07/09/2023
شہر مئو میں مسلم بچیاں فتنئہ ارتداد کے گھیرے میں:-
یہ دورفتنوں کا دور ہے پورے عالم میں خیروشر کی کشمکش چل رہی ہے کہیں لوگ اسلام کی خوبیوں کو جان کر اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں تو کہیں مغربی تہذیب وتمدن کے فروغ سے نوجوان دین اسلام سے بیزاری کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جیسے جیسے ذرائع ابلاغ بڑھتے جا رہے ہیں فتنے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان فتنوں میں ایک فتنۂ ارتداد بھی ہے اس فتنے کے ذریعے مسلم خواتین کو مرتد بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں نوجوان بچیاں اسلامی تہذیب اور اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کر کفر والحاد کے راستے پر چل پڑی ہیں۔ غیر مسلم آسانی سے مسلم بچیوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہو رہےہیں۔ ارتداد امت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اپنوں کا دین اسلام سے پھر جانا اور مرتد ہو جانا بڑے دکھ کی بات ہے۔
اور یہ فتنہ اسکول اور کالجوں سے شروع ہو رہا ہے آج اگر آپ نظر دوڑائیں گے تو پتہ چلے گا کہ مسلمان اپنی بچیوں کو اسکول اور کالج کے نام پر بھیج دیں رہے ہیں اور یہ بچیاں غیروں کے ساتھ رنگ ریلیاں منا رہی ہیں آپ نظر گھومائیں گے تو دیکھیں گے کہ پڑھائی کے نام پر مسلم بچیوں کو کبھی بھگوا چادر اوڑھایا جا رہی ہے تو کبھی بھگوا لوٹریپ کا شکار بنایا جارہا ہے ،اور ان سب کاموں میں ہمارے شہر مئو کی بچیاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں،
آج آپ شہر مئو کے بڑے اسکولوں اور کالجوں میں چلے جائیے اور دیکھیں تو ایک ہندو لڑکے کے ساتھ دو دو تین تین لڑکیاں گھوم رہی ہیں۔ آپ اس سے بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شہر مئو کے ہوٹلوں میں جب بھی پولیس چھاپا مارتی ہے تو اس میں مسلم بچیوں کی اکثریت ہوتی ہے اس میں صرف بچیوں کی غلطی نہیں ہوتی ہے بلکہ ماں باپ بھائی اور پورے گھر والوں کی غلطی ہوتی ہے اس لیے کہ بچیوں کو کالجوں اور اسکولوں میں داخلہ کرانے کے بعد نہ ہی ماں، باپ، بھائی اور نہ گھر والوں میں سے کوئی یہ دیکھنے جاتاہے کہ ہماری بچیاں کیا کر رہی ہیں اور نہ ہی کوئی ان بچیوں سے سوال کرتا ہے۔
اگر خاندان کا کوئی بھی فرد ان بچیوں میں سے کسی کو پکڑ لیتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ تم غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ کیا کر رہی ہو تو مسلم بچیاں یہ کہتی ہیں کی یہ میرا دوست ہے، لعنت ہےایسی لڑکیوں پر جس کالج یا اسکول میں ہندو لڑکوں کے ساتھ ایک بینچ پر بیٹھ کر پڑھنا پڑے تو ایسی پڑھائی سے جہالت بہتر ہے۔
مسلمانوں کے خلاف شازش رچی جا رہی ہے:-
مسلمانوں کے خلاف ہو رہی سازشوں میں اب تک کی سب سے بڑی سازش ہندتو وادی تنظیموں کے ذریعے یہ کی جارہی ہے کہ انہوں نے کھلم کھلا اعلان کردیا ہے کہ جو ہندو لڑکا مسلمان لڑکیوں سے شادی کر کے گھر واپسی کرائےگا، انہیں روزگار کے لیے دولاکھ روپے،رہائش کے لیے فلیٹ اور اس کے علاوہ ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا جائے گا،جس کے نتیجے میں آج ان کے بھیڑیے پاگل کتے کی طرح مسلم بچیوں کے پیچھے پڑگئے ہیں، وہ بہلا پھسلا کر لالچ دیکر پیار محبت کے جال میں پھنساکر طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا کر مسلمان بچیوں سے شادی کر رہے ہیں،اور اپنے آقاؤں سے داد وتحسین اور انعام واکرام حاصل کر رہے ہیں، یوں تو مسلمان عورتوں کا غیر مسلم سے، ہندو عورتوں کا مسلمان مردوں سے شادی کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسا جدید اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں ،ہیرو ہیروئنوں اور بڑے کاروباریوں میں پہلے سے ہوتا آرہا ہے،جس میں اکثر پیار اور عشق کی کار فرمائی ہوا کرتی تھی، مگر آج جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ فلاں مسلم لڑکی نے فلاں ہندو دوست کے ساتھ بھاگ کر شادی کرلی ہے یا فلاں لڑکی نے اپنے ہندو کلاس میٹ کے ساتھ کورٹ میرج کرلی، یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے،پھر جو مسلمان لڑکیوں میں ہندوؤں سے شادی کرنے کی لہر آئی ہے، سن کر دل چھلنی ہوکر رہ جاتاہے،کیا امیر کیا غریب، کیا پڑھا لکھا کیا گنوار، کیا شہری کیا دیہاتی یہ ایسی آندھی آئی ہے جس نے مسلم معاشرے کے ہر طبقہ کو متاثر کر رکھا ہے، یہ خبر جب پڑھی یا سنی جاتی ہے تو دل چھلنی چھلنی ہوکر رہ جاتا ہے،آنکھوں میں خون کے آنسوں چھلک پڑتے ہیں، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں،اس کی سنگینی کو دیکھ کر کوئی ایسا مسلمان نہیں جو اپنے پہلو میں دل رکھتا ہو وہ فکر مند نہ ہو، اور فکر مند کیونکر نہ ہو، ایک مومن کا ان کےنگاہوں کےسامنے کفر وارتداد تک پہنچ جانا دوسرے مسلمان کےلیے کسی درد ناک حادثہ سے کم نہیں، اس لیے نہیں کہ دو سماج کے درمیان جنگ وجدل اور خون ریزی کا سبب بھی ہوسکتا ہے بلکہ اس لیے کہ یہ مسلمانوں کی عزت کا سوال ہے۔
مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکر:-
یہاں کی لڑکیاں تو تعلیم یافتہ ہیں لیکن
مگر کسی کے سر پہ ڈوپٹہ نظر نہیں آتا
آج اگر آپ نظر دوڑائیں گے تو پتہ چلے گا کہ مسلم بچیاں پردہ پوشی سے دور جا رہی ہیں اپنے گھر سے تو نقاب پوش ہو کر نکلتی ہیں لیکن گھر سے باہر نکلتے ہی بناؤ سنگھار غیروں کو دکھانے کے لیے چہرے کو کھول دیتی ہیں، اور غیر چہرے کو دیکھ کر مسخرا بناتے ہیں۔ پھر بھی مسلم بچیوں کو سمجھ نہیں آتی ہے افسوس صد افسوس۔
اے میری مسلم بہنوں تم یہ سمجھتی ہو اور کہتی بھی ہو کہ میرا والا ایسا نہیں ہے تو ویسا نہیں ہے پر یہ یاد رکھنا کہ سب کے سب تمہارے لیے ایک جیسے ہی ہیں، کوئی عبداللہ یا عبد الکریم نہیں بن سکتا،جب تک تمہاری عزت محفوظ رہے گی تب تک وہ تمہاری عزت کرےگا اور جیسےہی تمہاری عزت نیلام کر لے گا تو وہ تمہیں لات مارکر بھگادے گا۔
اے میری بہنوں اب تو سمبھل جاؤ اب تو ہوش کے ناخن لو آج چاہے ادری ہو یاخالص پور، چریا کوٹ،مئو بازار،صدرچوک،گھوسی،مرزاہادی پورہ ،پچھم پورہ،بچلا پورہ، دوہری گھاٹ،محمد آبادگوہنہ، خیر آباد، ولید پور بھیرہ چاہے مدھوبن،ہر جگہ کا یہی حال ہے کہ مسلم بچیاں اپنے چہرے کو کھول کر چلتی ہیں،جسے دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے اور غیر تنظیموں کی کوششیں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہیں،ابھی جلد ہی کا ایک واقعہ ہے کہ گھوسی سلطان پور میں ایک کالج میں درجنوں مسلم بچیوں کو بھگوا چادر یا شال اوڑھائی گئی اور اوڑھانے والے کوئی اور نہیں بلکہ غیر مسلم تھے اور مسلم بچیاں بہت شوق سے ان کے ہاتھوں سے اوڑھ رہی تھیں یہ شازش نہیں تو اور کیا ہے اگر ان کو انعامات سے نوازنا ہی مقصود تھا تو وہ کسی عورت کو بھیج کر انعامات سے نواز سکتے تھے مسلم بہنوں ان کی شازشوں کو سمجھو اور ناکام بناؤ ورنہ بعد میں افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں رہ جائے گا۔
آج کل کی یہ ہے محبت:-
ساری رات فون پر باتیں ، پہلے تجسس کی انتہا
ہر میسج پر دل کا دھڑکنا، ماں اگنور، باپ اگنور،
تعلیم اگنور، پھر ملاقاتیں، رنگین نظارے،
پھر لڑائی جھگڑے کی شروعات ،پھر بریک اپ ،پھر پیچ اپ، دوماہ بعد پھر بریک اپ، پھر پیچ اپ پھر اداسی کا اشتہار بن کر پھرنا، لوگوں کو اپنی وفا اور اسکی بےوفائی کے قصے سناتے رہنا، سونے جیسے وقت کو مٹی میں ملا دینا، پہلے جینے مرنے کی قسمیں کھانا اور پھر آخر میں ایک دوسرے کو بد کردار کہہ کر اور گالیاں دے کر راستے الگ کر لینا۔ بس آج کل اسی کو محبت کہتے ہیں۔
مسلم بچیوں سنو!
واحد پرندہ جو عقاب کو چونچ مارنے کی ہمت کرتا ہے وہ کوا ہے. یہ عقاب کی پیٹھ پر بیٹھ کر اس کی گردن پر کاٹتا ہے لیکن عقاب جواب نہیں دیتا اور کوے سے الجھ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتا، اسکے بجائے یہ بس اپنے پر کھولتا ہے اور آسمان پر بہت اونچی اڑان بھرنا شروع کر دیتا ہے۔ اتنی زیادہ اونچائی پر کوے کے لیے سانس لینا نا ممکن ہو جاتا ہے اور پھر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کوا خودبخود بے حال ہو کر نیچے گر جاتا ہے. اس لیے کوے جیسی فطرت رکھنے والے اور بلا وجہ کی شوخیاں مارنے والے کم ظرف لوگوں کے ساتھ اپنا قیمتی وقت محبت کے نام پر ضائع کرنے کے بجائے ان کو اگنور کرنا چاہیے اس طرح یہ خود بخود اپنی اصلی اوقات پر آ جائیں گے. یہ معاشرے کے کوے جب آپ کی برابری یا مقابلہ نہیں کر سکتے تو آپ کو عشق کے جال میں پھنساکر غیر مسلم بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آپ پر اپنا طوفان برپا کر سکیں،اور آپ کی عزت کو تار تار کر سکیں،ان غیرمسلموں سے عقاب سے بھی زیادہ بچنے کی کوشش کریں،
اللہ تعالی ہمیں قوم کی ضرورتوں پر توجہ دینے کی توفیق عطا
فرمائے۔آمین ثم آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔
!مسلمانو
اس تحریر سے کسی کو نشانہ بنانا مقصود نہیں بلکہ حقیقت حال کی طرف توجہ دلانا اور صحیح فکر پیدا کرنا ہے۔
از۔محمدغیاث الدین مصباحی
بھیلو پاکڑ بچلا پورہ پوسٹ سرواں ضلع مئو۔ صوبہ اترپردیش انڈیا
موبائل نمبر 9621005655