05/10/2025
Al Jamia Tul Mohammadia
AL JAMIA TUL MOHAMMADIA KHEDU PURA MAU
05/10/2025
कक्षा 8 के बच्चे विज्ञान का एक प्रयोग करते हुए
मदरसा मोहम्मदिया खेदूपुरा मऊ के कक्षा 6 के छात्रों द्वारा विज्ञान की नई पुस्तक जिज्ञासा के अध्याय 3 (उचित आहार, स्वस्थ जीवन का आधार) से संबंधित, विभिन्न खाद्य पदार्थों में प्रोटीन एवं स्टार्च का परीक्षण करते हुए।
मोहम्मद अरबाज़
मोहम्मद सूफियान
वामिक अज़ीज़
अबू आयान
सलमान नूरे आलम शाह
स्वतंत्रता दिवस के अवसर पर कक्षा 7 के छात्र कामिल शादमान द्वारा प्रस्तुत हिंदी भाषण
15/08/2025
یوم آزادی کے پروگرام کی کچھ جھلکیاں
Happy independence day 🫡 2025
یوم آزادی کے موقع پر درجہ ششم کا طالب علم محمد سفیان قومی گیت پڑھتا ہوا
01/06/2025
جامعہ کے سابق ناظم اعلی کو صدمہ
خواہر نسبتی کا انتقال
جامعہ محمدیہ کے سابق ناظم اعلی الحاج نثار احمد پردھان کی خواہر نسبتی کا ٢٨/ مئی ٢٠٢٥ عیسوی بروز منگل ٣ بجے دن میں طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا انا للہ وانا الیہ راجعون مرحومہ مغربی مئو کے مشہور تاجر مولوی شمس الدین صاحب کی صاحب زادی اورمشرقی مئو کے مشہور تاجر الحاج محمد صاحب المعروف دھڑ دھڑکی بہو اور الحاج عبد الرحمن صاحب کی زوجہ اور فیاض احمد وبرادران کی والدہ محترمہ تھیں وہ طویل عرصہ سے فریش اور ایام بیوگی کے کٹھن مرحلے سے گزر رہی تھیں اور مسلسل صدمات سے دوچار ہونے کے باوجود صبرو شکر کے ساتھ زندگی کی گاڑی کھینچ رہی تھیں کیوں کہ انکے ساتھ انکا بھرا پورا خاندان اور انکی حسن تربیت سے آراستہ اولاد واحفاد اور قرابتداروں کی فوج تھی جنھیں دیکھ کر وہ یقینا حوصلہ پارہی ہونگی ورنہ وہ ابتلاء وآزمائش کے جن مراحل سے دوچار ہوئ تھیں اچھے اچھے لوگ ایسے وقت میں حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں
وہ اپنے گیارہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں انکی بہنوں میں سب سے بڑی کی شادی حسین احمد برادر الحاج نثار احمدصاحب کھیدو پور ہ کے ساتھ ہوئ تھی جو ابھی باحیات لیکن بیوگی سے دوچار ہیں اور ان سے چھوٹی بہن جناب فیض احمد کے نکاح میں تھیں جو انتقال کرچکی ہیں اور ان سے چہوٹی الحاج نثار احمد صاحب کے عقد میں ہیں اور الحمد للہ ابھی زوجین باحیات ہیں
مرحومہ کے سات بھائیوں میں چار کی وفات ہوچکی ہے تین زندہ ہیں خود مرحومہ کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں جو سب باحیات اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں سواۓ عبداللہ سلمہ کے جو مسلسل بیمار رہتے ہیں
مرحومہ موصوفہ صوم وصلوۃکی پابند اور حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف اور اخلاق واطوار کے اعتبار سے اونچے منصب پر فائز خاتون خانہ تھیں
مرحومہ کو اپنی زندگی میں غالبا سب سے پہلا صدمہ اسوقت پہنچا جب انکے بڑے بیٹے جناب فیاض احمد صاحب کے اکلوتے چشم وچراغ کمسنی کے عالم میں اچانک وفات پاگئےوہ بھی ایسی موت ہوئ کہ ہر سننے والے کو نم دیدہ کر گئی بیچاری دادی تو دادی تھیں وہ کیوں کر اس سے ٹوٹ نہ جاتیں اور جب اس صدمہ جانکاہ کا زخم مرور ایام کیے ساتھ مندمل ہو نے پر آیا تو شوہر کا انتقال ہو گیا اور ایک عورت کے لیۓ شوہر کی وفات کا مطلب دنیا کا اندھیری ہوجانا ہے بہر حال انسان جبتک باحیات رہتا ہے اپنے حصہ کا بوجھ ڈھوتا ہی رہتا ہے بہر حال موصوفہ ایسے ہی زندگی کے ایام گزار رہی تھیں کہ خود ہی طویل بیماری میں مبتلا ہو کر بجائے خاندان کو سنبھالنے کے خاندان کو انھیں سنبھالنا پڑا مزید برآں آپ کے سب سےچھوٹے بیٹے عبد اللہ سلمہ ایک طویل اور صبر آزما بیماری میں مبتلاہیں جو کڈنی فیلیر اور مسلسل ڈائیلاسس کے سہارے زندگی جی رہےہیں اللہ انھیں شفاء کامل عاجل عطا کرے کیونکہ اسکی قدرت ورحمت سے کچھ بھی بعید نہیں ہے مرحومہ کیلیۓ اپنے اس عزیز کی زندگی کا یہ مرحلہ کتنا صبر آزما رہا ہوگا اسکا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کیونکہ چھوٹی اولاد والدین کے نزدیک کچھ زیادہ ہی عزیز ہوتی ہے اور انکی ادنی سی تکلیف بھی والدین مشکل ہی سے برداشت کر تے ہیں لیکن یہ بھی اللہ کا کرم ہی ہے کہ انسان اتنے سارے مصائب برداشت کر لیتا ہے
بہر حال مرحومہ نے اپنی زندگی کے ان مشکل ترین حالات ومصائب سے گزرتے ہوۓ اپنی مدت حیات جو تقریبا ستر سال پر مشتمل ہے پوری کرلی ا اللہ انکی مغفرت فرماۓ اور اعمال صالحہ کو شرف قبولیت سے نوازے ان کے صبرو شکر کا اجر جزیل عطاکرے انکی نماز جنازہ جمعیت وجماعت کی مشہور شخصیت مولانا اقبال احمد محمدی نے پڑھائ جو موصوفہ کے دیور ہیں
نماز جنازہ اسی دن بعد نماز عشاء کھیری باغ کے وسیع صحن میں ادا کی گئی جسمیں ہزاروں لوگوں نے شرکت کیااور قاسم پورہ قبرستان میں تدفین ہوئ اللہ سے دعا ہے انکی بشری لغزشوں سے صرف نظر کرے انکی نیکیوں اور اعمال صالحہ کو قبول فرماۓ آخرت کے مراحل کو آسان کرے جنت میں اعلی مقام عطا کرے انکے جملہ پسماندگان ومتعلقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین
جامعہ کے جملہ اسا تذہ وملازمین واراکین وطلبہ ناظم صاحب اور خواہر نسبتی کے غم میں برابر کے شریک اور انکے لیۓ دعا گو ہیں
عبد المبین فیضی
انچارج پرنسپل مدر سہ محمدیہ کھیدو پور مئو
مجلہ الریاض کے دسویں شمارہ کی رسم اجراء
عبدا لمبین فیضی
مدرسہ محمدیہ کے قیام کا مقصد تعلیمی اداروں کی فہرست میں صرف ایک رسمی اضافہ نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کے افراد کو تعلیمی زیور سے مزین کرنے کے ساتھ ہی انھیں دنیا میں بھیجے جانیکے عظیم مقصد کے تئیں بیدار رکھنا اور ان مقاصد کے حصول کیلیۓ ان میں ہر طرح کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے یہی وجہ ہے اس ادارہ میں جہاں تعلیم کو عام کرنے اور نوجوان نسلوں کو علم سے آراستہ کر نیکا بندوبست کیا جاتا ہے وہیں ان میں داعیانہ صلاحیت پیدا کرنے لیۓ تقریر وتحریرکی عملی تربیت بھی دیجاتی ہے اور انجمن ریاض الطلبہ نام کے ایک شعبہ قائم ہے جو انتہائ منظم طریقہ سے اپنے کام کو انجام دیتا ہے اس شعبہ کے تحت ہر ہفتہ اجلاس منعقد کیا جا تا ہے جس میں طلبہ مختلف عناوین پر تقریریں کرتے ہیں اوراس کی صدارت اساتذہ کرتے ہیں جو طلبہ کے زبان وبیان پر پوری توجہ دیتے ہیں اسی طرح تحریری مشق کیلیۓ طلبہ ایک حائطیہ الریاض کے نام سے شائع کرتے ہیں اور سال کے آخر میں الریاض کا ایک بہترین اور ضخیم شمارہ مجلہ الریاض کی شکل میں زیور طباعت سے آراستہ کر اکےاپنے اور اساتذہ کے درمیان تقسیم کرتے ہیں تاکہ انکی یہ کوشش سب کے پاس محفوظ رہے نیز مدرسہ کے ذمہ داران و اراکین اور ہمدردانہ ومعاونین کی خدمت میں پیش کرکے نہ صرف دادو تحسین سے سرفراز ہو تے ہیں بلکہ اپنے معاونین وسرپرستوں کو یہ باور کرانے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں کہ انکی کوششیں ضائع نہیں بار آور ہو رہی ہیں
یہ سالانہ میگزین پچھلے سالوں مسلسل شائع ہوتا رہا لیکن دنیا کے کووڈ١٩ جیسی ابتلاء سے دوچار ہونیکے باعث منقطع ہو گیا تھا لیکن الحمدللہ اس سال طلبہ نے اپنی کوششوں کی بدولت اسے پھر شروع کرلیا اور مجلہ کا دسواں شمارہ بڑے اہتمام سے شائع کیااور اسکی رسم اجراء اساتذہ کرام کی موجودگی میں شاندار طریقہ سے ادا کی گئی
١٧ فروری ٢٠٢٥ عیسوی کو ایک تقریب منعقد کی گئی جسکی صدارت شیخ الجامعہ مولانا شمیم احمد عمری نے فرمائی اور نظامت کی ذمہ داری شکیل احمد طالب الصف الخامس نے نبھائی تلاوۃ آیات قرآن حکیم اور نعت خوانی کے بعد مدیر مجلہ عبدا لحلیم نے مجلہ کی پہلی کاپی صدر اجلاس کی خدمت میں پیش کیا پھر ناظم انجمن محمد طیب نے مجلہ اساتڈہ کرام کی خدمت میں پیش کرکے اپنی اور اپنے رفقاء کار کی محنت کی سند حاصل کیا اس موقع سے صدر اجلاس' مربی انجمن اور کچھ اساتذہ نے اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیااور اپنے ان ہونہار وں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ انکی رہنمائی کامیابی کی کلیدوں کی طرف کیا تاکہ انھیں اپناکر وہ زندگی کے ہر میدان میں بازی مارسکیں
جامعہ محمدیہ کے 21ویں جلسہ دستار بندی پروگرام کی ایک جھلک
4 مارچ 2024 بروز سوموار
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
KHEDU PURA MAUNATH BHANJAN
Maunath Bhanjan
275101