04/01/2023
*تین مشکل عمل :-
امامِ عالی مقام حضرت سیِّدُنا امام حسین ابن حیدر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا : تین عمل مشکل ہیں : ( ۱ ) اپنی جان کا حق ادا کرنا ( ۲ ) ہر حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرکرتے رہنا اور ( ۳ ) اپنے حاجت مند مسلمان بھائیوں سے مالی تعاون کرنا ۔
*اسلام میں نفاق کی گنجائش نہیں :-
حضرت سیِّدُنا عبدالواحِد دِمَشْقِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ جنگِ صفین کے دن حَوْشَب خِیْرِینے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ندا دی : اے ابن ابی طالب ہم آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیتے ہیں کہ جنگ بند کردیں ہم آپ کے لئے عراق کا راستہ چھوڑ دیتے ہیں آپ ہمارے لئے شام کا راستہ چھوڑ دیں اس طرح خون ریزی کا سلسلہ بند ہوگا اور مسلمانوں کی جانیں بچ جائیں گی ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اے اُم ظلیم کے بیٹے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اگر دین میں مُدَاہَنَت *( مُ ۔ دَا ۔ ہَ ۔ نَت : یعنی نفاق )* کی گنجائش ہوتی تو میں ایسا ہی کرتا اور میرے لئے بھی آسان تھا لیکن یہ بات اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پسند نہیں ہے کہ اس کی نافرمانی ہوتی رہے اور اہل اسلام مُدَاہَنَت سے کام لیتے ہوئے خاموش رہیں
*پیٹ پر پتھر باندھتے :-
حضرت سیِّدُنا محمد بن کعب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں : میں نے امیر المؤ منین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کویہ فرماتے ہوئے سناکہ ’میں حضور نبی ٔ اَکرم، نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارَک زمانہ میں بھوک کی شدت سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا اور اب میرا صدقہ 40 ہزار دینار ہوتا ہے ۔ ‘‘
*[1] الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ،حرف العین ، الرقم۱۸۷۵علی بن ابی طالب ، ج۳ ،ص۲۰۹ ، مختصر۔*
*[2]فردوس الاخبار للدیلمی،باب السین ، الحدیث : ۳۲۹۳ ، ج۱ ، ص۴۴۲ ، ’’اشد الاعمال‘ ‘بدلہ ’ ’سید الاعمال‘‘۔*
*[3] الاستیعاب فی معرفۃالاصحاب ، حرف الحاء ، الرقم ۵۹۹حوشب بن طخیۃ الحمیری ، ج۱ ، ص۴۵۷۔*