از۔ محمد اعظم (قسط 2)
غیر درسی مصروفیات
مدرسے میں درس و تدریس کے علاوہ بھی جو مصروفیات تھیں وہ بھی تعلیمی ہی تھیں، خواہ تفسیر ہو یا تقریر یا تعلیم بالغان۔
تعلیم بالغان
مولانا نے تعلیم بالغان کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا، جس میں کئی حضرات بحیثیت طالب علم شریک ہوا کرتے تھے۔ بقول ڈاکٹر مقصود صاحب: شریک ہونے والوں میں وہ خود اور حاجی بَبّے خاں بہلول پور ، حاجی جمال الدین مرحوم شاہ قلی پور، ماسٹر سیف اللہ مرحوم نقارچی ٹولہ، ڈاکٹر جمال الدین مرحوم کٹرہ وغیرہ شامل تھے۔ مولانا نے ان حضرات کو منہاج العربیہ پہلا حصہ پڑھایا، دوسرا حصہ بھی اکثر ہو گیا تھا ، پھر مولانا کی طبیعت خراب ہو گئی اور سلسلہ ختم ہو گیا۔
تقریر
مولانا ایک باکمال مقرر تھے، اپنی بات آسان اسلوب میں سامعین کے ذہنوں میں اتار دیا کرتے تھے، اسی وجہ سے ایک بڑا حلقہ ان کی تقریر کا گرویدہ تھا؛ مگر پیشہ ور مقرر نہیں تھے، جلسوں میں بہت کم ہی بحیثیت مقرر شرکت ہوتی تھی؛ البتہ جمعے میں بعض مساجد میں، کبھی کبھی عید گاہ میں بیان ہوا کرتا تھا یا کسی خاص موقع پر مثلاً تراویح میں ختم قرآن کریم، کسی طالب علم کی تکمیلِ حفظ کے موقع پر یا نکاح وغیرہ کی تقریب میں۔
تقریر قرآن و حدیث کے ارد گرد ہی رہتی تھی، قصص وغیرہ عموماً نہیں بیان کرتے تھے یا احادیث میں آئے ہوئے بعض قصوں کا تذکرہ کرتے تھے، حالات حاضرہ کو بھی موضوع بحث بناتے تھے۔ جب سے جماعت اسلامی سے وابستگی کی بات اٹھی تھی، جس کا مولانا انکار کرتے رہے تھے، جس کی وجہ سے عیدین کی با ضابطہ امامت نہیں مل سکی تھی اور نماز عید سے پہلے تقریر کے مجاز بھی نہیں رہے تھے، تب سے بطور خاص اکثر اتحادِ مسالک موضوع تقریر ہوا کرتا تھا اور شدت کے ساتھ اس بات پر زور دیا کرتے تھے کہ اختلاف رائے الگ چیز ہے؛ لیکن مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح ترویج قرآن و تفسیر پر بھی خاص توجہ دلاتے تھے اور صحابہ کرام کی عظمت بھی بیان کیا کرتے تھے۔ ذکر صحابہ سے ایک بات یاد آئی کہ ایک مرتبہ غالباً گلستاں کا سبق چل رہا تھا یا کوئی اور، فرمایا: کسی ولی کے بارے میں یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ولی تھے؛ ہاں صحابہ کرام کی جماعت کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ کے ولی تھے۔
بعض مرتبہ کسی کے مکان پر ہفتہ واری پروگرام کا سلسلہ بھی جاری کیا، جس میں مولانا کا بیان ہوتا تھا، جب ہم بیت العلوم قاضی ٹولے میں مولانا کے پاس نحو میر وغیرہ پڑھتے تھے، تب وہیں مسجد کے پاس ایک صاحب کے گھر پر بھی پروگرام ہوا کرتا تھا، کبھی کبھی مجھے بھی کچھ گفت و شنید کے لیے بھیجا گیا۔
جماعت اسلامی سے وابستگی کا ذکر نکل آیا تو عرض کرتا چلوں کہ ایک مرتبہ یہ قصہ پیش آیا کہ ایک صاحب کو کسی نے سیرت کی کوئی کتاب دی جو کہ جماعت اسلامی کے کسی عالم کی تالیف کردہ تھی، ان صاحب کو پسند آئی تو انھوں نے ایک اور صاحب سے تذکرہ کیا اور کتاب دکھائی تو انھوں نے بھی اس کو پسند کیا، پھر وہ کوئی تیسرے صاحب پڑھنے کے لیے لے گئے، اس کے بعد غالباً پہلے والے صاحب نے یا کسی اور نے یہ بات پھیلا دی کہ مولانا انوار احمد صاحب نے جماعت اسلامی کی کتاب پڑھنے کے لیے دی ہے۔ گویا اس سے اس استدلال کی کوشش کی گئی کہ مولانا جماعت اسلامی سے وابستہ ہیں، یہ شک تو پہلے سے ہی مولانا پر کیا جاتا رہا تھا۔ پھر مرکز مسجد میں میٹنگ ہوئی، مولانا بھی شامل ہوئے اور اس خبر کا فریب ہونا ظاہر ہوا۔ مولانا نے اس کے لیے صرف یہ سزا مقرر کی کہ آئندہ کسی اور پر جھوٹا الزام نہ لگانا۔
مذکورہ واقعے سے میں نے دو باتیں اخذ کیں: اول یہ کہ کسی کی مخالفت میں اتنا اندھا نہیں ہونا چاہیے کہ اخلاقی قدروں کو پامال کیا جائے اور جھوٹ کا سہارا لے کر کسی پر بہتان تراشی کی گندی حرکت انجام دی جائے اور جب وہ دین دار سمجھے جانے والے طبقے کی طرف سے ہو تو اس کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس واقعے سے جہاں مولانا کا جماعت اسلامی سے وابستہ ہونا ثابت نہیں ہو رہا، وہیں جماعت سے لاتعلقی کا بھی اظہار نہیں ہو رہا ہے۔ اس بارے میں غیر یقینی صورت حال بدستور قائم ہے؛ ہاں اگر دیگر قرائن کو مد نظر رکھا جائے تو زیادہ سے زیادہ جماعت سے تعلق کا ظن غالب حاصل ہوتا ہے، یقین نہیں۔
وہ قرائن جو جماعت اسلامی سے تعلق کے غماز ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مولانا کے کئی رشتے دار اور گھرانے کے بعض لوگ علانیہ جماعت سے وابستہ ہیں اور اس کی سرگرمیوں میں برابر شریک ہوتے رہے ہیں، جب کہ مولانا بڑے اور قابل احترام سب کے نزدیک تھے، سب پر ان کا علمی دبدبہ بھی تھا۔ دوسرے ایک مرتبہ جب میں حفظ قرآن پاک کر رہا تھا، اس وقت میرے استاد گرامی قاری اقرار احمد صاحب مرحوم نے کچھ کتابیں خریدنے کے لیے فہرست تیار کی، اس میں تفسیر معارف القرآن بھی تھی، اسی دوران استاد گرامی مولانا انوار احمد صاحب مرحوم بھی تشریف لائے، تو قاری صاحب نے چند تفسیروں کے نام لیے ، پھر بڑی نیاز مندی سے کہا (جیسے کوئی طالب علم اپنے استاد سے کہتا ہے) کہ "منگوا تو رہے ہیں معارف القرآن اگرچہ تفہیم القرآن سب سے بہتر تفسیر ہے" تو مولانا نے اس پر کوئی نکیر نہیں کی۔ تیسرے مولانا محمد اعجاز ندوی نے اپنے تعزیتی پیغام میں یہ بات لکھی کہ مولانا تحریک اسلامی سے متاثر تھے۔ اس کے علاوہ لہرپور کے مقامی علماء مولانا کی جماعت سے وابستگی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، ہو سکتا ہے کسی کے پاس ثبوت ہوں ۔
بہرحال ان قرائن کی بنا پر مولانا کے جماعت اسلامی سے مربوط ہونے کا دعویٰ تو ثابت نہیں ہوتا؛ البتہ گمان غالب ہو جاتا ہے۔ یہ صرف جماعت سے ربط کی بات ہوئی۔ آگے یہ سوال کہ اگر مولانا جماعت اسلامی سے واقعی وابستہ تھے تو کیا ان کا یہ عمل درست تھا یا غلط؟ تو اس بات کو بلا تبصرہ چھوڑا جاتا ہے، قارئین اپنے اپنے اعتبار سے فیصلہ کر سکتے ہیں ۔
محمد اعظم سیتاپوری
اللهم صل على سيدنا محمد وعلى آل سيدنا محمد وبارك وسلم
از۔ محمد اعظم (قسط 1)
دنیائے آب وگل میں جو بھی آتا ہے، موت کے فرشتے سے اس کا سامنا بھی لازمی اور بدیہی ہے، روزانہ نہ جانے کتنے لوگ دار فانی سے دار بقا کی راہ لیتے ہیں ، ان میں سے ایک کثیر تعداد ایسی ہوتی ہے جس پر کوئی اشک فشانی کرنے والا بھی نہیں ہوتا ، مگر کچھ بندگان خدا ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے رخصت ہونے سے نہ صرف یہ کہ رشتے دار و عام استفادہ کرنے والے رنج و غم کی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں؛ بل کہ علمی حلقہ بھی خلا محسوس کرتا ہے۔
حضرت مولانا انوار احمد قاسمی کی رحلت بھی ضلع سیتاپور
اور خصوصا قصبہ لہرپور و تمبور واطراف کے لیے باعث غم و افسوس کے ساتھ ساتھ علمی خسارہ ہے ۔ اللہ تعالٰی ان کو اپنی رحمت کا سائبان عطا فرمائے۔
زیر نظر مضمون میں مولانا مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں کا مختصراً جائزہ لیا جائے گا۔
نام: انوار احمد
ولدیت: مہدی حسن
پیدائش: 10 جمادی الاخری 1371ھ مطابق 17 فروری 1951ء بمقام ڈیوڑے ڈیہ، تمبور ، ضلع سیتاپور
اولاً سرکاری اسکول میں داخل ہوئے؛ مگر ہندی وغیرہ کی تعلیم راس نہیں آئی اور اس کو جاری رکھنے پر طبیعت آمادہ ہی نہیں ہوئی، تو خود ہی مدرسے میں داخلے کے لیے والد صاحب سے درخواست کی اور مدرسہ ضیاء العلوم تمبور میں پرائمری میں داخلہ لیا، درجات پرائمری کی تکمیل کے بعد فارسی و عربی بھی وہیں شروع کی اور شرح مئۃ عامل تک کی تعلیم اسی مدرسے میں پوری کی۔
مدرسہ ضیاء العلوم میں خصوصی اساتذہ درج ذیل رہے: مولوی انور علی، ماسٹر ابو الحسن، مولانا احمد علی شاہ صاحب، مولانا سمیع الدین قاسمی، مولانا عبد السلام قاسمی اور مولانا حامد علی مظاہری صاحبان رحمہم اللہ رحمۃ واسعۃ۔
مدرسہ اسلامیہ فتح پور ہنسوہ یوپی میں ہدایۃ النحو سے مشکاۃ المصابیح تک زیر تعلیم رہے اور حضرت مولانا عبد الوحید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خصوصی توجہ و تربیت حاصل رہی۔
موجودہ منہج و نصاب کے اعتبار سے درجہ ہفتم کی تکمیل کے بعد دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور 1391ھ مطابق 1971ء میں دورہ حدیث سے فارغ ہوئے بعد ازاں "تکمیل فنون" کیا ۔ دارالعلوم میں جن اصحاب علم و فضل اور علمائے ربانیین سے شرف تلمذ حاصل ہوا وہ حضرات یہ تھے: مولانا قاری محمد طیب صاحب ، مولانا سید فخرالدین صاحب ، مولانا وحید الزماں صاحب ، مولانا شریف صاحب مولانا نصیر صاحب ، مولانا انظر شاہ صاحب وغیرہ اعلی اللہ درجاتہم فی الفردوس۔
فراغت کے بعد تدریس کے لیے کئی جگہوں سے مطالبات آئے؛ مگر والدہ کی شفقت و محبت نے دور جانے نہیں دیا اور ضلع سیتاپور و لکھیم پور کے ہی مختلف مدارس میں تدریسی اور انتظامی سرگرمیاں انجام دیتے رہے۔ مولانا نے جن مدارس کو اپنی خدمات پیش کیں وہ مولانا کے عہدے کے ساتھ ترتیب وار ذیل میں مذکور ہیں:
1۔ مدرسہ اسلامیہ ڈیوڑے ڈیہ تمبور ضلع سیتاپور (مہتمم)
2۔ مدرسہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھورارہ ضلع لکھیم پور (صدر مدرس)
3۔ جامعہ عربیہ شہر سیتاپور (صدر مدرس)
4۔ احیاء العلوم محلہ چکی ٹولہ (Chikki tola) لہرپور، سیتاپور (مدرس و مہتمم)
یہ مدرسہ تعلیمی لحاظ سے اس وقت کافی اچھا تھا، اس میں پنجم تک کے طلبہ کو اپنے چشمہ فیض سے سیراب کیا اور شرح جامی، شرح ابن عقیل اور مختصر المعانی وغیرہ کتابیں زیر درس رہیں۔ (بعد میں یہ مدرسہ صرف تحفیظ قرآن کا رہ گیا اور صرف ایک مدرس و مہتمم قاری اقرار احمد قاسمی رحمۃ اللہ علیہ رہ گئے تھے جو کہ مولانا انوار احمد قاسمی کے چچا زاد اور راقم سطور کے حفظ کے استاد تھے۔ قاری اقرار احمد قاسمی صاحب نے جب مدرسہ چھوڑا تو مدرسہ کچھ سالوں تک مکتب کی حیثیت سے چکی ٹولے کی مسجد کے تحت چلتا رہا بعد میں وہ بھی ختم ہو گیا، مسجد کی توسیع کے بعد دائیں جانب روڈ سائڈ دکانوں کے اوپر کچھ کمرے تعمیر ہوئے ہیں جن میں غالباً مکتب کی نیت سے بھی کوئی حال ہے، اس میں اگر ابھی تعلیم جاری ہو تو الحمد للّٰہ ورنہ اہل محلہ سے گزارش ہے کہ پھر سے سلسلہ جاری فرمائیں۔)
5۔ مدرسہ احسن العلوم محلہ ٹھٹھیری ٹولہ (Thatheri tola) لہرپور، سیتاپور (صدر مدرس)
6۔ مدرسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پپرا مل ( Pipra Mill) ہرگاؤں ضلع سیتاپور (مہتمم)
7۔ مدرسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہاراج نگر ضلع سیتاپور (صدر مدرس)
8۔ مدرسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مغل پور ضلع سیتاپور ( مہتمم)
9۔ مدرسہ بیت العلوم محلہ قاضی ٹولہ، لہرپور ضلع سیتاپور (مہتمم)
10۔ مدرسہ معہد القرآن محلہ لوکھریا پور (Lokharyapur) لہرپور ضلع سیتاپور (مہتمم)
مولانا مرحوم نے ان دس مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں؛ مگر کہاں کب سے کب تک رہے، اس کا علم نہیں ہو سکا، البتہ فراغت کے بعد سے 1431ھ تک پڑھاتے رہے اس طرح تقریباً 40 سال تک تدریسی مشغلے میں لگے رہے۔ ان کے فرزند مولانا محمد افضل ندوی کا خیال ہے کہ غالباً اس کے بعد بھی مزید پانچ سال پڑھایا ہے، اگر ان کا گمان درست ہے تو مدت تدریس 45 سال ہو جائے گی۔
(جاری)
Afzal Nadwi
ہے روانی تری گفتار میں یہ مان لیا
اور صناعات و بلاغت بھی بہت جان لیا
تری تقریر مگر کیوں نہیں دل کو چھوتی
درد سے دل ترا خالی ہے یہ پہچان لیا
اعظم سیتاپوری
دنیائے دوں رہے کہ چلی جائے غم نہیں
افسوس ہے کہ ہم نے خدا کو بھلا دیا
عیدکم مبارک
کل عام وأنتم بخیر
تقبل اللہ منا ومنکم صالح الأعمال
عید قرباں مبارک
الحمد للّہ مدارس اسلامیہ میں نیا تعلیمی سال شروع ہو چکا ہے، طلبہ عزیز اپنوں کو چھوڑ کر اور ان کی محبتوں کو قربان کر کے منتظمین و اساتذہ کے رحم و کرم پر مدارس میں مقیم ہو گئے ہیں۔۔۔ اب ان کے مستقبل کو سنوارنا اساتذہ کی ذمے داری ہے ۔ اللہ تعالیٰ منتظمین، اساتذہ اور طلبہ سبھی کواپنی اپنی ذمے داری دیانت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین
تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال
تمام اہل اسلام کو عید الاضحٰی کی پرخلوص مبارک باد
19/06/2021
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے وصیت فرما دیجیے تو آپ نے فرمایا "غصہ مت کیا کرو" اس شخص نے بار بار وصیت کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا : " غصہ مت کیا کرو"
09/06/2021
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
" ایک عورت کو ایک بلی کے بارے میں عذاب ہوا، جس نے اس کو قید کر رکھا تھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، چناں چہ وہ عورت اس بلی کی وجہ سے جہنم رسید ہوئی"
نوٹ: جانوروں پر بھی رحم کرنا چاہیے، ان کے حق کی ادائیگی بھی ضروری ہے، ورنہ جواب دہ ہونا پڑے گا.
06/06/2021
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " کنجوسی و لالچ سے بچو؛ کیوں کہ کنجوسی و لالچ نے تم سے پہلے لوگوں کو برباد کر دیا، اس نے ان کو اس بات پر ابھارا کہ وہ اپنا خون بہائیں اور حرام کو حلال سمجھیں."
28/05/2021
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ سے باخبر نہ کروں؟ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ (کسی کو ذات و صفات میں) شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا."
27/05/2021
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Moradabad