(334)
کتاب المعاملات والمعاشرة
باب: *دعوت قبول کرنے کے بارے میں*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(صحیح بخاری 5177)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مالداروں کو اس کی طرف دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The worst food is that of a wedding banquet to which only the rich are invited while the poor are not invited. And he who refuses an invitation (to a banquet), he disobeys Allah and His Apostle ﷺ .
Mujahid Qasmi
More knowledge about Islam with the Reference to the Quran And Hadith.
(335)
کتاب المعاملات والمعاشرة
باب: *گھر والوں کو نماز کے لیے جگانا*
أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ، وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ يُرِيدُ بِهِ أَزْوَاجَهُ حَتَّى يُصَلِّينَ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ فِي الْآخِرَةِ۔
(صحیح بخاری 6218)
ترجمہ:
حضرت ام سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ (رات میں) بیدار ہوئے اور فرمایا: سبحان اللہ! اللہ کی رحمت کے کتنے خزانے آج نازل کئے گئے ہیں اور کس طرح کے فتنے بھی اتارے گئے ہیں۔ کون ہے! جو ان حجرہ والیوں کو جگائے۔ نبی کریم ﷺ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ وہ نماز پڑھ لیں کیونکہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔
Narrated Um Salama (RA) :
(One night) the Prophet ﷺ woke up and said, "Subhan Allah ! How many treasures have been (disclosed) sent down! And how many afflictions have been descended! Who will go and wake the sleeping lady-occupants up of these dwellings (for praying)?" (He meant by this his wives.) The Prophet ﷺ added, "many well-dressed females in this world may be naked in the "Hereafter."
(331)
کتاب المعاملات والمعاشرة
باب:*اس شخص کی فضیلت جس کی اولاد انتقال کر جائے*
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْ لَنَا يَوْمًا، فَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ كَانُوا حِجَابًا مِنَ النَّارِ، قَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَانِ، قَالَ: وَاثْنَانِ.
(بخاری شریف 1249)
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ عورتوں نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ ہمیں بھی نصیحت کرنے کے لیے آپ ایک دن خاص فرما دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کو وعظ فرمایا اور بتلایا کہ جس عورت کے تین بچے مرجائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے پناہ بن جاتے ہیں۔ اس پر ایک عورت نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو ہی بچے مریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دو بچوں پر بھی۔
Narrated Abu Said (RA):
The women requested the Prophet, "Please fix a day for us." So the Prophet ﷺ preached to them and said, "A woman whose three children died would be screened from the Hell Fire by them," Hearing that, a woman asked, "If two died?" The Prophet ﷺ replied, "Even two (would screen her from the (Hell) Fire.
15/01/2025
(6001)
کتاب المعاملات والمعاشرة
باب: *اولاد کو اس ڈر سے قتل کرنا کہ وہ اس کے ساتھ کھائے گی*
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ: أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ قَالَ: ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 الْآيَةَ.
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا پھر، اس کے بعد فرمایا یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس خوف سے قتل کرو کہ اگر زندہ رہا تو تمہاری روزی میں شریک ہوگا۔ انہوں نے کہا اس کے بعد، نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بھی نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کی تائید میں یہ آیت والذين لا يدعون مع الله إلها آخر الخ، نازل کی کہ اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ ناحق کسی کو قتل کرتے ہیں اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔
Narrated Abdullah (RA) :
I said O Allah's Apostle ﷺ ! Which sin is the greatest?" He said, "To set up a rival unto Allah, though He Alone created you." I said, "What next?" He said, "To kill your son lest he should share your food with you." I further asked, "What next?" He said, "To commit illegal sexual in*******se with the wife of your neighbor." And then Allah revealed as proof of the statement of the Prophet: Those who invoke not with Allah any other god or kill any person which Allah has forbidden, except by right, and do not commit unlawful sexual in*******se.
(317)
کتاب المعاملات والمعاشرة
باب: *مریض بچے کو لے جانا تاکہ اس کے لئے دعائے صحت کیا جائے*
عَنْ الْجُعَيْدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، وَقُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ.
(صحیح بخاری 5670)
ترجمہ:
حضرت سائب بن یزید ؓ نے بیان کیا کہ مجھے میری خالہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بچپن میں لے گئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بھانجے کو درد ہے۔ نبی کریم ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی پھر آپ ﷺ نے وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا اور میں نے آپ کی پیٹھ کے پیچھے کھڑے ہو کر نبوت کی مہر آپ کے دونوں شانوں کے درمیان دیکھی۔ یہ مہر نبوت حجلہ عروس کی گھنڈی جیسی تھی۔
Narrated As-Saib (RA) :
My aunt took me to Allah's Apostle ﷺ and said, "O Allah's Apostle ﷺ ! My nephew is- ill." The Prophet ﷺ touched my head with his hand and invoked Allah to bless me. He then performed ablution and I drank of the remaining water of his ablution and then stood behind his back and saw the Seal of Prophethood between his shoulders like a button of a tent ( prepared for the bride).
31/12/2024
چار سو کتابوں کا مصنف!
زندگی بھر مذہبی امور ومسائل پر قلم چلانے والا!
ملک میں اکثریتی طبقے کی مذہبی بیداری پر زندگی بھر کام کرنے والا!
دولت کی ریل پیل، ریکارڈ کے مطابق اسی کروڑ کی پراپرٹی!
دنیا بھر کے تعلقات، حتی کہ ملک کا وزیر داخلہ ذاتی طور پر فون کرتا رہتا تھا!
لیکن:
محرومی کی انتہا دیکھیے!
آخری عمر میں کوئی ساتھ رہنے والا نہیں!
بچے اور تمام گھر والے اپنی دنیا میں مصروف!
عمر کے آخری ایام اولڈ ایج ہوم میں گزارے!
آخری رسومات تک میں بچے آنے کے لیے وقت نہیں نکال سکے!
یہ کہانی ہے، شری رام کھنڈیل وال کی!
حقیقت یہ ہے کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں، اگر:
آپ کا گھر اخلاق واقدار سے محروم ہے!
آپ کا گھر خاندانی روایات سے محروم ہے!
آپ کے گھر میں خونی رشتوں کا پاس ولحاظ نہیں!
یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں:
گھر اور خاندان کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔
گھریلو اور خاندانی اقدار اور روایات کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔
خونی رشتوں کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔
اور خونی رشتوں کے احترام اور ان کی پاسداری کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔
تحریر: ابوالاعلی سید سبحانی
بغور ملاحظہ کیجئے سکون ھی سکون ملےگا
(304)
کتاب المعاملات والمعاشرة
باب: *رسول اللہ ﷺ کا نکاح متعہ اخیر وقت میں منع کرنے کا بیان*
أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ الْمُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ.
(صحیح بخاری 5115)
ترجمہ:
حضرت علی ؓ نے عبداللہ بن عباس ؓ سے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے متعہ اور پالتو گدھے کے گوشت سے جنگ خیبر کے زمانہ میں منع فرمایا تھا۔
Narrated Ali (RA) :
I said to Ibn Abbas (RA), "During the battle of Khaibar the Prophet ﷺ forbade (Nikah) Al-Muta and the eating of donkey's meat."
(287)
کتاب المعاملات والمعاشرة
باب: *قرض سے اللہ کی پناہ مانگنا*
عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَ الْمَغْرَمِ ؟ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ، فَكَذَبَ، وَوَعَدَ، فَأَخْلَفَ.
(صحیح بخاری 2397)
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نماز میں دعا کرتے تو یہ بھی کہتے *اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں*، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ قرض سے اتنی پناہ مانگتے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
Narrated Aisha (RA):
Allah's Apostle ﷺ used to invoke Allah in the prayer saying, "O Allah, I seek refuge with you from all sins, and from being in debt." Someone said, O Allah's Apostle ﷺ ! (I see you) very often you seek refuge with Allah from being in debt. He replied, "If a person is in debt, he tells lies when he speaks, and breaks his promises when he promises."
(286)
کتاب المعاملات والمعاشرة
باب: *اپنے گناہ کے بارے میں کسی کو نہیں بتانا چاہیے*
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولَ: يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ.
(صحیح بخاری 6069)
ترجمہ:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
I heard Allah's Apostle ﷺ saying. "All the sins of my followers will be forgiven except those of the Mujahirin (those who commit a sin openly or disclose their sins to the people). An example of such disclosure is that a person commits a sin at night and though Allah screens it from the public, then he comes in the morning, and says, O so-and-so, I did such-and-such (evil) deed yesterday, though he spent his night screened by his Lord (none knowing about his sin) and in the morning he removes Allah's screen from himself."
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Tedhi Puliya
Lucknow
226022