24/03/2026
🔷 Sajjada Nasheen
Darbar e Aaliya Younsia Naqshbandia
Zerhama Kupwara, Kashmir
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🟣 Hazrat Peer Mian Muhammad Maqbool
Naqshbandi Baji Sahab
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🟠 The blessed spiritual visit to the land of Punjab
has successfully concluded
🟢 Alhamdulillah
At present, he is staying in Jammu
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📍 Current Location
Jammu, Gujjar Colony
Channi Bypass
Near K.B Public School
_______________
May Allah Almighty accept this blessed journey
and grant everyone His grace and blessings ✨
16/03/2026
پیر میاں محمد مقبول عرف باجی صاحب نے تمام امت مسلمہ کو شب قدر کی مبارکباد دی
شبِ قدر کی عظمت، فضیلت اور اہمیت
سجادہ نشین دربار عالیہ یونسیہ نقشبندیہ زرہامہ کپواڑہ کشمیر حضرت پیرِ میاں محمد مقبول عرف باجی صاحب نے تمام امتِ مسلمہ کو رمضان المبارک کے بابرکت ایام بالخصوص شبِ قدر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کا آخری عشرہ بے حد اہم اور برکتوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ انہی بابرکت راتوں میں ایک عظیم رات شبِ قدر بھی شامل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے۔ یہ رات رحمت، مغفرت اور نجات کی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے شمار انعامات اور برکتیں نازل فرماتا ہے۔شبِ قدر کی قرآنی فضیلت قرآنِ پاک میں سورۃ القدر میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ بے شک ہم نے قرآن کو شبِ قدر میں نازل کیا۔ اس مبارک رات کی فضیلت اس قدر زیادہ ہے کہ اس میں کی جانے والی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے اور روح الامین حضرت جبرائیل علیہ السلام زمین پر نازل ہوتے ہیں اور ہر طرف سلامتی، سکون اور رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ یہ رات طلوعِ فجر تک امن و سلامتی کا پیغام لے کر آتی ہے۔رمضان کے آخری عشرے کی اہمیت پیر مقبول عرف باجی صاحب نے کہا کہ رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ انہی راتوں میں شبِ قدر کو تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ احادیث مبارکہ کے مطابق شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی اکیسویں، تیئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں شب میں تلاش کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ان راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت، ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرتے ہیں۔عبادت اور دعا کی اہمیت انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ شبِ قدر کی رات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اور خلوص کے ساتھ دعا مانگنے کی بہترین فرصت ہے۔ اس رات میں نمازِ تہجد، نوافل، درود شریف اور تسبیحات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ قرآنِ پاک کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے اپنے دلوں کو منور کرنا چاہیے۔ اسی طرح اپنے گناہوں کی سچی توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنی چاہیے کیونکہ یہ رات مغفرت اور بخشش کی رات ہے۔امتِ مسلمہ کے لیے دعائیں پیر صاحب نے کہا کہ اس مبارک موقع پر ہمیں نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے والدین، اہلِ خانہ، دوستوں اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں امن، بھائی چارے اور محبت کے فروغ کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے۔ خاص طور پر غریبوں، یتیموں اور مستحق افراد کی مدد کرنا بھی اس رات کی بڑی فضیلتوں میں شامل ہے۔صدقہ و خیرات کی ترغیب انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شبِ قدر کی رات صدقہ و خیرات کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کریں اور اپنے مال میں سے غریبوں کا حق ادا کریں۔ اس عمل سے نہ صرف معاشرے میں محبت اور ہمدردی کا جذبہ بڑھتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔روحانی اصلاح اور نیکی کی تلقین پیر مقبول عارف باجی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ شبِ قدر ہمیں اپنی زندگیوں کا جائزہ لینے کا بھی موقع فراہم کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی غلطیوں اور گناہوں سے سچی توبہ کریں اور آئندہ نیکی اور بھلائی کے راستے پر چلنے کا عہد کریں۔ اسلام ہمیں صبر، برداشت، محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی میں ان تعلیمات کو اپنانا چاہیے۔دعا اور پیغام آخر میں پیر میاں مقبول باجی صاحب نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شبِ قدر کی حقیقی برکتوں سے مالا مال فرمائے، ہماری عبادات اور دعاؤں کو قبول فرمائے اور ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے کی برکتوں سے پوری امتِ مسلمہ کو نوازے اور دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے۔
22/02/2026
*ضلع فتح گڑھ صاحب پنجاب کی سرزمین پر ایک نہایت بابرکت اور روح پرور محفلِ ذکر و مجالسِ ذکر کا انعقاد کیا گیا*
جس میں اہلِ علاقہ کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے عقیدت مندوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس نورانی اجتماع کی صدارت سجادہ نشین دربار عالیہ یونسیہ نقشبندیہ زرہامہ کپواڑہ حضرت پیر میاں محمد مقبول باجی صاحب نے فرمائی۔ یہ محفل روزہ افطاری سے قبل منعقد ہوئی، جس کی روحانی فضا نے ہر دل کو سکون اور طمانیت سے بھر دیا۔
محفل میں پنجاب کے مختلف اضلاع کے علاوہ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ حاضرین نے نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ ذکرِ الٰہی، درود و سلام اور اجتماعی دعا میں حصہ لیا۔ جیسے ہی ذکر کی صدائیں بلند ہوئیں، پورا ماحول نور اور روحانیت سے معطر ہو گیا۔ شرکاء کی آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر درود شریف کی صدائیں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ یہ محفل محض ایک اجتماع نہیں بلکہ دلوں کی اصلاح اور روح کی بالیدگی کا ذریعہ ہے۔حضرت پیر میاں محمد مقبول باجی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ موجودہ دور میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نمازوں کی پابندی کریں اور دینِ اسلام کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ آپ نے زور دے کر کہا کہ نماز مومن کی معراج ہے اور یہی وہ عمل ہے جو انسان کو برائیوں سے روکتا اور نیکی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اگر ہم سچی نیت کے ساتھ نماز ادا کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کریں تو ہمارے گھروں اور معاشرے میں سکون و برکت پیدا ہو سکتی ہے۔
آپ نے مزید فرمایا کہ دین داری کے ساتھ ساتھ آپسی بھائی چارہ اور محبت کو فروغ دینا بھی نہایت ضروری ہے۔ اختلافات کو ختم کر کے اتحاد و یگانگت کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آپ نے کہا کہ نفرتیں معاشرے کو کمزور کرتی ہیں جبکہ محبت اور اخوت اسے مضبوط بناتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، ضرورت مندوں کی مدد کریں اور صبر و برداشت کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔محفل کے اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی، امن و استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس روحانی مجلس کو اپنے لیے باعثِ سعادت قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ نماز، دین داری اور بھائی چارے کے پیغام کو اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائیں گے۔ یہ بابرکت اجتماع یقیناً دلوں کو جوڑنے اور ایمان کو تازہ کرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ ثابت ہوا۔
18/02/2026
سجادہ نشین دربارِ عالیہ یونسیہ نقشبندیہ زرہامہ کپواڑہ کشمیر
حضرت پیر میاں محمد مقبول باجی کی جانب سے ماہِ مقدس رمضان المبارک کی آمد پر تمام عالمِ اسلام کو دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ حضرت باجی صاحب نے اپنے پیغام میں فرمایا کہ رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ ہمیں صبر، تقویٰ، اخوت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس کی اصلاح، دل کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے۔آپ نے مزید فرمایا کہ ہمیں چاہیے کہ اس بابرکت مہینے میں عبادات، ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن مجید اور صدقہ و خیرات کا خصوصی اہتمام کریں۔ غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں اور معاشرے میں محبت، بھائی چارہ اور امن کو فروغ دیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی حقیقی برکتیں نصیب فرمائے اور ہماری عبادات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے
15/02/2026
Markaz Imam Rabbani Inaugural Conference Sunni Ijthima at Sirhind Sharif, Punjab