25/06/2020
آپ یہاں سے 'مشاعرہ نمبر' کی فہرست اور دیگر تفصیلات کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
مشاعرہ نمبر Esbaat: Mushaira Number
Ashar Najmi is the Chief Editor of "Esbaat", a literary and cultural magazine in Urdu, circulated all over Urdu world.
Now, Ashar Najmi is going to expresses his views on various topics from which there is room for consensus and disagreement.
25/06/2020
آپ یہاں سے 'مشاعرہ نمبر' کی فہرست اور دیگر تفصیلات کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
مشاعرہ نمبر Esbaat: Mushaira Number
24/06/2020
"مشاعرہ نمبر" کا سرورق اور ترمیم و اضافہ شدہ فہرست حاضر خدمت ہے۔ یہ شمارہ "عالمی نثری ادب" کے ساتھ ہی پرنٹنگ پریس میں جائے گا۔ ایسی امید ہے کہ جولائ ماہ میں ممبئی کے پرنٹنگ پریس کھل جائیں گے۔ چنانچہ اس کی پیشگی بکنگ شروع کی جا رہی ہے۔ آگاہ کر دوں کہ مشاعرہ نمبر کی تعداد اشاعت تقریباً اتنی ہوگی، جتنے اس کے پیشگی خریدار ہوں گے کہ میں اضافی بار برداشت نہ کر پاؤں گا۔ خریداری کے تعلق سے تمام تفصیلات اور مکمل فہرست موجود ہے۔
21/05/2020
'اثبات' کے تمام عام اور خاص شمارے میں نے ویب سائٹ پر باذوق قارئین کی ضیافت طبع کے لیے پیش کردیے ہیں۔ "اثبات" کا آئندہ ہدف موضوع "عالمی نثری ادب" ہے جسے ترتیب بھی دیا جا چکا ہے اور پرنٹ فائل بھی تیار ہے۔ اگرچہ اس شمارے کو مارچ 2020 میں ہی پریس میں چلا جانا چاہیے تھا لیکن لاک ڈاؤن کے سبب ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ لیکن جوں ہی لاک ڈاؤن میں نرمی آئے گی اور پرنٹنگ پریس کھلنے شروع ہوجائیں گے، یہ خاص نمبر چھپنے کے لیے چلا جائے گا۔ اس شمارے کی فہرست حاضر ہے۔ یہ شمارہ تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہوگا، اس کے صفحات کی تعداد تقریباً 2200 ہوگی اور اس کی جلد بندی Hardcover میں رہے گی۔
اس شمارے کی فہرست پر ایک نظر ڈالتے ہی آپ کو احساس ہوجائے گا کہ تقریباً 100 ممالک اور 100 زبانوں کا انتخاب اس میں شامل ہے اوران میں وہ تمام ممالک موجود ہیں جہاں کے visitors میری ویب سائٹ سے 'اثبات' کے سابقہ شماروں کو ڈاؤن لوڈ کرکے استفادہ کر رہے ہیں، اس لیے انھیں انتخاب کے معیار کے متعلق بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ "عالمی نثری ادب نمبر" صرف ہارڈ کاپی میں ہی دستیاب ہوگا، اس کی سافٹ کاپی کسی بھی شکل میں آئندہ دو سال تک مہیا نہیں کی جائے گی۔ مجھے امید ہے کہ باذوق حضرات دو برس کے انتظار کی اذیت کا شکار ہونے کی بجائے اس کی ہارڈ کاپی کے حصول کے لیے مجھ سے براہ راست رابطہ کریں گے۔ پرنٹنگ پریس کھلنے تک اس کی رعایتی پیشگی بکنگ کی مدت کی توسیع کردی گئی ہے، بصورت دیگر اس خاص نمبر کی اشاعت کے بعد اس کی printing price پر ہی یہ شمارہ دستیاب ہوگا۔ لہٰذا، جو حضرات پیشگی بکنگ کی رعایتی قیمت کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ درج ذیل تفصیلات پر ایک نظر ڈالیں اور عملی اقدام کریں۔
اثبات: عالمی نثری ادب نمبر (تین جلدوں کی فہرست) Aalmi Nasri Adab (3 volumes)
20/05/2020
زیر نظر شمارہ 'اثبات' کے دوسرے دور کا دوسرا شمارہ ہے اور یہ آخری عام شمارہ ہے، اس کے بعد یک موضوعی شماروں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوگیا؛ یعنی "سرقہ نمبر"، "ادب میں عریاں اور فحش نگاری" (اضافہ شدہ پاکستانی ایڈیشن) اور "احیائے مذاہب: اتحاد، انتشار اور تصادم"، ان تمام یک موضوعی شماروں کو اس ویب سائٹ پر پہلے ہی پیش کیا جا چکا ہے اور جو "ڈاؤن لوڈ سیکشن" میں موجود ہیں۔ انھی یک موضوعی شماروں سے ایک نیا سلسلہ یہ شروع ہوا کہ اب 'اثبات' ہندو پاک دونوں ملکوں سے شائع ہونے لگے۔ پاکستان میں 'عکس پبلی کیشنز' نے اس کی اشاعت کی ذمہ داری اٹھائی اور انھوں نے پاکستان کے باذوق اور سنجیدہ قارئین تک اس کی ترسیل کا بخوبی اہتمام کیا۔
اثبات: شمارہ 17 Esbaat: 17
18/05/2020
پانچ سال تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد "اثبات" کے دوسرے دور کا آغاز شمارہ نمبر16 سے 2018 میں ہوا۔
ایمان سے کہوں تو میرا دوسرے دور کو شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا چونکہ میں ان پانچ سالوں میں دوسری دنیا کا باسی ہوچکا تھا، ایک ایسی دنیا جو اس سے پہلے میں نے نہیں دیکھی تھی اور جہاں سے اردو کی ادبی دنیا مجھے ایک پنجرے سے زیادہ نظر نہیں آتی تھی۔ سنا تھا کہ صرف ایک کتاب آپ کو سرتا پا بدل سکتی ہے لیکن میں اس جہان دیگر میں ہزاروں ایسی کتابوں کی زد میں تھا جنھیں پڑھنے کے دوران میں ٹوٹ رہا تھا، بکھر رہا تھا، از سر نو میری تشکیل ہو رہی تھی۔ ان پانچ سالوں نے مجھ سے میرا بہت کچھ چھین لیا اور بدلے میں بہت کچھ دے دیا، اتنا کچھ جسے اب تک مکمل طور پر سمیٹ نہیں پایا۔
اثبات کے دوسرے دور کا جب یہ پہلا شمارہ نکلا تو اس کی ہیئت بدل چکی تھی، کاغذ سے لے کر ضخامت تک، سب کچھ۔ کچھ لوگوں نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ اشعرنجمی کی ادارتی صلاحیت زنگ آلود ہوچکی ہے، بک سیلرز نے ناک بھوؤں سکوڑے اوراحباب نے میری "خیریت" دریافت کی۔ میں خاموش تھا، کیسے بتاتا کہ "اثبات" اب کسی اجنبی پبلشر کے نکاح میں ہے اورایک منکوحہ کے کچھ حدود ہوتے ہیں، اسے "لات جوتے" کھا کر بھی اپنی بقا کی جدوجہد جاری رکھنی پڑتی ہے۔ لیکن کچھ اہل نظر اس شمارے کے اداریے اور مشمولات میں دبی ہوئی چنگاری کو دیکھ چکے تھے اور اس کے شعلہ میں بدلنے کے منتظر تھے۔ انھیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا، صرف دو شماروں کے بعد "یک موضوعی" شماروں کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کا اشارہ میں نے دوسرے دور کا آغاز کرتے ہوئے زیر نظر شمارے کے اداریے میں کیا تھا۔ آپ بھی پڑھیے۔
اثبات: شمارہ 16 Esbaat-16
17/05/2020
"اردو کیمپس" کا تیسرا اور آخری شمارہ پیش خدمت ہے۔ اس رسالے کے بند ہونے کا قلق مجھے آج بھی ہے لیکن ظاہر ہے کوئی بھی رسالہ صرف پبلشر اور مدیر کی کوششوں سے تادیر جاری نہیں رہ سکتا۔ اگرچہ چند لوگوں نے اس رسالے میں اپنی عملی دلچسپی کا اظہار بھی کیا تھا کہ لیکن وہ اتنے کم تھے کہ ایک شمارے کا نصف بار اٹھانے سے بھی معذور تھے۔ کسی سے کوئی شکوہ نہیں چونکہ جو اردو برادری دنیا کے مختلف گوشوں سے "اثبات" کے شماروں کو روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں مفت ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد (گنتی کے چند لوگوں کو چھوڑ کر) بطور شکریہ ویب سائٹ کو "سبسکرائب" یا "فولو" کرنے تک کوکسر شان سمجھتی ہو، اس سے کسی ایسے رسالے کو زندہ رکھنے کی توقع بھلا کیسے کی جا سکتی ہے جس کا اجرا اردو کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے ہوا تھا۔
اردو کیمپس: شمارہ 3 Urdu Campus: 3
15/05/2020
یہ "اثبات پبلی کیشنز" کی جانب سے جاری کردہ دوسرا رسالہ "اردو کیمپس" ہے جو یونیورسٹی کے طلبا کے لیے 2011 میں جاری کیا گیا تھا۔ اس شمارے پر نمبر2 لکھا ہوا ہے، لیکن اسے "اردو کیمپس" کا پہلا شمارہ ہی مانا جائے کیوں کہ شمارہ نمبر1 ایک sample issue تھا جسے محض کچھ تکنیکی و انتظامی خانہ پری کے لیے نکالا گیا تھا۔
"اردو کیمپس" کا اجرا بطور "ایک اور رسالہ" نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک مقصد تھا۔ "اثبات" ایک خالص ادبی جریدہ ہے، اس کے قاری عموماً وہ ہیں جو اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں اور کاروبار ادب اور کارزار حیات میں سرگرم ہیں، لیکن "اردو کیمپس" ان لوگوں کے لیے وقف تھا جو ابھی علم و آگہی کے پل صراط سے گزر رہے ہیں۔ اگرچہ انسان پوری زندگی طالب علم ہی رہتا ہے لیکن فی الحال میں اس کا استعمال رائج الوقت معنی میں کررہا ہوں۔ اس کے باوجود لسانی و علمی کساد بازاری کے سبب یہ رسالہ نئی نسل کے کئی ادیبوں کے لیے بھی یکساں طور پر نفع رساں تھا جو اکثر زبان و بیان کی غلطیوں اور مطالعے کی کمی کے سبب ساری زندگی احساس کمتری کے شکار رہتے ہیں۔ یہاں یہ کہنا غلط ہوگا کہ فن کار تو تلمیذ الرحمٰن ہوتا ہے یا ایں سعادت بزور بازو نیست۔ علم اکتسابی کو تراشنا، نکھارنا اور سنوارنا بھی ضروری ہوتا ہے ورنہ وہ کندہ نا تراشیدہ ہو کر رہ جائے گا۔
اردو والے شاید Young Adult Literature کی اصطلاح سے ناواقف ہوں لیکن اس وقت دنیا کی تقریباً تمام ترقی یافتہ زبانوں میں اس کی علیحدہ شناخت قائم ہوچکی ہے۔ جس زمانے میں یہ رسالہ جاری ہوا تھا، اس وقت یہ دنیا بھر سے نکلنے والی دوسری Young Adult Literary Magazine تھی جس کا فوکس (Focus) مکمل طور پر صرف نئی نسل پر تھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس رسالے کو طلبا تک پہنچانے کے لیے میں نے ملک کی بیشتر اہم تعلیم گاہوں میں جاکر طلبا سے خود گفتگو کی۔ ممبئی یونیورسٹی، جواہرلال یونیورسٹی (نئی دہلی)، ذاکر حسین کالج (دہلی)، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی (میرٹھ)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(علی گڑھ)، حلیم مسلم پی جی کالج (کانپور)، الہ آباد یونیورسٹی (الہ آباد)، بنارس ہندو یونیورسٹی (وارانسی)، عثمانیہ یونیورسٹی (حیدرآباد) اورگلبرگہ کے ایک کالج کے طلبا سے براہ راست ملاقات کرکے اپنے ارادے کو عملی شکل دینے کی کوشش کی۔ خوب خاطرداری ہوئی، بہترین تقاریب برپا ہوئیں، اساتذہ نے جم کر فصاحت و بلاغت کے دریا بہائے لیکن نتیجہ صفر۔ چنانچہ اس نوخیز رسالے نے صرف دو شماروں کی زندگی پائی اور اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا۔ اس مرحوم رسالے کا دوسرا شمارہ بغرض ایصال ثواب کل لگاؤں گا۔
اردو کیمپس: شمارہ 2 Urdu Campus: 2
12/05/2020
ہم اردو والے عموماً شعر و ادب کے فنی و تکنیکی مسائل سے بھاگتے ہیں۔ سادہ اور سرسری قرات کرنے والے نقادوں کی ہمارے یہاں کمی نہیں ہے۔ لہٰذا "اردو افسانوں میں مشرقیت"، "اردو افسانوں میں عورتوں کے مسائل"، "اردو افسانوں میں انسان دوستی"، "اردو افسانوں میں فسادات"، "اردو افسانوں میں عصری مسائل" یا پھر زیادہ سے زیادہ "پلاٹ سمری" (Plot Summary) پر مشتمل نیم تنقیدی مضامین کے بوجھ نے اردو فکشن کی تنقید کا بیڑہ غرق کررکھا ہے۔ اس وضع کی تنقید افسانے کو سماجی، نفسیاتی یا تہذیبی دستاویز یا پھر زیادہ سے زیادہ افسانہ نگاری کی ڈائری ثابت کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پاتی۔
سکندر احمد کا یہ طویل مضمون برسوں پہلے "شب خون" کے ایک شمارے میں شائع ہوا تھا لیکن اس کی بازگشت اب بھی موجود ہے، کیوں کہ ان کا زیر نظر مضمون افسانے کی شعریات مستحکم کرنے میں نمایاں رول ادا کرتا ہے اور اس کا سب سے بڑا اختصاصی پہلو یہ ہے کہ سکندراحمد نے اپنی قائم کردہ تنقیحات کو مختلف افسانوں کی مثال سے سمجھانے کی کوشش کی ہے جس کی توقع کسی "پلاٹ سمری" پیش کرنے والے نقادوں سے عبث ہے۔
افسانے کے قواعد (اثبات : شمارہ 11 کا ضمیمہ) Afsaney Ke Qawaid: Sikandar Ahmad
11/05/2020
"اثبات" کا گیارہواں شمارہ پیش خدمت ہے۔
اس شمارے میں کئی نامور لکھنے والوں کی کہکشاں آباد ہے۔ مثلاً مضامین میں شمس الرحمٰن فاروقی، فضیل جعفری، ابوالکلام قاسمی، سکندر احمد اور اقبال احمد آفاقی۔ اسی طرح افسانوں میں فہمیدہ ریاض، اقبال مجید اور جولس لیمائترے کے افسانے (فرانسیسی) کا ترجمہ جسے محبوب الرحمٰن فاروقی نے کیا تھا۔ غزلوں میں احمد مشتاق، افتخار عارف، راہی فدائی، عرفان ستار، مدحت الاختر وغیرہ۔ اس شمارے میں شمس الرحمٰن فاروقی کے مضمون کے علاوہ تین ایسی چیزیں بھی شامل تھیں جو یادگار ہیں۔ (1) دو انگریزی نظموں کے تراجم (2) کچھ نئے شاعروں کا تعارف اور (3) منشی امیراللہ تسلیم لکھنوی کا تعارف اور ان کا انتخاب کلام۔ ان ستاروں کی جھرمٹ میں نئے لکھنے والے بھی روشنیوں کا گلشن آباد کیے ہوئے تھے۔
اس شمارے کے ساتھ سکندر احمد کا طویل مضمون "افسانے کے قواعد" بطور ضمیمہ شامل تھا لیکن اسے کل اپ لوڈ کیا جائے گا۔
براہ کرم میرا شکریہ ادا نہ کریں بلکہ سائٹ کو سبسکرائب کرنے کے بعد اسے اپنے ایمیل کے ذریعہ ایکٹیو بھی کریں کیوں کہ اب بھی 50 ایسے لوگ ہیں جنھوں نے سائٹ سبسکرائب تو کیا لیکن انھوں نے اپنی ایمیل آئی ڈی میں آئی ہوئی لنک کو کلک کرکے اسے ویری فائی تک نہ کیا۔
اثبات: شمارہ 11 Esbaat-11
06/05/2020
یہ "اثبات" کا دسواں شمارہ ہے جو 2011 کے وسط میں شائع ہوا تھا۔
اس شمارے کی اشاعت کے کچھ روز قبل "نیاورق" کے مدیر ساجد رشید صاحب کا انتقال ہوگیا تھا، لہٰذا اس مکمل شمارے کو انھی کے نام منتسب کرکے خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔ میرے اس اقدام پر کچھ لوگوں کو اس بات پر حیرت بھی ہوئی تھی، کیوں کہ وہ مجھے مرحوم کا حریف تصور کرتے تھے۔ اگرچہ یہ سچ تھا کہ ساجد رشید کے بعض نظریاتی موقف سے مجھے سخت اختلاف تھا جس کا اظہار کرنے میں کبھی میں نے پس و پیش سے کام نہیں لیا لیکن ظاہر ہے جو معصوم حضرات نظریاتی اختلافات کو نجی اختلافات سے تعبیر کرتے ہیں، وہ شخصیت پرستی کی دلدل میں گلے گلے تک دھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔
زیر نظر شمارے کی خاص بات یہ ہے کہ اس شمارے میں اردو کے معروف فکشن رائٹر خالد جاوید کے ناولٹ "موت کی کتاب" کے اجرا کے بعد اس پر اردو کے کچھ اہم صاحب الرائے حضرات کو مکالمہ کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
شمس الرحمٰن فاروقی کا افسانہ "قبض زماں" بھی پہلی مرتبہ اسی شمارے میں شائع ہوا تھا جو بعد میں دیگر رسائل میں شیرینی کی طرح تقسیم ہوا۔ اس کے علاوہ میری درخواست پر فاروقی صاحب نے "طوطا رام عاصی لکھنوی کی گالیاں" بھی اس شمارے کے لیے رقم کی تھی جو نہایت ہی دلچسپ ہے۔
آخر میں وہی ایک بات یہ کہ اس شمارے کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد اگر آپ میرا شکریہ ادا کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتے ہیں تو ویب سائٹ کو سبسکرائب اور فولو کریں۔ سبسکرائب کرنے کے بعد اپنے ایمیل میں پہنچے لنک پر کلک کرکے اسے ایکٹیو کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ
اثبات: شمارہ 10 زندگی اور ادب کی مثبت اور آفاقی قدروں کا ترجمان
03/05/2020
"اثبات" کا نواں شمارہ حاضر ہے۔ یہ شمارہ 2011 میں شائع ہوا تھا۔ اسی سال فیض احمد فیض کی یوم ولادت کے سو سال مکمل ہوئے تھے۔ جگہ جگہ تقریبات ہو رہی تھیں اور رسائل "فیض نمبر" نکال رہے تھے۔ میرے لیے کچھ نیا کرنے کو بچا نہ تھا، سو میں نے "اثبات" کے زیر نظر شمارے میں اس "صدی شخصیت" پر ایک مختصرگوشہ شائع کیا جس میں ان پر روایتی قسم کی تنقید شامل کرنے کی بجائے کچھ چنندہ تازہ دم نوجوان ادیبوں سے جاننے کی کوشش کی کہ وہ 2011 میں جب فیض کو پڑھتے ہیں تو کیا محسوس کرتے ہیں؟ یہ سوال اس لیے اہم تھا چونکہ اب نہ تو ترقی پسندوں کے نعروں کی گھن گرج فضا میں موجود ہے اور نہ ہی جدیدیت کا ہنگامہ محشر باقی ہے۔ میں نے ان ادیبوں سے بطور خاص درخواست کی کہ وہ اس سوال کا مکتبی یا نظریاتی تنقید کی روشنی میں جائزہ لینے کے بجائے اپنے صرف نجی تاثرات ہی سے ہمیں واقف کرائیں۔ یہ تجربہ کافی دلچسپ ثابت ہوا اور نتیجہ تاریخ ساز نکلا جو ہر طرح کی آلودگیوں اور آلائشوں سے پاک، صرف راست گوئی پر مبنی تھا۔ آپ خود ملاحظہ فرمائیں۔
ایک آخری بات یہ کہ میں آپ کو "اثبات" کے تمام شمارے فراہم کرارہا ہوں، کم سے کم اس کے عوض میری سائٹ کو "سبسکرائب" کرکے میرا شکریہ تو ادا کردیا کریں، ورنہ خواہ مخواہ مجھے "کھائے پیے کھسکے، میاں بھائی کس کے" جیسے محاورے پر ایمان لانا پڑے گا۔
آثبات: شمارہ9 "اثبات" کا نواہ شمارہ جس میں فیض احمد فیض کی 100ویں یوم ولادت کے موقع پر ایک مختصر سا گوشہ شامل اشاعت کیا گیا۔