Mohammad Geyasuddin misbahi

Mohammad Geyasuddin misbahi

Share

05071994

Photos from Mohammad Geyasuddin misbahi 's post 07/09/2023

شہر مئو میں مسلم بچیاں فتنئہ ارتداد کے گھیرے میں:-

یہ دورفتنوں کا دور ہے پورے عالم میں خیروشر کی کشمکش چل رہی ہے کہیں لوگ اسلام کی خوبیوں کو جان کر اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں تو کہیں مغربی تہذیب وتمدن کے فروغ سے نوجوان دین اسلام سے بیزاری کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جیسے جیسے ذرائع ابلاغ بڑھتے جا رہے ہیں فتنے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان فتنوں میں ایک فتنۂ ارتداد بھی ہے اس فتنے کے ذریعے مسلم خواتین کو مرتد بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں نوجوان بچیاں اسلامی تہذیب اور اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کر کفر والحاد کے راستے پر چل پڑی ہیں۔ غیر مسلم آسانی سے مسلم بچیوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہو رہےہیں۔ ارتداد امت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اپنوں کا دین اسلام سے پھر جانا اور مرتد ہو جانا بڑے دکھ کی بات ہے۔
اور یہ فتنہ اسکول اور کالجوں سے شروع ہو رہا ہے آج اگر آپ نظر دوڑائیں گے تو پتہ چلے گا کہ مسلمان اپنی بچیوں کو اسکول اور کالج کے نام پر بھیج دیں رہے ہیں اور یہ بچیاں غیروں کے ساتھ رنگ ریلیاں منا رہی ہیں آپ نظر گھومائیں گے تو دیکھیں گے کہ پڑھائی کے نام پر مسلم بچیوں کو کبھی بھگوا چادر اوڑھایا جا رہی ہے تو کبھی بھگوا لوٹریپ کا شکار بنایا جارہا ہے ،اور ان سب کاموں میں ہمارے شہر مئو کی بچیاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں،
آج آپ شہر مئو کے بڑے اسکولوں اور کالجوں میں چلے جائیے اور دیکھیں تو ایک ہندو لڑکے کے ساتھ دو دو تین تین لڑکیاں گھوم رہی ہیں۔ آپ اس سے بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شہر مئو کے ہوٹلوں میں جب بھی پولیس چھاپا مارتی ہے تو اس میں مسلم بچیوں کی اکثریت ہوتی ہے اس میں صرف بچیوں کی غلطی نہیں ہوتی ہے بلکہ ماں باپ بھائی اور پورے گھر والوں کی غلطی ہوتی ہے اس لیے کہ بچیوں کو کالجوں اور اسکولوں میں داخلہ کرانے کے بعد نہ ہی ماں، باپ، بھائی اور نہ گھر والوں میں سے کوئی یہ دیکھنے جاتاہے کہ ہماری بچیاں کیا کر رہی ہیں اور نہ ہی کوئی ان بچیوں سے سوال کرتا ہے۔
اگر خاندان کا کوئی بھی فرد ان بچیوں میں سے کسی کو پکڑ لیتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ تم غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ کیا کر رہی ہو تو مسلم بچیاں یہ کہتی ہیں کی یہ میرا دوست ہے، لعنت ہےایسی لڑکیوں پر جس کالج یا اسکول میں ہندو لڑکوں کے ساتھ ایک بینچ پر بیٹھ کر پڑھنا پڑے تو ایسی پڑھائی سے جہالت بہتر ہے۔
مسلمانوں کے خلاف شازش رچی جا رہی ہے:-
مسلمانوں کے خلاف ہو رہی سازشوں میں اب تک کی سب سے بڑی سازش ہندتو وادی تنظیموں کے ذریعے یہ کی جارہی ہے کہ انہوں نے کھلم کھلا اعلان کردیا ہے کہ جو ہندو لڑکا مسلمان لڑکیوں سے شادی کر کے گھر واپسی کرائےگا، انہیں روزگار کے لیے دولاکھ روپے،رہائش کے لیے فلیٹ اور اس کے علاوہ ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا جائے گا،جس کے نتیجے میں آج ان کے بھیڑیے پاگل کتے کی طرح مسلم بچیوں کے پیچھے پڑگئے ہیں، وہ بہلا پھسلا کر لالچ دیکر پیار محبت کے جال میں پھنساکر طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا کر مسلمان بچیوں سے شادی کر رہے ہیں،اور اپنے آقاؤں سے داد وتحسین اور انعام واکرام حاصل کر رہے ہیں، یوں تو مسلمان عورتوں کا غیر مسلم سے، ہندو عورتوں کا مسلمان مردوں سے شادی کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسا جدید اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں ،ہیرو ہیروئنوں اور بڑے کاروباریوں میں پہلے سے ہوتا آرہا ہے،جس میں اکثر پیار اور عشق کی کار فرمائی ہوا کرتی تھی، مگر آج جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ فلاں مسلم لڑکی نے فلاں ہندو دوست کے ساتھ بھاگ کر شادی کرلی ہے یا فلاں لڑکی نے اپنے ہندو کلاس میٹ کے ساتھ کورٹ میرج کرلی، یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے،پھر جو مسلمان لڑکیوں میں ہندوؤں سے شادی کرنے کی لہر آئی ہے، سن کر دل چھلنی ہوکر رہ جاتاہے،کیا امیر کیا غریب، کیا پڑھا لکھا کیا گنوار، کیا شہری کیا دیہاتی یہ ایسی آندھی آئی ہے جس نے مسلم معاشرے کے ہر طبقہ کو متاثر کر رکھا ہے، یہ خبر جب پڑھی یا سنی جاتی ہے تو دل چھلنی چھلنی ہوکر رہ جاتا ہے،آنکھوں میں خون کے آنسوں چھلک پڑتے ہیں، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں،اس کی سنگینی کو دیکھ کر کوئی ایسا مسلمان نہیں جو اپنے پہلو میں دل رکھتا ہو وہ فکر مند نہ ہو، اور فکر مند کیونکر نہ ہو، ایک مومن کا ان کےنگاہوں کےسامنے کفر وارتداد تک پہنچ جانا دوسرے مسلمان کےلیے کسی درد ناک حادثہ سے کم نہیں، اس لیے نہیں کہ دو سماج کے درمیان جنگ وجدل اور خون ریزی کا سبب بھی ہوسکتا ہے بلکہ اس لیے کہ یہ مسلمانوں کی عزت کا سوال ہے۔

مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکر:-
یہاں کی لڑکیاں تو تعلیم یافتہ ہیں لیکن‌
مگر کسی کے سر پہ ڈوپٹہ نظر نہیں آتا
آج اگر آپ نظر دوڑائیں گے تو پتہ چلے گا کہ مسلم بچیاں پردہ پوشی سے دور جا رہی ہیں اپنے گھر سے تو نقاب پوش ہو کر نکلتی ہیں لیکن گھر سے باہر نکلتے ہی بناؤ سنگھار غیروں کو دکھانے کے لیے چہرے کو کھول دیتی ہیں، اور غیر چہرے کو دیکھ کر مسخرا بناتے ہیں۔ پھر بھی مسلم بچیوں کو سمجھ نہیں آتی ہے افسوس صد افسوس۔
اے میری مسلم بہنوں تم یہ سمجھتی ہو اور کہتی بھی ہو کہ میرا والا ایسا نہیں ہے تو ویسا نہیں ہے پر یہ یاد رکھنا کہ سب کے سب تمہارے لیے ایک جیسے ہی ہیں، کوئی عبداللہ یا عبد الکریم نہیں بن سکتا،جب تک تمہاری عزت محفوظ رہے گی تب تک وہ تمہاری عزت کرےگا اور جیسےہی تمہاری عزت نیلام کر لے گا تو وہ تمہیں لات مارکر بھگادے گا۔
اے میری بہنوں اب تو سمبھل جاؤ اب تو ہوش کے ناخن لو آج چاہے ادری ہو یاخالص پور، چریا کوٹ،مئو بازار،صدرچوک،گھوسی،مرزاہادی پورہ ،پچھم پورہ،بچلا پورہ، دوہری گھاٹ،محمد آبادگوہنہ، خیر آباد، ولید پور بھیرہ چاہے مدھوبن،ہر جگہ کا یہی حال ہے کہ مسلم بچیاں اپنے چہرے کو کھول کر چلتی ہیں،جسے دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے اور غیر تنظیموں کی کوششیں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہیں،ابھی جلد ہی کا ایک واقعہ ہے کہ گھوسی سلطان پور میں ایک کالج میں درجنوں مسلم بچیوں کو بھگوا چادر یا شال اوڑھائی گئی اور اوڑھانے والے کوئی اور نہیں بلکہ غیر مسلم تھے اور مسلم بچیاں بہت شوق سے ان کے ہاتھوں سے اوڑھ رہی تھیں یہ شازش نہیں تو اور کیا ہے اگر ان کو انعامات سے نوازنا ہی مقصود تھا تو وہ کسی عورت کو بھیج کر انعامات سے نواز سکتے تھے مسلم بہنوں ان کی شازشوں کو سمجھو اور ناکام بناؤ ورنہ بعد میں افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں رہ جائے گا۔
آج کل کی یہ ہے محبت:-
ساری رات فون پر باتیں ، پہلے تجسس کی انتہا
ہر میسج پر دل کا دھڑکنا، ماں اگنور، باپ اگنور،
تعلیم اگنور، پھر ملاقاتیں، رنگین نظارے،
پھر لڑائی جھگڑے کی شروعات ،پھر بریک اپ ،پھر پیچ اپ، دوماہ بعد پھر بریک اپ، پھر پیچ اپ پھر اداسی کا اشتہار بن کر پھرنا، لوگوں کو ‏اپنی وفا اور اسکی بےوفائی کے قصے سناتے رہنا، سونے جیسے وقت کو مٹی میں ملا دینا، پہلے جینے مرنے کی قسمیں کھانا اور پھر آخر میں ایک دوسرے کو بد کردار کہہ کر اور گالیاں دے کر راستے الگ کر لینا۔ بس آج کل اسی کو محبت کہتے ہیں۔

مسلم بچیوں سنو!
واحد پرندہ جو عقاب کو چونچ مارنے کی ہمت کرتا ہے وہ کوا ہے. یہ عقاب کی پیٹھ پر بیٹھ کر اس کی گردن پر کاٹتا ہے لیکن عقاب جواب نہیں دیتا اور کوے سے الجھ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتا، اسکے بجائے یہ بس اپنے پر کھولتا ہے اور آسمان پر بہت اونچی اڑان بھرنا شروع کر دیتا ہے۔ اتنی زیادہ اونچائی پر کوے کے لیے سانس لینا نا ممکن ہو جاتا ہے اور پھر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کوا خودبخود بے حال ہو کر نیچے گر جاتا ہے. اس لیے کوے جیسی فطرت رکھنے والے اور بلا وجہ کی شوخیاں مارنے والے کم ظرف لوگوں کے ساتھ اپنا قیمتی وقت محبت کے نام پر ضائع کرنے کے بجائے ان کو اگنور کرنا چاہیے اس طرح یہ خود بخود اپنی اصلی اوقات پر آ جائیں گے. یہ معاشرے کے کوے جب آپ کی برابری یا مقابلہ نہیں کر سکتے تو آپ کو عشق کے جال میں پھنساکر غیر مسلم بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آپ پر اپنا طوفان برپا کر سکیں،اور آپ کی عزت کو تار تار کر سکیں،ان غیرمسلموں سے عقاب سے بھی زیادہ بچنے کی کوشش کریں،

اللہ تعالی ہمیں قوم کی ضرورتوں پر توجہ دینے کی توفیق عطا
فرمائے۔آمین ثم آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔
!مسلمانو
اس تحریر سے کسی کو نشانہ بنانا مقصود نہیں بلکہ حقیقت حال کی طرف توجہ دلانا اور صحیح فکر پیدا کرنا ہے۔
از۔محمدغیاث الدین مصباحی
بھیلو پاکڑ بچلا پورہ پوسٹ سرواں ضلع مئو۔ صوبہ اترپردیش انڈیا
موبائل نمبر 9621005655

07/09/2023

شہر مئو میں مسلم بچیاں فتنئہ ارتداد کے گھیرے میں:-

یہ دورفتنوں کا دور ہے پورے عالم میں خیروشر کی کشمکش چل رہی ہے کہیں لوگ اسلام کی خوبیوں کو جان کر اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں تو کہیں مغربی تہذیب وتمدن کے فروغ سے نوجوان دین اسلام سے بیزاری کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جیسے جیسے ذرائع ابلاغ بڑھتے جا رہے ہیں فتنے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان فتنوں میں ایک فتنۂ ارتداد بھی ہے اس فتنے کے ذریعے مسلم خواتین کو مرتد بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں نوجوان بچیاں اسلامی تہذیب اور اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کر کفر والحاد کے راستے پر چل پڑی ہیں۔ غیر مسلم آسانی سے مسلم بچیوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہو رہےہیں۔ ارتداد امت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اپنوں کا دین اسلام سے پھر جانا اور مرتد ہو جانا بڑے دکھ کی بات ہے۔
اور یہ فتنہ اسکول اور کالجوں سے شروع ہو رہا ہے آج اگر آپ نظر دوڑائیں گے تو پتہ چلے گا کہ مسلمان اپنی بچیوں کو اسکول اور کالج کے نام پر بھیج دیں رہے ہیں اور یہ بچیاں غیروں کے ساتھ رنگ ریلیاں منا رہی ہیں آپ نظر گھومائیں گے تو دیکھیں گے کہ پڑھائی کے نام پر مسلم بچیوں کو کبھی بھگوا چادر اوڑھایا جا رہی ہے تو کبھی بھگوا لوٹریپ کا شکار بنایا جارہا ہے ،اور ان سب کاموں میں ہمارے شہر مئو کی بچیاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں،
آج آپ شہر مئو کے بڑے اسکولوں اور کالجوں میں چلے جائیے اور دیکھیں تو ایک ہندو لڑکے کے ساتھ دو دو تین تین لڑکیاں گھوم رہی ہیں۔ آپ اس سے بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شہر مئو کے ہوٹلوں میں جب بھی پولیس چھاپا مارتی ہے تو اس میں مسلم بچیوں کی اکثریت ہوتی ہے اس میں صرف بچیوں کی غلطی نہیں ہوتی ہے بلکہ ماں باپ بھائی اور پورے گھر والوں کی غلطی ہوتی ہے اس لیے کہ بچیوں کو کالجوں اور اسکولوں میں داخلہ کرانے کے بعد نہ ہی ماں، باپ، بھائی اور نہ گھر والوں میں سے کوئی یہ دیکھنے جاتاہے کہ ہماری بچیاں کیا کر رہی ہیں اور نہ ہی کوئی ان بچیوں سے سوال کرتا ہے۔
اگر خاندان کا کوئی بھی فرد ان بچیوں میں سے کسی کو پکڑ لیتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ تم غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ کیا کر رہی ہو تو مسلم بچیاں یہ کہتی ہیں کی یہ میرا دوست ہے، لعنت ہےایسی لڑکیوں پر جس کالج یا اسکول میں ہندو لڑکوں کے ساتھ ایک بینچ پر بیٹھ کر پڑھنا پڑے تو ایسی پڑھائی سے جہالت بہتر ہے۔
مسلمانوں کے خلاف شازش رچی جا رہی ہے:-
مسلمانوں کے خلاف ہو رہی سازشوں میں اب تک کی سب سے بڑی سازش ہندتو وادی تنظیموں کے ذریعے یہ کی جارہی ہے کہ انہوں نے کھلم کھلا اعلان کردیا ہے کہ جو ہندو لڑکا مسلمان لڑکیوں سے شادی کر کے گھر واپسی کرائےگا، انہیں روزگار کے لیے دولاکھ روپے،رہائش کے لیے فلیٹ اور اس کے علاوہ ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا جائے گا،جس کے نتیجے میں آج ان کے بھیڑیے پاگل کتے کی طرح مسلم بچیوں کے پیچھے پڑگئے ہیں، وہ بہلا پھسلا کر لالچ دیکر پیار محبت کے جال میں پھنساکر طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا کر مسلمان بچیوں سے شادی کر رہے ہیں،اور اپنے آقاؤں سے داد وتحسین اور انعام واکرام حاصل کر رہے ہیں، یوں تو مسلمان عورتوں کا غیر مسلم سے، ہندو عورتوں کا مسلمان مردوں سے شادی کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسا جدید اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں ،ہیرو ہیروئنوں اور بڑے کاروباریوں میں پہلے سے ہوتا آرہا ہے،جس میں اکثر پیار اور عشق کی کار فرمائی ہوا کرتی تھی، مگر آج جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ فلاں مسلم لڑکی نے فلاں ہندو دوست کے ساتھ بھاگ کر شادی کرلی ہے یا فلاں لڑکی نے اپنے ہندو کلاس میٹ کے ساتھ کورٹ میرج کرلی، یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے،پھر جو مسلمان لڑکیوں میں ہندوؤں سے شادی کرنے کی لہر آئی ہے، سن کر دل چھلنی ہوکر رہ جاتاہے،کیا امیر کیا غریب، کیا پڑھا لکھا کیا گنوار، کیا شہری کیا دیہاتی یہ ایسی آندھی آئی ہے جس نے مسلم معاشرے کے ہر طبقہ کو متاثر کر رکھا ہے، یہ خبر جب پڑھی یا سنی جاتی ہے تو دل چھلنی چھلنی ہوکر رہ جاتا ہے،آنکھوں میں خون کے آنسوں چھلک پڑتے ہیں، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں،اس کی سنگینی کو دیکھ کر کوئی ایسا مسلمان نہیں جو اپنے پہلو میں دل رکھتا ہو وہ فکر مند نہ ہو، اور فکر مند کیونکر نہ ہو، ایک مومن کا ان کےنگاہوں کےسامنے کفر وارتداد تک پہنچ جانا دوسرے مسلمان کےلیے کسی درد ناک حادثہ سے کم نہیں، اس لیے نہیں کہ دو سماج کے درمیان جنگ وجدل اور خون ریزی کا سبب بھی ہوسکتا ہے بلکہ اس لیے کہ یہ مسلمانوں کی عزت کا سوال ہے۔

مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکر:-
یہاں کی لڑکیاں تو تعلیم یافتہ ہیں لیکن‌
مگر کسی کے سر پہ ڈوپٹہ نظر نہیں آتا
آج اگر آپ نظر دوڑائیں گے تو پتہ چلے گا کہ مسلم بچیاں پردہ پوشی سے دور جا رہی ہیں اپنے گھر سے تو نقاب پوش ہو کر نکلتی ہیں لیکن گھر سے باہر نکلتے ہی بناؤ سنگھار غیروں کو دکھانے کے لیے چہرے کو کھول دیتی ہیں، اور غیر چہرے کو دیکھ کر مسخرا بناتے ہیں۔ پھر بھی مسلم بچیوں کو سمجھ نہیں آتی ہے افسوس صد افسوس۔
اے میری مسلم بہنوں تم یہ سمجھتی ہو اور کہتی بھی ہو کہ میرا والا ایسا نہیں ہے تو ویسا نہیں ہے پر یہ یاد رکھنا کہ سب کے سب تمہارے لیے ایک جیسے ہی ہیں، کوئی عبداللہ یا عبد الکریم نہیں بن سکتا،جب تک تمہاری عزت محفوظ رہے گی تب تک وہ تمہاری عزت کرےگا اور جیسےہی تمہاری عزت نیلام کر لے گا تو وہ تمہیں لات مارکر بھگادے گا۔
اے میری بہنوں اب تو سمبھل جاؤ اب تو ہوش کے ناخن لو آج چاہے ادری ہو یاخالص پور، چریا کوٹ،مئو بازار،صدرچوک،گھوسی،مرزاہادی پورہ ،پچھم پورہ،بچلا پورہ، دوہری گھاٹ،محمد آبادگوہنہ، خیر آباد، ولید پور بھیرہ چاہے مدھوبن،ہر جگہ کا یہی حال ہے کہ مسلم بچیاں اپنے چہرے کو کھول کر چلتی ہیں،جسے دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے اور غیر تنظیموں کی کوششیں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہیں،ابھی جلد ہی کا ایک واقعہ ہے کہ گھوسی سلطان پور میں ایک کالج میں درجنوں مسلم بچیوں کو بھگوا چادر یا شال اوڑھائی گئی اور اوڑھانے والے کوئی اور نہیں بلکہ غیر مسلم تھے اور مسلم بچیاں بہت شوق سے ان کے ہاتھوں سے اوڑھ رہی تھیں یہ شازش نہیں تو اور کیا ہے اگر ان کو انعامات سے نوازنا ہی مقصود تھا تو وہ کسی عورت کو بھیج کر انعامات سے نواز سکتے تھے مسلم بہنوں ان کی شازشوں کو سمجھو اور ناکام بناؤ ورنہ بعد میں افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں رہ جائے گا۔
آج کل کی یہ ہے محبت:-
ساری رات فون پر باتیں ، پہلے تجسس کی انتہا
ہر میسج پر دل کا دھڑکنا، ماں اگنور، باپ اگنور،
تعلیم اگنور، پھر ملاقاتیں، رنگین نظارے،
پھر لڑائی جھگڑے کی شروعات ،پھر بریک اپ ،پھر پیچ اپ، دوماہ بعد پھر بریک اپ، پھر پیچ اپ پھر اداسی کا اشتہار بن کر پھرنا، لوگوں کو ‏اپنی وفا اور اسکی بےوفائی کے قصے سناتے رہنا، سونے جیسے وقت کو مٹی میں ملا دینا، پہلے جینے مرنے کی قسمیں کھانا اور پھر آخر میں ایک دوسرے کو بد کردار کہہ کر اور گالیاں دے کر راستے الگ کر لینا۔ بس آج کل اسی کو محبت کہتے ہیں۔

مسلم بچیوں سنو!
واحد پرندہ جو عقاب کو چونچ مارنے کی ہمت کرتا ہے وہ کوا ہے. یہ عقاب کی پیٹھ پر بیٹھ کر اس کی گردن پر کاٹتا ہے لیکن عقاب جواب نہیں دیتا اور کوے سے الجھ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتا، اسکے بجائے یہ بس اپنے پر کھولتا ہے اور آسمان پر بہت اونچی اڑان بھرنا شروع کر دیتا ہے۔ اتنی زیادہ اونچائی پر کوے کے لیے سانس لینا نا ممکن ہو جاتا ہے اور پھر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کوا خودبخود بے حال ہو کر نیچے گر جاتا ہے. اس لیے کوے جیسی فطرت رکھنے والے اور بلا وجہ کی شوخیاں مارنے والے کم ظرف لوگوں کے ساتھ اپنا قیمتی وقت محبت کے نام پر ضائع کرنے کے بجائے ان کو اگنور کرنا چاہیے اس طرح یہ خود بخود اپنی اصلی اوقات پر آ جائیں گے. یہ معاشرے کے کوے جب آپ کی برابری یا مقابلہ نہیں کر سکتے تو آپ کو عشق کے جال میں پھنساکر غیر مسلم بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آپ پر اپنا طوفان برپا کر سکیں،اور آپ کی عزت کو تار تار کر سکیں،ان غیرمسلموں سے عقاب سے بھی زیادہ بچنے کی کوشش کریں،

اللہ تعالی ہمیں قوم کی ضرورتوں پر توجہ دینے کی توفیق عطا
فرمائے۔آمین ثم آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔
!مسلمانو
اس تحریر سے کسی کو نشانہ بنانا مقصود نہیں بلکہ حقیقت حال کی طرف توجہ دلانا اور صحیح فکر پیدا کرنا ہے۔
از۔محمدغیاث الدین مصباحی
بھیلو پاکڑ بچلا پورہ پوسٹ سرواں ضلع مئو۔ صوبہ اترپردیش انڈیا
موبائل نمبر 9621005655

Photos from Mohammad Geyasuddin misbahi 's post 02/09/2023

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی مختصر سوانح حیات:-

امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نسبتاً پٹھان تھے، آپ کے والد حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللّٰہ علیہ 1257ھ 1880ء اور جد امجد حضرت مولانا رضا علی خان رحمۃ اللّٰہ علیہ 1282ھ 1866ء کے بلند پایہ عالم اور صاحب حال بزرگ تھے۔

ولادت:-
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت باسعادت 10 شوال 1272ھ 1856ء کو بریلی شریف کے جشولی گاؤں میں ہوئی۔
نام:- اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام محمد رکھا گیا اور تاریخی نام،، المختار،،
1676ھ 1852ء میں آپ کے جدِ امجد مولانا رضا علی خان رحمۃ اللّٰہ علیہ نے آپ کا نام احمد رضا تجویز فرمایا۔
تعلیم وذہانت:-
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی فطری ذہانت سے 13 سال یا اس سے کچھ ہی زیادہ میں علوم درسیہ سے فراغت حاصل کرلی علوم عربیہ سے فراغت کے بعد ہی آپ کے والد ماجد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللّٰہ علیہ نے آپ کو افتا کی ذمےداریاں تفویض کردیں۔ آپ نے اسی کم عمری میں اپنے علم وفضل کے سبب فتویٰ نویسی کا آغاز فرمایا۔ مولانا ظفر الدین بہاری کے نام ایک مکتوب تحریر فرماتے ہیں، بحمدہ تعالیٰ ١٤ شعبان المعظم کو 13 سال کی عمر میں پہلا فتویٰ لکھا اور اگر زندگی رہی تو 10 شعبان المعظم 1336 ھ 1970ء کو اس فقیر کو فتویٰ نویسی کرتے ہوئے بفضلہ تعالٰی پورے پچاس سال ہوجائیں گے اس نعمت کا شکریہ فقیر کیا ادا کر سکتا ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی تحریروتقریر سے برصغیر کے مسلمانوں کے عقیدہ وعمل کی اصلاح فرمائی، آپ کے ملفوظات جس طرح ایک صدی پہلے رہنمائی کرتے تھے، ایسے ہی آج بھی مشعل راہ ہیں، دور حاضر میں ان پر عمل کی ضرورت مزید بڑھ چکی ہے،چند فرامین مبارکہ ملاحظہ کیجیے، اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
(1)ماں باپ کی ممانعت کے ساتھ نفل جائز نہیں (ملفوظات اعلی حضرت ص182)
(2) والدین کے ساتھ حسن سلوک اعظم واجبات اور اہم عبادات میں سے ہے حتیٰ کہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی شکر گزاری کو اپنے شکریے کے ساتھ متصل فرماتے ہوئے یہ حکم دیا: میرے شکر گزار بنو اور اپنے والدین کے۔ (فتاویٰ رضویہ ج10ص678)
(3) اطاعت والدین جائز باتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مرتکب کبیرہ ہوں۔(فتاویٰ رضویہ ج21ص157)
(4) بے عقل شریر اور ناسمجھ جب طاقت و توانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے ماں باپ پر ہی زور آزمائی کرتے ہیں اور ان کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظر آجائے گا جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کیے ہوئے کی جزا اپنے ہاتھ سے چکھیں گے۔جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ (فتاویٰ رضویہ ج 24ص424)
(5)کسی مسلمان بلکہ کافر ذمی کو بھی بلاحاجت شرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل آزاری ہو اسے ایذا پہنچے، شرعاً ناجائز وحرام ہے۔(فتاویٰ رضویہ جلد 23ص204)
(6) عوام وخواص کے یہ بھی زبان زد ہےکہ بخار کی شکایت ہے،درد سر کی شکایت ہے، زکام کی شکایت ہے، وغیرہ وغیرہ۔یہ نہ کہنا چاہیے۔اس لیے کہ جملہ امراض کا ظہور من جانب اللہ ہوتا ہے تو شکایت کیسی۔ (حیات اعلیٰ حضرت ج3ص94)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو جن علوم و فنون میں مہارت حاصل تھی ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل یہ ہیں:
1علم قرآن 2 علم حدیث 3علم جدل4علم تفسیر5علم عقائدکلام6اصول حدیث 7فقہ جملہ مذاہب 8 اصول فقہ 9 علم نحو 10علم صرف 11علم معانی12علم بیان 13 علم بدیع14 علم منطق 15 مناظرہ16 فلسفہ 17 تکسیر18 ھیت 19 حساب 20 ہندسہ 21 قرأت22 تجوید 23 تصوف 24 سلوک 25 اخلاق 26 اسماء الرجال سیر27 تاریخ 28 نعت 29 ادب 30 ارثماطیقی31 جبرومقابلہ 32 حساب سینی33 لوگار ثمات34 توقیت35 مناظرہ ومرایازیجات36 مثلث کردی37مثلث مسطح38 ہیت جدیدہ 39 مرابعات40 جفر41 زائر جاکر42 علم فرائض 43 عروض و اقوافی 44 نجوم اوفاق فن تاریخ 45 نظم و نثر فارسی 46 نثر و نظم ہندی47خط نسخ48 خط نستعلیق 49 علم ریاضی 50 علم سائنس وغیرہ اس طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے جن علوم و فنون پر دسترس حاصل کی ان کی تعداد 54 سے متجاوز ہے میرے خیال سے عالم اسلام میں مشکل ہی سے کوئی ایسا عالم نظر آئے گا جو اس قدر علوم و فنون میں دسترس رکھتا ہو۔ پھر یہی نہیں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے علوم کی تحصیل کی بلکہ ہر ایک علم و فن میں اپنی کوئی نہ کوئی یاد گار چھوڑ دی ہے، جن علوم و فنون کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کچھ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے خود ترک فرمادیا ہے،جن میں سے کچھ یہ ہیں، فلسفہ، ھئیت،ھندسہ،نجوم،لوگارثمات،اور فنون ریاضی وغیرہ۔

تصوف کی ابتداء:-
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ 1294ھ 1877ء میں اپنے والد حضرت مولانا نقی رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ہمراہ حضرت شاہ آل رسول رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے نوازے گئے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دیوان میں اپنے مرشد طریقت کی شان میں ایک منقبت لکھی ہے جس کا مطلع یہ ہے:
خوشادے کہ دہندش دلائے آل رسول
خوشامرے کہ کنندش فدائےآل رسول
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو جن سلاسل وطرق سے اجازت و خلافت حاصل تھی اس کی تفصیل اپنے معلومات کے مطابق مندرجہ ذیل ہے:
قادریہ برکاتیہ جدیدہ
قادریہ آبائیہ قدیمہ
قادریہ رزاقیہ
قادریہ منورہ
قادریہ اہدلیہ
سہروردیہ فضیلہ
چشتیہ نظامیہ
چشتیہ محبوبیہ
نقشبندیہ علائیہ صدیقیہ
نقشبندیہ علائیہ علویہ
بدیعیہ
علویہ منامیہ
وغیرہ وغیرہ،
مندرجہ بالا سلاسل کے علاوہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو مصافحات اربعہ کی سندات سے بھی نوازا گیا جس کی تفصیل اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اس طرح بیان کیے ہیں،
مصاحفتہ ہ،الحسنیہ،
مصاحفتہ ہ العمریہ،
مصافحتہ ہ الخضریہ،
مصافحتہ ہ المنانیہ،
ان مصافحات واجازت کے علاوہ مختلف اذکار و اشغال اور اعمال وغیرہ کی بھی آپ کو اجازت حاصل تھی جیسے خواص القرآن اسماء الہٰیہ، دلائل الخیرات حصن حصین حزب البحر،ضرب النصر،حرزالامیرین، حرزالیمانی دعا مغنی،دعاحیدری، دعا عزارائیلی،دعا سریانی،قصیدہ غوثیہ،قصیدہ بردہ شریف وغیرہ وغیرہ۔
حج بیت اللہ:-
1323ھ 1905ء کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ دوسری بار حج بیت اللہ اور زیارت حرمین شریفین کے لیے تشریف لے گئے،اس موقع پر ایک نظم کہتے تھے جو ان کے نعتیہ دیوان میں موجود ہے، جس کا شعر یہ ہے،،
شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفرکی ہے
جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے
اس سفر میں علماے حرمین شریفین نے آپ کی قدر و منزلت کی جس کا بخوبی اندازہ حسام الحرمین،الدولتہ المکیہ،اور کفل الفقیہ وغیرہ سے ہوتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی جس قدر عزت افزائی کی گئی اس کا آنکھوں دیکھا حال شیخ اسماعیل رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرمایا ہے،لکھتے ہیں
اہل مکہ جوق در جوق آپ کے ارد گرد جمع ہوگئے بہت سے حضرات نے آپ سے التجاء کی کہ ان کو سند واجازت سے نوازا جائے،چنانچہ ان کے اصرار کی وجہ سے ایسا ہی کیا گیا۔ مولانا حامد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ اس سفر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ تھے وہ الاجازت المتینہ کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ اجازت طلبی کے لیے سب سے پہلے مولانا عبد الحی مکی تشریف لائے ان کے ساتھ ایک جوان صالح شیخ حسین جمال بن عبد الرحیم تھے دونوں حضرات کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے سند واجازت سے نوازا،ان کے بعد مولانا شیخ صالح کمال اور بعض دوسرے اہل علم آئے اور اجازت سے مشرف ہوئے۔
مولانا سید اسماعیل خلیل تشریف لائے۔ چنانچہ موصوف اور ان کے بھائی سید مصطفیٰ خلیل کو اجازت مرحمت فرمائی۔ ان کے بعد شیخ احمد خضراوی تشریف لائے انکے بعد اور لوگ بھی آنے لگے، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے سب کو اجازت سے مشرف فرمایا بعض حضرات رہ گئے تو ان سے وعدہ فرمایاکہ وطن عزیز واپسی کے بعد سندات ارسال کردی جائیں گی، قیام مکہ ہی کے زمانے میں شیخ عبد القادر کردی اور ان کے صاحبزدے شیخ فریداور سید محمد عمر کو بھی اجازت سے مشرف فرمایا،اس کے بعد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ دیار حبیب صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعنی مدینہ منورہ تشریف لے گئے یہاں جس اکرام و عزاز سے نوازے گئے۔

اس کا چشم دید حال مولانا عبد الکریم مہاجر مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی زبانی سنیے ،وہ لکھتے ہیں: میں کئی سال سے مدینے میں مقیم ہوں،ہندوستان سے ہزاروں عالم دین آتے ہیں،ان میں اتقیاء علما سب ہوتے ہیں میں نے دیکھا کہ وہ شہر کے گلی کوچوں میں ادھر، ادھر پھرتے ہیں لیکن کوئی بھی ان کو مڑ کر نہیں دیکھتا ہے، لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شان عجیب ہے یہاں کے یعنی حرمین شریفین کے علما اور بزرگ سب ان کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں،اور ان کی تعظیم میں تعجیل کہشاں ہیں،یہ اللہ تعالیٰ کا فضل خاص ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے،مدینہ طیبہ میں بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بہت سے علماے کرام نے اجازت وسند حاصل کی بہت کو زبانی اجازت مرحمت فرمائی اور بعض سے وعدہ کیا کہ وطن عزیز (یعنی ہندوستان) واپسی کے بعد سند ارسال کردی جائے گی جیسے،شیخ الدلائل شیخ محمد،سید مامون البری ، شیخ عمر بن حمدان المحرسی وغیرہ
وصال مبارک:-
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے 25 صفر المظفر 1340ھ دن جمعۃ المبارکۃ دوپہر 2 بج کر 38 منٹ پر اپنے آبائی علاقے بریلی شریف میں وصال فرمایا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
مزار مبارک:-
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا مزار مبارک شہر بریلی شریف میں محلہ سوداگران میں منظر اسلام کے شمالی جانب ایک پر شکوہ عمارت میں ہے، امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا عرس مبارک ہر سال 24، 25 صفر المظفر کو منایا جاتا ہے اور پورے ہندوستان کے علما ومشائخ عرس میں شرکت کرتے ہیں،

محمد غیاث الدین مصباحی
بھیلو پاکڑ بچلا پورہ پوسٹ سرواں ضلع مئو۔
صوبہ،اترپردیش، انڈیا،
موبائل نمبر9621005655

02/09/2023

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی مختصر سوانح حیات:-

امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نسبتاً پٹھان تھے، آپ کے والد حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللّٰہ علیہ 1257ھ 1880ء اور جد امجد حضرت مولانا رضا علی خان رحمۃ اللّٰہ علیہ 1282ھ 1866ء کے بلند پایہ عالم اور صاحب حال بزرگ تھے۔

ولادت:-
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت باسعادت 10 شوال 1272ھ 1856ء کو بریلی شریف کے جشولی گاؤں میں ہوئی۔
نام:- اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام محمد رکھا گیا اور تاریخی نام،، المختار،،
1676ھ 1852ء میں آپ کے جدِ امجد مولانا رضا علی خان رحمۃ اللّٰہ علیہ نے آپ کا نام احمد رضا تجویز فرمایا۔
تعلیم وذہانت:-
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی فطری ذہانت سے 13 سال یا اس سے کچھ ہی زیادہ میں علوم درسیہ سے فراغت حاصل کرلی علوم عربیہ سے فراغت کے بعد ہی آپ کے والد ماجد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللّٰہ علیہ نے آپ کو افتا کی ذمےداریاں تفویض کردیں۔ آپ نے اسی کم عمری میں اپنے علم وفضل کے سبب فتویٰ نویسی کا آغاز فرمایا۔ مولانا ظفر الدین بہاری کے نام ایک مکتوب تحریر فرماتے ہیں، بحمدہ تعالیٰ ١٤ شعبان المعظم کو 13 سال کی عمر میں پہلا فتویٰ لکھا اور اگر زندگی رہی تو 10 شعبان المعظم 1336 ھ 1970ء کو اس فقیر کو فتویٰ نویسی کرتے ہوئے بفضلہ تعالٰی پورے پچاس سال ہوجائیں گے اس نعمت کا شکریہ فقیر کیا ادا کر سکتا ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی تحریروتقریر سے برصغیر کے مسلمانوں کے عقیدہ وعمل کی اصلاح فرمائی، آپ کے ملفوظات جس طرح ایک صدی پہلے رہنمائی کرتے تھے، ایسے ہی آج بھی مشعل راہ ہیں، دور حاضر میں ان پر عمل کی ضرورت مزید بڑھ چکی ہے،چند فرامین مبارکہ ملاحظہ کیجیے، اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
(1)ماں باپ کی ممانعت کے ساتھ نفل جائز نہیں (ملفوظات اعلی حضرت ص182)
(2) والدین کے ساتھ حسن سلوک اعظم واجبات اور اہم عبادات میں سے ہے حتیٰ کہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی شکر گزاری کو اپنے شکریے کے ساتھ متصل فرماتے ہوئے یہ حکم دیا: میرے شکر گزار بنو اور اپنے والدین کے۔ (فتاویٰ رضویہ ج10ص678)
(3) اطاعت والدین جائز باتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مرتکب کبیرہ ہوں۔(فتاویٰ رضویہ ج21ص157)
(4) بے عقل شریر اور ناسمجھ جب طاقت و توانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے ماں باپ پر ہی زور آزمائی کرتے ہیں اور ان کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظر آجائے گا جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کیے ہوئے کی جزا اپنے ہاتھ سے چکھیں گے۔جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ (فتاویٰ رضویہ ج 24ص424)
(5)کسی مسلمان بلکہ کافر ذمی کو بھی بلاحاجت شرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل آزاری ہو اسے ایذا پہنچے، شرعاً ناجائز وحرام ہے۔(فتاویٰ رضویہ جلد 23ص204)
(6) عوام وخواص کے یہ بھی زبان زد ہےکہ بخار کی شکایت ہے،درد سر کی شکایت ہے، زکام کی شکایت ہے، وغیرہ وغیرہ۔یہ نہ کہنا چاہیے۔اس لیے کہ جملہ امراض کا ظہور من جانب اللہ ہوتا ہے تو شکایت کیسی۔ (حیات اعلیٰ حضرت ج3ص94)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو جن علوم و فنون میں مہارت حاصل تھی ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل یہ ہیں:
1علم قرآن 2 علم حدیث 3علم جدل4علم تفسیر5علم عقائدکلام6اصول حدیث 7فقہ جملہ مذاہب 8 اصول فقہ 9 علم نحو 10علم صرف 11علم معانی12علم بیان 13 علم بدیع14 علم منطق 15 مناظرہ16 فلسفہ 17 تکسیر18 ھیت 19 حساب 20 ہندسہ 21 قرأت22 تجوید 23 تصوف 24 سلوک 25 اخلاق 26 اسماء الرجال سیر27 تاریخ 28 نعت 29 ادب 30 ارثماطیقی31 جبرومقابلہ 32 حساب سینی33 لوگار ثمات34 توقیت35 مناظرہ ومرایازیجات36 مثلث کردی37مثلث مسطح38 ہیت جدیدہ 39 مرابعات40 جفر41 زائر جاکر42 علم فرائض 43 عروض و اقوافی 44 نجوم اوفاق فن تاریخ 45 نظم و نثر فارسی 46 نثر و نظم ہندی47خط نسخ48 خط نستعلیق 49 علم ریاضی 50 علم سائنس وغیرہ اس طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے جن علوم و فنون پر دسترس حاصل کی ان کی تعداد 54 سے متجاوز ہے میرے خیال سے عالم اسلام میں مشکل ہی سے کوئی ایسا عالم نظر آئے گا جو اس قدر علوم و فنون میں دسترس رکھتا ہو۔ پھر یہی نہیں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے علوم کی تحصیل کی بلکہ ہر ایک علم و فن میں اپنی کوئی نہ کوئی یاد گار چھوڑ دی ہے، جن علوم و فنون کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کچھ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے خود ترک فرمادیا ہے،جن میں سے کچھ یہ ہیں، فلسفہ، ھئیت،ھندسہ،نجوم،لوگارثمات،اور فنون ریاضی وغیرہ۔

تصوف کی ابتداء:-
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ 1294ھ 1877ء میں اپنے والد حضرت مولانا نقی رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ہمراہ حضرت شاہ آل رسول رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے نوازے گئے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دیوان میں اپنے مرشد طریقت کی شان میں ایک منقبت لکھی ہے جس کا مطلع یہ ہے:
خوشادے کہ دہندش دلائے آل رسول
خوشامرے کہ کنندش فدائےآل رسول
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو جن سلاسل وطرق سے اجازت و خلافت حاصل تھی اس کی تفصیل اپنے معلومات کے مطابق مندرجہ ذیل ہے:
قادریہ برکاتیہ جدیدہ
قادریہ آبائیہ قدیمہ
قادریہ رزاقیہ
قادریہ منورہ
قادریہ اہدلیہ
سہروردیہ فضیلہ
چشتیہ نظامیہ
چشتیہ محبوبیہ
نقشبندیہ علائیہ صدیقیہ
نقشبندیہ علائیہ علویہ
بدیعیہ
علویہ منامیہ
وغیرہ وغیرہ،
مندرجہ بالا سلاسل کے علاوہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو مصافحات اربعہ کی سندات سے بھی نوازا گیا جس کی تفصیل اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اس طرح بیان کیے ہیں،
مصاحفتہ ہ،الحسنیہ،
مصاحفتہ ہ العمریہ،
مصافحتہ ہ الخضریہ،
مصافحتہ ہ المنانیہ،
ان مصافحات واجازت کے علاوہ مختلف اذکار و اشغال اور اعمال وغیرہ کی بھی آپ کو اجازت حاصل تھی جیسے خواص القرآن اسماء الہٰیہ، دلائل الخیرات حصن حصین حزب البحر،ضرب النصر،حرزالامیرین، حرزالیمانی دعا مغنی،دعاحیدری، دعا عزارائیلی،دعا سریانی،قصیدہ غوثیہ،قصیدہ بردہ شریف وغیرہ وغیرہ۔
حج بیت اللہ:-
1323ھ 1905ء کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ دوسری بار حج بیت اللہ اور زیارت حرمین شریفین کے لیے تشریف لے گئے،اس موقع پر ایک نظم کہتے تھے جو ان کے نعتیہ دیوان میں موجود ہے، جس کا شعر یہ ہے،،
شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفرکی ہے
جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے
اس سفر میں علماے حرمین شریفین نے آپ کی قدر و منزلت کی جس کا بخوبی اندازہ حسام الحرمین،الدولتہ المکیہ،اور کفل الفقیہ وغیرہ سے ہوتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی جس قدر عزت افزائی کی گئی اس کا آنکھوں دیکھا حال شیخ اسماعیل رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرمایا ہے،لکھتے ہیں
اہل مکہ جوق در جوق آپ کے ارد گرد جمع ہوگئے بہت سے حضرات نے آپ سے التجاء کی کہ ان کو سند واجازت سے نوازا جائے،چنانچہ ان کے اصرار کی وجہ سے ایسا ہی کیا گیا۔ مولانا حامد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ اس سفر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ تھے وہ الاجازت المتینہ کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ اجازت طلبی کے لیے سب سے پہلے مولانا عبد الحی مکی تشریف لائے ان کے ساتھ ایک جوان صالح شیخ حسین جمال بن عبد الرحیم تھے دونوں حضرات کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے سند واجازت سے نوازا،ان کے بعد مولانا شیخ صالح کمال اور بعض دوسرے اہل علم آئے اور اجازت سے مشرف ہوئے۔
مولانا سید اسماعیل خلیل تشریف لائے۔ چنانچہ موصوف اور ان کے بھائی سید مصطفیٰ خلیل کو اجازت مرحمت فرمائی۔ ان کے بعد شیخ احمد خضراوی تشریف لائے انکے بعد اور لوگ بھی آنے لگے، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے سب کو اجازت سے مشرف فرمایا بعض حضرات رہ گئے تو ان سے وعدہ فرمایاکہ وطن عزیز واپسی کے بعد سندات ارسال کردی جائیں گی، قیام مکہ ہی کے زمانے میں شیخ عبد القادر کردی اور ان کے صاحبزدے شیخ فریداور سید محمد عمر کو بھی اجازت سے مشرف فرمایا،اس کے بعد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ دیار حبیب صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعنی مدینہ منورہ تشریف لے گئے یہاں جس اکرام و عزاز سے نوازے گئے۔

اس کا چشم دید حال مولانا عبد الکریم مہاجر مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی زبانی سنیے ،وہ لکھتے ہیں: میں کئی سال سے مدینے میں مقیم ہوں،ہندوستان سے ہزاروں عالم دین آتے ہیں،ان میں اتقیاء علما سب ہوتے ہیں میں نے دیکھا کہ وہ شہر کے گلی کوچوں میں ادھر، ادھر پھرتے ہیں لیکن کوئی بھی ان کو مڑ کر نہیں دیکھتا ہے، لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شان عجیب ہے یہاں کے یعنی حرمین شریفین کے علما اور بزرگ سب ان کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں،اور ان کی تعظیم میں تعجیل کہشاں ہیں،یہ اللہ تعالیٰ کا فضل خاص ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے،مدینہ طیبہ میں بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بہت سے علماے کرام نے اجازت وسند حاصل کی بہت کو زبانی اجازت مرحمت فرمائی اور بعض سے وعدہ کیا کہ وطن عزیز (یعنی ہندوستان) واپسی کے بعد سند ارسال کردی جائے گی جیسے،شیخ الدلائل شیخ محمد،سید مامون البری ، شیخ عمر بن حمدان المحرسی وغیرہ
وصال مبارک:-
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے 25 صفر المظفر 1340ھ دن جمعۃ المبارکۃ دوپہر 2 بج کر 38 منٹ پر اپنے آبائی علاقے بریلی شریف میں وصال فرمایا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
مزار مبارک:-
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا مزار مبارک شہر بریلی شریف میں محلہ سوداگران میں منظر اسلام کے شمالی جانب ایک پر شکوہ عمارت میں ہے، امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا عرس مبارک ہر سال 24، 25 صفر المظفر کو منایا جاتا ہے اور پورے ہندوستان کے علما ومشائخ عرس میں شرکت کرتے ہیں،

محمد غیاث الدین مصباحی
بھیلو پاکڑ بچلا پورہ پوسٹ سرواں ضلع مئو۔
صوبہ،اترپردیش، انڈیا،
موبائل نمبر9621005655

Want your school to be the top-listed School/college in Maunath Bhanjan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


India Mau
Maunath Bhanjan
275101