Al-Quran Tadabbur wa Amal

Al-Quran Tadabbur wa Amal

Share

Al-Quran Tadabbur wa Amal

06/08/2025

₹425/-

24/01/2024
04/01/2024

من رحمة الله بعباده ان جزاء الكافرين يوم القيامة يكون متوافقا مع أعمالهم "جزاء وفاقا"، أما جزاء المحسنين فيكون "جزاء من ربك عطاء حسابا" أي وفيرا كثيرا لأن الحسنة بعشر أمثالها.

09/08/2023

*قرآنی آیات کی روشنی میں موسیٰ اور خضر علیہما السلام کے واقعہ سے مستنبط 108 علمی و فقہی فوائد و نکات*
✍️:م ۔ ع ۔ اسعد سلفی

1: پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے
2: علم کے لیے سفر ضروری ہے
3: طلب علم کے لیے مشقتیں برداشت کرنا ضروری ہے
4: انبیاء میں انکساری ہوتی ہے
5: اہل فضل کے فضل کو قبول کرنا
6: مفضول سے حصول علم بشرطیکہ وہ اس کا اہل ہو
7: حصول علم میں عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی
8: حصول علم میں حیاء نہیں کرنی چاہیے
9: حصول علم میں عزم مصمم ضروری ہے
10: رفیق سفر رکھنے کی سنت اور تنہا سفر سے اجتناب
11: استاذ سے گفتگو میں نرمی و لطافت اور ادب و احترام
12: علم اللہ ہی سکھاتا ہے
13: علم رب کی رحمت ہے
14: شاگرد کے تئیں استاذ کی خیرخواہی
15: ہر کام میں ان شاءاللہ کہنا
16: استاذ کی فرمانبرداری کرنا اور نافرمانی سے بچنا
17: طلبِ علم میں صبر کی اشد ضرورت ہوتی ہے
18: کسی چیز پر حکم لگانے میں جلد بازی سے بچنا اور معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنا
19: موسیٰ علیہ السلام کی نھی عن المنکر کی حرص
20: غلطی ہو جانے پر معذرت چاہنا
21: دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنا خواہ ایک سے زائد بار ہی کیوں نہ ہو۔
22: شیطان کی قوت تسلط ، یعنی جب انبیاء کو وہ بھلا سکتا ہے تو ہم کیا چیز ہیں
23: شیطان طلاب علم کو زیادہ بہکاتا ہے
24: طلبہ کو خصوصاً شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے
25: استاذ کو شاگرد کے لیے نرم دل ہونا چاہیے
26: ہر کام خصوصاً تعلیم و تدریس میں بے جا سختی سے بچنا اور نرمی کا پہلو اپنانا
27: ہم جسے شر سمجھتے ہیں بسا اوقات اس میں خیر ہوتی ہے
28: مہمان نوازی کرنا سخاوت کی پہچان ہے اور نہ کرنا بخیلوں کی علامت
29: مہمان نوازی مہمان کا حق ہے اور حق نہ ملنے پر اس کا مطالبہ بھی جائز ہے خواہ وہ جان پہچان والا ہو یا انجان
30: مہمان نوازی صرف جان پہچان والوں کی نہیں بلکہ انجان لوگوں کی بھی کرنی چاہیے
31: محنت کرنے پر اجرت طلب کرنا مکروہ نہیں ہے
32: صبر نہ کر پانا علم سے محرومی کا سبب ہے
33: جفا کا بدلہ وفا سے اور نفرت کا بدلہ پیار سے دینا انبیاء کی عادت حسنہ ہے
34: استاذ شاگرد کو تنبیہ کے بعد معقول سزا بھی دے سکتا ہے
35: بسا اوقات ہم جسے خیر سمجھتے ہیں اس میں شر ہوتی ہے اور جسے شر سمجھتے ہیں اس میں خیر
36: بسا اوقات اولاد ہی ماں باپ کے لیے بڑی آزمائش کا سبب بن جاتی ہے
37: ماں باپ کو اولاد کی تربیت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے
38: اولاد کی نیکی میں صرف تربیت کافی نہیں بلکہ رب سے ان کی رشد و ہدایت کی دعا بھی از حد ضروری ہے یعنی تربیت میں ظاہری و باطنی دونوں ذرائع کا استعمال ضروری ہے
39: رب سے ہر حال میں حسن ظن رکھنا چاہیے خواہ بظاہر فیصلہ ہمارے خلاف ہی کیوں نہ معلوم پڑے
40: مومنین کے ساتھ رب کی رحمت و شفقت
41: صالح انسان کی اللہ غیب سے خصوصی مدد فرماتا ہے
42: جو انسان کے مقدر میں ہو اسے مل کر ہی رہتا ہے
43: اللہ پر توکل کرنے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا بلکہ اللہ اس کو کافی ہوتا ہے
44: انسان کی صالحیت کے فوائد صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے متعلق بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں
45: ہر نعمت کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے
46: کسی نعمت کے نہ ملنے پر یہ سوچ لینا چاہیے کہ شاید ابھی ہم اس کے جسمانی ، روحانی یا کسی اور حیثیت سے اہل نہیں
47: علم کی نسبت اللہ کی طرف کرنی چاہیے
48: اگر مخاطب کے مغالطے میں پڑنے کا اندازہ ہو تو بات کو بقدرِ ضرورت مزید واضح کر دینا چاہیے
49: علم کسی کے گھر کی جاگیر نہیں بلکہ وہ اللہ کی نعمت ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے
50: اگر کسی سے بھول چوک ہو جائے تو اس کو معاف کر دینا انبیاء کی صفت ہے
51: علم اہل علم سے ہی لینا چاہیے
52: ضروری نہیں کہ ہر عالم ہر فن میں ماہر ہو
53: انسان کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے خواہ ایفائے عہد سے وہ بعض خیر سے محروم ہی کیوں نہ ہو جائے
54: تعلیم میں اگر استاذ بعض شروط بھی رکھے تو وہ بھی اس کے لیے جائز ہے اور ان شرطوں کی پاسداری واجب ہے بشرطیکہ شرط فی نفسہ جائز ہو
55: انبیاء عالم الغیب نہیں ہوتے
56: ما بعد الزکات مال جمع کرنے میں کوئی برائی نہیں
57: یہ صالحیت اور تقویٰ کے بھی منافی نہیں
58: اپنی اولاد کے لیے مال کا کچھ حصہ نکال کر مستقبل کے لیے رکھ دینا توکل کے منافی نہیں
59: کسی شے کے چھپانے کے لیے کوئی مخفی جگہ تلاشنا بھی توکل کے منافی نہیں
60: اسباب کا اختیار کرنا بھی توکل کے منافی نہیں
61: شیطان انسان کو بھلا دینے پر بھی قادر ہے
62: شیطان انسان کے اندر داخل ہو سکتا ہے
63: غلطی کا اعتراف کرنا محمود عمل ہے
64: خضر علیہ السلام انسان تھے
65: بغیر حق کے کسی کی جان لینا حرام ہے
66: خضر علیہ السلام نبی تھے
67: محنت کرنے پر اجرت طلب کرنا صالحیت کے خلاف بھی نہیں
68: اپنی محنت کی اجرت نہ لینا کمال سخاوت کی دلیل ہے
69: بے صبری فطرتِ انسانی ہے
70: مسکین وہ ہے جس کے پاس سفر زندگی کی زادِ راہ اتنی کم ہو کہ اسے کفایت نہ کرے
71: بغیر حق کے کسی کے مال کو لینا ظلم ہے
72: رعایا کے مال پر بادشاہ کا حق نہیں الا یہ کہ کوئی اجتماعی مصلحت ہو
73: مظلوم کو ظلم سے نجات دلانا ایک مستحسن عمل ہے
74: کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے معمولی نقصان اٹھانا جائز ہے
75: ماں باپ کی نافرمانی حرام ہے اور اس کا مرتکب عند اللہ مبغوض ہے
76: ماں باپ کے نافرمان کو اللہ بسا اوقات دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے
77: ماں باپ کی نافرمانی اتنا بڑا جرم ہے کہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو موت کی سزا دیتا ہے
78: والدین کے تئیں اولاد میں شفقت و رحمت شرعاً مطلوب ہے
79: ماں باپ سب سے زیادہ حسن صحبت کے مستحق ہیں
80: ہر وہ چیز جو ایمان کے لیے خطرہ ہو اس کا ازالہ شرعی حدود میں رہ کر کرنا واجب ہے
81: اللہ ہم سے دنیا میں جو کچھ لیتا ہے اس سے بہتر عطا کرتا ہے خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں
82: سفر کے وقت زادِ راہ لینا توکل کے منافی نہیں بلکہ عین توکل کے مطابق ہے
83: جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا اللہ ہوتا ہے
84: یتیمی ما قبل البلوغ تک ہی رہتی ہے ما بعد البلوغ نہیں
85: ملکیت کے لیے تکلیف شرط نہیں ، لہذا بچہ بھی ملکیت کا اہل ہوتا ہے
86: مال میں تصرف کے لیے ملکیت شرط ہے الا یہ کہ نابالغ انسان مال میں معمولی سا تصرف کر سکتا ہے
87: کسی شرعی عذر کی بناء پر صاحب حق سے اس کا حق روک لینا جائز ہے
88: بچے کو بلوغت سے قبل اس کا مال نہیں دیا جائے گا
89: صرف مل جانا ہی رحمت نہیں بلکہ کسی چیز کا نا ملنا بھی رحمت کی ایک شکل ہے
90: کسی چیز کی کسی کی طرف اضافت سے اس کے ساتھ اس کی خصوصیت لازم نہیں آتی
91: نبی اللہ کا مبلغ ہوتا ہے ، اس کے لیے غیر شرعی چیز عمل کرنا نہ جائز ہے اور نہ ہی وہ کرتا ہے
92: حصول علم میں مال خرچ کرنا پڑتا ہے
93: حصول علم کے لیے ایک لمبا زمانہ درکار ہوتا ہے
94: بغیر استاذ کے انسان عالم نہیں بن سکتا
95: سفر میں تھکان لازمی چیز ہے
96: طالب علم کا مدرسے یا کلاس سے اخراج کتمانِ علم میں شمار نہیں ہوگا
97: جب علم کی اس قدر اہمیت و فضیلت ہے تو عالم کی کتنی ہوگی خواہ وہ مفضول ہی کیوں نہ ہو
98: عالم کی توہین دراصل علم کی توہین ہے
99: استاذ کی نافرمانی نیک لوگوں کی پہچان نہیں
100: نھی عن المنکر انبیاء کی سنت ہے
101: خبر واحد اگر متحف بالقرائن ہو تو یقین کا فائدہ دیتی ہے
102: اللہ کے لیے صفت رحمت کا اثبات
103: صفت ارادہ کا اثبات
104: گیہوں کے ساتھ گھن بھی پیسے جاتے ہیں
105: کسی چیز کی نسبت مسبب کی بجائے سبب کی طرف کرنا جائز ہے
106: بعض احکام وہ ہوتے ہیں جو شریعت کی اساس کی حیثیت رکھتے ہیں لہذا وہ کسی بھی شریعت میں نہیں بدلے جاتے۔ مثلا "بغیر حق کے کسی کے قتل کی حرمت"
107: اللہ تعالیٰ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا
108: اللہ توبہ کو قبول کرتا ہے

نشر مکرر

06/02/2023

عبدالمقتدر فیضی (ممبئی) کی قرآن کی شاندار تلاوت

08/07/2021

آنکھوں کی ٹھنڈک- ممتاز شیریں
قرآن مجید میں شوہر اور بیوی کے لئے ایک بہت پیاری دعا ہے، جسے زبان سے ادا کرتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ دعا کی قبولیت بس ابھی سامنے آجائے۔ دعا کے الفاظ ہیں: رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔ ترجمہ: ہمارے رب ہمارے جوڑے اور ہماری اولاد سے آنکھوں کو ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنادے۔ اس میں " قرۃ أعین" یعنی "آنکھوں کی ٹھنڈک" بہت پیارا لفظ ہے۔ خوشی اور مسرت کی یہ بہت اعلی تعبیر ہے، جو قرآن مجید میں کئی بار آئی ہے۔ یہ دعا شوہر اور بیوی دونوں کے لئے ہے، أزواج کا مطلب جوڑے ہوتا ہے، اس میں شوہر اور بیوی دونوں شامل ہیں۔
اس دعا کے الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اللہ کے نزدیک بہترین شوہر وہ ہے جس کو دیکھ کر بیوی کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، اور بہترین بیوی وہ ہے جو شوہر کی آنکھوں کو ٹھنڈک دے، اور بہترین اولاد وہ ہے جس سے ماں باپ دونوں کو آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہو۔ قرآن مجید میں زیادہ دعائیں اللہ کی رحمت، اس کی مغفرت، جہنم سے نجات اور جنت کے حصول کے بارے میں ہیں، ان دعاؤں کے درمیان اس مضمون کی دعا خود بتاتی ہے کہ یہ مضمون اللہ کے نزدیک کتنا اہم ہے۔
یہ خواہش بالکل فطری اور بہت اچھی ہے کہ شریک حیات آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے، لیکن اس خواہش کی تکمیل کے لئے لازمی شرط یہ ہے کہ آپ آگے بڑھ کر شریک حیات کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائیں۔ غلطی اس وقت ہوتی ہے جب آپ یہ تو چاہتے ہیں کہ دوسرا آپ کو خوشی کے تحفوں سے نوازے، لیکن خود آپ اس کو خوش دیکھنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کے چہروں پر آنکھیں تو ہوتی ہیں، ان میں روشنی بھی ہوتی ہے، لیکن دونوں کی زندگی حقیقی لطف اور دونوں کی آنکھیں اس ٹھنڈک سے محروم ہوتی ہیں۔ اس محرومی کی ذمہ داری دونوں پر یکساں طور سے عائد ہوتی ہے۔
جو شخص شریک حیات کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کی کوشش نہ کرے اور دعا کرے کہ اہل وعیال اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں، اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص آخرت کا توشہ تیار نہیں کرے اور خدا سے آخرت کی کامیابی مانگے، یا نماز نہ پڑھے اور اللہ سے قریب ہونے کی دعا کرے، یا زکوٰۃ ادا نہ کرے اور مال میں برکت کی دعا کرے۔
گھر مشکل سے بنتے ہیں -اس دعا میں یہ پیغام بھی موجود ہے کہ جو شوہر یا بیوی اپنے شریک حیات کے لئے رنج اور تکلیف کا سبب بنتے ہیں، وہ اللہ کو ناراض کرتے ہیں۔ ایک انسان کو کسی بھی انسان کے لئے رنج اور تکلیف کا سبب نہیں بننا چاہئے اور زوجین میں سے اگر کوئی کسی کو ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچاتا ہے، تو وہ اللہ کے اہم مقصد تخلیق کی بے حرمتی کرتا ہے، کیونکہ اللہ کے نزدیک اس رشتے کا مقصد ہی ایک دوسرے کے لئے وجہ سکون اور باعث راحت ہونا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ کو خوش کرنے کے لئے شریک حیات کو ناراض کردینے کے مواقع تو آسکتے ہیں، لیکن شریک حیات کو ناراض کرکے اللہ کو ناراض کردینا بہت بڑی حماقت ہے؟؟
ہمارے سماج میں رشتوں کی خرابی اور گھروں کی بربادی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ کہیں بیوی کو شکایت ہے کہ شوہر اور اس کے گھر والے اس پر ظلم اور تشدد کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، اور کہیں شوہر شاکی ہے کہ بیوی اور اس کے گھر والوں نے زندگی کو عذاب بناکر رکھ دیا ہے۔ بہت زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اللہ کے ان بندوں کی عائلی زندگی بھی جہنم بنی ہوئی ہے جو اللہ کی مرضی کے حصول کے لئے دن رات ذکروعبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ خیال آتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اللہ کی مرضی کا یہ پہلو ان لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے؟؟
بچے جنت کے پھول ہوتے ہیں، والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بڑے ہوکر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں، لیکن اس کے لئے گھر میں وہ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جس میں اولاد کے دل کو خوشی اور آنکھوں کو ٹھنڈک ملے۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو تلخیوں کے گھونٹ پلاتے ہوئے اولاد کو محبت کا میٹھا رس نہیں پلاسکتے ہیں۔ اور جب بچوں کی زندگی بڑوں کے جھگڑوں کی وجہ سے تلخ ہوجائے، تو یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ وہ بڑوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے۔ ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننا اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ بچوں کو نشوونما کے لئے مناسب اور فرحت بخش ماحول مل سکے۔ روز روز کے جھگڑوں سے گھر کو جہنم بناکر اس میں جنت کے پھول کھلانے کی خواہش رکھنا خام خیالی ہے۔ گھر میں جنت کے پھول دیکھنے کی خواہش ہو تو لازم ہے کہ گھر کو جنت کا ماحول بھی عطا کیا جائے۔
گھر مشکل سے بنتے ہیں - جو شوہر یا بیوی بدمزاج ہوتے ہیں، ہر وقت ایک دوسرے پر زہر اگلتے ہیں، خود غرضی کے غلام ہوتے ہیں، ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اپنی انا کی تسکین چاہتے ہیں، اور اپنے رفیق زندگی کو خوشی دینے کے بجائے اس کی زندگی اجیرن کرتے ہیں، وہ اپنے رب کو ناراض کرتے ہیں، اپنے گھر کا ماحول خراب کرتے ہیں، اپنے بچوں کی زندگی پر برا اثر ڈالتے ہیں، اور خود بھی زندگی کے لطف سے محروم رہتے ہیں۔ ایسے لوگ رشتوں کی خرابی کا ذمہ دار ہمیشہ دوسرے فریق کو بتاتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ خود اس کے قصوروار ہوتے ہیں۔ کامیاب ازدواجی زندگی گزارنے کے لئے اپنی انا اور اپنی زبان کو لگام دینا ضروری ہے۔ یہ وہ کھیل ہے جس میں صرف ایک کی جیت دونوں کی ہار ہوتی ہے۔
اللہ کو بہت پسند ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے، اور بیوی اپنے شوہر کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے، والدین اپنی اولاد کے لئے تقوی اور پرہیزگاری کا بہترین نمونہ بنیں اور بچے اپنے نیک والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائیں۔ یہی اللہ کی پسند ہے، اور اسی کو اللہ کے بندوں کی پسند بن جانا چاہئے۔ اللہ کی پسند کو اپنی پسند بنانے والے مرد اور عورت دونوں کے لئے اللہ پاک نے جنت میں آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا انتظام کیا ہے، جس کا کوئی تصور نہیں کرسکتا۔

کتنا اچھا ہو اگر اولاد کو بچپن سے ہی یہ دعا ذہن نشین کرادی جائے، تاکہ اپنے والدین اور اپنے شریک حیات کو آنکھوں کی ٹھنڈک کا تحفہ دینا بھی ان کے مستقبل کے خوابوں میں شامل ہوسکے۔ منقول

Want your school to be the top-listed School/college in Maunath Bhanjan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Maunath Bhanjan
275101