Jàññàti Hoor

Jàññàti Hoor

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jàññàti Hoor, Education, Mumbai.

04/01/2023

*تین مشکل عمل :-
امامِ عالی مقام حضرت سیِّدُنا امام حسین ابن حیدر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا : تین عمل مشکل ہیں : ( ۱ ) اپنی جان کا حق ادا کرنا ( ۲ ) ہر حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرکرتے رہنا اور ( ۳ ) اپنے حاجت مند مسلمان بھائیوں سے مالی تعاون کرنا ۔
*اسلام میں نفاق کی گنجائش نہیں :-
حضرت سیِّدُنا عبدالواحِد دِمَشْقِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ جنگِ صفین کے دن حَوْشَب خِیْرِینے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ندا دی : اے ابن ابی طالب ہم آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیتے ہیں کہ جنگ بند کردیں ہم آپ کے لئے عراق کا راستہ چھوڑ دیتے ہیں آپ ہمارے لئے شام کا راستہ چھوڑ دیں اس طرح خون ریزی کا سلسلہ بند ہوگا اور مسلمانوں کی جانیں بچ جائیں گی ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اے اُم ظلیم کے بیٹے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اگر دین میں مُدَاہَنَت *( مُ ۔ دَا ۔ ہَ ۔ نَت : یعنی نفاق )* کی گنجائش ہوتی تو میں ایسا ہی کرتا اور میرے لئے بھی آسان تھا لیکن یہ بات اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پسند نہیں ہے کہ اس کی نافرمانی ہوتی رہے اور اہل اسلام مُدَاہَنَت سے کام لیتے ہوئے خاموش رہیں
*پیٹ پر پتھر باندھتے :-
حضرت سیِّدُنا محمد بن کعب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں : میں نے امیر المؤ منین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کویہ فرماتے ہوئے سناکہ ’میں حضور نبی ٔ اَکرم، نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارَک زمانہ میں بھوک کی شدت سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا اور اب میرا صدقہ 40 ہزار دینار ہوتا ہے ۔ ‘‘
*[1] الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ،حرف العین ، الرقم۱۸۷۵علی بن ابی طالب ، ج۳ ،ص۲۰۹ ، مختصر۔*
*[2]فردوس الاخبار للدیلمی،باب السین ، الحدیث : ۳۲۹۳ ، ج۱ ، ص۴۴۲ ، ’’اشد الاعمال‘ ‘بدلہ ’ ’سید الاعمال‘‘۔*
*[3] الاستیعاب فی معرفۃالاصحاب ، حرف الحاء ، الرقم ۵۹۹حوشب بن طخیۃ الحمیری ، ج۱ ، ص۴۵۷۔*

03/01/2023

*आज ‌की नसीहत तक़्वा अख़्तियार करना, आम ग़ल्तियां और फ़ुज़ूलियात में वक़्त बर्बाद करना*
बंदे का ग़ैर मुफ़ीद कामों में मशग़ूल होना इस बात की अलामत है कि अल्लाह तआला ने उससे अपनी नज़रे इनायत फेर ली है।
*और*
जिस मक़्सद के लिए इंसान को पैदा किया गया है , अगर उसकी ज़िन्दगी का एक लम्हा भी उसके अलावा गुज़र गया तो वह इस बात का हक़दार है कि उसपर अर्सा ए हसरत दराज़ कर दिया जाए।
*और*
जिसकी उम्र चालीस साल से ज़्यादा हो जाए और इसके बावजूद उसकी बुराइयों पर उसकी अच्छाइयां ग़ालिब न हों
*तो*
उसे जहन्नम की आग में जाने के लिए तैयार रहना चाहिए।
नोट- *समझदार और अक़्लमंद के लिए इतनी ही नसीहत काफ़ी है "*

*(अल् फ़िरदौस बिमा्सूर उल ख़िताब, हदीस शरीफ़ नं - ५५६६)*

02/01/2023

**आज ‌की नसीहत सबसे बड़ी इज़्ज़त**
हासिल कलाम ये है कि जो लायानी चीज़ों की तरफ़ नज़र नहीं करेगा वह इबादत की लज़्ज़त और मुनाजात की हलावत पाएगा और दिल में ऐसी सफ़ाई पाएगा जो इससे पहले कभी न मिली होगी।
ये मुजर्रब (आज़माया हुआ) नुस्ख़ा है इसे वही जान सकता है जो इस पर कमा हक़्क़हू अमल करता है।
फिर ये कि अगर इंसान अपने आ'ज़ा पर यूं ग़ौर करे कि हर उज़ू को जन्नत की कौन सी लज़्ज़त मिलेगी तो वह आंख को सबसे आला देखेगा *लिहाज़ा*
आंख पर कामिल तवज्जा देने की ज़रूरत है और ये आंख का सबसे आला होना दीदारे बारी तआला की वजह से है और दोनों जहां में इससे बड़ी और अज़ीम कोई इज़्ज़त नहीं पस जिस चीज़ के लिए ऐसी इज़्ज़त व बुज़ुर्गी हो उसे बचाना, उसकी हिफ़ाज़त करना और उसे मुअज़्ज़ज़ व मुकर्रम रखना लाज़िम है।*
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -६७)*

01/01/2023

*आज ‌की नसीहत दिल में शहवत का बीज बोने वाली "**
हज़रत सैयदना ईसा अलैहिस्सलाम से मर्वी है कि:
" *अपनी नज़र की हिफ़ाज़त करो क्योंकि ये दिल में शहवत का बीज बोती है* और नज़र डालने वाले के लिए इसका फ़ितना काफ़ी है।"
*लिहाज़ा अगर तुम नज़र नीची रखोगे तो सीना साफ़ और दिल कसीर वसवसों से ख़ाली हो कर पुर सुकून हो जाएगा,*
*नफ़्स कसीर आफ़ात से मह़फ़ूज़ होगा और तुम नेकियों में इज़ाफ़ा करोगे।*
नीज़ आयत करीमा के इस हिस्से: तर्जुमा कंज़ुल ईमान:
"बेशक अल्लाह को उनके कामों की ख़बर है"
में बारगाहे इलाही में हाज़िर होने वालों को डराया गया है।
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन- ६६_६७)*

31/12/2022

Hammad Farukh
کتاب کہانی
May 3, 2018
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر8 حصہ اول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جلد پنجم
آنسو جو مسجدِ اقصیٰ میں گرے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

صلیبی جنگ عروج کو پہنچ گئی تھی۔ بیت المقدس کی فتح نے سارے یورپ کو زلزلے کے بڑے ہی شدید جھٹکے کی طرح جھنجھوڑ ڈالا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنی زندگی کا مشن پورا کردیا تھا لیکن بیت المقدس صلیبیوں کے قبضے سے چھڑا لینا ہی کافی نہیں تھا۔ اس مقدس شہر کا دفاع مستحکم کرنا تھا جو صرف شہر کی دیواریں مضبوط کرلینے تک محدود نہیں تھا۔ بیت المقدس کو صلیبیوں سے بچائے رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ اردگرد دور دور کے علاقے پر قبضہ کیا جائے اور ساحل کو بھی اپنی تحویل میں رکھا جائے۔ بہت سے اہم مقامات پر سلطان ایوبی نے پہلے قبضہ کرلیا تھا جو باقی رہ گئے تھے ان پر سلطان ایوبی کی فوج حملے کرتی اور قابض ہوتی چلی جارہی تھی۔
مفتوحہ مقامات سے عیسائی آبادی بھاگتی چلی جارہی تھی جن مقامات پر عیسائیوں کا قبضہ تھا، وہاں انہوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کررکھا تھا۔ ان کے لیے مسلمانوں کا قتل عام روزمرہ کا معمول اور مذہبی فریضہ تھا۔ اس کے برعکس سلطان ایوبی جو جگہ فتح کرتا تھا وہاں کے عیسائی باشندوں کو اپنی فوج کے حفاظت میں نکال دیتا تھا، سوائے جنگی قیدیوں یعنی صلیبی فوجیوں کے۔ارض فلسطین کی اب یہ کیفیت تھی کہ سلطان ایوبی ہر ایک دستے کو خواہ وہ اس کے ہیڈکوارٹر سے کتنی ہی دور کیوں نہ تھا، رابطے اور اپنے احکام کا پابند رکھے ہوئے تھا۔ چھاپہ مار جیش عقابوں اور چیتوں کی طرح پہاڑیوں، جنگلوں اور صحرائوںمیں گ ھومتے پھرتے رہتے تھے، جہاں انہیں صلیبی فوج کا کوئی دستہ یا رسد کا قافلہ نظر آیا، وہ اس پر ٹوٹ پڑتے، شب خون مارتے اور انہیں ہلاک، زخمی اور تتر بتر کرکے ان کے گھوڑے، اسلحہ اور رسد اٹھا لاتے۔
ان چھاپہ ماروں نے جو شب خون مارے، وہ ہماری تاریخ کی ولولہ انگیز، ایمان افروز اور مافوق الفطرت شجاعت کی داستانیں ہیں۔ ہر ایک کا بیان شروع ہوجائے تو یہ یہ داستان بڑی لمبی مدت تک ختم نہ ہو۔ یہ ارض فلسطین کے پاسبان تھے جو اکیلے اکیلے، دو دو اور چار چار کی ٹولیوں میں کئی کئی سو نفری کے دستوں اور دشمن کے کیمپوں پر شب خون مارتے اور شب کی تاریکی میں گم یا اپنے خون میں ڈوب جاتے تھے۔ انہوں نے دشمن سے رسد چھین کر اپنی فوجوں کو دی اور خود دشمن کی تلاش میں بھوکے بھٹکتے رہے، لڑتے اور کٹتے رہے، اپنی لگائی ہوئی آگ میں زندہ جلتے رہے۔ انہیں کفن نصیب نہ ہوئے، کسی نے ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی اور وہ کسی قبر میں دفن نہ ہوئے۔

وہ قہر تھے جو دشمن پر ٹوٹتے رہے۔ انہی کے بھروسے سلطان ایوبی بیت المقدس کی فتح کے بعد پورے فلسطین میں شیر کی طرح دندناتا، دھاڑتا اور گرجتا رہا۔ سلطان ایوبی کی ان گوریلا اور کمانڈو (چھاپہ مار) پارٹیوں کے متعلق مشہورومعروف یورپی مؤرخ لین پول لکھتا ہے… ''یہ بے دین (مسلمان) ہماری نائٹوں (جنگجو سرداروں) کی طرح وزنی زرہ بکتر نہیں پہنتے تھے لیکن ہمارے زرہ پوش نائٹوں کو ناکوں چنے چبوا دیتے تھے۔ ان پر حملہ کیا جاتا تو بھاگتے نہیں تھے۔ ان کے گھوڑے ساری دنیا میں تیز رفتار مانے گئے تھے۔ وہ جب دیکھتے تھے کہ (صلیبی) ان کے تعاقب سے ہٹ گئے ہیں تو وہ پھر واپس آجاتے تھے۔ ان (مسلمان چھاپہ ماروں) کی حالت ان کبھی نہ تھکنے والی مکھیوں جیسی تھی جنہیں اڑائو تو ایک لمحے کے لیے اڑ کر پھر تمہارے اوپر بیٹھ جاتی ہیں، اگر انہیں ہر وقت دور رکھنے کی کوشش کرتے رہو تو وہ دور رہتے تھے۔ جونہی یہ کوشش ترک کردی جاتی، وہ شب خون مارجاتے… وہ پہاڑی علاقے کی طوفانی بارش کی طرح چھوٹی چھوٹی پارٹیوں میں آتے اور صلیبی فوج کی ترتیب توڑ کر غائب ہوجائے۔ ہمارے نائٹوں کو وہ قدم قدم پر پریشان کرتے اور ہماری فوج کی پیش قدمی کو سست کیے رکھتے''۔
٭ ٭ ٭
یہ خطہ جو آج اسرائیل کہلاتا ہے، سلطان ایوبی کے دور میں ارض مقدس تھا جسے صلیبیوں سے پاک کرنے کے لیے اللہ کے ایک ایک سپاہی نے وہاں اپنے خون کا نذرانہ دیا۔ سلطان ایوبی نے بعض بستیاں تباہ وبرباد کرادی تھیں۔ بعض اوقات یوں لگتا تھا جیسے اس کے دل میں رحم کا ایک ذرہ بھی نہیں رہا لیکن اس نے رحم دلی کے ایسے مظاہرے کیے کہ صلیبی مؤرخوں نے بھی اسے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس سے رحم کی بھیک مانگنے کے لیے صلیبیوں کی ایک ملکہ بھی آئی اور ایک غریب صلیبی عورت بھی۔
صلیبی ملکہ کا نام سبیلا تھا۔ وہ مشہور حکمران ریمانڈ کی بیوی تھی۔ جنگ حطین کے وقت وہ طبریہ کے قلعے کی ملکہ تھی۔ آپ پچھلی اقساط میں پڑھ چکے ہیں کہ ر یمانڈ جنگ حطین کے میدان سے بھاگ گیا تھا۔ اس کی بیوی نے طبریہ کا قلعہ سلطان ایوبی کے حوالے کردیا تھا اور سلطان ایوبی نے اسے قید نہیں کیا تھا۔ اسی جنگ میں سلطان ایوبی نے بیت المقدس کے حکمران گائی آف لوزینان کو جنگی قیدی بنا لیا تھا۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد جب سلطان ایوبی عکرہ کے مقام پر خیمہ زن تھا، اسے اطلاع ملی کہ ملکہ سبیلا اسے ملنے آرہی ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے آنے سے نہ روکا بلکہ آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا۔
''صلاح الدین!''… مبلکہ سبیلا جو شکست کھا چکنے کے بعد بھی ملکہ ہی کہلانا پسند کرتی تھی، کیونکہ اپنے خاوند کے قتل کے بعد وہ تریپولی کی حکمران تھی، بولی… ''کیا آپ کو معلوم ہے کہ کتنے ہزار یا کتنے لاکھ عیسائی گھروں سے بے گھر ہوگئے ہیں؟ ان پر ظلم آپ کے حکم سے ہوا ہے''۔
''اور جن بے گناہ مسلمانوں کا آپ نے قتل عام کرایا اور کرایا جارہا ہے، وہ کس کے حکم سے کرایا جارہا ہے؟''… سلطان ایوبی نے اس کا جواب سنے بغیر کہا… ''اگر میں خون کا بدلہ خون سے لوں تو ایک بھی عیسائی زندہ نہ رہے… آپ کیوں آئی ہیں؟… یہی شکایت مجھ تک پہنچانے؟''
''نہیں''۔ ملکہ سبیلا نے جواب دیا… ''میں ایک درخواست لے کر آئی ہوں… گائی آف لوزینان آپ کے پاس جنگی قیدی ہے، میں اسے رہا کرانے آئی ہوں''۔
''میں آپ سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ آپ اسے کیوں رہا کرانا چاہتی ہیں''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں یہ ضرور پوچھوں گا کہ کس شرط پر میں اسے رہا کروں؟''

''اگر آپ کا بیٹا یا ب

30/12/2022

आज ‌की नसीहत इंसानी आ'ज़ा की हिफ़ाज़त का बयान**
**अगर तुम नफ़्स के ख़िलाफ़ पूरी क़ुव्वत व अज़्म से खड़े होना चाहते हो और उसे गुनाहों और ज़ायद अज़ ज़रूरत हलाल से बचाना चाहते हो तो* सबसे पहले तुम्हें पांच आ'ज़ा का ख़्याल रखना ज़रूरी है क्योंकि यही बुनियाद हैं:
(१) आंख
(२) कान
(३) ज़ुबान
(४) दिल और
(५)पेट
अगर तुमने इनको हराम से बचा लिया तो उम्मीद है कि सारे आ'ज़ा बच जाएंगे।
इंशाअल्लाह अज़्ज़ व जल्ल
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -६४)*

29/12/2022

*آج کی نصیحت بارگاہِ الٰہی میں حاضری کی منزل:-*
حرام اور گناہوں سے تقوٰی و اجتناب فرض ہے، اگر اس تقوٰی کو اختیار نہ کیا تو عذابِ نار کا مستحق ٹھہرے گا اور زائد از ضروت حلال سے بچنا بھلائی اور ادب ہے، اگر اسے نہ اپنایا تو حساب و کتاب اور ندامت و شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جس نے اول کو اختیار کیا وہ تقوٰی کے پہلے درجہ پر ہے اور یہ عبادت پر استقامت چاہنے والوں کا درجہ ہے اور جس نے دوسرے کو اختیار کیا وہ تقوٰی کے بلند مرتبے پر فائز ہے اور جو ہر گناہ اور زائد از ضرورت حلال سے بچتا ہے وہ صحیح معنیٰ میں تقوٰی اختیار کرتا ہے، اس کے حق کو ادا کرتا ہے اور اس میں پائی جانے والی ہر بھلائی کو اکٹھا کرلیتا ہے اور یہی وہ کامل وَرَع ہے جس پر دین کا مدار ہے اور یہ بارگاہِ الٰہی میں حاضری کی منزل ہے ۔
*(مختصر منہاج العابدین از حجتہ الاسلام امام محمد بن غزالی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ آن لائن-٦٤)*

27/12/2022

*لباس میں سادگی کم لباس دنیا سے بے رغبتی ہیں جو اللّه کی محبت کا سبب ہیں :-
حضرت سیِّدُناحسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں : میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو مسجد میں ایک کپڑے میں لپٹے سوئے دیکھا، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے آس پاس کوئی نہ تھا حالانکہ اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین تھے ۔
حضرت سیِّدُناعبد الملک بن شداد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْجَوَاد فرماتے ہیں : میں نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو جمعہ کے دن منبر پر اس حال میں دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے جسمِ مبارَک پر ایک موٹی عَدَنی یعنی یمنی چادر تھی جس کی قیمت بمشکل چار یا پانچ درہم ہوگی اور ایک کوفی چادر تھی ۔
حضر ت سیِّدُنایونس بن عبید رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مسجد میں قیلولہ کرنے والوں کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا : میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو مسجد میں قیلولہ کرتے دیکھا ہے ، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اُن دنوں خلیفۂ وقت تھے ،جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اُٹھے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پہلو پرکنکریوں کے نشان تھے حالانکہ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین تھے ۔
حضرت سیِّدُناشُرَ حْبِیْل بن مسلم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کو امیروں والا کھانا کھلاتے اور خود گھر جا کر سرکہ اور زیتون کے ساتھ کھانا تناو ُل فرماتے
حضرت سیِّدُناسلیمان بن موسیٰ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو چند ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا جو کسی برے کام میں مصروف تھے ،جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ وہاں پہنچے تو وہ لوگ جا چکے تھے، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے وہاں برائی کے آثار دیکھے تو اس بات پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا کہ اُنہوں نے برائی ہوتے نہیں دیکھی نیز اس کے شکرانے میں ایک غلام بھی آزاد کیا

26/12/2022

*خلیفۂ وقت کی چادر میں بارہ پیوند :-
حضرت سیِّدُناحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ’’ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے دورِ خلافت میں خطبہ دیا اور اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے جو چادر پہنی ہوئی تھی اس میں بارہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے ۔[2]
*احساسِ ذمَّہ داری :-
حضرت سیِّدُناداؤد بن علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اگر نہر فرات کے کنارے ایک بکری بھی بھوکی مرگئی تو مجھے اندیشہ ہے کہ بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے اس کے بارے میں باز پُرس فرمائے گا ۔ ‘‘
*رحمت ِ الٰہی کی امید :-
حضرت سیِّدُنایحییٰ بن ابی کثیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَدِیْر سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اگر کوئی مُنادِی آسمان سے ندا دے کہ ’ اے لوگو تم سب جنت میں جاؤ گے سوائے ایک شخص کے ‘‘ تو مجھے خوف ہے کہ وہ شخص کہیں میں نہ ہوں اور اگر کوئی مُنادِی ندادے کہ ’’ اے لوگو تم سب جہنم میں جاؤگے سوائے ایک شخص کے تو مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں گا ۔
*حضرت سیِّدُنانافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :-**
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے حضرت سیِّدُناعبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی نیکی کرنے میں کوئی فر ق نہ ہوتا تھا یہاں تک کہ کوئی بات یا عمل ایسا نہ کرتے جس سے دونوں میں امتیاز ہوسکے ۔ [3]
*فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی دُعائیں:-*
حضرت سیِّدُناابن عکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْحَکِیْم سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : مجھ سے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : یہ دعا مانگا کرو ’’ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ سَرِ یْرَتِیْ خَیْرًا مِّنْ عَلَانِیَّتِیْ وَاجْعَلْ عَلَانِیَّتِیْ حَسَنَۃ.
*یعنی :-** یااللہ عَزَّوَجَلَّ میرے باطن کو میرے ظاہر سے بھی بہتر بنادے اور میرے ظاہر کو اور اچھا کر دے [4]
حضرت سیِّدُنااسود بن بلال محاربی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ بنے تو منبر پر کھڑے ہوکر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد وثناکی پھر فرمایا : اے لوگو میں دُعا مانگتا ہوں تم آمین کہتے جاؤ ! پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ دعا کی : یااللہ عَزَّوَجَلَّ میں سخت ہوں مجھے نرم کر دے میں بخیل ہوں مجھے سخی بنادے میں کمزور ہوں مجھے قوت عطا فرما ۔[5]
حضرت سیِّدُنازید بن اَسلم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کویوں دُعا کرتے ہوئے سنا : یااللہ عَزَّوَجَلَّ میری شہادت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہ ہو جس نے تجھے سجدہ کیا ہوکہ کہیں وہ اس وجہ سے بروزِ قیامت مجھ سے جھگڑا نہ کرے ۔ ‘[6]
اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ دُعا مانگتے ہوئے سنا : ’’ اللہمَّ قَتْـلًا فِیْ سَبِیْلِکَ، وَوَفَاۃً فِیْ بَلَدِنَبِیِّ کَیعنی یااللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت عطا فرما اور اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہر میں مرنانصیب فرما ۔ میں نے عرض کی : یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا : جب اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے گا تو ایسا ہوگا [7]
*[2] الزھد للامام احمد بن حنبل ، زھد عمر بن الخطاب ،الحدیث : ۶۵۸ ، ص۱۵۲۔*
*[3] الطبقات الکبریٰ لابن سعد ، الرقم۵۶ عمربن الخطاب ، باب ذکر استخلاف عمربن الخطاب ، ج۳ ، ص۲۲۱۔*
*[4] جامع الترمذی ،کتاب الدعوات ،باب دعاء: اللہم اجعل سریرتی خیرامن علانیتی ، الحدیث : ۳۵۸۶ ، ص۲۰۲۱۔*
*[5]الطبقات الکبری لابن سعد ، رقم۵۶ عمربن خطاب ، باب ذکراستخلاف عمربن خطاب ، ج۳ ، ص۲۰۸*

25/12/2022

*بوقت شہادت عاجزی وانکساری:-*
حضرت سیِّدُناعبد اللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا سر ان کے مرض الموت میں میری ران پر تھا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا : میرا سر زمین پر رکھ دو ۔ میں نے عرض کی : آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں سر میری ران پر رہے یا زمین پر ؟ فرمایا : اسے زمین پر رکھ دو حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : میں نے آ پ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا سر زمین پر رکھ دیا ۔ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’ ہلاکت ہو میرے اور میری ماں کے لئے اگر میرا رب عَزَّوَجَلَّ مجھ پر رحم نہ فرمائے ۔
حضرت سیِّدُنامِسْوَربن مَخْرَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو نیزہ مارا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اگر میرے پاس زمین کے برابر بھی سونا ہوتا تو میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب کو دیکھنے سے قبل ہی سارا سو نا اس کے عوض قربان کردیتا حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو نیزہ مارا گیا تو میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : یاامیرالمؤمنین ! خوشخبری ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ذریعے شہر فتح کر وائے، نفاق کا خاتمہ کیا اور رزق کے دروازے کھول دیئے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے استفسار فرمایا : اے ابن عباس کیا آپ حکومت سے متعلق میری تعریف کررہے ہیں ؟ میں نے عرض کی کہ امارت کے علاوہ بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے میں چاہتاہوں کہ خلافت سے اس طر ح نکل جاؤں جس طرح اس میں داخل ہوا تھا اور میرے لئے اس پر کوئی ثواب ہو نہ عذاب ۔
*[1] السنن الکبری للبیھقی ،کتاب آداب القاضی ، باب کراھیۃ الامارۃ…الخ ، الحدیث : ۱۰۲۲۸ ، ج۱۰ ، ص۱۶۶۔*

24/12/2022

*فرامینِ فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ:-*
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے انمول ارشادات وفرامین ان کے احوال کی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں
حضرت سیِّدُنامجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :ہم نے صبر کو اپنی زندگی کی بہترین چیز پایا حضرت سیِّدُناہشام بن عروہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : تم جانتے ہو کہ لالچ محتاجی کا باعث ہے اور لوگوں سے مایوس ہوجانا مالداری کا سبب ہے اور بلاشبہ انسان جب کسی چیز سے مایوس ہوتا ہے تو اس سے بے نیاز ہوجاتا ہے ۔
حضرت سیِّدُناعامر شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم میرا دل اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے مکھن سے بھی زیادہ نرم ہوگیا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے پتھر سے بھی سخت تر ہو گیا ( یعنی ذاتی معاملہ میں دل نرم اور حُدُوْدِالٰہی کے معاملہ میں سخت ہوگیا )
*تائبین کی صحبت میں بیٹھو :-
حضر ت سیِّدُنا عون بن عبد اللہ بن عُقْبَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : تو بہ کر نے والوں کی صحبت میں بیٹھو کہ وہ سب سے زیادہ نرم دل ہوتے ہیں
حضرت سیِّدُناابو خالدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاجِد سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : قرآنِ کریم کو یاد کرنے والے اور علم کا سر چشمہ بن جاؤ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے آج کے دن کاہی رزق طلب کرو ۔
*صبروشکراِختیارکرو :-
حضرت سیِّدُناابراہیم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو اس طرح دعا مانگتے سنا : ’’ یااللہ عَزَّوَجَلَّ میں تیرے راستے میں اپنی جان ومال خرچ کرنا چاہتاہوں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے فرمایا : تم میں سے کوئی خاموش کیوں نہیں ہوتا کہ اگر آزمائش میں ڈالا جائے تو صبر کرے اور عافیت پائے تو شکر بجالائے ۔
حضرت سیِّدُنایحییٰ بن جَعْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اگریہ 3 چیزیں یعنی ( ۱) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے پیشانی جھکانا (۲) ایسے اجتماعات میں شرکت کرنا جن میں اچھی باتیں اس طرح چننے کو ملتی ہیں جس طر ح عمدہ کھجوروں کو چنا جاتا ہے اور (۳) راہ خدا میں سفر کرنا نہ ہوتا تو میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کو اور زیادہ پسند کرتا
*[3] صحیح البخاری ،کتاب الرقاق،باب الصبر عن محارم اللہ ،ص۵۴۳۔*
*[4] الزھد للامام احمد بن حنبل ، زھد عمر بن الخطاب ، الحدیث : ۶۱۳ ، ص۱۴۶۔*
*[5]المصنف لابن ابی شیبۃ ،کتاب الزھد ، باب کلام عمر بن الخطاب*

Want your school to be the top-listed School/college in Mumbai?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Mumbai
400102