Al Jamia Tul Mohammadia

Al Jamia Tul Mohammadia

Share

AL JAMIA TUL MOHAMMADIA KHEDU PURA MAU

05/10/2025
28/08/2025

कक्षा 8 के बच्चे विज्ञान का एक प्रयोग करते हुए

17/08/2025

मदरसा मोहम्मदिया खेदूपुरा मऊ के कक्षा 6 के छात्रों द्वारा विज्ञान की नई पुस्तक जिज्ञासा के अध्याय 3 (उचित आहार, स्वस्थ जीवन का आधार) से संबंधित, विभिन्न खाद्य पदार्थों में प्रोटीन एवं स्टार्च का परीक्षण करते हुए।

मोहम्मद अरबाज़
मोहम्मद सूफियान
वामिक अज़ीज़
अबू आयान
सलमान नूरे आलम शाह

15/08/2025

स्वतंत्रता दिवस के अवसर पर कक्षा 7 के छात्र कामिल शादमान द्वारा प्रस्तुत हिंदी भाषण

Photos from Al Jamia Tul Mohammadia's post 15/08/2025

یوم آزادی کے پروگرام کی کچھ جھلکیاں

15/08/2025

Happy independence day 🫡 2025

15/08/2025

یوم آزادی کے موقع پر درجہ ششم کا طالب علم محمد سفیان قومی گیت پڑھتا ہوا

01/06/2025

جامعہ کے سابق ناظم اعلی کو صدمہ
خواہر نسبتی کا انتقال

جامعہ محمدیہ کے سابق ناظم اعلی الحاج نثار احمد پردھان کی خواہر نسبتی کا ٢٨/ مئی ٢٠٢٥ عیسوی بروز منگل ٣ بجے دن میں طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا انا للہ وانا الیہ راجعون مرحومہ مغربی مئو کے مشہور تاجر مولوی شمس الدین صاحب کی صاحب زادی اورمشرقی مئو کے مشہور تاجر الحاج محمد صاحب المعروف دھڑ دھڑکی بہو اور الحاج عبد الرحمن صاحب کی زوجہ اور فیاض احمد وبرادران کی والدہ محترمہ تھیں وہ طویل عرصہ سے فریش اور ایام بیوگی کے کٹھن مرحلے سے گزر رہی تھیں اور مسلسل صدمات سے دوچار ہونے کے باوجود صبرو شکر کے ساتھ زندگی کی گاڑی کھینچ رہی تھیں کیوں کہ انکے ساتھ انکا بھرا پورا خاندان اور انکی حسن تربیت سے آراستہ اولاد واحفاد اور قرابتداروں کی فوج تھی جنھیں دیکھ کر وہ یقینا حوصلہ پارہی ہونگی ورنہ وہ ابتلاء وآزمائش کے جن مراحل سے دوچار ہوئ تھیں اچھے اچھے لوگ ایسے وقت میں حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں
وہ اپنے گیارہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں انکی بہنوں میں سب سے بڑی کی شادی حسین احمد برادر الحاج نثار احمدصاحب کھیدو پور ہ کے ساتھ ہوئ تھی جو ابھی باحیات لیکن بیوگی سے دوچار ہیں اور ان سے چھوٹی بہن جناب فیض احمد کے نکاح میں تھیں جو انتقال کرچکی ہیں اور ان سے چہوٹی الحاج نثار احمد صاحب کے عقد میں ہیں اور الحمد للہ ابھی زوجین باحیات ہیں
مرحومہ کے سات بھائیوں میں چار کی وفات ہوچکی ہے تین زندہ ہیں خود مرحومہ کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں جو سب باحیات اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں سواۓ عبداللہ سلمہ کے جو مسلسل بیمار رہتے ہیں
مرحومہ موصوفہ صوم وصلوۃکی پابند اور حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف اور اخلاق واطوار کے اعتبار سے اونچے منصب پر فائز خاتون خانہ تھیں
مرحومہ کو اپنی زندگی میں غالبا سب سے پہلا صدمہ اسوقت پہنچا جب انکے بڑے بیٹے جناب فیاض احمد صاحب کے اکلوتے چشم وچراغ کمسنی کے عالم میں اچانک وفات پاگئےوہ بھی ایسی موت ہوئ کہ ہر سننے والے کو نم دیدہ کر گئی بیچاری دادی تو دادی تھیں وہ کیوں کر اس سے ٹوٹ نہ جاتیں اور جب اس صدمہ جانکاہ کا زخم مرور ایام کیے ساتھ مندمل ہو نے پر آیا تو شوہر کا انتقال ہو گیا اور ایک عورت کے لیۓ شوہر کی وفات کا مطلب دنیا کا اندھیری ہوجانا ہے بہر حال انسان جبتک باحیات رہتا ہے اپنے حصہ کا بوجھ ڈھوتا ہی رہتا ہے بہر حال موصوفہ ایسے ہی زندگی کے ایام گزار رہی تھیں کہ خود ہی طویل بیماری میں مبتلا ہو کر بجائے خاندان کو سنبھالنے کے خاندان کو انھیں سنبھالنا پڑا مزید برآں آپ کے سب سےچھوٹے بیٹے عبد اللہ سلمہ ایک طویل اور صبر آزما بیماری میں مبتلاہیں جو کڈنی فیلیر اور مسلسل ڈائیلاسس کے سہارے زندگی جی رہےہیں اللہ انھیں شفاء کامل عاجل عطا کرے کیونکہ اسکی قدرت ورحمت سے کچھ بھی بعید نہیں ہے مرحومہ کیلیۓ اپنے اس عزیز کی زندگی کا یہ مرحلہ کتنا صبر آزما رہا ہوگا اسکا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کیونکہ چھوٹی اولاد والدین کے نزدیک کچھ زیادہ ہی عزیز ہوتی ہے اور انکی ادنی سی تکلیف بھی والدین مشکل ہی سے برداشت کر تے ہیں لیکن یہ بھی اللہ کا کرم ہی ہے کہ انسان اتنے سارے مصائب برداشت کر لیتا ہے
بہر حال مرحومہ نے اپنی زندگی کے ان مشکل ترین حالات ومصائب سے گزرتے ہوۓ اپنی مدت حیات جو تقریبا ستر سال پر مشتمل ہے پوری کرلی ا اللہ انکی مغفرت فرماۓ اور اعمال صالحہ کو شرف قبولیت سے نوازے ان کے صبرو شکر کا اجر جزیل عطاکرے انکی نماز جنازہ جمعیت وجماعت کی مشہور شخصیت مولانا اقبال احمد محمدی نے پڑھائ جو موصوفہ کے دیور ہیں
نماز جنازہ اسی دن بعد نماز عشاء کھیری باغ کے وسیع صحن میں ادا کی گئی جسمیں ہزاروں لوگوں نے شرکت کیااور قاسم پورہ قبرستان میں تدفین ہوئ اللہ سے دعا ہے انکی بشری لغزشوں سے صرف نظر کرے انکی نیکیوں اور اعمال صالحہ کو قبول فرماۓ آخرت کے مراحل کو آسان کرے جنت میں اعلی مقام عطا کرے انکے جملہ پسماندگان ومتعلقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین
جامعہ کے جملہ اسا تذہ وملازمین واراکین وطلبہ ناظم صاحب اور خواہر نسبتی کے غم میں برابر کے شریک اور انکے لیۓ دعا گو ہیں
عبد المبین فیضی
انچارج پرنسپل مدر سہ محمدیہ کھیدو پور مئو

16/05/2025

مجلہ الریاض کے دسویں شمارہ کی رسم اجراء
عبدا لمبین فیضی
مدرسہ محمدیہ کے قیام کا مقصد تعلیمی اداروں کی فہرست میں صرف ایک رسمی اضافہ نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کے افراد کو تعلیمی زیور سے مزین کرنے کے ساتھ ہی انھیں دنیا میں بھیجے جانیکے عظیم مقصد کے تئیں بیدار رکھنا اور ان مقاصد کے حصول کیلیۓ ان میں ہر طرح کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے یہی وجہ ہے اس ادارہ میں جہاں تعلیم کو عام کرنے اور نوجوان نسلوں کو علم سے آراستہ کر نیکا بندوبست کیا جاتا ہے وہیں ان میں داعیانہ صلاحیت پیدا کرنے لیۓ تقریر وتحریرکی عملی تربیت بھی دیجاتی ہے اور انجمن ریاض الطلبہ نام کے ایک شعبہ قائم ہے جو انتہائ منظم طریقہ سے اپنے کام کو انجام دیتا ہے اس شعبہ کے تحت ہر ہفتہ اجلاس منعقد کیا جا تا ہے جس میں طلبہ مختلف عناوین پر تقریریں کرتے ہیں اوراس کی صدارت اساتذہ کرتے ہیں جو طلبہ کے زبان وبیان پر پوری توجہ دیتے ہیں اسی طرح تحریری مشق کیلیۓ طلبہ ایک حائطیہ الریاض کے نام سے شائع کرتے ہیں اور سال کے آخر میں الریاض کا ایک بہترین اور ضخیم شمارہ مجلہ الریاض کی شکل میں زیور طباعت سے آراستہ کر اکےاپنے اور اساتذہ کے درمیان تقسیم کرتے ہیں تاکہ انکی یہ کوشش سب کے پاس محفوظ رہے نیز مدرسہ کے ذمہ داران و اراکین اور ہمدردانہ ومعاونین کی خدمت میں پیش کرکے نہ صرف دادو تحسین سے سرفراز ہو تے ہیں بلکہ اپنے معاونین وسرپرستوں کو یہ باور کرانے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں کہ انکی کوششیں ضائع نہیں بار آور ہو رہی ہیں
یہ سالانہ میگزین پچھلے سالوں مسلسل شائع ہوتا رہا لیکن دنیا کے کووڈ١٩ جیسی ابتلاء سے دوچار ہونیکے باعث منقطع ہو گیا تھا لیکن الحمدللہ اس سال طلبہ نے اپنی کوششوں کی بدولت اسے پھر شروع کرلیا اور مجلہ کا دسواں شمارہ بڑے اہتمام سے شائع کیااور اسکی رسم اجراء اساتذہ کرام کی موجودگی میں شاندار طریقہ سے ادا کی گئی
١٧ فروری ٢٠٢٥ عیسوی کو ایک تقریب منعقد کی گئی جسکی صدارت شیخ الجامعہ مولانا شمیم احمد عمری نے فرمائی اور نظامت کی ذمہ داری شکیل احمد طالب الصف الخامس نے نبھائی تلاوۃ آیات قرآن حکیم اور نعت خوانی کے بعد مدیر مجلہ عبدا لحلیم نے مجلہ کی پہلی کاپی صدر اجلاس کی خدمت میں پیش کیا پھر ناظم انجمن محمد طیب نے مجلہ اساتڈہ کرام کی خدمت میں پیش کرکے اپنی اور اپنے رفقاء کار کی محنت کی سند حاصل کیا اس موقع سے صدر اجلاس' مربی انجمن اور کچھ اساتذہ نے اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیااور اپنے ان ہونہار وں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ انکی رہنمائی کامیابی کی کلیدوں کی طرف کیا تاکہ انھیں اپناکر وہ زندگی کے ہر میدان میں بازی مارسکیں

14/05/2025

جامعہ محمدیہ کے 21ویں جلسہ دستار بندی پروگرام کی ایک جھلک
4 مارچ 2024 بروز سوموار

Want your school to be the top-listed School/college in Maunath Bhanjan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


KHEDU PURA MAUNATH BHANJAN
Maunath Bhanjan
275101