30/12/2022
میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں
میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں
سرمحفل نگاہیں مجھ پہ جن لوگوں کی پڑتی ہیں
نگاہوں کے معانی سے وہ چہرے یاد رکھتا ہوں
ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے
کہ جن پہ بوجھ میں ڈالوں وہ کاندھے یاد رکھتا ہوں
میں یوں بھی بھول جاتا ہوں خراشیں تلخ باتوں کی
مگر جو زخم گہرے دیں وہ رویے یاد رکھتا ہوں