نعمت دی، اور اسی مہینے ہم اس نعمت کے سایے سے محروم بھی ہوئے۔ یہ خوشی اور غم کا امتزاج ہمارے دلوں کو ہلا دیتا ہے۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے واقعی حضور ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں جگہ دی ہے؟ اگر ہم نے ایسا کر لیا تو ہماری ذلت عزت میں بدل جائے گی، ہماری کمزوری طاقت میں، اور ہماری تاریکی روشنی میں ڈھل جائے گی۔

اے کاش! آج کا مسلمان میلاد کی حقیقت کو سمجھ لے، اپنی زندگی کو حضور ﷺ کے نقشِ قدم پر چلا لے، اور امت دوبارہ وہی شان حاصل کر لے جو نبی کریم ﷺ کے دور میں تھی۔ یہی حقیقی جشنِ میلاد ہے، اور یہی وصالِ نبی ﷺ کا سبق ہے۔

والدین کی قدر اور موجودہ دور کے تقاضےآج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں، وہیں دلوں میں فاصلے بڑھتے جا رہ...
30/08/2025

والدین کی قدر اور موجودہ دور کے تقاضے

آج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں، وہیں دلوں میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ بچے مصروفیت کے نام پر والدین کو وقت نہیں دیتے، ماں باپ کی قربانیوں کو نظرانداز کر کے اپنی دنیا الگ بسا لیتے ہیں۔ ایسے میں یہ پیغام دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے:
"جو والد کی قدر کرتا ہے وہ کبھی غریب نہیں ہوتا، اور جو ماں کی قدر کرتا ہے وہ کبھی بدنصیب نہیں ہوتا۔"
یہ جملہ صرف الفاظ نہیں بلکہ زندگی کا وہ سنہرا اصول ہے جسے اپنا کر انسان اپنی دنیا اور آخرت دونوں سنوار سکتا ہے۔
باپ زندگی بھر دھوپ میں جلتا ہے تاکہ اولاد کو سایہ مل سکے۔ وہ اپنی خواہشات قربان کر کے اولاد کے خوابوں کو حقیقت میں بدلتا ہے۔ لیکن افسوس آج کے دور میں کئی بچے باپ کی قربانیوں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ یاد رکھو! جو والد کی عزت کرتا ہے، اس کے رزق میں کمی نہیں آتی، کیونکہ باپ کی دعا زمین پر جنت کا پہلا زینہ ہے۔

ماں کی محبت

ماں اپنی دعاؤں سے اولاد کی تقدیر سنوار دیتی ہے۔ مگر آج کے حالات میں جب مادّیت پرستی نے رشتوں کو کمزور کر دیا ہے، لوگ ماں کی خدمت کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔ جو اولاد ماں کی عزت اور خدمت کرتی ہے، وہ کبھی بدنصیب نہیں ہو سکتی، کیونکہ ماں کی دعا تقدیر کا رُخ بھی بدل دیتی ہے۔
آج ضرورت ہے کہ ہم والدین کی خدمت کو فرض سمجھیں، ان کی عزت کو اپنی کامیابی کا زینہ بنائیں۔ دنیاوی ترقی اور مصروفیات کی دوڑ میں والدین کو فراموش نہ کریں، ورنہ دولت تو مل جائے گی لیکن سکون چھن جائے گا۔
والدین کا احترام صرف اخلاقی نہیں بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔ جو ماں باپ کی قدر کرتا ہے، وہ اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا وارث بنتا ہے۔ یہ پیغام آج کے نوجوانوں کے لیے خاص طور پر روشنی کا مینار ہے کہ والدین کا احترام کامیابی، سکون اور خوش بختی کا دروازہ ہے۔

اگست  آزادی کا پیغام اور ہماری ذمہ داری 🇮🇳15آج 15 اگست کا دن ہے — وہ تاریخی دن جب ہمارے وطنِ عزیز نے غلامی کی زنجیروں کو...
15/08/2025

اگست آزادی کا پیغام اور ہماری ذمہ داری 🇮🇳15

آج 15 اگست کا دن ہے — وہ تاریخی دن جب ہمارے وطنِ عزیز نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی روشنی دیکھی۔
یہ دن صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ قربانی، حوصلے اور عزم کی داستان ہے۔ ہمارے بزرگوں، مجاہدینِ آزادی اور رہنماؤں نے اپنے خون سے اس وطن کی مٹی کو سیراب کیا، تاکہ آنے والی نسلیں آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔
آج ہم اس دن کو خوشی، جوش اور فخر کے ساتھ مناتے ہیں، مگر ہمیں ایک لمحہ رک کر سوچنا چاہیے:
کیا ہم واقعی ویسی ہی خوشی محسوس کر رہے ہیں جیسی ہمارے بزرگوں نے آزادی حاصل کرنے کے دن محسوس کی تھی؟
کیا ہم نے ان قربانیوں کی قدر کی؟
کیا ہم نے اس آزادی کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کی؟
ہمارے بڑوں نے ہمیں صرف ایک آزاد ملک نہیں دیا، بلکہ ایک عہد بھی دیا تھا کہ ہم انصاف، محبت، اتحاد اور ترقی کے راستے پر چلیں گے۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ سماج میں نفرت، خود غرضی اور بے حسی بڑھ رہی ہے۔
آزادی صرف جھنڈا لہرانے یا قومی ترانہ پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے کردار، اعمال اور رویے سے اس وطن کی خدمت کرنے کا نام ہے۔
آئیے اس 15 اگست پر ہم سب مل کر یہ عہد کریں:

ہم اپنے وطن کی عزت و وقار کی حفاظت کریں گے۔

ہم آپس میں محبت، بھائی چارہ اور امن قائم رکھیں گے۔

ہم اپنی تعلیم، محنت اور خدمت سے ملک کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھائیں گے۔

ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

یاد رکھیں!
آزادی اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور نعمت کا شکر یہی ہے کہ ہم اس کی قدر کریں اور اس کے ضائع ہونے سے بچائیں۔
جیسے قرآن میں آیا ہے:
"وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَا"
(اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکو گے)۔

اس آزادی کو ضائع نہ ہونے دیں، ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
🇮🇳 آزادی کا جشن منائیں، لیکن ذمہ داری کا عہد بھی کریں۔ 🇮🇳

✍ تحریر: محمد جیلانی نعیمی

کتاب اور انسانی تہذیب و تمدن کا شروع سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے، انسان نے اس دنیا میں اپنا سفر بے سر وسامانی کے عالم می...
31/07/2025

کتاب اور انسانی تہذیب و تمدن کا شروع سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے، انسان نے اس دنیا میں اپنا سفر بے سر وسامانی کے عالم میں شروع کیا اور اپنی بقاء کی جنگ لڑتا رہا، بقاء کے اس سفر میں انسان نے صدیوں تک ایک کٹھن اور کسم پرسی کی زندگی گزاری ہے۔

صدیوں گمنام رہنے کے بعد انسان کو ایک ایسی کلید ملی جس نے انسانی ذہن میں علم و آگہی کا انقلاب پرپا کر دیا، اس کلید نے جب انسانی ذہن کے تاریک دریچوں کے قفل کو کھولا تو انسان نے علم و آگہی کا چمکتا ہوا سورج دیکھا، انسان نے کتاب کی صورت میں اس کلید کو اپنے سینے سے لگایا اور تحقیق و مشاہدے کے ایک نئے سفر پر نکل پڑا۔

ایک وقت ایسا آیا کہ انسان میں علم اور تحقیق کے ذریعے اس وسیع و عریض کائنات کے رازوں کو جاننے کا تجسس پیدا ہوا، اس تحقیق میں کتاب نے انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرایا اور انسان نے اس کائنات کے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا، کتاب انسان کی تہذیب و تمدن اور ترقی کی محسن ہے۔ کتاب نے انسان کو کھانے پینے، رہن سہن اور بولنے کے آداب سکھائے، آج انسان اگر ایک شاہانہ اور پر سکون زندگی بسر کر رہا ہے تو بلا شبہ یہ سب کتاب ہی کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔

جب وقت کتابوں کے ساتھ بیتے، تو انسان وقت کا قیدی نہیں، اُس کا امام بن جاتا ہے۔موبائل فون لمحاتی لذت کا دھوکہ دیتا ہے، جب...
27/07/2025

جب وقت کتابوں کے ساتھ بیتے، تو انسان وقت کا قیدی نہیں، اُس کا امام بن جاتا ہے۔
موبائل فون لمحاتی لذت کا دھوکہ دیتا ہے، جبکہ کتابیں سکون کا وہ دریا ہیں جو روح تک اُتر جاتا ہے۔
فون ذہن کو منتشر کرتا ہے، کتاب ذہن کو یکجا کرتی ہے۔
فون لمحوں کا اسیر بناتا ہے، کتاب صدیوں کا وارث بنا دیتی ہے۔
کتاب محض مطالعہ نہیں، ایک مکالمہ ہے—خود سے، فکر سے، اور تہذیب سے۔
یہ شعور جگاتی ہے، سوچ میں وسعت بھرتی ہے، اور شخصیت میں وقار اور نرمی پیدا کرتی ہے۔
کتابیں وہ خاموش استاد ہیں جو بغیر شور کیے انسان کو زندگی کا ہُنر سکھا دیتی ہیں۔
لفظوں میں چھپی یہ دنیائیں، خامشی میں بھی گونج پیدا کر جاتی ہیں۔"

26/07/2025

}علم ایسابحرِبےکراں ہےکہ اس کے طالب کوکبھی آسودگی نہیں ہوسکتی، چنانچہ ایک حدیث پاک میں آپﷺارشاد فرماتے ہیں کہ دوپیاسےایسےہیں جن کی پیاس کبھی نہیں بجھتی،ایک طالبِ علم اوردوسراطالب مال ،ان دونوں کوکبھی آسودگی نہیں ہوسکتی:(مَنْہُوْ مَانِ لاَ یَشْبَعَانِ: طَالِبُ عِلمٍ وَطَالِبُ دُنیاَ )💫📚💡

06/05/2025

اللہ تعالیٰ نے مولانا وستانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے جو کام لیا ہے اسکا مختصر سا تعارف

یقیناً! مولانا غلام محمد وستانویؒ کے نمایاں دینی و تعلیمی خدمات کی تفصیل دی جارہی ہے:

مولانا وستانویؒ کا سب سے بڑا کارنامہ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکولہ کا قیام ہے۔ یہ ادارہ ایک چھوٹے سے مکتب سے شروع ہوا اور آج ایک عظیم الشان دینی و عصری تعلیم کا مرکز ہے۔ یہاں:

حفظ، ناظرہ، عربی تعلیم سے لے کر افتاء تک مکمل دینی تعلیم دی جاتی ہے۔

عصری تعلیم کے لیے اسکول، جونیئر کالج اور کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ قائم کیے گئے۔

لڑکیوں کی دینی تعلیم کے لیے شعبۂ طالبات بھی قائم کیا گیا۔

2. عصری و دینی تعلیم کا امتزاج

مولاناؒ کا خاص امتیاز یہ تھا کہ انہوں نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کو بھی اہمیت دی۔ انہوں نے دینی طلبہ کو اردو، انگریزی، کمپیوٹر اور عصری مضامین بھی سکھائے تاکہ وہ موجودہ دور میں مؤثر انداز میں خدمت دین کرسکیں۔

3. سستی تعلیم اور یتیم طلبہ کی کفالت

جامعہ میں ہزاروں طلبہ و طالبات کو تعلیم دی گئی اور بہت سے یتیم و نادار طلبہ کی مکمل کفالت کی گئی۔ وہ تعلیم کو تجارت نہیں، عبادت سمجھتے تھے۔

4. اصلاح معاشرہ کی کوششیں

مولاناؒ نے اصلاحِ معاشرہ کے لیے مختلف طریقوں سے کام کیا:

خطابات اور دروس کے ذریعہ لوگوں کی تربیت۔

نکاح کو آسان بنانے کے لیے مہمات۔

شرک و بدعات کے خلاف اعتدال کے ساتھ اصلاحی کوششیں۔

5. خدمتِ خلق

مصیبت زدگان، سیلاب یا وباء کے موقع پر جامعہ کی طرف سے راحت رسانی کے کام کیے گئے۔ غریبوں کو کپڑے، راشن اور علاج کی سہولت دی گئی۔

6. سادگی، تقویٰ اور اخلاص

مولانا کی ذات خود ایک مثال تھی۔ ان کی زندگی نہایت سادہ، بے ریا اور تقویٰ پر مبنی تھی۔ انہوں نے نہ کبھی شہرت چاہی، نہ دولت کی حرص کی، صرف اللہ کی رضا کو مقصد بنایا۔

اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

سرسوں کے پھول اور ساگ                  محمد جیلانی نعیمی         سرسوں کے پھول سرما کے بے رنگ موسم میں رنگ بھرتے ہیں۔ مو...
26/02/2025

سرسوں کے پھول اور ساگ

محمد جیلانی نعیمی

سرسوں کے پھول سرما کے بے رنگ موسم میں رنگ بھرتے ہیں۔ موسم سرما خشک، بے کیف اور بے برگ و ثمر موسم ہے۔اس موسم میں ہریالی بہت کم رہ جاتی ہے مگر یہی اداس اور بے رنگ موسم ہم میں سے اکثر لوگ پسند بھی کرتے ہیں۔اردو کے بے شمار شعراء نے اپنے کلام میں سرد موسم اور خصوصاً دسمبر کو ہجر کا موسم قرار دیا ہے۔پیلا رنگ ہجر کی نمائندگی کرتا ہے اور سرسوں کے پیلے پھول بھی پہلی بار اسی موسم میں کھلتے ہیں۔

اس موسم میں بِہار کے وسیع و عریض رقبے پر سرسوں کے پھولوں سے سجے بے شمار کھیت دکھائی دیتے ہیں ۔سرسوں کے یہ دلکش پھول بے کیف رنگوں کے اس موسم کو بھی خوش رنگ بنا دیتے ہیں۔ موسم سرما کے خاص مہینے دسمبر کا آغاز ہوتے ہی کھیتوں میں سرسوں کے پھول کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ چند ہی دن میں یہاں کے کھیت سرسوں کے پیلے پھولوں سے لدے پھندے دکھائی دیتے ہیں۔ وسیع و عریض رقبے پر کاشت ہونے والی سرسوں کی فصل کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مصور نے زمین پر پیلے رنگ کا برش پھیر دیا ہے۔ سبز اور پیلے رنگوں کے امتزاج سے بنی یہ قدرتی مصوری ہر ایک کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ سرسوں کے پھولوں سے اٹھنے والی دلفریب خوشبو اس سارے منظر کو اور بھی مسحور کن بناتی ہے۔ ان کھیتوں کے آس پاس گھومتے آپ خود کو کسی اور ہی جہان میں محسوس کرتے ہیں۔

جنوری اور فروری کے مہینے ان پھولوں کے عروج کا موسم ہوتا ہے۔ فروری میں بہار کی آمد پر یہ پھول دھیرے دھیرے مرجھانا شروع ہو جاتے ہیں۔بہار کی آمد گویا سرسوں کی پیلے اور سبز رنگ کے سحر کو توڑ دیتی ہے۔موسم بہار میں سرسوں کی فصل پک کر تیار ہو جاتی ہے اور سرسوں کی جگہ گندم کے سرسبز خوشے اپنی چھب دکھلانے لگتے ہیں۔سرسوں یوں تو تیل اور مویشیوں کے چارے کے لیے کاشت ہونے والی فصل ہے مگر اس کا ساگ ہندوستان میں بے حد مقبول ہے۔ سردیوں کی دھوپ میں کھیت کی باندھ پر بیٹھ کر سرسوں کے کھلے پھولوں کا منظر دیکھنا یقیناً دنیا کے دلکش ترین مناظر میں سے ایک ہوتا ہے۔سرسوں کے پھولوں سے اٹھنے والی خوشبو بھی نرالی ہوتی ہے اور اس مسحور کن خوشبو سے جسم و جاں کو راحت ملتی ہے۔

سرسوں کی فصل نہ صرف ہمارے ماحول کا منظر دلکش بناتی ہے بلکہ یہ ہماری خوراک کی ضرورت کو بھی پورا کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ سرسوں کا ساگ تو ہر ایک کا من بھاتا ہی ہے مگر اس کا تیل بھی انسانی صحت کے لیے بے حد مفید ہے ۔سرسوں کی زیادہ سے زیادہ رقبے پر کاشت ہندوستان کو خوردنی تیل کی پیداوار میں بھی خود کفیل کر سکتی ہے۔

سرسوں کا ساگ ہندوستان کی مقبول ترین غذاؤں میں سے ایک ہے۔ہندوستان کے دیہات میں چنے کا ساگ بھی مقبول ہیں مگر سرسوں کے ساگ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔اس ساگ کی مقبولیت اس قدر ہے کہ اب اسے بطور تحفہ دوسرے ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔دنیا بھر میں جہاں جہاں ہندوستانی آباد ہیں وہاں موسم سرما کی یہ مقبول سوغات ضرور پہنچتی ہے۔سرسوں کا ساگ دیار غیر میں مقیم ہندوستانیوں کو اپنے وطن کی یاد دلاتا ہے۔ہندوستان آنے والے غیر ملکی سیاح بھی اس کے مداح بن کر جاتے ہیں۔

سرسوں ایک تیل دار فصل ہے اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں یہ صدیوں سے کاشت کی جاتی ہے۔ سرسوں کا چارہ مویشیوں کی مرغوب غذا ہے۔ سرسوں کی فصل سے نہ صرف خوردنی تیل حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ مختلف امراض سے شفا بھی دیتا ہے۔سرسوں کے پیلے پھول موسم سرما میں بہار کا سا سماں باندھ دیتے ہیں۔یہ پھول اور ان کی مہک ماحول کو تروتازہ اور معطر بناتے ہیں۔سرسوں کا ساگ عام طور پر تو دیہات میں ہی پکایا جاتا ہے مگر اب شہروں میں بھی عام دستیاب ہوتا ہے۔شہروں میں مہنگے داموں فروخت ہونے والے سرسوں کے ساگ کو دیہات میں کھیتوں سے مفت توڑا جاتا ہے۔

پڑھنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ جو کچھ پڑھتے ہیں وہ یاد رکھیں. مقصد اپنی سوچ کو بدلنا ہے. جیسا کہ مارک کیوبا نے کہا: "میں...
24/01/2025

پڑھنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ جو کچھ پڑھتے ہیں وہ یاد رکھیں. مقصد اپنی سوچ کو بدلنا ہے. جیسا کہ مارک کیوبا نے کہا: "میں روزانہ گھنٹوں پڑھتا ہوں تاکہ ایک ایسا خیال ڈھونڈوں جو میری زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرے." کتابوں کا مطالعہ روح کے اندرونی حسن کے اوزاروں میں سے ایک ہے. ظاہری آرائش کے درمیان پڑھ کر اپنی بات اور روح کو سنوارنا نہ بھولیں⚘.

Address

Akkalkuwa Akrani Road
Nandurbar
425415

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mohammad Jilani naeemi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Mohammad Jilani naeemi:

Shortcuts

Share