01/04/2026
مقالات ومضامین: اپریل 2026 اہلِ ذوق قارئین! بلاگ **مقالات و مضامین** میں خوش آمدید—یہ بلاگ دین، فکر، تہذیب، اور معاشرت کے مختلف پہلوؤں کا آئینہ ہے۔ اگر کوئی تحریر دل کو چھو جائے، سوچ کو مہمیز دے ....
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Daruttalim Wassanah Lilbanat, Education, Village Usrahi, PO Parsauni, Block Bisfi, Madhubani.
This is a female purely Islamic educational institution, whose purpose is to develop women who are Indians in terms of color and race, and according to Islamic terms of hearts and minds.
01/04/2026
مقالات ومضامین: اپریل 2026 اہلِ ذوق قارئین! بلاگ **مقالات و مضامین** میں خوش آمدید—یہ بلاگ دین، فکر، تہذیب، اور معاشرت کے مختلف پہلوؤں کا آئینہ ہے۔ اگر کوئی تحریر دل کو چھو جائے، سوچ کو مہمیز دے ....
09/03/2026
مقالات ومضامین: شبِ قدر: فضیلت، اہمیت اور پیغامِ سعادت اہلِ ذوق قارئین! بلاگ **مقالات و مضامین** میں خوش آمدید—یہ بلاگ دین، فکر، تہذیب، اور معاشرت کے مختلف پہلوؤں کا آئینہ ہے۔ اگر کوئی تحریر دل کو چھو جائے، سوچ کو مہمیز دے ....
05/03/2026
مقالات ومضامین: صدقہ: حقیقت، احکام اور ثمرات (ایک جامع علمی مطالعہ) اہلِ ذوق قارئین! بلاگ **مقالات و مضامین** میں خوش آمدید—یہ بلاگ دین، فکر، تہذیب، اور معاشرت کے مختلف پہلوؤں کا آئینہ ہے۔ اگر کوئی تحریر دل کو چھو جائے، سوچ کو مہمیز دے ....
25/02/2026
مقالات ومضامین: ماہِ صیام: تجلیاتِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کا موسمِ بہار اہلِ ذوق قارئین! بلاگ **مقالات و مضامین** میں خوش آمدید—یہ بلاگ دین، فکر، تہذیب، اور معاشرت کے مختلف پہلوؤں کا آئینہ ہے۔ اگر کوئی تحریر دل کو چھو جائے، سوچ کو مہمیز دے ....
24/02/2026
Zakireen Keliye Chand Usool ذاکرین کےلیے چند اصول || Hazrat Maulana Sayad Arshad Madni Sahab رمضان بیان :** ذاکرین کےلیے چند اصول **از : حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم 🗓️ ۴ رمضان المبارک ۱۴۴۷ھRamadan Speech :** Zakireen Keliye Chand...
آخر ہم اپنوں سے کب تک لڑتے رہیں گے؟
شکستہ دل بندہ محمد اطہر القاسمی
26 ستمبر 2024
________________________
ملک کی سوسالہ تاریخ ساز ملی جماعت جمعیت علماء ہند کے مقتدر اعلیٰ کی گفتگو خواہ وہ جہاں اور جس پلیٹ فارم سے ہو اسے پورا ملک و بیرونِ ملک سنتا بھی ہے اور اس پر اپنے تحفظات بھی رکھتاہے۔
معزز و محترم قائد محترم حفظہ اللہ ورعاہ کے کل کے تازہ انٹرویو کے بعض حصے سے شکستہ دل ہوں اور اس سے زیادہ اس پر سوشل میڈیا پر مسلسل بدترین منفی تبصروں سے آبدیدہ ہوں۔
دل میں بار بار یہ بات آتی رہتی ہے کہ ہماری جماعت سیاست کھڑی کرنے کا منصوبہ بھی نہیں رکھتی ہے؛ کیوں کہ آزادی کے بعد اس نے سیاست سے کنارہ کشی کا موقف اپنا رکھا ہے، اچھی بات ہے اپنے موقف کے مطابق سیاست کھڑی نہ کریں لیکن اپنے ہی بھائی سیاست کھڑی کریں تو انہیں آگے بڑھنے سے بھی منع کرتے ہیں!
ملک کے مختلف چینلوں پر جس مہارت سے حضور والا نازک ترین موضوع کو خوبصورت انداز میں ٹال دیتے ہیں وہ ان کا ہی خاصہ ہے، جیسے حالیہ دنوں میں آپ کی عدالت میں کنگنا جیسی بدزبان پر تبصرے کو ٹال گئے تو یہاں بھی مسلم دشمن جرنلسٹ کے چینل پر اسد الدین اویسی صاحب حفظہ اللہ کو ان کے حال پر چھوڑ کر آگے بڑھا جاسکتا تھا۔
پارلیمنٹ میں جناب اسد صاحب کی گفتگو اچھی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ میں ملت کی ترجمانی بھلی لگتی ہے لیکن آخر سیاسی میدان میں تقسیم والی سیاست کا عنوان دےکر بار بار اپنی ہی برادری کے ایک قیمتی فرد کو ٹارگٹ کرنا کیا موجودہ شدید ترین منافرتی ماحول میں مناسب ہے؟
اور بطورِ خاص یہ تک کہ دینا کہ:
مسلمان انہیں اپنا نیتا نہیں مانتے، ان کے پروگراموں میں دوسرے کی طرح پاگلوں کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے، ان کا بیان بھڑکاؤ ہوتا ہے، یہ بھیڑ مسلمانوں کی سوچ نہیں ہے، وغیرہ۔
ہم لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر جمعیت علماء ہند کی مؤقر قیادت اور اس کی عظیم تحریک سے وابستگی کو اپنے لئے فخر کی بات اور عبادت سمجھتے ہیں، لیکن ایسے مواقع پر اندر سے دل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے اور الفاظ نہیں ملتے کہ بولیں تو کن کو بولیں اور کیا بولیں۔
ہم نادانوں کی بھی بات پر دھیان دینا ہوگا کہ آج کی ملکی سیاست 60/70 سالہ قدیم سیاست سے بالکل مختلف ہوچکی ہے، برادرانِ وطن کے دل ودماغ میں مسلم دشمنی اس طرح بھر دی گئی ہے بلکہ رچا بسا دی گئی ہے کہ اب سیدھا ٹارگیٹ مسلمان مسلمان اور صرف مسلمان بن کر رہ گیا ہے۔
مساجد، مدارس، خانقاہیں، عبادت گاہیں، عیدگاہیں اور ملی جماعتیں؛ سب فقط اسی لئے نشانے پر ہیں کہ یہ مسلمانوں سے وابستہ ملی واسلامی شعائر ہیں، جن سے ہماری باغیرت وباعزیمت قیادت روز مرہ نبرد آزما ہے۔
ابھی تو اور بھی بدترین حالات کے آنے کا امکان ہے، دعووں پر دعوے ٹھونکے جارہے ہیں، آپ اور ہم کتنا مقدمہ لڑیں گے، آپ لڑتے رہیں اور وہ نت نئی راہوں سے آپ کے برسر پیکار بنتے رہیں گے؛ تو ایسے میں ہم سے الگ تھلگ ہی سہی کوئی تو ہے جو مسلمانوں ہی کی آواز یا یوں کہہ لیں کہ چند پاگل مسلمانوں کی آواز بن کر آوازیں بلند کرتا رہتا ہے۔
کل یہی پاگلوں کی بھیڑ تھی جو دسیوں ہزار گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے ممبئی کی سڑکوں پر سربکف نکل آئی تھی۔
اگر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قبر مبارک میں ان پاگلوں کی یہ ادائے دلبرانہ وجوشِ مجنونانہ پسند آگئی تو یقیناً ان سبھوں کے بیڑے پار ہوجائیں گے ان شاءاللہ۔
جان کی امان ملے تو عرض کردوں کہ حضور والا دامت برکاتہم کی آواز پر پورے ملک کی موقر شخصیات ہی نہیں بلکہ ساری ملی جماعتوں کے سربراہان شانہ بشانہ والہانہ ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں اور ملی مفادات وتحفظات کے لئے ایک رائے پر متفق ہوکر ملی وحدت کا خوبصورت منظر پیش کرتے رہتے ہیں، تو کون سی بڑی بات ہے یہاں بھی مل بیٹھیں، کچھ سن لیں، کچھ سنالیں، ملی مفادات کے تحت اپنے قیمتی مشورے انہیں دے دیں، ان کے عزائم پر ایک نظر ڈال لیں، پھر بھی باہمی اتفاق نہ ہوسکے تو اس موضوع پر بھی ایک بار ملی قیادتوں کو جمع کرکے آپسی مشاورت کرلیں اور ملت کے حق میں جو بھی بہتر ہو کر گزریں، لیکن خدا را، اپنے اس بہادر بھائی کو ضائع ہونے سے بچالیں کہ ایسی شخصیتیں صدیوں میں وجود میں آتی ہیں۔
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ملک ایک مختلف الخیال اربوں انسانوں اور کروڑوں مسلمانوں کا مجموعہ ہے، ہم بہت بڑا کام کررہے ہیں، اچھی بات ہے، لیکن ہمیں اپنی بات اپنے انداز میں کرلینی بہتر ہے، نہ یہ کہ دوسروں کو ٹارگٹ کرکے ان کے ہزاروں لاکھوں چاہنے والوں کو برگشتہ کرلینا اور اپنی جماعت اور جماعت کی قیادت کو مزید مضبوط کرنے کے بجائے بنے بنائے ممبرز کو مایوسیوں کے دلدل میں ڈالنا اور انہیں دوسروں کی سننے کے لئے مواقع دینا۔
میں جمعیتی ہوں اور ہاں بے لوث جمعیتی ہوں لیکن ایمانداری کی بات یہ کہ یہ باتیں ہضم نہیں ہورہی ہیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ تازہ ایک انٹرویو پھر ہماری جماعت سے سو اور ہزار نہیں ملک کے لاکھوں لوگوں کو ہم جیسوں سے برگشتہ کررہی ہے۔
گستاخیوں کے لئے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔
اللہم احفظنا من کل بلاء الدنیا والآخرۃ.
Jamiat Ulama-i-Hind Maulana Mahmood Madani
اسے ضرور پڑھیں 👇🏻
ایک فوٹو کاپی کی دکان پر ایک لڑکا (22 سال)، ایک لڑکی (19 سال)، اور ایک شخص (35 سال) داخل ہوئے۔ وہ سب بہت جلدی میں تھے اور کچھ آدھار کارڈ اور میٹرک کے سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی کروانا چاہتے تھے۔ لڑکی پریشان اور اداس لگ رہی تھی۔ دکان کے مالک، جو تقریباً 45 سال کے تھے، نے پوچھا، "کتنی کاپیاں کرنی ہیں اور کس لیے؟" لڑکی نے اداسی سے کہا: "دس دس کر دیجیے، پتا نہیں پھر کرنے کا موقع ملے یا نہ ملے، پتا نہیں زندہ بھی چھوڑیں گے یا نہیں۔" ساتھ آئے شخص نے اسے تسلی دی: "ارے، تم لوگ فکر نہ کرو، میں ہوں نا تمہارے ساتھ، کچھ نہیں ہوگا۔"
دکان دار نے لڑکی سے محبت سے پوچھا: "بیٹا، تم کچھ اداس لگ رہی ہو، کوئی پریشانی ہو تو مجھے بتا سکتی ہو، میں تمہارے ابو جیسا ہوں۔" یہ سنتے ہی لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور بولی: "میں اس لڑکے سے محبت کرتی ہوں اور شادی کرنا چاہتی ہوں، لیکن میرے گھر والے راضی نہیں ہیں۔ ہم بھاگ کر آئے ہیں، کیونکہ یہ دوسرے مذہب کا ہے۔ ساتھ آئے شخص اس کے چچا ہیں، ان کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد سب مان جائیں گے۔"
دکان دار نے لڑکی کو تسلی دی اور پوچھا: "اگر تمہیں 100 روپے اور 1 روپے میں سے چننا ہو، تو کیا چنو گی؟" لڑکی نے کہا: "انکل جی، 100 ہی چنوں گی۔" دکان دار نے سمجھاتے ہوئے کہا: "یہی بات رشتوں پر بھی لاگو ہوتی ہے، تم ایک رشتے کے لیے سو رشتے چھوڑ آئی ہو۔" یہ سن کر لڑکی کو جھٹکا لگا اور اس نے لڑکے سے کہا: "مجھے اپنا فون دو، مجھے ابو سے بات کرنی ہے۔" لڑکے نے منع کر دیا، لیکن لڑکی نے دکان دار سے فون لے کر اپنے والد کو کال کی اور روتے ہوئے کہا: "ابو، آپ مجھے لینے آ سکتے ہیں؟" دکان دار نے والد سے بات کر کے انہیں دکان کا پتہ دے دیا اور کہا: "بیٹی محفوظ ہے۔"
جیسے ہی لڑکوں نے یہ سنا، وہ بھاگنے لگے۔ لڑکی نے چلّا کر کہا: "بھاگ کیوں رہے ہو، تم تو مجھ سے بہت محبت کرتے تھے؟" لڑکے نے کوئی جواب نہ دیا اور سامان لے کر بھاگنے لگا۔ لڑکی نے کہا: "پکڑو انہیں، میرے بیگ میں زیورات ہیں، جو میں گھر سے لائی تھی۔" آس پاس کے لوگوں نے دونوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ شام تک لڑکی کے والد آئے اور اسے گھر لے گئے۔ لڑکی نے دکان دار سے کہا: "انکل، آپ کا بہت بہت شکریہ، میں اب سو رشتے لے کر جا رہی ہوں۔"
یہ لڑکی تو بچ گئی، مگر نہ جانے کتنی لڑکیاں ہر روز ایک رشتے کے لیے سو رشتے چھوڑ دیتی ہیں اور بعد میں پچھتاتی ہیں، خون کے آنسو روتی رہتی ہیں اور پھر زندگی جینا چھوڑ دیتی ہیں۔
منقول
01/09/2024
08/08/2024
نمبر: 237
🗓 تاریخ: 09 اگست 2024
🎯 اوقاف کی حفاظت ہر قیمت پر ضروری
📌 نوٹ: اوقاف ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، ہمارے آباء و اجداد نے رضائے الہی اور اجر و ثواب کی نیت سے اپنی جائدادیں اللہ تعالی کی راہ میں وقف کی ہیں، ان اوقاف کی صیانت و حفاظت ہمارا اولین فریضہ ہے۔ برسراقتدار طبقہ وقف ایکٹ 2013 میں ترمیم کرنا چاہ رہا ہے اور اندیشہ ہے کہ ایسی ترمیم وقف ایکٹ میں کی جائے گی جس سے اوقاف کی نوعیت و حیثیت بدل جائے گی اور اوقاف کا تحفظ غیر یقینی ہوجائے گا، اسی طرح وقف بورڈ کے اختیارات بھی سلب کرلئے جائیں گے جس سے اوقاف پر قبضے کی راہیں ہموار ہو جائیں گی، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اوقاف کی حفاظت کے لیے آواز بلند کی ہے اور حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وقف ایکٹ میں کوئی ایسی ترمیم نہ کرے جس سے اوقاف کی نوعیت اور حیثیت بدل جائے، نیز اس موضوع کو لوگوں تک پہنچانے لیے اس جمعہ اور آنے والے جمعہ اسی موضوع پر مساجد میں خطاب کیا جائے، اسی تناظر میں زیر نظر خطاب جمعہ جاری کیا جارہا ہے۔
👇👇👇👇
https://t.me/AIMPLB_Official/8184
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
I gained 374 followers, created 1 post and received 2 reactions in the past 90 days! Thank you all for your continued support. I could not have done it without you. 🙏🤗🎉
29/07/2024
اللہ ہی اللہ کیا کرو
دکھ نہ کسی کو دیا کرو