Dar e Arqam

Call Directions Contact the school

Dar e Arqam JAMIAT DAR E ARQAM
a/c - 754120110000164
IFSC- BKID0007541

پیج کا مقصد اسلامی تعلیمات کو عام کرنے،قرآن و سنت کی اشاعت, دینی،دعوتی،تعلیمی، سماجی بیداری لانا۔ خدمت خلق بنیادی عزم ہے۔
खिदमत ए ख़लक़,एजुकेशन,वेल्फेयर.सालिहात गर्ल्स स्कूल की स्थापना.

18/09/2026

قیادت کی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔

قیادت بدلے گی، سوچ بدلے گی،
سوچ بدلے گی، راستہ بدلے گا!

قومیں صرف نعروں سے نہیں،
صحیح قیادت اور صحیح فیصلوں سے اپنا مستقبل بناتی ہیں۔

ہارون رشید عاصم










18/09/2026

नेतृत्व में बदलाव समय की जरूरत है।

नेतृत्व बदलेगा, सोच बदलेगी,
सोच बदलेगी, रास्ता बदलेगा!

कौमें सिर्फ नारों से नहीं,
सही नेतृत्व और सही फैसलों से अपना भविष्य बनाती हैं।

— हारून रशीद आसिम

#नेतृत्व_में_बदलाव_समय_की_जरूरत_है
#नेतृत्व_बदलो_हालात_बदलो
ोच_नया_नेतृत्व
#खामोशी_नहीं_जवाबदेही
#धार्मिक_और_राजनीतिक_नेतृत्व_में_बदलाव
#नेतृत्व_बदलेगा_सोच_बदलेगी
#सोच_बदलेगी_रास्ता_बदलेगा
#नेतृत्व_में_परिवर्तन
#नया_नेतृत्व_नई_राह
#जवाबदेही_और_सुधार

18/09/2026

کاکروچ کی طرح سوشل میڈیا پر
مسلم مذہبی وسیاسی قیادت کی تبدیلی کی تحریک چلائیں۔
#قیادت کی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے #

18/09/2026

مسلم قیادت میں تبدیلی کی ضرورت

اب وقت صرف شکوے، بیانات اور افسوس کا نہیں، بلکہ قیادت کے حساب اور جائزے کا ہے۔
ہماری بعض قیادتیں ہر مسئلے پر بیان دیتی ہیں، ہر حادثے پر افسوس کرتی ہیں،
ہر موقع پر میٹنگ بلاتی ہیں،
اور پھر بڑے اطمینان سے وہی کرتی ہیں جو پہلے کرتی آئی ہیں! اعلان آپ کا، احتجاج آپ کا، منسوخی بھی آپ کی…اور وضاحت کی ضرورت بھی عوام کو نہیں!
سوال یہ ہے کہ آخر کب تک مسلمان صرف تالیاں بجانے، نعرے لگانے، سیاسی و مذہبی ٹھیکداروں کو سرمایہ فراہم کرنے اور بیانات سننے کے لیے قیادت کے پیچھے چلتے رہیں گے؟ اب ضروری ہے کہ سیاسی اور دینی قیادت کے کردار، کارکردگی، فیصلوں اور ترجیحات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ جو قیادت مشکل وقت میں خاموش، فیصلہ کن وقت میں مصلحت پسند، اور عوام کے وقت میں صرف تقریر پسند ہو، اسے صرف عہدے کی وجہ سے ہمیشہ قیادت کا حق نہیں دیا جا سکتا۔
ہمیں ایسی قیادت چاہیے جو نڈر ہو، بے باک ہو، دیانت دار ہو، دوراندیش ہو، عوام کے دکھ درد کو سمجھتی ہو اور اللہ سے ڈرتی ہو۔ ایسی قیادت نہیں جو ہر شکست کو حکمتِ عملی اور ہر ناکامی کو مصلحت کا خوبصورت نام دے کر آگے بڑھ جائے!
قیادت کرسی کا نام نہیں، ذمہ داری کا نام ہے۔اور اگر قیادت اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو عوام کو بھی یہ حق ہے کہ سوال کریں، احتساب کریں اور پُرامن و جمہوری طریقے سے تبدیلی کا راستہ اختیار کریں۔
قومیں صرف نعروں، بیانات اور قراردادوں سے نہیں بدلتیں،
قیادت بدلتی ہے تو ترجیحات بدلتی ہیں،
ترجیحات بدلتی ہیں تو فیصلے بدلتے ہیں،
اور فیصلے بدلتے ہیں تو حالات بدلنے کی امید پیدا ہوتی ہے۔
ہارون رشید عاصم
# #قیادت کی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے # #

13/09/2026

فکری پس منظر
ایک زمانے سے یہ بات بطور فکری تحریک پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی رہی ہے کہ موجودہ ہندوستانی ماحول کے تناظر میں مسلمان خواص و عوام، خصوصاً اہل علم اور علماء، آر ایس ایس کے تقریباً ایک صدی پر محیط تنظیمی سفر، اس کی افرادی تربیت، قیادت سازی، ادارہ سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا سنجیدہ مطالعہ کریں۔ اس مطالعے کا مقصد نہ اس کے نظریات کی تائید ہے، نہ اس کی سیاسی پالیسیوں کی توثیق، مقصد صرف یہ سمجھنا ہے کہ ایک تنظیم اپنے افراد، اداروں اور وقت کو کس طرح ایک مسلسل تنظیمی قوت میں تبدیل کرتی ہے۔
الحمدللہ، اب اس موضوع پر گفتگو ہونے لگی ہے۔ یہ ایک مثبت فکری پیش رفت ہے، کیونکہ کسی مخالف یا مختلف فکر رکھنے والی تحریک کا مطالعہ اس کی پیروی کے لیے نہیں، اپنی کمزوریوں کو سمجھنے اور اپنی حکمت عملی کو بہتر بنانے کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے۔ زندہ قومیں صرف اپنے نظریات پر اطمینان نہیں کرتیں، وہ اپنے عہد کے مؤثر نظاموں کا مطالعہ کرتی ہیں، ان کے اسباب قوت کو سمجھتی ہیں اور پھر اپنے اصولوں کے مطابق بہتر راستہ اختیار کرتی ہیں۔
اسی نقطۂ نظر سے آر ایس ایس کا مطالعہ ہمارے لیے کسی تنظیم کی مدح یا مذمت کا مسئلہ نہیں، بلکہ تنظیم، تربیت، قیادت اور اجتماعی مستقبل کے فلسفے کو سمجھنے کا ایک اہم موضوع ہے۔
ہارون رشید عاصم
جمعیت دار ارقم

13/09/2026
13/09/2026

**مسلم دنیا کے لیے ایران کو نکتۂ ارتکاز بنا لینا عالمی سیاست میں نکتۂ عروج ہو سکتا ہے**

حالیہ ایران۔امریکہ جنگ نے ایک بار پھر مسلم دنیا کی سیاسی کمزوری، باہمی انتشار اور عالمی طاقتوں کے سامنے اس کے محدود ہوتے ہوئے اجتماعی کردار کو نمایاں کر دیا ہے۔ فلسطین سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانوں تک مسلم ممالک شدید تشویش اور مذمت کے باوجود کوئی ایسا مؤثر مشترکہ سیاسی قدم اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے جو عالمی طاقتوں کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی پر مجبور کر سکے۔
مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں، مسلم دنیا کے پاس آبادی، جغرافیائی محل وقوع، قدرتی وسائل، معاشی قوت اور سفارتی امکانات سب موجود ہیں۔ اصل مسئلہ سیاسی ارادے، باہمی اعتماد اور اجتماعی حکمت عملی کا فقدان ہے۔ امریکہ اور یورپ سے سیاسی، معاشی اور دفاعی تعلقات کے دباؤ نے بہت سے مسلم ممالک کو اپنے اجتماعی مفادات کے لیے بھی محتاط،دباؤ، ڈراور مصلحت پسند رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔
یہ صورت حال کسی ایک ملک یا حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے سے تبدیل نہیں ہوگی۔ مسلم دنیا کو جذباتی بیانات، شاہانہ طرز حیات اور زندگی کے پر تعیش منصوبوں کے بجائے ایک نئی سیاسی سوچ درکار ہے۔
موجودہ حالات میں ایران کو ایک ممکنہ نکتۂ ارتکاز سمجھ کر مسلم ممالک کو ایسے مشترکہ سیاسی، سفارتی، معاشی اور دفاعی محاذ کی تشکیل پر غور کرنا چاہیے جو کسی ایک ملک کی اندھی حمایت کے بجائے مسلم دنیا کے مشترکہ مفادات، خودمختاری اور اجتماعی سلامتی کی بنیاد پر قائم ہو۔ اس مرحلے پر ایران اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کی ہر پالیسی سے اتفاق ضروری نہیں، نہ ہی اس کی قیادت کو مسلم دنیا کی غیر مشروط قیادت سونپنا مقصود ہے۔ لیکن کسی ملک کے ساتھ اختلافات کو اس حد تک بڑھا دینا کہ اس کی مزاحمت یا سیاسی صلاحیت سے بھی فائدہ نہ اٹھایا جائے، سیاسی بصیرت نہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن سے زیادہ مستقل مفادات اہم ہوتے ہیں۔ مسلم دنیا کو اب یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ عالمی طاقتوں کے فیصلوں پر صرف ردِّعمل دینے والی دنیا رہے گی یا اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرنے والی سیاسی قوت بھی بنے گی۔ محض مذمتی قراردادیں، ہنگامی اجلاس، بیانات اور سفارتی تشویش کسی قوم کو طاقت نہیں دیتے، طاقت منظم سیاسی ارادے، معاشی تعاون، دفاعی خود انحصاری اور مشترکہ سفارتی حکمت عملی اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال بات کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔
اس لیے ایران کے گرد کسی جذباتی یا مسلکی اتحاد کے بجائے مشترکہ مسلم سیاسی مفادات کا وسیع محاذ تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت بن سکتا ہے۔ ایران اس محاذ کا نکتۂ ارتکاز ہو سکتا ہے، لیکن مقصد ایران نہیں، مقصد ایسی مسلم دنیا ہونی چاہیے جو نہ امریکہ سے مرعوب ہو، نہ یورپ سے خوف زدہ، نہ باہمی اختلافات میں اپنی اجتماعی قوت ضائع کرے اور نہ ہر بحران میں دوسروں کے فیصلوں کی منتظر رہے۔
مسلم دنیا کی سیاسی ترقی شاید اسی مرحلے سے شروع ہوگی جب خوف کی سیاست کی جگہ مفاد کی سیاست، انتشار کی جگہ تنظیم، محض احتجاج کی جگہ عملی حکمت عملی اور بے بسی کے احساس کی جگہ اجتماعی سیاسی ارادہ پیدا ہوگا۔
ہارون رشید عاصم

09/09/2026

**مذمتی قراردادیں وبیان بازی در حقیقت ذمہ داری سے فرار ہے**
جب بھی کوئی سانحہ پیش آتا ہے، ہماری مسلم تنظیمیں، نام نہاد خود ساختہ وخود پسند قیادتیں فوراً ایک مذمتی بیان جاری کرتی ہیں، چند سخت جملے بولتی ہیں، پریس ریلیز جاری ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار ہوتا ہے، اور پھر یوں اطمینان سے بیٹھ جاتی ہیں جیسے قوم کے حق میں اپنی پوری ذمہ داری ادا کر دی ہو۔ گویا مذمت ہی ان کی آخری منزل، آخری جدوجہد اور آخری فرض ہے۔ اس کے بعد نہ کوئی عملی منصوبہ بنتا ہے، نہ کوئی قانونی محاذ کھولا جاتا ہے، نہ عوام کو منظم کیا جاتا ہے، نہ آئندہ کے خطرات کا سدباب کیا جاتا ہے۔ چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے، اور قیادت اگلے سانحے اور اگلے مذمتی بیان کا انتظار کرنے لگتی ہے۔
یہ طرز عمل صرف کمزوری نہیں، بلکہ قوم کے ساتھ ایک سنگین خیانت ہے۔ قومیں مذمتی بیانات سے محفوظ نہیں رہتیں، قومیں بیداری، تنظیم، مستقل مزاجی، مضبوط حکمت عملی، قانونی جدوجہد اور بروقت مخلصانہ فیصلوں سے محفوظ رہتی ہیں۔ مگر افسوس کہ ہماری قیادت نے مزاحمت کو مصلحت، حکمت عملی کو خاموشی، غیرت کو مصلحت پسندی اور قومی ذمہ داری کو چند رسمی بیانات تک محدود کر دیا ہے۔
آج ہماری مساجد، مدارس، ادارے، املاک، حقوق اور دینی شناخت،عبادات تک ایک ایک کرکے نشانے پر ہیں، لیکن ہماری قیادت کا کردار زیادہ سے زیادہ اتنا رہ گیا ہے کہ حادثہ پیش آنے کے بعد مذمت کر دی جائے اور پھر خاموشی اختیار کر لی جائے۔ دشمن کو ہماری کمزوری کا اندازہ ہوچکا ہے، اسے معلوم ہے کہ چند دن شور ہوگا، کچھ بیانات آئیں گے، چند وفود ملیں گے، تصویریں بنیں گی، ملت کو گمراہ کیا جائے گا، اور پھر خاموشی ہو جائے گی۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ بیرونی دشمن جتنا نقصان پہنچاتا ہے، اس سے کہیں زیادہ نقصان وہ قیادت پہنچاتی ہے جو قوم کو خطرات سے آگاہ کرنے، اسے منظم کرنے اور مستقبل کی تیاری کرنے کے بجائے ہر سانحے کو ایک نئی پریس ریلیز کا موقع سمجھتی ہے۔ ایسی قیادت قوم کی محافظ نہیں، قوم کی بے بسی کی علامت بن جاتی ہے۔
مسئلہ صرف دشمن کی جارحیت کا نہیں، اصل المیہ ہماری اپنی بے حسی، نااہلی، دنیا پرستی، اقتدار پسندی اور مصلحت زدہ قیادت بھی ہے۔ دشمن اگر ہمارے دروازے تک پہنچ گیا ہے تو اس میں اس کی طاقت سے زیادہ ہماری طویل غفلت کا دخل ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قوم صرف یہ سوال نہ کرے کہ دشمن نے کیا کیا، بلکہ یہ بھی پوچھے کہ ہماری قیادت نے کیا کیا، کب کیا، اور کیوں نہیں کیا؟
کیونکہ ہر سانحے کے بعد صرف مذمت کرنا قیادت نہیں، ذمہ داری سے فرار ہے۔
ہارون رشید عاصم

06/09/2026

قول فیصل
ایک اور مسجد شہید کردی گئی، ایک ملک، دو قانون؟
سہارنپور کلکٹریٹ کی مسجد بھی شہید کردی گئی۔ یہ صرف ایک مسجد کی شہادت نہیں، بلکہ اس سوال کی ایک اور تلخ کڑی ہے کہ ہندوستان میں قانون سب کے لیے برابر ہے یا نہیں؟
ہندوستان میں آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد قائم ہونے والے لاکھوں اسکول، کالج، اسپتال، سرکاری دفاتر، مندر، مٹھ، آشرم اور گروکل موجود ہیں، جو اسی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیے جاسکتے ہیں جس قانون کی زد میں مسلمانوں کے مذہبی و تعلیمی ادارے ہیں۔ ان میں سے اگر کسی کی تعمیر، زمین یا دستاویزات کے بارے میں قانونی اعتراضات اٹھائے جائیں تو کیا ان سب کو بھی اسی پیمانے پر پرکھا جائے گا؟ سوال یہ ہے کہ بلڈوزر کا رخ بار بار صرف مساجد، مدارس اور درگاہوں کی طرف ہی کیوں ہوتا ہے؟ کیا یہ ایک ملک میں دو قانون کا معاملہ نہیں؟
لیکن مسئلہ صرف موجودہ حکومت کا نہیں ہے۔ آج جو لوگ اقتدار میں ہیں، وہ کسی اچانک فیصلے کے نتیجے میں یہاں نہیں پہنچے، اس کے پیچھے ایک طویل فکری، سیاسی اور تنظیمی تیاری ہے۔ اگر ایک نظریہ سو سال کی تیاری کے بعد اقتدار اور نظامِ حکومت پر اثرانداز ہوسکتا ہے تو پھر ہمیں بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ہم نے اپنی قوم ملک وملت اور سماج کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ یا کررہے ہیں۔
اصل مسئلہ مسلم قیادت کا ہے۔
وہ قیادت جس کے ہونٹ سی دیے گئے ہوں کہ بول نہیں سکتی، کان بہرے ہوگئے ہوں کہ سن نہیں سکتی، اور آنکھیں بند کردی گئی ہوں کہ دیکھ نہیں سکتی۔ البتہ سرکاری اور سیاسی گفتگو کی صلاحیت باقی ہے۔ بیان بازی بھی ہوسکتی ہے، تقریریں بھی ہوسکتی ہیں، وفود بھی بن سکتے ہیں، ملاقاتیں بھی ہوسکتی ہیں اور قوم و ملت کے نام پر سیاسی و مذہبی کاروبار بھی جاری رہ سکتا ہے۔
مگر جب مسجدوں پر بلڈوزر چلتا ہے، مدرسوں کومنہدم کیا جاتا ہے، تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور مسلمانوں کے اجتماعی وجود پر ضرب پڑتی ہے تو وہ اجتماعی مزاحمت کہاں ہے؟
قیادت کم از کم ایک تحریک تو چلا سکتی ہے، مگر چلائے بھی کیسے، تحفظات کا سوال ہے۔
اگر ہمارے مدارس، مساجد اور درگاہیں غیر قانونی ہیں تو قانون کا ایک ہی پیمانہ سب کے لیے مقرر ہو۔ پھر مندر، مٹھ، آشرم، گروکل، اسکول، کالج، اسپتال اور سرکاری دفاتر بھی اسی معیار پر پرکھے جائیں۔ جس پر قانونی اعتراض ثابت ہو، اس کے خلاف بھی وہی کارروائی ہو جو ہمارے خلاف کی جارہی ہے۔" مگر ہماری قیادت کو شاید عدالتوں میں اعتراضات داخل کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔۔۔۔
یہ مطالبہ کسی کے مذہبی مقام کو گرانے کا مطالبہ نہیں، بلکہ قانون کی یکسانیت اور انصاف کے اصول کا مطالبہ ہے۔
آخر وہ قوم و ملت کے ناخدا کہاں ہیں جو دنیا بھر میں سرکاری سطح پر گھوم گھوم کر یہ کہتے رہے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان بڑے چین و سکون سے رہتے ہیں، انہیں برابر کے شہری حقوق حاصل ہیں، یہاں ان کے مذہبی، سیاسی اور شہری حقوق محفوظ ہیں، اگر واقعی سب کچھ اتنا ہی پُرامن اور محفوظ ہے تو پھر صرف مسلمانوں پر ظلم و ستم کیوں؟
آخر ان فرعونوں کو وہ آگ کیوں نظر نہیں آتی جو آزادی کے بعد سے ہی مسلمانوں کے اجتماعی وجود کو مسلسل جھلسا رہی ہے؟
مسئلہ صرف ایک مسجد کا نہیں۔
مسئلہ ایک عمارت کا نہیں۔
مسئلہ صرف آج کے بلڈوزر کا بھی نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ایک قوم کے مذہبی، تہذیبی اور اجتماعی وجود کے بارے میں ریاستی رویہ کیا ہے، اور اس کے مقابلے میں اس قوم کی قیادت کا ردِعمل کیا ہے؟ لائحۂ عمل کیا ہے۔
قوموں کی زندگی صرف حکومتوں کے رحم و کرم پر نہیں ہوتی۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، اقتدار آتا جاتا رہتا ہے، مگر زندہ قومیں اپنے حقوق، اپنے تشخص اور اپنے مستقبل کے لیے منظم، باشعور اور مسلسل جدوجہد کرتی ہیں۔
جو قیادت وقت کی آواز نہ سن سکے، خطرے کی آہٹ نہ محسوس کرسکے، قوم کے زخم نہ دیکھ سکے اور ظلم کے مقابلے میں مؤثر اجتماعی لائحۂ عمل نہ بنا سکے، وہ قیادت صرف نام کی قیادت رہ جاتی ہے۔
جس قوم کی قیادت خودغرض ہوجائے، اس قوم کا اجتماعی شعور بھی آہستہ آہستہ مرنے لگتا ہے۔
اور یاد رکھیے!
قومیں صرف دشمن کے ظلم سے نہیں مرتیں، قومیں اس وقت بھی مرنے لگتی ہیں جب ان کی قیادت ظلم کو دیکھ کر خاموش ہوجائے۔
ہارون رشید عاصم

Address

Lakhimpur

Telephone

+918707812449

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dar e Arqam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dar e Arqam:

Shortcuts

Share