Mahad Darul Uloom Nadwatul Ulama Sikrori Lucknow

Mahad Darul Uloom Nadwatul Ulama Sikrori Lucknow

Share

Unofficial page of Primary Nadwa

Photos from Mahad Darul Uloom Nadwatul Ulama Sikrori Lucknow's post 07/10/2025

افسوسناک خبر
دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مؤقر استاد جناب مولانا نذیر احمد صاحب ندوی کا انتقال ہوگیا ہے۔
إنا لله وإنا إليه راجعون

24/06/2025
23/04/2025

سیکولر ہندوستان سے ہندو راشٹر کی طرف

از: محمد توحید خان ندوی لکھنؤ

آر ایس ایس(Rashtriya Swayamsevak Sangh) اور اس کی ہمنوا ذیلی تنظیموں نے جو جد وجہد ایک سو سال پہلے (ستمبر 1925ء) میں منصوبہ بند تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ شروع کی تھی اس کے فطری نتائج ملک ہندوستان کے سیاسی ، سماجی اور معاشی تینوں منظر ناموں پر واضح طور پر رفتہ رفتہ وجود میں آتے چلے جارہے ہیں

آر ایس ایس کے بنیادی مقاصد کے سلسلے میں لکھا ہے:
"Founded on 27 September 1925, the initial impetus of the organisation was to provide character training and instill"Hindu discipline " in order to unite the Hindu community and establish a Hindu Rashtra.
The organisation aims to spread the ideology of Hindutva to strengthen the Hindu community and promotes an ideal of upholding an Indian culture and its civilizational values.
On the other hand the RSS has been described as "founded on the premise of Hindu Supremacy, and has been accused of an intolerance of minorities, in particular Anti -Muslim activities.(RSS Wikipedia)

آر ایس ایس کے نظریہ ساز مفکرین اور قلمکاروں میں مشہور نام (M.S.Golwalkar Guruji) کی دو مشہور کتابیں ہیں:
1: We or Our Nationhood Defined
2: Bunch of Thoughts

ان دونوں کتابوں میں بھی دیگر ہندو احیاء پرست مفکرین کی طرح گولوالکر نے بھی وہی نظریہ پیش کیا ہے جس کا ذکر آر ایس ایس کے بنیادی مقاصد میں کیا گیا ہے یعنی

1:ہندو توا نظریہ پر ہندو اتحاد
2: "ہندو تہذیب و ثقافت کا احیاء"
3: ہندو کمیونٹی کی عظمت و بالادستی کی بحالی
4: ہندو راشٹر کا قیام"

یہ تینوں بنیادی مقاصد یوں تو کافی عرصے سے خواہ سست روی ہی سے کیوں نہ روبہ عمل لائے جارہے تھے مگر 2014ء کے بعد سے جبکہ اس کی ذیلی سیاسی تنظیم بی جے پی (Bhartiya Janata party) مرکز میں برسرِ اقتدار آگئ ہے تو ان کی تکمیل کے لئے برق رفتاری اور پوری ہوشیاری سے ہر سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں اور اس میں اسے کامیابی بھی ملتی چلی جارہی ہے کیونکہ اس کے لئے موافق ماحول اور سازگار فضا پہلے ہی سے تیار کرلی گئی تھی
گرو جی گولوالکر نے لکھا تھا کہ ان مقاصد کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ ملک ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت (Muslim community) کے لوگ ثابت ہونگے کیونکہ وہ مکمل دین ، مکمل تہذیب اور ہندوستان میں شاندار کارکردگی کی حامل اپنی تاریخ رکھتی ہے جسے وہ آسانی سے فراموش نہیں کرےگی
لہٰذا آر ایس ایس کی فکر و دعوت کے علمبرداروں نے سب سے پہلے مسلمانوں اور بالخصوص انکی تہذیب و شریعت کو نشانہ بنانا شروع کیا ، اس کے لئے انکے بڑے ہتھیار یہ ثابت ہوئے:
1: مسلمانوں کے خلاف سیاسی گھیرا بندی بالخصوص مسلم سیاسی لیڈران کی گرفتاریاں اور قتل
2:لو جہاد، گھر واپسی جیسے نعرے وائرل کرکے اسلام کے پھیلاؤ کو روکنا
3: مسلم لڑکیوں کو ٹارگیٹ بناکر (Love Trappers) کو بڑھاوا دینا
4:شرعی نظام معاشرت اور علماء و مبلغین سے بدگمان کرنے کے لئے (Tripple Talaq Bill)جیسے بل پاس کرنا
5: بالآخر اسلام کے مضبوط ترین قلعوں مساجد، مدارس ، مقابر اور خانقاہوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور 9,لاکھ ایکڑ اوقاف کی زمینوں کو رفتہ رفتہ ہڑپ لینے کے لیے وقف ترمیمی بل(Waqf Amendment Bill) پاس کرانا
6: یونیفارم سول کوڈ (Uniform Civil Code) لانا (مثلاً اتراکھنڈ میں)

آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں بالخصوص بی جے پی نے چونکہ اقتدار بھی حاصل کرلیا ہے اور ملک کے حساس اداروں میں اثر ورسوخ قائم کرلیا ہے اکثریت کو بھی مختلف سیاسی ، معاشی اور مذہبی حربوں سے اپنا گرویدہ و ہمنوا بنالیا ہے اس لیے وہ یقیناً اپنا آخری ہدف بھی حاصل کرلیں گے جس کا بس قانونی اعلان باقی ہے یعنی عالمی سطح پر سب سے بڑا ہندو نواز ہندو راشٹر کا قیام ( Largest World Hindu State Based on upholding an Hindu Supremacy)

یہیں سے اب واضح ہو جاتا ہے کہ ملک ہندوستان جو انگریزوں کی سامراجیت سے آزاد ہوکر کثیر القومی تہذیب و ثقافت کا حامل آزاد سیکولر ملک قرار پایا تھا ایک بار پھر جابر و مستبد حکمرانوں کی دست برد کا شکار ہوکر اکثریت نواز ملک بن جائیگا جہاں کثرت میں وحدت (Unity in diversity) کا اصول ختم ہو کر ہندو تہذیب و ثقافت کی بالادستی (Hindu Supremacy) کا نظام رائج ہوجائے گا
اب ملک کے مختلف مذاہب کے نمائندوں بالخصوص مسلم لیڈران ، علماء و داعیانِ اسلام کو یہ سوچنا ہوگا کہ ہندو راشٹر میں کس طرح رہا جائیگا اور منصوبہ بندی اس نظریہ پر کرنی ہوگی کہ کیا ملک کو ایک بار پھر آزاد ہونے اور جنگ آزادی کی پرخار وادی سے گزرنے کی ضرورت ہے یا پھر اپنی تہذیب و ثقافت کے دفاع کے لیے کسی طرح کی مصالحتی مذاکراتی کوشش کی ، یا پھر اپنے تمام مذہبی، تہذیبی، قومی اور تاریخی تشخصات سے دستبردار ہوکر اکثریت کے ساتھ ضم ہوجانے کی اور اس کی تہذیب و ثقافت کو بادل ناخواستہ قبول ہی کرلینے کی
خدائے ذوالجلال والاکرام ہر طرح کے شرور و فتن سے محفوظ رکھتے ہوئے تادم آخر دین اسلام کی تعلیمات پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

22/04/2025

امسال تعطیلات کی تفصیل

Online Admission Form 06/03/2025

درخواست فارم برائے تجدید/جدید داخلہ : 47-1446( قدیم و مدارس ملحقہ کے کامیاب طلبہ کے لیے )

Online Admission Form

04/03/2025

اعلان برائے طلبہ

Photos from Mahad Darul Uloom Nadwatul Ulama Sikrori Lucknow's post 02/03/2025

اعلان تجدید داخلہ
برائے طلبائے دارالعلوم ندوۃ العلماء و ملحقہ مدارس — ۱۴۴۶-۱۴۴۷ (2025-2026)

Photos from Mahad Darul Uloom Nadwatul Ulama Sikrori Lucknow's post 06/02/2025

اعلان برائے جدید داخلہ

Want your school to be the top-listed School/college in Lucknow?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Lucknow
226007

Opening Hours

Monday 8:30am - 1pm
Tuesday 8:30am - 1pm
Wednesday 8:30am - 1pm
Thursday 8:30am - 12pm
Saturday 8:30am - 1pm
Sunday 8:30am - 1pm