Dr. Hafizur Rahman Sanabili

Dr. Hafizur Rahman Sanabili خادم العلم والعلماء
Principal Jamia Alia Arabia Mau

My YouTube channel:
https://yt.openinapp.co/gpwfe

21/09/2026

خطاب ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی
پرنسپل جامعہ عالیہ عربیہ مئو
بمناسبت ملتقی ابنائے جامعہ عالیہ عربیہ مئو بمقام گلیشیئر ہوٹل زیرو مائل ارریہ بہار

*ارریہ کی طرف ایک یادگار سفر*"ابنائے جامعہ عالیہ عربیہ مئو کا پہلا تاریخی ملتقی"(شیخ مفیض الدین عالیاوی اور ان کے مخلص ر...
21/09/2026

*ارریہ کی طرف ایک یادگار سفر*
"ابنائے جامعہ عالیہ عربیہ مئو کا پہلا تاریخی ملتقی"
(شیخ مفیض الدین عالیاوی اور ان کے مخلص رفقائے کار کی انتھک جدوجہد کی ایک یادگار داستان)
---------------------------------
کبھی کبھی کوئی سفر محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ وہ یادوں، محبتوں، تعلقات، جذبات اور تاریخ کے ایک نئے باب کا عنوان بن جاتا ہے۔ 16 تا 18 ستمبر 2026ء کا ہمارا ارریہ، بہار کا سفر بھی کچھ ایسا ہی سفر تھا؛ ایک ایسا سفر جس میں تھکن بھی تھی، بیماری بھی، بارش بھی، ریل کا طویل سفر بھی، لیکن ان سب سے کہیں بڑھ کر اپنے ادارے، اپنے اساتذہ اور اپنے ابنائے جامعہ سے ملاقات کی خوشی اور محبت تھی۔
17 ستمبر 2026ء کو ارریہ کے گلیشیئر ہوٹل، زیرو مائل میں ابنائے جامعہ عالیہ عربیہ مئو کا پہلا باقاعدہ، منظم، مؤثر، باوقار اور تاریخی ملتقی منعقد ہوا، جس میں بہار، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال سے دو سو سے زائد ابنائے جامعہ نے شرکت کرکے اس اجتماع کو یادگار بنا دیا۔
اس تاریخی پروگرام کی روحِ رواں شیخ مفیض الدین عالیاوی اور ان کے مخلص رفقائے کار تھے، جنہوں نے تن، من، دھن کے ساتھ اس پروگرام کی کامیابی کے لیے محنت کی اور ایسا انتظام پیش کیا جس نے تمام شرکاء کے دل جیت لیے۔

16 ستمبر کی صبح جامعہ عالیہ عربیہ مئو سے ایک وفد ارریہ کے لیے روانہ ہوا۔ وفد میں جامعہ کمیٹی کے صدر ڈاکٹر خالد کمال، نائب ناظم مولانا محمد مظہر اعظمی، ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی، مولانا عطاء الرحمن مدنی، مولانا شفیق احمد ندوی، مولانا ذکی احمد عالی اور مولانا ابو سعید فیضی شامل تھے۔
موسلا دھار بارش کی وجہ سے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہم لوگ اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے۔ وفد کے اکثر لوگ بھیگ گئے تھے۔ ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ شاید ٹرین چھوٹ جائے گی، لیکن اللہ تعالیٰ کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ابنائے جامعہ سے ملاقات شاید ہمارے مقدر میں لکھی جاچکی تھی۔ چنانچہ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ تمام علماء کرام مقررہ وقت پر اسٹیشن پہنچ گئے، بلکہ ٹرین بھی اپنے مقررہ وقت سے تقریباً بیس منٹ پہلے آچکی تھی۔
ٹرین مئو سے کٹیہار کی طرف روانہ ہوئی۔ ٹرین وقت کی پابند تھی، تاہم سفر کی بعض سہولیات معیار کے اعتبار سے اطمینان بخش نہ تھیں۔ سیکنڈ کلاس اے سی کے ڈبے میں بارش کا پانی بھی داخل ہوتا رہا، جس سے بعض سامان بھیگ گئے۔ ڈبے میں خواجہ سراؤں، مانگنے والوں اور اشیاء خوردونوش لیکر چلنے والوں کی آمدورفت بھی مسلسل جاری رہی۔ لیکن جب منزل سامنے ہو اور مقصد بڑا ہو تو سفر کی تکالیف چھوٹی محسوس ہونے لگتی ہیں۔

کٹیہار جنکشن پہنچے تو وہاں ہمارے عزیز مولانا اسرار عادل عالیاوی اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ استقبال کے لیے موجود تھے۔ انہوں نے ہمیں اپنی گاڑیوں میں بٹھایا اور تقریباً ستر کلومیٹر کا سفر طے کرکے ارریہ پہنچایا۔
رات تقریباً ڈیڑھ بج چکی تھی۔ گلیشیئر ہوٹل میں ہمارے قیام و طعام کا معقول اور معیاری انتظام کیا گیا تھا۔ سفر کی تھکن وفد کے تقریباً ہر فرد کے چہرے سے نمایاں تھی۔
راقم الحروف کی طبیعت بھی سفر کے دوران ناساز ہی تھی۔ سر میں درد، بخار جیسی کیفیت اور شدید تھکن محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن دل میں ایک ہی خیال تھا، یہ صرف ایک سفر نہیں، جامعہ اور اس کے ابنائے قدیم سے تعلق کی تجدید کا سفر ہے۔
بستر پر لیٹتے ہی نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا، اگرچہ اجنبی جگہ ہونے کی وجہ سے بار بار آنکھ کھلتی رہی، اور صبح جلدی نکلنے کی فکر بھی ساتھ تھی۔

علی الصباح تقریباً چھ بجے شیخ مفیض الدین عالیاوی تشریف لائے۔ ان کا پرتپاک استقبال اور خلوص بھرا انداز سفر کی ساری تھکن پر غالب آگیا۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ ناشتے کے لیے لے گئے۔
ناشتے سے فراغت کے بعد ہم ان کے نسواں تعلیمی ادارے جامعہ حسنہ للبنات کی طرف روانہ ہوئے، جو ہوٹل سے تقریباً پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔
ارریہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں دیہی زندگی، محدود وسائل اور معاشی مشکلات کے مناظر عام ہیں۔ 2011ء کی سرکاری مردم شماری کے مطابق پورے ارریہ ضلع کی مسلم آبادی 42.95 فیصد تھی۔
ایسے ماحول میں شیخ مفیض الدین عالیاوی صاحب نے جس عزم کے ساتھ اپنا ادارہ قائم کیا ہے، وہ بذات خود ایک قابلِ قدر علمی و تعلیمی خدمت ہے۔
ہم نے ادارے میں پہنچ کر اس کی مختلف عمارتوں اور شعبوں کا معائنہ کیا۔ لائبریری، کمپیوٹر لیب، ڈیجیٹل کلاس، ہاسٹل اور درس گاہیں دیکھیں۔ محدود وسائل کے باوجود ادارے میں تعلیمی نظم، محنت اور ترقی کی جو جھلک نظر آئی، وہ یقیناً قابلِ رشک تھی۔

جامعہ حسنہ للبنات میں "مجلسِ تواصل علمی" کے عنوان سے ایک علمی نشست منعقد ہوئی، جس کی صدارت فضیلۃ الشیخ محمد مظہر اعظمی نے فرمائی۔ اس مجلس میں جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے وفد کے ساتھ جامعہ حسنہ للبنات کے بانی و مؤسس شیخ مفیض الدین عالیاوی، تمام معلمین، معلمات اور طالبات شریک ہوئیں۔
مجلس کا آغاز تلاوتِ کلام اللہ سے ہوا، اس کے بعد جامعہ حسنہ للبنات کا ترانہ پیش کیا گیا۔ طالبات نے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تقاریر پیش کیں جو ان کی علمی تربیت اور اعتماد کا خوبصورت نمونہ تھیں۔
اس موقع پر جامعہ عالیہ عربیہ کے اساتذہ نے بالترتیب اپنے علمی اور تجرباتی تاثرات پیش کیے۔ شیخ ابو سعید فیضی، شیخ عطاء الرحمن مدنی، ڈاکٹر خالد کمال، ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی اور شیخ شفیق احمد ندوی نے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔
بعد ازاں شیخ محمد مظہر اعظمی نے صدارتی خطاب فرمایا اور آخر میں شیخ مفیض الدین عالیاوی نے نہایت خاکسارانہ انداز میں کلماتِ تشکر پیش کیے۔
پروگرام تقریباً پونے بارہ بجے اختتام پذیر ہوا۔ انتظام و انصرام نہایت عمدہ تھا۔ مجلسِ تواصل علمی کے اختتام کے بعد کھانا تناول کیا گیا اور ہم لوگ گلیشیئر ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے، جہاں ابنائے جامعہ عالیہ عربیہ مئو اپنے اساتذہ سے ملاقات کے لیے بے تابی سے منتظر تھے۔
تقریباً پونے ایک بجے ہم ہوٹل پہنچے تو منظر ہی کچھ اور تھا۔ ہوٹل کے گراؤنڈ فلور پر ایک بڑا ہال سجایا گیا تھا۔ کرسیاں ترتیب سے لگائی گئی تھیں، اسٹیج تیار تھا اور پس منظر میں ملتقی کا خوبصورت پوسٹر آویزاں تھا۔
شرکاء کی تعداد دو سو سے تجاوز کرگئی تو ہال مکمل طور پر بھر گیا۔ اس کے بعد ہوٹل کے اندر مصلی میں کیمرے اور پروجیکشن کے ذریعے پروگرام کو براہِ راست دکھانے کا انتظام کیا گیا۔
یہ انتظامات اس بات کی واضح دلیل تھے کہ شیخ مفیض الدین عالیاوی اور ان کی ٹیم نے اس پروگرام کو محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ ایک منظم اور مؤثر علمی و تربیتی ملتقی بنانے کے لیے غیر معمولی محنت کی تھی۔
پروگرام کا آغاز محترم جہانگیر عالم عالیاوی کی تلاوتِ کلام اللہ سے ہوا۔ اس کے عزیزم محمد شہباز عالیاوی نے اپنی خوبصورت آواز میں ترانہ پیش کیا:
کلیوں کی تازگی ہے، گلوں کا نگار ہے
ہم لوگ عالیہ کے چمن کی بہار ہیں
بعد ازاں مولانا اسرار عادل عالیاوی نے تمام مہمانانِ گرامی کے لیے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔
اس کے بعد جامعہ کے اساتذۂ کرام کی شیلڈز اور خوبصورت ہینڈ بیگز کے ذریعے تکریم کی گئی۔
پروگرام کی نظامت شیخ تسلیم الدین عالیاوی نے نہایت عمدگی سے انجام دی، جبکہ صدارت کا فریضہ مولانا محمد مظہر اعظمی نے ادا فرمایا۔
اساتذہ کی تکریم کے بعد جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے تعارف کے لیے مولانا شفیق احمد ندوی کو دعوت دی گئی۔ آپ نے جامعہ کا نہایت جامع اور مؤثر تعارف پیش کیا۔ آپ نے جامعہ کے تاریخی پس منظر، اس کے علمی و دعوتی کردار اور مئو و بہار میں اہلِ حدیث کی علمی خدمات کے حوالے سے گفتگو کی۔ جامعہ کے قیام کو 1868ء سے منسوب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ابتدا مسجد سے ہوئی، پھر چند کمروں اور بعد ازاں دارالاقامہ کی صورت میں اس کا دائرۂ کار وسیع ہوتا گیا۔ آپ نے مئو میں بچیوں کی عربی تعلیم کے آغاز میں جامعہ کے کردار اور اس کی موجودہ شکل کلیہ فاطمۃ الزہراء کا بھی ذکر کیا۔ جامعہ کے مختلف شعبوں میں ہزاروں طلبہ وطالبات اور سیکڑوں اساتذہ کی علمی سرگرمیوں کا ذکر بھی کیا گیا۔
ملتقی کا ایک اہم اور جذباتی مرحلہ تیس ابنائے قدیم جامعہ عالیہ عربیہ مئو کی خصوصی تکریم تھی۔ ان افراد کا انتخاب شیخ مفیض الدین عالیاوی کی ٹیم نے پیشگی جمع کرائے گئے شرکت فارم اور مختلف علمی، دعوتی، سماجی اور دیگر سرگرمیوں کی بنیاد پر تینوں صوبوں سے کیا تھا۔ تکریم کا مرحلہ شیخ الجامعہ ڈاکٹر حفیظالرحمن سنابلی کے سپرد کیا گیا اور دیگر اساتذہ نے بھی اس میں شرکت کی۔
سب سے پہلے شیخ مفیض الدین عالیاوی کی ٹرافی اور شال سے تکریم کی گئی، پھر یکے بعد دیگرے دیگر منتخب ابنائے جامعہ کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ منظر اساتذہ اور شاگردوں کے درمیان برسوں پر محیط تعلق کی ایک خوبصورت تصویر پیش کر رہا تھا۔
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ اشفاق عالم ابو طاہر عالیاوی نے ملتقی کے نو بنیادی مقاصد بیان کیے۔
ان میں: باہمی تعارف اور تعلق، تعاون اور امداد، جامعہ سے مضبوط وابستگی، دینی وعلمی خدمات میں اشتراک، عصری چیلنجز کا مقابلہ، نوجوان فارغین کی رہنمائی، تعلیمی و عوتی منصوبہ بندی، مستقبل کا لائحۂ عمل، جمعیت ابنائے عالیہ عربیہ کی تشکیل شامل تھے۔
بعد ازاں متعدد ابنائے جامعہ نے مختصر مگر معنی خیز تاثرات پیش کیے اور جامعہ سے اپنے دیرینہ تعلق اور ملتقی کے مقاصد کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
اس کے بعد شیخ عطاء الرحمن مدنی نے طلبہ اور ابنائے جامعہ سے اہم خطاب کیا۔ آپ نے موجودہ دور کی ایک اہم ضرورت، یعنی مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر گفتگو کرتے ہوئے خاص طور پر دینی علوم کے سلسلے میں تحقیق، تصدیق، حوالہ کی جانچ اور صحیح و غلط میں امتیاز کی ضرورت پر زور دیا۔ اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ جدید ٹیکنالوجی علمی معاون بن سکتی ہے، لیکن دینی مسائل میں تحقیق و تصدیق کے بغیر کسی بھی معلومات کو حتمی سمجھ لینا مناسب نہیں۔
بعد ازاں شیخ ابو سعید فیضی نے مؤثر کلمات پیش کیے۔ آپ نے ابنائے جامعہ کو ایسے اجتماعات میں بھرپور شرکت کی ترغیب دی اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ملتقی کو مستقبل میں مزید وسیع اور منظم سطح پر منعقد کیا جائے تاکہ جامعہ کے فارغین کے درمیان باہمی رابطہ مزید مضبوط ہو۔
اس کے بعد شیخ الجامعہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی کو دعوت دی گئی آپ نے جامعہ عالیہ عربیہ کے بانی فضیلۃ الشیخ فیض اللہ مئوی کی علمی ودینی خدمات اور 1889ء میں داناپور، پٹنہ میں ان کے انتقال کا ذکر کرتے ہوئے جامعہ کے قیام، استحکام اور ترقی کے لیے اسلاف کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے شاہی کٹرا مسجد سے متعلق اہلِ حدیث کے ایک تاریخی واقعے کا بھی ذکر کیا، ابو المکارم محمد علی، عبد الرحمن شہید اور عبد الرحمن آزاد رحمہم اللہ خصوصی طور پر ذکر کیا اور بتایا کہ جامعہ کا یہ سفر محض چند عمارتوں کی تعمیر کا سفر نہیں، بلکہ اس کے پیچھے نسلوں کی محنت، قربانی، اخلاص اور استقامت کارفرما ہے۔
غارِ حرا میں پہلی وحی سے بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ کو لیکر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے واقعے کے حوالے سے انہوں نے باہمی تعلق، تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔
انہوں نے ابنائے عالیہ کو جامعہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھنے اور اس طرح کے علمی و تربیتی پروگراموں کو فروغ دینے کی ترغیب دی۔ ساتھ ہی مختلف گمراہ کن تنظیموں سے دور رہتے ہوئے ملک اور حکومت کے خلاف اشتعال پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی۔
آخر میں انہوں نے منتظمین، اساتذہ اور تمام ابنائے جامعہ کا شکریہ ادا کیا۔
اس کے بعد صدارتی کلمات کے لیے شیخ محمد مظہر اعظمی کو دعوت دی گئی آپ نے ابنائے جامعہ کو ’’عزیز طلبہ‘‘ کہہ کر مخاطب کرنے کی وجہ بیان کی اور تعلیم و تربیت کے تعلق کی اہمیت پر گفتگو کی اور مغربی معاشروں میں مذہب سے دوری اور انسانی بے چینی کے اسباب پر گفتگو کرتے ہوئے انسانی سکون کے بنیادی عناصر، یعنی جان، مال اور عزت کے تحفظ کو اہم قرار دیا۔
جامعہ عالیہ عربیہ اور اس کے ابنائے قدیم کا یہ غیر معمولی اجتماع ان کے لیے بھی ایک جذباتی لمحہ تھا۔ گفتگو کے دوران وہ آبدیدہ ہوگئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
آخر میں شیخ ابو حارث مفیض الدین ریاضی نے قرآن کریم کی آیت: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث: مَنْ لَا يَشْكُرِ النَّاسَ لَا يَشْكُرِ اللَّهَ کی روشنی میں کلماتِ تشکر پیش کیے۔ آپ نے تمام اساتذہ اور ابنائے عالیہ کا پرتپاک استقبال کیا، ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور جامعہ سے اپنے تعلق کو مضبوط رکھنے کی اپیل کی اور جامعہ کے علمی و دعوتی کاموں میں تعاون کی طرف بھی توجہ دلائی اور علمی و دعوتی زکوٰۃ، مالی تعاون اور سالانہ بجٹ میں حسبِ استطاعت حصہ لینے کی ترغیب دی۔
بالآخر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے تمام اساتذہ، مہمانان اور ابنائے جامعہ کا شکریہ ادا کیا گیا اور مجلس کے اختتام کا اعلان ہوا۔
پروگرام ختم ہوا تو ایک عجیب روحانی اور جذباتی منظر سامنے تھا۔ دوپہر کے کھانے کی فکر کسی کو نہ تھی۔ ابنائے جامعہ اپنے اساتذہ کے گرد جمع تھے۔ کوئی پرانی یادیں تازہ کر رہا تھا تو کوئی برسوں پہلے کے واقعات دہرا رہا تھا۔ کلاس روم سے زندگی کے میدان تک، طالب علمی کے زمانے سے موجودہ ذمہ داریوں تک، اور ماضی کی یادوں سے مستقبل کے عزائم تک۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت نے چند گھنٹوں کے لیے اپنی رفتار روک دی ہو اور جامعہ کے پرانے ایام دوبارہ زندہ ہوگئے ہوں۔
اس کے بعد عصر کی نماز کے لیے ہوٹل کے اندر بنے مصلیٰ میں گئے۔ سفر میں شرعی رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نماز ادا کی۔ نماز کے بعد شیخ مفیض الدین عالیاوی صاحب ہمیں اپنے ساتھ چائے اور ناشتے کے لیے لے گئے۔ ناشتہ ایسا تھا کہ گویا مکمل عشائیہ ہو! مچھلی نہایت لذیذ تھی، جس نے مٹن اور دیگر پھلوں تک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہاں یہ اعتراف ضروری ہے کہ پورے سفر میں قیام و طعام کا معیار انتہائی بلند رہا۔ شیخ مفیض الدین عالیاوی صاحب نے اپنی حساسیت، خلوص اور مہمان نوازی سے کسی بھی موقع پر کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔
مغرب کا وقت قریب آیا تو ہم نماز کے لیے ہوٹل سے باہر نکلے۔ کچھ دیر گھومنے کا ارادہ بھی تھا، لیکن طبیعت اب شدید ناساز تھی۔ راقم الحروف اور شیخ عطاء الرحمن مدنی اور شیخ ذکی عالیاوی کچھ دور تک گئے، ناریل پانی پیا اور واپس آگئے۔ اس کے بعد بستر پر لیٹتے ہی نیند نے کب اپنی آغوش میں لے لیا، کچھ خبر نہ ہوئی۔ بچے فون کرتے رہ گئے گھنٹی تک کا بھی احساس نہیں ہوا۔
18 ستمبر کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے فجر کی نماز ہوٹل کے مصلیٰ میں ادا کی۔ ناشتے سے فراغت کے بعد کٹیہار جنکشن کے لیے روانہ ہوئے۔
دل کہہ رہا تھا ابھی واپس مت جاؤ! لیکن ایک طرف بچوں کی یاد تھی اور دوسری طرف طبیعت سفر کی مزید اجازت نہیں دے رہی تھی۔
صبح تقریباً نو بجے ٹرین میں سوار ہوئے۔ واپسی کا سفر بھی اپنے اندر کئی مناظر لیے ہوئے تھا۔
بہار کے دیہی علاقوں سے گزرتی ٹرین کی کھڑکی سے گاؤں کی زندگی، غربت، بارش کے بعد پانی سے بھرے علاقے اور بعض مقامات پر سیلاب جیسی صورتِ حال نظر آتی رہی۔ کہیں دور تک پانی ہی پانی دکھائی دیتا تھا۔ ایسے حالات میں زندگی گزارنے والے لوگوں کے صبر اور مشکلات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت یقیناً قابلِ ذکر ہے۔
سفر کے دوران ایک صاحب ٹرین میں جھال مُوڑی فروخت کر رہے تھے۔ راقم الحروف کو بے اختیار ہمارے محترم وزیراعظم نریندر مودی کا خیال آگیا اور ہم نے بھی جھال مُوڑی کا ذائقہ چکھ لیا۔
ٹرین کی اے سی اتنی تیز تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے جنوری کا موسم ہو! بالآخر اللہ کا نام لے کر سفر مکمل کرتے ہوئے ہم شام تقریباً آٹھ بجے مئو جنکشن بحفاظت پہنچ گئے۔
سفر کے بعد بھی سفر باقی تھا
19 ستمبر کو طبیعت انتہائی ناساز تھی۔ دفتر جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی، لیکن کسی نہ کسی طرح کوشش کی۔ جتنے لوگوں سے ملاقات ہوئی سب نے ارریہ کے کامیاب پروگرام پر مبارک باد دی اور اسے جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ راقم الحروف کے لیے یہ سفر صرف ارریہ کا سفر نہیں تھا۔ یہ اپنے ماضی سے ملاقات کا سفر تھا۔ یہ استاد اور شاگرد کے رشتے کی تجدید کا سفر تھا۔ یہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے پھیلتے ہوئے علمی و انسانی دائرے کو قریب سے دیکھنے کا سفر تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ احساس دلانے والا سفر تھا کہ ادارے صرف عمارتوں سے نہیں بنتے؛ وہ انسانوں، تعلقات، اخلاص، قربانی اور وفاداری سے بنتے ہیں۔
ارریہ میں منعقد ہونے والا ابنائے جامعہ عالیہ عربیہ مئو کا پہلا تاریخی ملتقی بلاشبہ ایک اہم اور یادگار سنگِ میل تھا۔ اس کامیابی کے پیچھے ابنائے جامعہ خصوصاً شیخ مفیض الدین عالیاوی اور ان کے مخلص رفقائے کار کی محنت، محبت، اخلاص اور شبانہ روز جدوجہد نمایاں نظر آتی ہے۔ دو سو سے زائد ابنائے جامعہ کا ایک جگہ جمع ہونا، اپنے اساتذہ کا استقبال کرنا، جامعہ کی تاریخ کو یاد کرنا، اپنے تعلق کی تجدید کرنا اور مستقبل کے لیے باہمی تعاون کا عہد کرنا یقیناً ایک خوش آئند آغاز ہے۔
اللہ تعالیٰ اس تعلق کو مزید مضبوط فرمائے، جامعہ عالیہ عربیہ مئو کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اس کے اساتذہ و منتظمین کو اخلاص و استقامت عطا فرمائے، ابنائے جامعہ کو اپنے مادرِ علمی کے لیے نافع بنائے اور جمعیتِ ابنائے عالیہ عربیہ کے اس خواب کو ایک مضبوط، فعال اور مفید حقیقت میں تبدیل فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

روداد نگار
ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی
شیخ الجامعہ
جامعہ عالیہ عربیہ مئو

 Get together
20/09/2026


Get together

19/09/2026

افتتاح مرکز کتب جامعہ عالیہ عربیہ مئو بتاریخ 15/ستمبر 2026

ایک تہہ خانہ… علم کا روشن مرکز بن گیا!جامعہ عالیہ عربیہ مئو میں عالی شان مرکز کتب (Book Bank) کا افتتاحجامعہ عالیہ عربیہ...
15/09/2026

ایک تہہ خانہ… علم کا روشن مرکز بن گیا!
جامعہ عالیہ عربیہ مئو میں عالی شان مرکز کتب (Book Bank) کا افتتاح

جامعہ عالیہ عربیہ مئو کی موجودہ کمیٹی کی جانب سے مسجد کے تہہ خانے کو ایک معیاری، عالی شان اور مفید مرکز کتب (Book Bank) کی شکل دے کر 15 ستمبر 2026ء بروز منگل، بعد نماز مغرب، معزز مہمانان گرامی کی موجودگی میں اس کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا۔
اس موقع پر ایک اور اہم تقریب شیخ محمد مظہر اعظمی صاحب کی کتاب ’’روحِ تجارت‘‘ کے ہندی ورژن کی رونمائی بھی ہوئی، جس کی طباعت کا اہتمام چیئرمین نگر پالیکا پریشد عالیجناب ارشد جمال صاحب کے زیرِ اہتمام ہوا۔ پروگرام میں شہر کی معزز شخصیات کو نشانِ عالیہ ٹرافی پیش کرکے ان کی خدمات وتعلقات کے اعتراف میں تکریم کی گئی۔
اس پروگرام کا ایک اہم مقصد شہر میں موجود ابنائے جامعہ کو دوبارہ اپنے مادرِ علمی سے جوڑنا بھی تھا، جس کی طرف یہ ایک خوبصورت اور قابلِ قدر قدم ہے۔

پروگرام کا آغاز محمد عاقب کی تلاوتِ کلام اللہ سے ہوا، جس کے بعد اسید احمد اسید اعظمی نے اپنی پرسوز آواز میں ترانۂ جامعہ پیش کیا۔
تقریب کی صدارت عالیجناب ارشد جمال صاحب، (چیئرمین نگر پالیکا پریشد) نے فرمائی، جب کہ عالیجناب جمال اختر ارپن (چیرمین ایم اے اے فاؤنڈیشن) اور عالیجناب شکیل احمد یونائیٹڈ (سماجی کارکن) مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
پروگرام کی کامیابی میں ڈاکٹر خالد کمال (صدر کمیٹی) اور عالیجناب امتیاز احمد (نائب صدر کمیٹی) کی حوصلہ افزائی، مولانا محمد احمد، (ناظمِ اعلیٰ) کی سرپرستی، شیخ محمد مظہر اعظمی (نائب ناظم) کی بے لوث محنت و لگن، ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی (شیخ الجامعہ) کی جدوجہد اور شیخ شفیق احمد ندوی کی بے باک و مؤثر نظامت نے نمایاں کردار ادا کیا۔
ترانۂ جامعہ کے بعد ناظم پروگرام شیخ شفیق احمد ندوی (استاذ جامعہ ہذا) نے جامعہ عالیہ عربیہ مئو کی تاریخ، ادارے کی کارکردگی، آباء واجداد کی قربانیوں اور اس پروگرام کے اغراض و مقاصد پر جامع انداز میں روشنی ڈالی۔
بعد ازاں عالیجناب جمال اختر ارپن صاحب کو اپنے تاثرات پیش کرنے کے لیے دعوت دی گئی۔ انہوں نے تمام ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مرکزِ کتب کی تعمیر وتزئین پر خوشی کا اظہار کیا اور برجستہ انداز میں کہا: ’’برے ھال کا حال اچھا ہوگیا۔‘‘
اس کے بعد جامعہ کے قدیم فارغ التحصیل اور ڈی سی ایس کے کالج کے لکچرر ماسٹر رفیق اشفاق صاحب نے اپنے تاثرات پیش کیے اور ادارے کی موجودہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اس موقع پر شیخ محمد مظہر اعظمی صاحب (نائب ناظم) نے مرکز کتب کی تزئین ومرمت کے دوران پیش آنے والی دشواریوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ جب کوئی شخص عملی کام کرتا ہے تو تنقید اور خامیوں کی نشاندہی بھی ہوتی ہے؛ ایسے موقع پر انسان یا تو ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے یا تنقید سے بے نیاز ہوکر اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھتا ہے۔ اور فارسی کا ایک شعر پڑھا۔ ع
عرفی تو مین دیش زغوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
انہوں نے درویش اور کتے کی مثال کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ اگر انسان ہر بھونکنے والے کتے کی طرف متوجہ ہوتا رہے تو منزل تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔
بعد ازاں صدرِ مجلس عالیجناب ارشد جمال صاحب نے اپنے دیرینہ تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے جامعہ کی خدمات کو سراہا اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ کام کرنے والوں ہی کو عموماً تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں تواضع کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
’’ہم کچھ نہیں ہیں، یہ تو اوپر والا ہے جو مجھ سے کام لے رہا ہے۔‘‘
افتتاحی تقریب کے ساتھ شیخ محمد مظہر اعظمی صاحب کی کتاب ’’روحِ تجارت‘‘ کے ہندی ورژن کی رونمائی بھی اس پروگرام کا اہم حصہ رہی۔ یہ کتاب چیئرمین نگر پالیکا پریشد عالیجناب ارشد جمال صاحب کے زیرِ اہتمام طبع ہوئی، جس کی رونمائی معزز مہمانان کی موجودگی میں عمل میں آئی۔
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی (شیخ الجامعہ) کو ہدیۂ تشکر پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔آپ نے تمام مہمانانِ گرامی، شہر کے معززین، ابنائے جامعہ، اساتذہ، طلبہ اور کمیٹی کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی جامعہ کی تعمیر و ترقی میں ابتدا سے اب تک حصہ لینے والے اور اس دنیا سے رخصت ہوجانے والے تمام افراد کے لیے دعائے خیر کی۔آپ نے خصوصی طور پر ابنائے جامعہ کو اپنے مادرِ علمی سے جڑنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ پروگرام اسی سلسلے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جہاں کام ہوگا وہاں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے، اس دنیا میں کوئی بھی دودھ کا دھلا ہوا نہیں؛ ہم سب سے غلطیاں ہوسکتی ہیں، کمال صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے۔
دعائیہ کلمات کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
یہ پروگرام اپنی نوعیت کا ایک منفرد، بامقصد اور کامیاب پروگرام رہا، جس میں شہر کے ابنائے جامعہ، موجودہ طلبہ، اساتذہ، کمیٹی کے ذمہ داران اور معزز شہریوں نے شرکت کی۔ شرکائے پروگرام نے مرکزِ کتب کی تشکیل اور ابنائے جامعہ کو مادرِ علمی سے جوڑنے کی اس کوشش پر اپنے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔
پروگرام کے بعد مہمانان گرامی کے لیے ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا۔
یہ صرف ایک Book Bank کا افتتاح نہیں، بلکہ مطالعہ کے فروغ، علمی ماحول کی تعمیر اور ابنائے جامعہ کو مادرِ علمی سے دوبارہ جوڑنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔

شہر مئو کے ابناء جامعہ عالیہ عربیہ کو ادارے سے جوڑنے کی ایک ادنی سی کوشش۔گزارش کی جاتی ہے کہ آپ لوگ اس پروگرام میں شرکت ...
14/09/2026

شہر مئو کے ابناء جامعہ عالیہ عربیہ کو ادارے سے جوڑنے کی ایک ادنی سی کوشش۔
گزارش کی جاتی ہے کہ آپ لوگ اس پروگرام میں شرکت کرکے ہمیں حوصلہ دیں۔۔۔
یہ پروگرام جامعہ کیمپس ہی میں ہوگا۔

آرایف ڈی سی پروگرام کی ایک جھلک
13/09/2026

آرایف ڈی سی پروگرام کی ایک جھلک

09/09/2026

Cleanliness Drive in Jamia Alia Arabia Mau 23/08/2026

09/09/2026

صفائی مہم

Address

Jamia Alia Arabia Mau
Maunath Bhanjan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Hafizur Rahman Sanabili posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share