جامعہ عائشہ صدیقہ لِلبنات

جامعہ عائشہ صدیقہ لِلبنات

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from جامعہ عائشہ صدیقہ لِلبنات, Education, Ludhiana.

11/08/2021



آقا کے ہمسفر کی، کیا بات ہے عمر کی
سالارِ بَحر و بَر کی، کیا بات ہے عمر کی

پیوند والے کپڑوں میں زندگی بَسَر کی
چاہت نہ مال و زر کی، کیا بات ہےعمر کی

کس وقت کی شجاعت احباب کو سناؤں؟
ہجرت کی؟ یا بدر کی؟کیا بات ہے عمر کی

طیبہ سے ساریہ کو آواز دے رہے ہیں
کیا شان اُس نظر کی، کیا بات ہے عمر کی

فارس کو زیر کرکے وَتُعِزًو مَن تَشَاء کی
تفسیر مختصر کی، کیا بات ہے عمر کی

رعبِ یہودیت کو رعبِ مجوسیت کو
کب کِس نے بے اَثَر کی،کیا بات ہےعمر کی

اہلِ عَجٓم سےپوچھو اہلِ عرب سے پوچھو
اُس خط کی،اُس بَحر کی،کیابات ہےعمرکی

یہ نمازِ باجماعت صدقہ ہے میرے یارو!
اُس قوتِ جگر کی، کیا بات ہے عمر کی

دشمن بھی جانتا ہے دامادِ مرتضی ہے
کلثوم کے شوہر کی، کیا بات ہے عمر کی

یا رب لکھاکروں میں تعریف زندگی بھر
اُس مردِ قلندر کی، کیا بات ہے عمر کی

ہدہد الہ آبادی

29/07/2021

مناقب سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مسعود رحمن مسعود

قلب ِ رسول ِپاک کی راحت کہیں جسے
فخر ِحیا و صاحب ِ ہجرت کہیں جسے
اہل ِکسا سے خاص ہی نسبت کہیں جسے
دین ِحنیف کے لئے برکت کہیں جسے

دولت وہ جس کی دولت ِخیر الانام ہے
اس مرد ِذی وقار کا عثمان نام ہے

تقوی میں ان کا منفرد یکتا مقام ہے
ان کی زباں پہ پیار کاہردم پیام ہے
ان کا ہر ایک دل میں بڑا احترام ہے
لاریب ان کا خلد میں اعلی مقام ہے

خون ان کا سب کو دے گیا آخر یہی پیام
کافی ہے ان کے واسطے رب ِجہاں کا نام

سارے جہاں میں کس کو یہ حاصل نصیب ہے
ہے کون جو رسول کے اتنا قریب ہے
تسلیم اس کو بھی ہے جو ان کا رقیب ہے
دو نور ان کو مل گئے شان ِعجیب ہے

داماد ِ مصطفی ہیں مگر ظلم یہ ہوا
مسعود شہر ِِپاک میں ان کا لہو بہا

24/02/2021

علم کی اہمیت

قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۔ (الزمر: ۹)
ترجمہ: آپ دریافت کیجیے: جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے، کیا دونوں برابر ہوتے ہیں؟ یقیناً عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ۔ (فاطر: ۲۸)
ترجمہ: یقیناً اللہ کے بندوں میں سے جو علم والے ہیں، وہی اللہ سے ڈرتے ہیں، بے شک اللہ تعالیٰ بہت زبردست اور خوب معاف فرمانے والے ہیں۔
"يَرْ‌فَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَ‌جَاتٍ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِير" (المجادلہ: ۱۱)
اور اللہ تعالی تم میں ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جو علم دیے گئے ہیں درجے بلند کردے گا اور اللہ تعالی(ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب)باخبر ہے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ، وَاللُّؤْلُؤَ، وَالذَّهَبَ" (ابن ماجہ: ٢٢٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور نااہلوں و ناقدروں کو علم سکھانے والا سور کے گلے میں جواہر، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے“۔

تمہید

اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان میں سب سے بڑی نعمت ایمان کی نعمت اور دولت ہے، ایمان کی نعمت کے بعد سب سے بڑی نعمت اور دولت ایمان کے تقاضوں کے مطابق علم کا حاصل کرنا ہے، کہا جاتا ہے کہ جس آدمی کے اندر علم نہ ہو وہ آدمی نہیں جانور ہے اور جس گھر کے اندر کوئی پڑھا لکھا نہ ہو وہ گھر نہیں جانوروں کا اڈہ ہے اور جس ملک کے اندر علم کا ماحول نہ ہو وہ ملک نہیں حیوانات کا جنگل ہے، علم ایک ایسا سدا بہار پھول ہے جو کبھی مرجھاتا نہیں، علم ایک ایسا مخلص دوست ہے جو کبھی بے وفائی نہیں کرتا، علم ایک ایسا تناور درخت ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے علم کے حاصل کرنے پر بہت زیادہ زور دیا ہے اور اس کی تاکید کو بیان کیا ہے، اسلام نے تعلیم کی اہمیت پر جو خاص زور دیا ہے اور تعلیم کو جو فضیلت دی ہے دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظام نے وہ اہمیت اور فضیلت نہیں دی ہے۔
اسلام سے قبل جہاں دنیا میں بہت سی اجارہ داریاں قائم تھیں وہاں تعلیم پر بھی بڑی افسوس ناک اجارہ داری قائم تھی، اسلام کی آمد سے یہ اجارہ داری ختم ہوئی، دنیا کے تمام انسانوں کو چاہے وہ کالے ہوں یا گورے، عورت ہوں یامرد، بچے ہوں یا بڑے، سب کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کی ہدایت دی، اسلام نے نہ صرف یہ کہ علم حاصل کرنے کی دعوت دی، بلکہ ہر شخص کے لیے فرض قرار دیا، آسمان وزمین، نظام فلکیات، نظام شب وروز، بادوباراں، بحرودریا، صحرا و کوہستان، جاندار بے جان، پرندو چرند، غرض یہ کہ وہ کون سی چیز ہے جس کا مطالعہ کرنے اور اس کی پوشیدہ حکمتوں کا پتہ چلانے کی اسلام میں ترغیب نہیں دی گئی؟

علم کی اہمیت قرآن کی روشنی میں

قرآن میں نازل کردہ پہلا حکم الٰہی ہی پڑھنے سے متعلق ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (العلق:١) ”پڑھو اپنے رب کے نام ساتھ ،جس نے پیدا کیا“گویا پڑھنا علم کا عنوان اور اس کی کنجی ہے، جب پہلی وحی پڑھنے سے متعلق ہوتو علم کی فضیلت اور اہمیت کی اس سے واضح دلیل اور کیا ہوسکتی ہے؟

علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو علم کی زیادتی کی دعا کی تعلیم دی ہے، فرمایا:وقل رب زدنی علماً ”اور کہیے اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما“۔امام قرطبی  لکھتے ہیں کہ ”اگر کوئی چیز علم سے افضل اور برتر ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتے کہ وہ اس میں اضافہ کی دعا کریں،جیسا کہ علم طلب کرنے کا حکم دیاگیا ہے“۔

اہل علم حضرات کو قرآن نے بہت بلند مقام عطاکیا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَرْ‌فَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَ‌جَاتٍ (المجادلہ: ۱۱) ”اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے، جن کو علم عطاہوا ہے،درجے بلند کرے گا“۔

اللہ تعالیٰ نے انسان پر جتنے احسانات جتلائے ہیں ان میں سے ایک احسان سیکھنے اور سکھانے کا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے: خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَان (الرحمن) انسان کو بات سکھانے کے احسان کو جتلایا، عام طور پر انسانوں میں بھی یہ رواج اور دستور نہیں کہ وہ معمولی معمولی باتوں کو جتلائے،تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے یہ بات کیسے مناسب ہوگی کہ وہ معمولی معمولی احسانات کو جتلائے؟سکھانے کے اس عمل کو جتلانے سے اس کی اہمیت اور فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔

طلب علم کی ترغیب قرآن نے دی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ (التوبہ:١٢٢) ”سو کیوں نہ نکلے ہر فرقہ میں سے ان کا ایک حصہ تاکہ سمجھ پیدا کریں دین میں“ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:فَاسْئَلُوْۤا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (النحل:٤٣)․”سو پوچھو اہل علم سے اگر تم نہیں جانتے ہو“۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۔ (الزمر:۹) آپ دریافت کیجیے: جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے، کیا دونوں برابر ہوتے ہیں؟ یقیناً عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
ایک جگہ اور ارشاد باری ہے: اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ۔ (فاطر: ۲۸) یقیناً اللہ کے بندوں میں سے جو علم والے ہیں، وہی اللہ سے ڈرتے ہیں، بے شک اللہ تعالیٰ بہت زبردست اور خوب معاف فرمانے والے ہیں۔

فرشتے اللہ رب العزت کی معصوم مخلوق ہیں، ان کا بڑا مقام اور مرتبہ ہے؛ لیکن انسانوں کو اللہ رب العزت نے فرشتوں سے بھی بڑا مقام اور مرتبہ عطا فرمایا اور انسان کو مسجود ملائک بنایا صرف علم کی وجہ سے، اللہ تعالی نے فرمایا: وعلم آدم الأسماء، حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو چیزوں کی خصوصیات کا علم تھا جبکہ فرشتوں کو علم نہیں تھا۔
اس کے علاوہ قرآن کی کئی آیاتوں سے علم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے،اس سے زیادہ اہمیت کیا ہوگی کہ قرآن میں علم کا ذکر اسی ۸۰ بار اور علم سے نکلے ہوئے الفاظ کا ذکر سینکڑوں بار ملے گا؟

علم کی اہمیت احادیث کی روشنی میں

حدیث کی کتابوں میں ہمیں علم سے متعلق پورے پورے ابواب ملیں گے، مثلاًصحیح بخاری میں وحی کی ابتدا اور ایمان کے بعد ہی علم کا باب شروع ہوجاتا ہے، جس میں حافظ ابن حجر کے بقول ٧٤ حدیثیں اور صحابہ کرام وتابعین کی 22روایتیں ہیں، اسی طرح احادیث کی دیگر کتابوں میں بھی علم سے متعلق ابواب ہیں۔
عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَيْتُكَ مِنَ الْمَدِينَةِ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكَ تِجَارَةٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: وَلَا جَاءَ بِكَ غَيْرُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ" (ابن ماجہ: ٢٢٣)
کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابوالدرداء! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ سے ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث روایت کرتے ہیں؟! ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ کی آمد کا سبب تجارت تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، کہا: کوئی اور مقصد تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم دین کی تلاش میں کوئی راستہ چلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، آسمان و زمین کی ساری مخلوق یہاں تک کہ مچھلیاں بھی پانی میں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، لہٰذا جس نے اس علم کو حاصل کیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا“۔
یہ حدیث علم حدیث اور محدثین کی فضیلت پر زبردست دلیل ہے اس کے علاوہ اس سے مندرجہ باتیں اور معلوم ہوئیں: ۱۔ علماء سلف حدیث کی طلب میں دور دراز کے اسفار کرتے تھے۔ ۲۔ ایک حدیث کا حصول اس لائق ہے کہ دور دراز کا سفر کیا جائے۔ ۳۔ علم کی طلب میں اخلاص شرط ہے۔ ۴۔ دنیوی غرض کو طلب علم کے ساتھ نہ ملایا جائے۔ ۵۔ خلوص نیت کے ساتھ علم شرعی کی طلب سے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ ۶۔ فرشتے اس کی خاطر داری کرتے ہیں۔ ۷۔ ساری مخلوق اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہے۔ ۸۔ طالب علم کو عابد پر فضیلت حاصل ہے۔ ۹۔ علماء حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی وارث ہیں۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ، وَاللُّؤْلُؤَ، وَالذَّهَبَ" (ابن ماجہ: ٢٢٤)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور نااہلوں و ناقدروں کو علم سکھانے والا سور کے گلے میں جواہر، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے“
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان پر دین کے وہ مسائل سیکھنا فرض ہے جو ضروری ہیں، مثلا عقیدہ،نماز، روزہ کے مسائل یا اس سے مراد یہ ہے کہ جس مسلمان کو کوئی مسئلہ در پیش ہو تو ضروری ہے کہ اس کے بارے میں علماء سے پوچھے، ورنہ طلب علم فرض کفایہ ہے، اگر کچھ لوگ اس کو حاصل کر لیں تو باقی افراد عند اللہ ماخوذ نہ ہوں گے، اور اگر سبھی علم دین سیکھنا چھوڑ دیں تو سب گنہگار ہوں گے، امام بیہقی اپنی کتاب ”المدخل إلی السنن“ میں کہتے ہیں کہ شاید اس سے مراد یہ ہے کہ وہ علم سیکھنا فرض ہے جس کا جہل کسی بالغ کو درست نہیں، یا وہ علم مراد ہے جس کی ضرورت اس مسلمان کو ہو مثلاً تاجر کو خرید و فروخت کے احکام و مسائل کی، اور غازی کو جہاد کے احکام و مسائل کی یا یہ کہ ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض عین ہے، مگر جب کچھ لوگ جن کے علم سے سب کو کفایت ہو تحصیل علم میں مشغول ہوں تو باقی لوگ ترک طلب کے سبب ماخوذ نہ ہوں گے، پھر ابن مبارک کا یہ قول نقل کیا کہ ان سے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کو کسی مسئلہ کی ضرورت پڑے تو کسی عالم سے پوچھ لینا ضروری ہے تاکہ اس کا علم حاصل ہو، اور اس کی طرف اشارہ آیت: «فاسألوا أهل الذكر» میں ہے۔

مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ (ابن ماجہ: ٢٢٥) جو شخص علم دین حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستہ کو آسان کر دیتا ہے۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ، وَقَبْضُهُ أَنْ يُرْفَعَ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ هَكَذَا"، ثُمَّ قَالَ:" الْعَالِمُ، وَالْمُتَعَلِّمُ شَرِيكَانِ فِي الْأَجْرِ، وَلَا خَيْرَ فِي سَائِرِ النَّاسِ" (ابن ماجہ: ٢٢٨)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس علم دین کو اس کے قبض کیے جانے سے پہلے حاصل کر لو، اور اس کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے“، پھر آپ نے بیچ والی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملایا، اور فرمایا: ”عالم اور متعلم (سیکھنے اور سکھانے والے) دونوں ثواب میں شریک ہیں، اور باقی لوگوں میں کوئی خیر نہیں ہے“۔

نبی کریم ﷺ نے حصول علم کو جہاد کے برابر قرار دیا: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا، لَمْ يَأْتِهِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ، أَوْ يُعَلِّمُهُ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ" (ابن ماجہ: ٢٢٧)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص میری اس مسجد میں صرف خیر (علم دین) سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے درجہ میں ہے، اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے تو وہ اس شخص کے درجہ میں ہے جس کی نظر دوسروں کی متاع پر لگی ہوتی ہے“۔
مسجد نبوی میں علم دین حاصل کرنے کی غرض سے جانے والا مجاہد کے درجہ میں ہے، اور اسی وجہ سے دوسری مساجد اور دینی درسگاہوں میں علم دین حاصل کرنے والا بھی فضیلت کا مستحق ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِحَلْقَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَالْأُخْرَى يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ هَؤُلَاءِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَهَؤُلَاءِ يَتَعَلَّمُونَ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا فَجَلَسَ مَعَهُمْ" (ابن ماجہ: ٢٢٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی کمرے سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے اس میں دو حلقے دیکھے، ایک تلاوت قرآن اور ذکرو دعا میں مشغول تھا، اور دوسرا تعلیم و تعلم میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں حلقے نیکی کے کام میں ہیں، یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں، اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور چاہے تو نہ دے، اور یہ لوگ علم سیکھنے اور سکھانے میں مشغول ہیں، اور میں تو صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں، پھر انہیں کے ساتھ بیٹھ گئے“۔

حضرت نافع بن عبدالحارث کی ملاقات حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مقام عسفان میں ہوئی، حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو مکہ کا عامل بنا رکھا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کس کو اہل وادی (مکہ) پر اپنا نائب بنا کر آئے ہو؟ نافع نے کہا: میں نے ان پر اپنا نائب ابن ابزیٰ کو مقرر کیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابن ابزیٰ کون ہے؟ نافع نے کہا: ہمارے غلاموں میں سے ایک ہیں ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ان پہ ایک غلام کو اپنا نائب مقرر کر دیا؟ نافع نے عرض کیا: ابن ابزیٰ کتاب اللہ (قرآن) کا قاری، مسائل میراث کا عالم اور قاضی ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر بات یوں ہے تو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعہ بہت سی قوموں کو سربلند، اور بہت سی قوموں کو پست کرتا ہے“۔(ابن ماجہ: ٢١٨)
علم کی وجہ سے سے ایک آزاد کی غلام کا مقام ومرتبہ اتنا بڑھ گیا ان کے نائب بنانے کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پسند فرمایا۔

علم کی اقسام

علم دین کا ہو یا دنیا کے کسی شعبے کا، وہ بہر حال انسانیت کے لیے تمغۂ فضلیت اور طرۂ امتیاز ہے اور تعلیم کا مقصد فضل وکمال سے آراستہ ہونا اور میراثِ انسانیت کا حاصل کرنا ہے۔ عموماً موضوع کے لحاظ سے علم کی دو قسمیں قرار دی جاتی ہیں: ۱: دینی علوم اور ۲:دنیاوی علوم۔
دینی علوم کے اصل ثمرات وبرکات تو آخرت ہی میں ظا ہر ہوں گے، تاہم جب تک دنیا میں اسلام کی عزت ورفعت کا دور دورہ رہا دنیا میں بھی اس کی منفعتیں ظاہر ہوتی تھیں۔ علماء دین‘ قاضی، قاضی القضاۃ، مفتی اور شیخ الاسلام کی حیثیت سے محاکمِ عدلیہ اور محاکمِ احتساب کے مناصب پر فائز ہوتے تھے۔ ملک وملت کے لیے ان کا وجود سایۂ رحمت سے کم نہیں تھا، ان کی خدا ترسی، حق پسندی اور عدل پروری کی بدولت معاشرہ میں امن وعافیت کی فضا قائم تھی اور اسلام کے عادلانہ احکام کا نفاذ بہت سے معاشرتی امراض سے حفاظت کا ضامن تھا۔
الغرض دینی منا صب کے لیے علماء دین ہی کا انتخاب وتقرر ہوتا تھا اور آج بھی جن ممالک میں اسلامی نظام کسی حد تک رائج ہے، اس کے کچھ نمونے موجود ہیں اور دنیوی علوم جن کا تعلق براہِ راست دنیا کے نظام سے تھا، مثلاً: فلسفہ، منطق، تاریخ، جغرافیہ، ریاضی، ہیئت، حساب، طب و جراحت وغیرہ ان کے لیے تو حکومتی منا صب بے شمار تھے۔
اور علوم کی یہ تقسیم کہ کچھ علوم دینی ہیں اور کچھ دنیاوی، محض موضوع کے لحاظ سے ہے، اس کے معنی دین ودنیا کی تفر یق کے ہرگز نہیں، اسی لیے اصل تقسیم یہ ہونی چاہیے، نافع علوم اور غیر نافع علوم، چنانچہ دنیوی علوم اگر بے ہودہ اور لایعنی نہ ہوں اور انہیں خدمت ِخلق، اصلاحِ معاش اور تد بیرِ سلطنت کی نیت سے حاصل کیا جائے تو وہ بھی با لو اسطہ رضائے الٰہی کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور دین ودنیا کی تفریق ختم ہوجاتی ہے اور اس کے برعکس جب دینی علوم کی تحصیل کا مقصد محض دنیا کمانا ہو تو یہ علوم بھی با لواسطہ دنیا کے علوم کی صف میں آجاتے ہیں اور اس کے لیے احادیث نبویہ میں سخت سے سخت وعیدیں بھی آئی ہیں۔
بہرحال ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ دینی علوم بھی دنیا کے علوم بن جاتے ہیں اور دنیوی علوم بھی رضا ئے الٰہی اور طلبِ آخرت کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور دین ودنیا کی تفریق ختم ہوجاتی ہے، گویا اصل مدار مقاصد و نِیَّات پر ہے کہ اگر مقصد رضا ئے الٰہی ہے تو دنیوی علم بھی دین کے معاون ومددگار اور صنعت وحرفت کے تمام شعبے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے وسائل بن جاتے ہیں۔ علوم خواہ قدیم ہوں یا جدید اور دینی ہوں یا دنیوی ان سب سے مقصد رضائے الٰہی کے مطابق ایک صالح معاشرہ کا قیام ہونا چاہیے اور یہ مقصد اسی صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے کہ جو شخص جس شعبۂ زندگی سے منسلک ہو وہ اس شعبہ سے متعلق بقدر ضرورت دینی مسائل سے بھی واقف ہو۔
مسلمان تاجر ہو تو تجارت سے متعلقہ دینی مسائل کا عالم ہو، انجینئر ہو تو عالم ہو، طبیب اور ڈاکٹر ہو تو عالم ہو، حضرت فاروق اعظم ؓ کے عہد میں جو خلافتِ راشدہ کا تابنا ک دور ہے، ایک قانون یہ تھا: ’’ لا یبع فی سوقنا ھٰذا من لم یتفقہ فی الدین‘‘۔ (سنن الترمذی) ’’ جو شخص فقیہ( دینی مسائل کا ما ہر) نہ ہو اس کو ہمارے بازار میں خر یدوفروخت کی اجازت نہیں۔‘‘ گویا دنیا کمانے کے لیے بھی علم دین کی ضرورت ہے، تاکہ حلال وحرام اور جائز و ناجائز کی تمیز ہو سکے اور خالص سود، سودی کا روبار اور غیر شرعی معاملات میں مبتلا نہ ہو۔ الغرض ایک دور ایسا تھا کہ ہر ہنر وکمال کا مقصد آخرت اور رضائے الٰہی تھا اور اب ایک دور ایسا آگیا ہے کہ ہر چیز کا مقصد دنیا ہی دنیا بن کر رہ گیا، بلکہ اب تو اس میں بھی اس قدر تنزل رونما ہوا ہے کہ دنیا کی بھی تمام حیثیتیں ختم ہوکر رہ گئیں، اب تو واحد مقصد صرف پیٹ رہ گیا ہے۔ دنیا کے ہر علم وہنر اور فضل وکمال کا منتہائے مقصود بس یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ جہنم بھر جائے۔

جدید تعلیمی پالیسی اور مسلمانوں کے لیے راہ عمل

جدید تعلیمی پالیسی کے سلسلے میں فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں: جدید تعلیمی پالیسی کی تفصیلات اخبارات اور سوشل میڈیا میں آچکی ہیں، امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ نے بہت اچھا قدم اٹھایا کہ اس کا اردو ترجمہ کرا دیا، اس طرح اردو خواں حضرات کے لئے بھی اس پالیسی کے خدوخال کو سمجھنا آسان ہوگیا ہے، اس پالیسی میں بعض مثبت پہلو بھی ہیں، جو قابل تحسین ہیں اور حکومت بار بار اس سلسلہ میں بیانات دے رہی ہے، اس وقت ان کے تذکرہ کی ضرورت نہیں؛ کیوں کہ ایسی باتوں کو حکومت خود مبالغہ کے ساتھ پیش کرتی رہتی ہے، پالیسی میں منفی پہلو بھی کچھ کم نہیں ہیں؛ مگر ان کو خوبصورت الفاظ کے پیرہن میں چھپا کر رکھا گیا ہے، یہ اس حکومت کا کمال ہے کہ وہ تریاق کا لیبل لگا کر زہر دینے کا فن جانتی ہے، اس سلسلہ میں دو باتیں بہت اہم ہیں: ایک یہ کہ جیسے زرعی قوانین کے ذریعہ پیداوار پر بڑے تاجروں کا قبضہ ہو جائے گا، اسی طرح تعلیم جیسی اہم ضرورت کارپوریٹ سیکٹر کے حوالہ ہو جائے گی اور گراں سے گراں تر ہوتی چلی جائے گی، مالدار اور اونچی ذات کے لوگ اپنے بچوں کو پڑھا سکیں گے، غریب اور نیچی ذات کے لوگوں کے لئے جہالت اور جہالت کی وجہ سے غربت مقدر ہوگی۔
دوسرا نقصان مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو ہوگا، اس پالیسی میں بار بار راشٹرواد، بھارتیت اور نیشنل کلچر کی بات کہی گئی ہے، اور ان کو درسی مضامین اور غیر درسی پروگراموں کے ذریعہ لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، نام تو قومی تہذیب کا لیا جا رہا ہے؛ لیکن وحدت میں کثرت کے بجائے ہندو آئیڈیالوجی اور تہذیب لوگوں پر مسلط کرنے کی تدبیر کی جا رہی ہے، راشٹرواد کے تحت بچوں کو گیتا میں سے اسباق پڑھائے جائیں گے، ہندو دیویوں دیوتاؤں کی دیومالائی کہانیاں پڑھائی جائیں گی، حفظان صحت کے نام پر یوگا کرایا جائے گا، اور اس میں سوریہ نمسکار بھی شامل ہوگا، وندے ماترم کا مشرکانہ ترانہ پڑھایا جائے گا، عجب نہیں کہ جبر کے ذریعہ نہ سہی ترغیب کے ذریعہ اُن سے سرسوتی وندنا بھی کرائی جائے، اور اسکول میں ہندو تہواروں کی تقریبات منعقد ہوں، جن میں تمام طلبہ وطالبات کو شرکت کرنے کو کہا جائے، اسی طرح اس کا نقصان لسانی اقلیتوں کو بھی ہوگا، یوں تو پالیسی میں مادری زبان میں تعلیم دینے کی بات کہی گئی ہے؛ لیکن سنسکرت کو لازمی زبان کی حیثیت دینے کی بات بھی آئی ہے، اس کا صاف مطلب ہے کہ بعض لسانی اقلیتیں اپنی مادری زبان سے محروم ہو جائیں گی۔
اس پس منظر میں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو اس پالیسی کے نفاذ کے بعد کیا طریقۂ کار اختیار کرنا چاہئے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلہ میں تین باتیں اہم ہیں: اول دینی تعلیم، دوسرے: فکری واخلاقی تربیت، تیسرے: اپنی زبان کا تحفظ۔
دینی تعلیم سے مراد عصری درسگاہوں میں زیر تعلیم بچوں اور بچیوں کے لئے دینی تعلیم کا نظم ہے، بہتر ہے کہ یہ مکاتب کے ذریعہ ہوں، یعنی فجر بعد یا عصر بعد روزانہ ایک گھنٹہ بچوں کو دینی تعلیم دی جائے، ہمارے بیشتر مکاتب کی تعلیم نورانی قاعدہ سے شروع ہوتی ہے اور چند پاروں کے ناظرہ ، کچھ دعاؤں، نماز کے اذکار اور چند چھوٹی چھوٹی سورتوں پر مکمل ہو جاتی ہے، اگر زیادہ توجہ دی گئی تو چند سنتیں اور چھوٹی سورتیں یاد کرا دی جاتی ہیں، بچے سالہا سال یہی پڑھتے رہتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ دس سال کا ایک ایسا نصاب ہو، جس میں طلبہ مکمل ناظرۂ قرآن مع تجوید، ایک پارہ حفظ ، روز مرہ کی دعائیں، ضروری دینی مسائل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، خلافت راشدہ کی تاریخ اور اردو لکھائی پڑھائی سیکھ لیں،خوشی کی بات ہے کہ بعض اداروں نے دینیات کا ایک دس سالہ جامع اور مکمل نصاب مرتب کیا ہے، یا تو اسی کو پڑھایا جائے، یا مختلف حلقے ان مضامین کو شامل کرتے ہوئے اپنا کوئی نصاب بنائیں۔
مکتب کی تعلیم کے لئے بہترین مرکز مسجدیں ہیں، جو عہد نبوی ہی سے تعلیم وتربیت کا مرکز رہی ہیں، اگر مسلم مینجمنٹ تعلیمی ادارہ ہو تو وہاں اسکول میں بھی تعلیم ختم ہونے کے بعد مکتب کی تعلیم دی جا سکتی ہے، اس کی دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں، یہ بھی کہ اسکول خود مکتب کا نظام قائم کرے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے ملی ادارے وہاں مکتب کا نظام چلائیں، اور اسکول گھنتہ دو گھنٹہ کے لئے ان کو اپنی بلڈنگ سے استفادہ کرنے کی اجازت دے دیں۔
بعض جگہ تعلیمی اوقات اس طرح ہوتے ہیں کہ مکتب کی تعلیم کے لئے وقت نہیں بچتا، ایسی صورت میں ہفتہ وار مکتب اتوار کے دن چلایا جا سکتا ہے، اگر ایک دن چھ گھنٹہ تعلیم دی گئی تو گویا روزانہ ایک گھنٹہ کی تعلیم دی گئی، راقم الحروف نے مغربی ملکوں میں ایسے ہفتہ وار مکاتب کا خود مشاہدہ کیا ہے، جہاں ہفتہ اتوار دو دنوں مکتب کا نظام چلتا ہے، اور طلبہ وطالبات پر ان کے بہت بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مکتب کے نظام کو پُر کشش بنانے کی بھی ضرورت ہے، کتابیں کلر میں چھپی ہوئی ہوں، بلیک بورڈ کا اور حسب سہولت ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کیا جائے، بچوں کا یونیفارم ہو، ماہانہ سہ ماہی مقابلے رکھے جائیں، گاہے گاہے تفریح کا نظم ہو، جہاں گنجائش ہو، وہاں اسپورٹ کا بھی نظم رکھا جائے، ان میں سے بعض سہولتیں ہفتہ وار مکتب میں مہیا کی جا سکتی ہیں اور بعض ہر مکتب میں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو زدوکوب نہ کیا جائے، اور مار کی بجائے پیار سے پڑھایا جائے، اس تأثر کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ دینی مدارس میں مار پیٹ کو طریقۂ تعلیم کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے، بہر حال نظام مکاتب کو مضبوط بنانے اور ہر طالب اور طالبہ کو اس سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔
دوسری ضرورت اخلاقی وفکری تربیت کی ہے، اس میں اساتذہ اور والدین دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، بالخصوص مائیں اس میں اہم رول ادا کر سکتی ہیں، اخلاقی تربیت سے ایسی تربیت مراد ہے کہ حسنِ اخلاق بچوں کے مزاج میں شامل ہو جائے، وہ ان کی فطرت کا حصہ بن جائے، یہ نہ ہو کہ صرف اساتذہ کی لاٹھی اور والدین کے تھپڑ کے خوف سے ظاہری طور پر وہ اپنے اخلاق کو بہتر رکھیں اس کے لئے ضرورت ہے عمر اور مزاج کے لحاظ سے بچوں کو سمجھانے اور انہیں ایسی کتاب پڑھانے کی، جن میں اخلاقی واقعات ہوں، بحمداللہ اردو زبان میں ایسی بہت سی کتابیں موجود ہیں، اس سلسلہ میں خاص طور پر حضرت مولانا محمد میاں صاحبؒ (جمعیۃ علماء ہند) کی ’’دینی تعلیم کا رسالہ‘‘ اور جناب افضل حسین صاحبؒ (جماعت اسلامی ہند) کی کتابیں بہت مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔
تربیت کا دوسرا پہلو ہے: فکری تربیت، موجودہ حالات میں یہ بہت ضروری ہے، اور ہمارے یہاں اس کی بہت کمی ہے، فکری تربیت میں اسلامی عقائد اور اسلامی شریعت کی عقل وفطرت سے ہم آہنگی اور ان کی حکمت ومصلحت کی تفہیم شامل ہے، نیز ضروری ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ خصوصاََ ہندوستان کا مسلم عہد حکومت بچوں کو اس طرح پڑھایا جائے کہ مسلمانوں کے بارے میں پیدا کی جانے والی غلط فہمیاں دور ہو سکیں؛ کیوں کہ تعلیم اور میڈیا کے ذریعہ ایک طرف نئی نسل کو شرک سے مانوس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دوسری طرف مسلم تاریخ پر بے جا اعتراضات کے ذریعہ مسلمان بچوں کو احساس کم تری میں مبتلا کیا جا رہا ہے، اور جب کوئی قوم احساس کمتری میں مبتلا ہو جائے تو چاہے عددی اعتبار سے وہ کتنی ہی بڑی ہو ،وہ دوسروں کے ساتھ ضم ہو جاتی ہے اور اپنے وجود کو کھو دیتی ہے، ہندوستان میں برہمنوں کا یہی مزاج رہا ہے، انھوں نے جینیوں کو، بدھسٹوں کو، سکھوں کو، لنگایتوں کو اور مختلف قبائلی گروہوں کو اسی طرح اپنے اندر جذب کر لیا ہے، اور وہ مسلمانوں سے بھی یہی چاہتے ہیں، اخلاقی تربیت کو مکتب کی تعلیم کے ساتھ بھی پورا کیا جا سکتا ہے؛ لیکن فکری تربیت کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے، مثلاََ جہاں مکاتب کا دس سالہ نظام قائم ہو، وہاں آخری دو سال فکری تربیت کے لئے مخصوص کر دئیے جائیں، اور اس مناسبت سے انہیں کتابیں پڑھائی جائیں، اسی طرح کالج اور یونیورسیٹی کے طلبہ وطالبات کے لئے علمی مذاکرات کے پروگرام رکھے جائیں، اور ان میں اسی طرح کے مضامین پر گفتگو کی جائے، نیز ان کے لئے ہندی، انگریزی اور مقامی زبانوں میں ان موضوعات پر مختصر رسائل مرتب کئے جائیں۔
تیسری اہم چیز زبان ہے، اس میں شبہ نہیں کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی زبان میں ایک خاص مذہب کا لٹریچر زیادہ مقدار میں ہو تو اس میں بہتر طور پر اس مذہب کی ترجمانی ہو سکتی ہے، اردو زبان مسلمانوں کے لئے ایسی ہی زبان ہے، یہ زبان ہندوستان کے قدیم باشندوں اور مسلمان فاتحین اور صوفیاء ِواردین کے اشتراک سے پیدا ہوئی ہے، اور مسلمانوں کی آغوش میں اس کی پرورش ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سی اسلامی اصطلاحات اس زبان کا حصہ بن گئی ہیں، جیسے :ماشاء اللہ، سبحان اللہ، السلام علیکم وغیرہ؛ اس لئے اس حقیقت کے اظہار میں لَجانے اور شرمانے کی ضرورت نہیں ہے کہ مسلمانوں کا اس زبان سے خاص تعلق ہے، جیسے عیسائی بھائیوں کا انگریزی زبان سے ، یہودیوں کا عبرانی سے اور ہندو بھائیوں کا ہندی اور سنسکرت سے ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عربی زبان کے بعد جتنا اسلامی لٹریچر اردو زبان میںہے، کسی اور زبان میں نہیں ہے، اسلامی موضوعات پر بعض ایسی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں جن کی نظیر عربی زبان میں بھی نہیں تھی، عرب علماء نے ان کو شوق کے ہاتھوں لیا اور اپنی آنکھوں کا سرمہ بنایا، نیز مادری زبان کے فرق کے باوجود پورے ہندوستان میں یہی مسلمانوں کے لئے رابطہ کی زبان ہے، یہاں تک کہ جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں میں بھی اردو زبان کے اسکول اور مدرسے قائم ہیں اور جمعہ کے بیانات تو اکثر اردو ہی میں ہوتے ہیں؛ اس لئے اگر اس زبان سے مسلمانوں کا رشتہ ٹوٹ جائے تو مسلمان اپنے بہت بڑے علمی ورثہ سے محروم ہو جائیں گے۔
نئی تعلیمی پالیسی میں اگرچہ یہ بات کہی گئی ہے کہ مادری زبان میں تعلیم دی جائے گی؛ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ بین الاقوامی رابطہ کی زبان کی حیثیت سے انگریزی زبان کی تعلیم سے تو چارہ ہے ہی نہیں، راشٹر بھاشا کی حیثیت سے ہندی پڑھائی جائے گی، اور اس پالیسی میں سنسکرت کو بھی ایک لازمی زبان کا درجہ دینے کی بات کہی گئی ہے، تو اب سہ لسانی فارمولہ میں اردو کے لئے کوئی جگہ ہی کہاں رہ پائے گی؟ تعصب اور تنگ نظری کا حال یہ ہے کہ غیر ملکی زبان کی حیثیت سے چینی اور جاپانی زبان کو تو اہمیت دی گئی، فارسی کو بھی شامل رکھا گیا ہے؛ لیکن عربی زبان کو اس فہرست سے باہر کر دیا گیا ہے؛ حالاں کہ ہندوستانی ہنر مندوں کی بڑی تعداد عالم عرب میں کام کرتی ہے، اور عرب ملکوں سے ہمارے قریبی روابط رہے ہیں، ظاہر ہے یہ اردو کو ختم کرنے کی ایک واضح سازش ہے، ہمیں اس سلسلہ میں احتجاج بھی کرنا چاہئے، اور سیاسی سطح پر کوشش بھی ہونی چاہئے؛ لیکن ہمیں اپنی زبان کی آپ حفاظت کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے، اس سلسلہ میں یہود بہترین مثال ہیں، جنھوں نے ہزاروں سال غلامی ومحکومی کی زندگی گزارنے کے باوجود اپنی زبان کی حفاظت کی، اور جب ۱۹۴۸ء میں اسرائیل وجود میں آیا تو عبرانی زبان کو ملک کی سرکاری زبان قرار دیا۔
اس کے لئے اپنے طور پر کچھ ٹھوس تدبیریں کرنی ہوں گی، جہاں ممکن ہو، وہاں اردو میڈیم اسکول قائم کئے جائیں، جہاں یہ ممکن نہیں ہو، وہاں انگلش میڈیم تعلیمی اداروں میں ایک اختیاری زبان کی حیثیت سے اردو کا انتخاب کیا جائے، گھر پر بھی بچوں کو اردو سکھائی جائے، ہم لوگوں کی بول چال کی زبان اردو ہے؛ اس لئے بچوں کو اردو سکھانا دشوار نہیں، حروف شناسی کرا دی جائے اور تھوڑی محنت ہو توکافی ہو جائے گی، گھر کے اندر اردو میں بات چیت کا ماحول بنایا جائے، افسوس کہ آج جدید تعلیم یافتہ نوجوان اردو زبان سے واقف ہونے کے باوجود انگریزی میں بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، اردو اخبارات خریدنے اور پڑھنے کی عادت ڈالی جائے، بچوں کے لئے اردو رسائل خریدے اور گھر میں رکھے جائیں، آپسی خط وکتابت اور موبائل پر پیغام کی ترسیل اردو میں کی جائے، دفاتر اور دوکانوں کے سائن بورڈ اور مکانات کی تختیوں میں اردو کو شامل رکھا جائے، اردو زبان میں بچوں اور بچیوں کے لئے انعامی پروگرام رکھے جائیں، جہاں تک ممکن ہو اداروں میں اور ذاتی ضرورتوں میں اردو کا استعمال کیا جائے، غرض کہ اپنے طور پر اپنی زبان کو زندہ رکھنا ہوگا، اور یہ مشکل نہیں، افسوس کہ مسلمان احساس کمتری میں مبتلا ہیں؛ ورنہ اس زبان کی لطافت کا اعتراف تو غیر مسلم بھائیوں نے بھی کیا ہے۔
غرض کہ بنیادی دینی تعلیم، اخلاقی وفکری تربیت اور اردو زبان کی حفاظت کے ذریعہ ہی مسلمان اپنی آئندہ نسل کو بچا سکتے ہیں، مسلمانوں کو ان قوموں کا ریکارڈ اپنی نظر میں رکھنا چاہئے ، جن کے وجود کو بڑی چالبازی کے ساتھ تحلیل کر دیا گیا؛ اس لئے ضرورت ہے استقامت، جدوجہد اور زمانہ آگہی کی!
وما علینا الا البلاغ
بزم خطباء

11/01/2021
21/12/2020

محبت کے لائق کون

♥ــــــ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ انسان ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﻓﺎﺻﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯـــــــــــــ اور اللہ تعالی کی پہچان جتنی زیادہ ہو جاۓ، محبت میں اتنی شدت آتی ہے ۔۔ انسان کی محبت کی انتہاء وصل ہے، پھر تمام لطف و سرور کا اختتام ہوتا ہے اور ایک اکتاہت آ جاتی ہے، مگر اللہ تعالی کی محبت کی انتہاء نہیں ہے یوں لگتا ہے ابھی کچھ نہیں، ابھی کچھ نہیں، ابھی اور جانا ہے ، یہاں تک اپنا آپ فنا ہو جاتا ہے اپنا احساس نہیں رہتا ایک واحد رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔ لوگ جان دار پر لٹکا کر کہتے ہیں محبت کا حق ادا نہیں ہوا ۔۔۔۔۔ اور انسان کی محبت میں ہمیشہ احساس ہوتا ہے میں نے اتنا کیا مجھے بدلے میں کیا ملا؟ شکوے ہی شکوے۔۔۔۔درحقیقت محبت بنی ہی اللہ کے لیے ہے وہی اس کے لائق ہے اسی سے محبت کرنےمیں اصل مزا اور لطف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥

07/12/2020

*افسوس ناک*

*شیخ التفسیر وحدیث ولی کامل مفتی زرولی خان انڈس ہسپتال میں دوران علاج انتقال کرگئے*

*اناللہ واناالیہ راجعون*

*اللہ پاک استاذمحترم کی کامل مغفرت فرمائےدرجات بلندفرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرمائےآمین*

*اللہ پاک لواحقین کوصبرجمیل نصیب فرمائے آمین*

🌹 *اےجی ندیم شہیدؒکراچی گروپ*🌹

Want your school to be the top-listed School/college in Ludhiana?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Ludhiana