17/05/2026
🕌 اہلِ خیر حضرات توجہ فرمائیں
دارالعلوم فیض محمدی ہتھیاگڑھ، مہراج گنج کی مسجد “النور” کے بالائی حصے میں کوٹہ اسٹون لگانے کا کام جاری ہے۔
آپ حضرات سے تعاون کی درخواست ہے۔
آئیے اس کارِ خیر میں حصہ لے کر اپنے لیے صدقۂ جاریہ بنائیں۔
📌 تعاون کے لیے QR Code اسکین کریں۔
جزاکم اللہ خیراً
🕌 अहले खैर हज़रात तवज्जोह फरमाएं
दारुल उलूम फैज़े मोहम्मदी, हथियागढ़, महराजगंज की मस्जिद “AL-Noor” के प्रथम तल पर Kota Stone लगाने का कार्य जारी है।
आप सभी से सहयोग की गुजारिश है।
आइए इस नेक काम में हिस्सा लेकर अपने लिए सदक़ा-ए-जारिया बनाएं।
📌 सहयोग के लिए QR Code स्कैन करें।
जज़ाकुमुल्लाहु खैरन
#मस्जिद_तामीर #सदकाएजारिया
https://youtube.com/shorts/quznOoleq1k?si=SWd-2FBxEQa7RXoN
15/08/2025
*🇮🇳 79वां स्वतंत्रता दिवस समारोह दारुल उलूम फैज़े मोहम्मदी में धूमधाम से सम्पन्न 🇮🇳*
हमारे देश के गौरवशाली इतिहास, स्वतंत्रता सेनानियों के त्याग और बलिदान की याद दिलाने वाला 15 अगस्त 2025, *79वां स्वतंत्रता दिवस समारोह दारुल उलूम फैज़े मोहम्मदी, हथियागढ़, लक्ष्मीपुर, महराजगंज* में परम्परागत रूप से आकर्षक ढंग से मनाया गया।
पर्चम कुशाई का अमल मैनेजर *जनाब साद रशीद ख़ान साहब*, प्रधानाचार्य *जनाब मोहम्मद मोहिउद्दीन क़ासमी नदवी* और विशिष्ट अतिथि एडवोकेट *जनाब महताब आलम ख़ान साहब* के हाथों से अंजाम दिया गया।
इस अवसर पर तलबा व तालेबात द्वारा देशभक्ति गीत, कविताएँ और भाषण प्रस्तुत किए गए, जिनमें देश के गौरव, एकता और भाईचारे का संदेश निहित था।
कार्यक्रम में मदरसे के सभी अध्यापक/कर्मचारी के साथ-साथ सभी तलबा व तालेबात ने उत्साह और हर्षोल्लास के साथ भाग लिया।
अंत में मुल्क की तरक्की, अमन व सलामती और आपसी भाईचारे की दुआ के साथ कार्यक्रम का समापन किया गया।
---
۔دارالعلوم فیض محمدی میں 79 واں یوم آزادی کا پروگرام شاندار انداز میں منعقد 🇮🇳
ہمارے ملک کی شاندار تاریخ، آزادی کے متوالوں کی قربانیوں اور شہادتوں کی یاد دلاتا ہوا 15 اگست 2025ء، 79واں یوم آزادی کا پروگرام دارالعلوم فیض محمدی، ہتھیہ گڑھ، لکشمی پور، مہراج گنج میں روایتی اور پُرکشش انداز میں منایا گیا۔
پرچم کشائی کا عمل مینجر جناب سعاد رشید خان صاحب، پرنسپل جناب محمد محی الدین قاسمی ندوی اور معزز مہمان ایڈووکیٹ جناب مہتاب عالم خان صاحب کے ہاتھوں انجام پایا۔
اس موقع پر طلبہ و طالبات نے ملی نغمے، نظمیں اور تقاریر پیش کیں جن میں ملک کے وقار، اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام شامل تھا۔
پروگرام میں مدرسے کے تمام اساتذہ و ملازمین کے ساتھ ساتھ تمام طلبہ و طالبات نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
آخر میں ملک کی ترقی، امن و سلامتی اور باہمی بھائی چارے کی دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔
#15اگست
22/07/2025
📸 بزمِ صحافت 2025
دارالعلوم فیض محمدی، ہتھیا گڈھ (لکشمی پور، مہراج گنج)
صحافت: مظلوم کی آواز اور ظالم کے خلاف تلوار!
آج دارالعلوم فیض محمدی میں منعقدہ "بزمِ صحافت" کی پروقار تقریب میں طلباء نے اپنی ادبی، صحافتی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کیا۔
سربراہ ادارہ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے صحافت کو "جمہوریت کا چوتھا ستون" قرار دیا، اور طلباء کو خوشخطی، مطالعہ اور ایماندار صحافتی مزاج اپنانے کی ترغیب دی۔
مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے روزمرہ مطالعہ، ڈائری نویسی اور زبان دانی کو صحافت کی بنیاد بتایا۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ولی اللہ ندوی نے فرمایا: قلم کے ذریعہ قوموں کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے، صحافت ایک مقدس ذمہ داری ہے۔
🌟 جداریہ (Wall Magazine) کی نقاب کشائی
📚 تعلیمی و صحافتی گفتگو
🖊️ مضمون نگاری، نعت، ترغیبات
اللّٰہ ہمارے طلباء کو دین و دنیا کی خدمت کے لیے باصلاحیت بنائے۔ آمین!
17/07/2025
شجر کاری مہم” باپ کے نام سے بھی معنون ہونا چاہئے
قاری محمد طیب قاسمی
شجرکاری کی اہمیت کے مد نظر آج مؤرخہ جولائی 2025بروز بدھ ، اسٹیٹ بینک آف انڈیا(برانچ موہن پور) کے عملہ کی موجودگی میں” ایک پیڑ ماں کے نام ،، مہم کے تحت دارالعلوم فیض محمدی کے وسیع کیمپس میں سایہ دار و پھل دار پودے لگائے گئے ، اس موقع پر دارالعلوم فیض محمدی کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے شجر کاری کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ : لوگ زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں ، اور کرہ ارض کو سرسبز وشاداب بنانے میں اپنا تعاون دیں ، کیوں کہ اس عمل میں دینی ودنیاوی اعتبار سے بے شمار فائدے ہیں، حکومتی سطح کی شجر کاری کی یہ مہم” ماں کے نام سے معنون کرکے چلایا جانا یقینا قابل مبارکباد ہے،لیکن میرے خیال سے شجرکاری کی تحریک باپ کے نام سے معنون کرکے چلائے جانے کی ضرورت ہے، کیوں کہ باپ کی گود گرچہ ماں کی گود کی طرح نرم نہیں ، مگر اسکے کندھے زندگی کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہوتے ہیں وہ چھاؤں اور دھوپ میں ایسا سائبان ہوتا ہے جس میں استمرار ودوام ہے۔ ماں گرچہ محبت کا پیکر ہے مگر باپ مستقبل کا تحفظ اور قربانی کا مجسمہ ہے ، وہ اپنے بچوں کی خوشیوں کے لئے دن رات محنت کرتا ہے ، اپنی خواہشات کو قربان کرتا ہے۔اس لئے باب کے نام سے بھی پیڑ پودے لگانا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔اس مہم میں تیزی لانے کے لئے محمد انس نے بھی آم کا پیڑ لگاکر دوسروں کو پودے لگانے کی اپیل کی ہے۔
ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی نے کہا کہ: اسلام میں جہاں ہرے درختوں کی کٹائی سے منع کیا گیا ہے، وہیں شجر کاری کی تلقین بھی کی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اس پر توجہ دی جاتی رہی ہے ، ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ اور انسان کو صاف وشفاف ہوا کے لئے درختوں اور پودوں کا ہونا بہت ضروری ہے ، اس سے انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ شجر کاری کی اہمیت ان حالات میں مزید بڑھ جاتی ہے جب چاروں طرف آلودگی نے بسیرا ڈال رکھا ہو ، صاف وشفاف ہوا کے لئے انسان ترس رہا ہو، اور زہر آلود ہوائیں نسل انسانی کی صحت کو بری طرح سے متاثر کررہی ہیں۔
دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے بھی شجرکاری کی افادیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ: شجرکاری کے بغیر فضائی آلودگی پر کنٹرول پانا نا ممکن ہے، ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ایک طرف درختوں اور پودوں سے پھل وپھول فراہم ہوتے ہیں ، تو وہیں دوسری طرف ان کے ذریعہ شدید دھوپ میں راہ گیروں کے لئے سایہ کا انتظام بھی ہوتا ہے ، اس لئے ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ درختوں اور پودوں کا وجود ، آسمان سے ابر رحمت کے اترنے کا سبب بھی ہوتا ہے، نیز درختوں سے کائنات کا قدرتی حسن بھی دوبالا ہوتا ہے، درجہ حرارت میں تخفیف ہوتی ہے، اور سب سے بڑا فائدہ یہ کہ فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والے جراثیم کو یہ پیڑ پودے اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں۔
اس مہم کو کامیاب بنانے میں دارالعلوم فیض محمدی کے اساتذہ وطلبہ بالخصوص ، مفتی احسان الحق قاسمی، ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مولانا ظل الرحمان ندوی، حافظ ذبیح اللہ، مولانا محمد سعید قاسمی، مولا شکراللہ قاسمی، مولانامحمدیحیٰ ندوی، حافظ سلیم احمد ، قاری محمد اسجد ، ماسٹر ہردیا نند کشواہاو ماسٹر فیض احمد وغیرہ پیش پیش رہے۔
💚 آئیں! ہم بھی ایک پیڑ اپنے والدین کے نام لگاکر زمین کو سرسبز و شاداب بنائیں۔
#شجرکاری