Mazharul Islam

Mazharul Islam

Share

islamic Post

18/09/2024
27/05/2024

اردو زبان دنیا میں قومی سطح پر رائج زبانوں میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ یہ زبان برّصغیر ہندوپاک اور اس سے ملحقہ علاقوں اور قریبی ممالک میں بولی، لکھی اور سمجھی جاتی ہے، اس طرح یہ مختلف زبانوں کا ایک نایاب گلدستہ بن جاتی ہے، جس میں ہماری تہذیب، ثقافت اور تاریخ و تمدن کی گہری چھاپ پڑی ہے۔ اردو زبان کی نشر و اشاعت میں ہماری تہذیب و ثقافت کی یہی چھاپ اسے تازہ، حساس اور پُر لطف و رسیلی بناتی ہے۔
اب اگر اردو زبان کی پیدائش کا ذکر ہو تو اس بارے میں تاریخ ہند میں اس کے مختلف مآخذ بیان کیے جاتے ہیں، لیکن راجح یہ ہے کہ اس کی ابتدا عسکری زبان کے طور پر ہوئی۔ اگرچہ پھر بھی اسے دکن سے جوڑ کر دیکھیں جیسا کہ وہ اس کے قائل ہیں تو دکن میں بولی جانے والی زبان میں مالا بار کے ساحلوں پر اترنے والے عرب و مقامی تاجروں کی اُس زبان کی آمیزش پائی جاتی ہے جو انھوں نے اپنے کار و باری لین دین کے سبب مقامی اور عربی الفاظ کی شمولیت سے ترتیب پائی۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ دکن نے اس زبان کی نشر و اشاعت میں اپنا حصہ بھرپور ڈالا ہے، دکنی ادب اس کی واضح مثال ہے جو کہ منفرد اہمیت کا حامل ہے۔
جب اردو زبان کا ذکر ہو اور اس کی ترویج کا تذکرہ آئے تو یہ بات مسلم ہے کہ دہلی و لکھنؤ اس کے دو بڑے ادارے رہے ہیں، ان کے لہجات بھی الگ الگ اور زبان کی باریکیوں میں اختلافات وغیرہ شاہدِ عدل ہیں۔ دہلی و لکھنؤ کے عظیم الشان شعراء و ادباء نے اس کی ترقی میں خاص کر ادب کو معراج عطا کی، اس سلسلہ میں میر و غالب قابلِ تعریف ہیں۔ مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر خود بھی اردو کے شہرت یافتہ شاعر تھے، جو ابھرے اور خوب ابھرے۔ ان کے اساتذہ ذوق، غالب جیسے شاعر تھے۔
اردو زبان کی خوب صورتی یہ ہے کہ اس میں فارسی کے تلفظ و تراکیب، عربی الفاظ کا حسن، ترکی زبان کا تنوع ہے تو برصغیر کی علاقائی رعنائی اور روانی بھی ہے۔
اس زبان کی نشرو اشاعت کے حوالے سے کیا یہ کم کہ اس زبان میں اسلامی لٹریچر عربی زبان کے بعد سب سے زیادہ منتقل کیا گیا، شعر و ادب میں اس زبان نے نئی نئی اصناف دیں۔
اردو زبان کی نشرو اشاعت کے باب میں اردو کتاب میلوں کی افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کتاب میلوں میں لوگ آتے ہیں، کتابیں ٹٹولتے ہیں اور اپنے ذوق و شوق، لگاؤ کے اعتبار سے بعض کتابیں خرید کر لے جاتے ہیں، انھیں پڑھتے ہیں تو بلند خیالات، پاکیزہ جذبات انگڑائی لیتے ہیں اور پھر وہ ان سب کو اپنی ذاتی زندگی میں اپلائی کرتے ہیں اور اپنی اصلاح میں لگ جاتے ہیں۔ شیخ سعدی کا قول ہے: ’’بہترین کتابوں کا مطالعہ بیداریٔ قلب کے لیے بہت ضروری ہے‘‘۔ خیال آفاقی کا ایک شعر ہے:
نئے ذریعہ بلاغ خوب ہیں لیکن
کتاب میں جو مزہ ہے، کتاب ہی میں رہا۔
ابو الکلام آزاد نے انگریز وائسرائے سے ملاقات کے وقت اپنی قوم اور اپنی زبانِ اردو کے متعلق کہا تھا: ’’جو قوم اپنی زبان چھوڑ دیتی ہے، وہ اپنی شناخت اور عزت و وقار بھی کھو دیتی ہے۔‘‘
ابو الکلام آزاد نے کتنا نپا تلا تبصرہ کیا ہے۔ لیکن اب افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں بعض چیدہ چیدہ حضرات ہی ہیں جو اردو زبان کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں، عجب تو یہ ہے کہ وہ شعبہ جو اردو زبان کو زندہ رکھنے کے لیے برابر سرگرداں ہے، ایسی ایسی فاش غلطی کرتاہے جس کا گمان کسی عامی شخص سے بھی کبھی کبھار مشکل ہوتا ہے۔ اخبارات میں خوب صریح غلطیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ البتہ قوم کے لگاؤ کا حال جاننے کے لیے مختلف تنظیموں، اداروں وغیرہ سے نکلنے والے اردو پرچے کی شرحِ خریداری صرف ۳۰/۳۵ فیصد مشکل سے ہے۔ اسی طرح یومیہ اخبارات لوگ منگواتے تو ہیں؛ لیکن پڑھتے نہیں بلکہ وہ اخبارات چاٹ مسالے کھانے کے کام میں لاتے ہیں۔
ہمارا خیال ہے کہ اردو زبان سے لگاؤ نہ ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اردو زبان کو معاش سے بے دخل کر دیا گیا، جب تک اردو زبان سے معیشت کا گراف بڑھتا رہا اور معاش میں گرمی کی لو جلتی رہی اردو زبان اپنی ترقی کے زینے طے کرتی رہی، چوں کہ معیشت سے منسلک ہونا کسی بھی زبان کی ترویج کا ایک بڑا حصہ ہے۔ لوگ اردو زبان کو زندہ رکھنے کے لیے مشاعرے، جلسے جلوس اور نہ جانے اس طرح کی کتنی محفلیں اور کتنے اسٹیج رونق افروز ہوتے ہیں؛ لیکن جو اس زبان کو معاش سے جوڑ سکیں، اس زبان کو پایندہ رکھ سکیں ایسے وسائل نہ لوگ اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی ان وسائل کی فراہمی میں مدد گار ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف زبانِ انگلش کو معاش سے جوڑا گیا تو نتیجہ آپ کے سامنے ہے، اس کی خوب ترویج ہو رہی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم زبان اردو کی نشر و اشاعت میں اپنا حصہ ڈالیں، جس طرح بھی ہو سکے۔ کتابیں خریدیں، پڑھیں اور خوب لکھیں، بچوں کو سکھائیں، وغیرہ وغیرہ۔

13/05/2024

بسم اللہ الرحمن الرحیم

*دارالمصنفین کی علمی خدمات*

بقلم ۔ عمار احمد اعظمی

19ویں صدی کے اواخر میں ہندوستان پر مغربی یلغار نے جو اثر ڈالا اس سے افکار و خیالات علوم و نظریات ‌یہاں تک کی زندگی کا کوئی شعبہ محفوظ نہیں رہ سکا تھا لوگوں نے دین و مذہب علوم و عقائد کو عقل کے ترازو پر تولنا شروع کر دیا تھا جدید علوم و فنون نے اپنا دائرہ اتنا وسیع و کشادہ کر دیا تھا کہ جدید تعلیم یافتہ لوگ اپنے قدیم علمی اندوختے سے بیزار ومحروم ہونے لگے تھے اسلاف کے گراں قدر سرمائے ان کی تہذیب اور ان کے ثقافتی ورثے سے نابلد وناآشنا ہو گئے تھے قدیم علماء کو جدید حالات کا سرے سے علم ہی نہیں تھا وہ پرانی درسیات کی کتابوں کی شروحات وغیرہ میں مصروف تھے ایسے حالات میں جن عاقبت اندیش و دور اندیش شخصیات نے حالات کی سنگینیوں اور تبدیلیوں کو بھانپا اور ان کی ضرورتوں کو محسوس کیا ان میں پیش پیش سر سید احمد ہیں اور ان کے رفقاء مولانا حالی مولانا شبلی مولوی چراغ علی اور ڈپٹی نظیر احمد ہیں جنہوں نے اپنے علمی مضامین اور تصانیف سے جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں سنجیدہ علمی ذوق تو پیدا کر دیا تھا لیکن ان شخصیات میں علامہ شبلی کے علاوہ تمام لوگ مغربی تہذیب سے اس قدر مرعوب تھے کی وہ اپنی اسلامی تہذیب کو بھی مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھال دینا چاہتے تھے لیکن علامہ شبلی کا مطمح نظر اور مقصد یہ تھا کہ اسلامی عقائد اسلامی تاریخ اور اسلامی تہذیب کو زندہ و برقرار رکھتے ہوئے جدید طرز اور عصری تقاضوں کے مطابق پیش کیا جائے اس اعتبار سے علامہ اپنے تمام معاصرین و رفقا میں خواہ وہ قدیم علماء ہوں یا جدید تعلیم یافتہ لوگ فائق ممتاز نظر آتے تھے

علامہ شبلی کو اس بات کا اچھی طرح علم تھا کہ مغربی و اسلام مخالف طاقتیں جو متون بیانیے اور کلامۓ تیار کر رہی ہے اس میں ہماری اسلامی تہذیب و ثقافت غیرت و حمیت عصبیت کی شکار ہو جائے گی اور اسلامی تاریخ پر پردہ ڈال دیا جائے گا سامراجی کلامیے مکمل طور پر مسلمانوں کے علوم و فنون کو ضائع کر دیں گے اس لیے علامہ نے دارالمصنفین کی شکل میں ایک جوابی کلامۓکی ضرورت شدت سے محسوس کی اور اس وقت کے ایسے علماء و دانشوران سے رابطہ کیا جو مغربی جو مغربی چیلنجز اور ان کے اعتراضات کا مسکت جواب دے سکیں کیونکہ علامہ شبلی بخوبی اس بات سے واقف تھے کی تاریخ میں اہل قلم ہی ملکی حالات و خیالات میں انقلاب پیدا کر سکتے ہیں اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے روشناس وباور کرا سکتے ہیں اور اسلاف کے علمی اندوختوں سے باخبر کرا سکتے ہیں علامہ شبلی کے ذہن میں دارالمصنفین کا خیال قیاسی طور پر آیا ان کے نزدیک اس دور کی مثال عہد عباسی جیسی تھی اس دور میں بھی فلسفے نے ایک نیا قالب اختیار کر لیا تھا منطق میں نئے برگ بار پیدا ہو گئے تھے معانی وہ بلاغت کا اسلوب بدل گیا تھا تاریخ ایک قسم کا کہہ لیجیے فلسفہ بن چکی تھی اسلامی علوم و اداب خاص طور سے علوم دینیہ میں سینکڑوں قسم کے جدید ابواب پیدا ہو گئے تھے اسی مثال کو اپنے سامنے رکھ کر علامہ نے قدیم علوم و آداب کو نئے طرز میں مرتب کرنے اٹھےاور ایک وسیع کتب خانہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مصنفین کو تصنیفی ضروریات و مطالعے کے لیے افادہ کا موقع مل سکے اسی طرح تجارتی مکتبہ کا نظام خوش اسلوبی سے قائم کر کے مصنفین کو اشاعت وغیرہ کی دشواریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔۔۔

علامہ نے دار المصنفین کے خیال کا اظہار ندوۃ العلماء کے ایک اجلاس میں دارالعلوم کی سہ سالہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ قومی مذہبی ضروریات میں جس قدر قومی مدرسہ ایک قومی کالج اور ایک یونیورسٹی کی ضرورت ہے اسی قدر ایک قومی کتب خانہ اعظم کی بھی ضرورت ہے اگر مسلمانوں کے مذہب مسلمانوں کے علوم اور مسلمانوں کی قومی تاریخ کو زندہ رکھنا ہے تو ضروری ہے کہ ایک ایسا کتب خانہ قائم کیا جائے جس میں علوم مذہبی کے متعلق نادر و نایاب بیش بہا تصانیف موجود ہوں جس میں مسلمانوں کے خاص ایجاد کردہ علوم و فنون کا کافی سرمایہ ہو‌ ہر وہ تمام کتابیں ہوں جو اس فن کے دور ترقی کی مدارج ہیں جس میں قدماء کے عہد کی یادگاریں ہوں اور ان سب باتوں کے ساتھ یہ کتب خانہ کسی کا ذاتی نہ ہو بلکہ وقف عام ہو تاکہ تمام ہندوستان کے تمام مسلمان اور بالخصوص مصنفین اور اہل قلم اس سے فائدہ اٹھا سکیں بالاخر دارالمصنفین کی راہ ہموار کچھ اس طرح ہوئی کہ علامہ نے اپنی باغ اور اپنا بنگلہ وقف کر کے ساری رکاوٹیں ہی دور کر دیں اور 21 نومبر کو اخوان الصفاء کی ایک عارضی مجلس تشکیل دی گئی جس کے ارکان میں مولانا حمیدالدین فراہی مولانا مسعود علی ندوی سید سلیمان ندوی اور عبدالسلام ندوی جیسی شخصیات موجود تھیں اس مجلس کی کوششوں سے 25 مئی 1915 کو دارالمصنفین ادارے کو باقاعدہ رجسٹر کیا گیا علامہ نے دارالمصنفین کے جو مقاصد تحریر کیے تھے وہ یہ کہ ملک میں اعلی مصنفین اور اہل قلم کی جماعت پیدا کرنا،بلند پایہ کتابوں کی تصنیف و تالیف و ترجمہ، تصنیف شدہ کتابوں اور دیگر علمی و ادبی کتابوں کے طب اشاعت کا سامان فراہم کرنا

آج دارالمصنفین کو قائم ہوئے ایک صدی گزر گزر چکی ہے ہندوستان میں یہ ادارہ کسی تعارف کا محتاج نہیں اور کسی سے مخفی نہیں ہے کہ اس نے علمی سطح پر جو کارنامے انجام دیے ہیں وہ قابل رشک ہیں اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان صرف قدامت پسند دقیانوس نہیں ہے بلکہ جہانوں کی جستجو کر سکتے ہیں علم کی نئی دنیا آباد کر سکتے ہیں زمانے کو نیا اور اچھوتا طرزِ تعلیم دے سکتے ہیں سب سے پہلے تو خود علامہ ہی نے اپنی تحریروں سے مغرب کی غلط بیانیوں کے سد باب کی کوشش کی اور ان تعصبات کے تارے عنکبوت کو توڑا جو مستشرکین اور معاندین کے دماغ سے جمہور عوام کے ذہنوں تک پہنچ رہے تھے اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر، حقوق الذمین، کتب خانہ اسکندریہ، یہ سب جوابی کلامٔے تھے علامہ شبلی کو اپنے اس مشن میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی مزید برآں یہ کی دارالمصنفین سے ایسے ارباب علم و ہنر وابستہ ہوئے جن کے علم صلاحیت و مطالعاتی وسعت اور دور اندیشی پر کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا تھا یہ وہ لوگ تھے جو اپنے فن میں نمایاں اور اعلی علمی و تحقیقی تجسس آشنا ذہن رکھنے والے تھے اور ان افراد کی وابستگی سے دارالمصنفین کے علمی عظمت و شہرت میں اضافہ ہوتا گیا اور یہاں تک کہ یہ ادارہ بغداد کے بیت الحکمت کی طرح پوری علمی دنیا کا مرکز بن گیا اس ادارے کی تصنیفات سے علمی دنیا میں روشنی کی نئی کرنیں پھیلی نئے علمی مباحث اور موضوعات سامنے آئے علمی انکشافات کے دریچے کھل گئے سیرت وسوانح تاریخ اسلامی، علوم و فنون، فلسفہ و عقائد، ادبیات و قرانیات اور دیگرموضوعات پر اس ادارے نے تقریبا 300 کے قریب کتابیں شائع کیں جن سے پوری ملت نے نہ صرف استفادہ کیا بلکہ ان کتابوں کی حیثیت مورخین اور مصنفین کے لیے مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں بہت ایسی سیریز شروع کی گئیں جن سے غلط فہمیوں کے دروازے بند ہوئے

دارالمصنفین کا ارتکاز صرف اسلامی تاریخ و سیرت و سوانح فلسفہ و عقائد پر ہی نہیں بلکہ تاریخ ہند پر بھی دارالمصنفین نے نہایت اعلی درجے کا کام کیا تاریخ کو صحیح سمت دی نفرت و عداوت کے بجائے محبت و یگانگت کے مواد کو تاریک کے نصاب کا حصہ بنایا اعتدال وتوازن کی راہ اختیار کی عرب و ہند کے تعلقات از سید سلیمان ندوی ہندوستان عربوں کی نظر میں ضیاء الدین اصلاحی بزم مملوکیہ بزم تیموریہ بزم صوفیا ہندوستان کے عہد ماضی میں مسلمان حکمران کی مذہبی رواداری ہندوستان کے عہد گستاخ کا فوجی نظام ہندوستان کے عہد وسطہ کی ایک جھلک سلاطین دہلی کے عہد کا ہندوستان اور اسی طرح کی بہت سی تصنیفات پیش کی جس نے ہندوستان کی تاریخ کا اصل چہرہ دکھایا کے نصاب کا حصہ بنایا اعتدال وتوازن کی راہ اختیار کی، عرب و ہند کے تعلقات از سید سلیمان ندوی، ہندوستان عربوں کی نظر میں ضیاء الدین اصلاحی، بزم مملوکیہ، بزم تیموریہ، بزم صوفیا، ہندوستان کے عہد ماضی میں مسلمان حکمران کی مذہبی رواداری، ہندوستان کے عہد گستاخ کا فوجی نظام، ہندوستان کے عہد وسطہ کی ایک جھلک، سلاطین دہلی کے عہد کا ہندوستان، اور اسی طرح کی بہت سی تصنیفات پیش کی جس نے ہندوستان کی تاریخ کا اصل چہرہ دکھایا

دارالمصنفین نے ادبیات اور اس کی تاریخ پر بھی خاص طور پر توجہ مرکوز کی موازنہ انیس و دبیر، شعر العجم، اقبال کامل، اردو غزل وغیرہ اسی زمرے کی کتابیں ہیں، مختلف قوموں ملکوں اور شہروں کی مستند تاریخ پر بھی اس ادارے نے کتابیں پیش کیں تاریخ اندلس، گجرات کی تمدنی تاریخ، طبقات الامم وغیرہ اسی ذیل میں آتی ہیں، دارالمصنفین نے اس کے علاوہ سیرت النبی سیرت صحابہ تابعین و تب تابعین تذکرہ و سوانح قرآنیات مقالات و خطبات، اسلام اور مستشرقین، مکاتیب و سفرنامے، فلسفہ و کلام، اشارہ و کتابیات اہم عصری مسائل، عربی کتب انگریزی کتب، ہندی کتب ،متفرق کتابیں وغیرہ موصوعات پر ایسی مستند و جامع کتابیں شائع کی جن کو بڑی مقبولیت و شہرت حاصل ہوئی۔۔

جن میں خود علامہ شبلی کی سیرت النبی جس کی دو جلدیں جلدیں خود علامہ نے تحریر فرمائی تھی علامہ شبلی نے سیرت النبی اس وقت لکھنی شروع کی جب ان کی زندگی کی آخری شام ہو چکی تھی اور وہ اس تصنیف پر زندگی کا خاتمہ بھی چاہتے تھے خدا کا کرنا بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ ابھی دو جلد ہی تحریر فرمائی تھی کہ داعیٔ اجل کو لبیک کہا، بقیہ جلدیں ان کے شاگرد رشید سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے قلم سے تکمیل پائی سیرت النبی کے علاوہ سیرت صحابہ از معین الدین ندوی شاہ معین الدین احمد ندوی مولانا سید انصاری عبدالسلام ندوی،، تابعین، و تبع تابعین، الفاروق، الغزالی ، المامون ،سیرت النعمان، سیرت عائشہ ،حیات شبلی، یاد رفتگاں ،تاریخ ارض القرآن، مقالات شبلی، خطبات شبلی، اسلام اور مستشرقین از سمینار کی روداد، مکاتیب شبلی، برید فرنگ ،سفرنامہ روم و مصر و شام، سفرنامہ افغانستان، الکلام علم الکلام، برکلے، دروس الادب ،بابری مسجد ،مطلقہ عورت کا نان و نفقہ، کلیات سہیل ،حضرت عائشہ کی جیونی وغیرہ۔۔۔

معارف

دارالمصنفین نے اپنے مجلۂ معارف کے ذریعے بھی علمی دنیا کو باور کرایا نئی علمی تحقیقات کی وجہ سے معارف کو جو اعتبار حاصل ہوا وہ کم ہی رسالوں کو نصیب ہوتا ہے معارف کی ابتدا 1916 عیسوی سے ہوئی تھی اس وقت سے لے کر اب تک یہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری ہے اردو زبان کے علاوہ کئی اور زبانوں میں اس کے نادر و نایاب مضامین کے ترجمے کیے جاتے ہیں اس کو اہل علم وہ اہل قلم نے جس قدر و عظمت کی نگاہ سے دیکھا ہے اس کا اندازہ ایسے ہوتا ہے کہ مولانا آزاد رحمت اللہ علیہ نے اپنے گرامی نامہ میں سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کو تحریر فرمایا تھا کہ،، معارف کے متعلق اپ کیا کہتے ہیں صرف یہی ایک پرچہ ہے اور ہر طرف سناٹا ہے،، ڈاکٹر اقبال مرحوم نے اپنا یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ ،،یہ ایک ایسا رسالہ ہے جس کے پڑھنے سے حرارت ایمانی میں ترقی ہوتی ہے،،،
علاوہ ازیں معارف نے درجنوں ایسے لکھنے والے پیدا کر دیے جس نے قدیم و جدید دونوں طبقوں کو متاثر کیا قدیم طبقے کو اسلامی علوم و فنون کی خدمات کے نئے وسائل اور علم کی تحقیق و تنقید اور انشاء و تحریر کے نئے انداز سے نئے اسلوب سے متاثر کیا اور جدید طبقوں کو اپنی تاریخ اور علوم اسلامیہ کی طرف موڑا ،معارف نے سینکڑوں علمی موضوعات پر بڑا ذخیرہ جمع کر دیا ہے جس سے اسلامی انسائیکلوپیڈیا تیار کی جا سکتی ہے وفیات معارف، اشاریہ معارف، وغیرہ دیکھے جاسکتے ہیں ۔۔۔۔

دارالمصنفین کی خدمات کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ دارالمصنفین کے ذریعے دیگر موضوعات پر سیمینار کا سلسلہ جاری رہتا ہے اس سلسلے میں فروری 1982 میں اسلام اور مستشرقین کے عنوان سے جو سیمینار ہوا وہ بین الاقوامی سیمینار کافی اہمیت کا حامل رہا ۔۔۔

سب سے بڑی کامیابی دارالمصنفین کی یہ تھی کہ علامہ نے جب اس کے قیام کا ارادہ کیا تو علامہ کو ایسے رفقاء وتلامذہ نصیب ہوئے جنہوں نے علامہ کی وفات کے بعد دارالمصنفین کو پروان چڑھانے میں قدم قدم پر ساتھ دیا اور علامہ کے خواب کو اپنا خواب سمجھ کر اس کو پورا کیا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے پورے 36 برس منسلک رہ کر اس کو بام عروج پر پہنچایا اپنی گرا قدر تصنیفات سے اس کو جلا بخشی اور رسالہ معارف کے ذریعے افکار شبلی کی اشاعت کرتے رہے ،، عبدالسلام ندوی جنہوں نے ابتداء ہی سے دارالمصنفین میں تصنیف و تالیف کے فرائض انجام دیتے رہے سیرت صحابہ، اسوہ صحابہ، سیرت عمر بن عبدالعزیز، اقبال کامل ،القضا فی الاسلام، اسلامی فوجداری ،امام رازی، شعر الہند ،ترجمہ ابن خلدون ،لکھ کر شبلی کی علمی امانت کا حق ادا کر دیا،،
وہیں شبلی کے تلامذہ اور دارالمصنفین کے اولین خادموں میں حاجی معین الدین ندوی انہوں نے بھی صحابہ سیریز کی مہاجرین کی دو جلدیں اور خلفائے راشدین تصنیف فرما کر عشق صحابہ کا حق ادا کر دیا اور اسی طرح مولانا سعید انصاری سید ریاست علی ندوی مولانا حمید حمید الدین فراہی مولانا مسعود علی ندوی یہ وہ شخصیات تھیں جنہوں نے دارالمصنفین کی علم پرور فضا میں رہ کر تصنیف و تالیف کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ دارالمصنفین کے وقار کو بھی اسی طرح قائم رکھا جس طرح علامہ شبلی چاہتے تھے اور اج بھی الحمدللہ یہ ادارہ اپنی اخلاص کی وجہ سے پورے آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم ہے۔۔۔

ان حضرات کی قربانیوں اور علمی کاوشوں کی بدولت آج یہ ادارہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیائے اسلام اور یورپ کے ملکوں میں بھی بڑی شہرت و مقبولیت کا حامل ہے جہاں اس ادارے میں ہندوستان کی اہم سیاسی شخصیات پنڈت جواہر لال نہرو مہاتما گاندھی کی آمد رہتی تھی وہیں دوسری طرف وقتا فوقتا یورپ مالک کے اہل قلم اور اسکالر یہاں پر تشریف لاتے رہتے تھے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔۔۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس ادارے کی علمی خدمات سے مکمل واقفیت کے بعد یہ اندازہ ہوگا کہ دارالمصنفین نے ایسے ایسے گنجینہ و جواہر دیے ایسی نادر و نایاب موتیاں دیں کہ تلاش بسیار کے بعد بھی نہیں مل سکتیں،
مگر افسوس آج مسلم قوم کی بے حسی و بے بے اعتنائی ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں اسکی جو قدر ومنزلت ہونی چاہیے چاہیے وہ نہ ہوسکی ذرائع اور وسائل کے اعتبار سے جو اس کی معاونت ہونی چاہیے تھی وہ نہ ہو سکی یہی بے حسی و بے اعتنائی بڑے بڑے اداروں کو برباد کر دیتی ہے آج یہ ادارہ صرف اور صرف اپنے وزن اپنے جذبہ اخلاص کی وجہ سے زندہ ہے جو رفقائے دارالمصنفین کی دل و دماغ میں پیوست ہے اور ان کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہا ہے خدا کریےیہ ادارہ اسی طرح پورے اخلاص کے ساتھ علمی برگ و بار لاتا رہے اور شبلی کے خواب و خیال میں حسن تعبیر کا رنگ بھرتا رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔وما توفیقی الا باللہ

Want your school to be the top-listed School/college in Lucknow?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lucknow