02/05/2026
ازہری ڈائری نمبر ١٦
"موبائل اور طلبہ"
عصرِ حاضر سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ جدید ایجادات نے انسانی زندگی کو بے شمار سہولتوں سے آراستہ کر دیا ہے۔ آج معلومات کا خزانہ ایک کلک پر موجود ہے، دنیا بھر کی کتابیں موبائل اسکرین پر دستیاب ہیں، علمی لیکچرز، تحقیقی مضامین اور زبانوں کی تعلیم چند لمحوں میں حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر موبائل کا درست استعمال کیا جائے تو یہ علم و آگہی کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن اگر اس کا غلط استعمال ہو تو یہی نعمت زحمت بن جاتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے طلبہ موبائل کو تعلیم و تحقیق کے بجائے سوشل میڈیا، ویڈیوز سازی، فضول مشاغل اور وقتی شہرت کے حصول کا ذریعہ بنا چکے ہیں۔ دورانِ طالب علمی، جب انہیں نصابی کتب، علوم و فنون، زبانوں اور تحقیقی میدان میں مہارت حاصل کرنی چاہیے، وہ شارٹ کٹ راستوں سے شہرت اور آمدنی کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔
مدارس و جامعات ان کے قیام، طعام، کتب اور اساتذہ کا انتظام کرتے ہیں تاکہ یہ یکسوئی سے علم حاصل کریں، مگر بعض طلبہ مقصدِ تعلیم سے غافل ہو کر قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ اگر یہی روش جاری رہی تو وہ وقت دور نہیں جب باصلاحیت اور صاحبِ فن علماء نایاب ہو جائیں گے، اور ایسے افراد قیادت سنبھالیں گے جو ظاہر میں عالم مگر حقیقت میں علم سے خالی ہوں گے۔
اسی حقیقت کی طرف محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ نے اشارہ فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْتَزِعُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا
ترجمہ: اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے اچانک نہیں اٹھائے گا بلکہ علماء کو اٹھا لے گا، پھر لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
اور ایک مقام پر فرمایا:
مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ
ترجمہ: آدمی کے اچھے اسلام میں سے یہ ہے کہ وہ فضول چیزوں کو چھوڑ دے۔
یہ حدیث طلبہ کے لیے خصوصی پیغام رکھتی ہے کہ فضول مشاغل، بے مقصد ویڈیوز اور لاحاصل مصروفیات سے بچیں اور اپنی توانائیاں علم و عمل میں صرف کریں۔
طلبہ کو چاہیے کہ موبائل کو اپنا خادم بنائیں، حاکم نہ بننے دیں۔ اسے مطالعہ، تحقیق، زبان سیکھنے، مفید لیکچرز سننے اور مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ کیونکہ جو طالب علم اپنے شباب کا وقت علم میں لگا دیتا ہے، کل وہی ملت کا سرمایہ بنتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبہ موبائل کے اسیر نہیں، علم کے امیر بنیں۔
✍️ محمد عباس الازہری