15/04/2026
President &Former CM ***i #
visited the residence of *prominent journalist and News18 correspondent to offer condolences on the sad demise of his beloved father. She expressed deep sympathy with the bereaved family and prayed for eternal peace to the departed soul. During the visit, she conveyed his heartfelt condolences and stood in solidarity with the family in this moment of grief.
28/03/2026
The Nimaz-e-Janaza of Mohd Sultan War, My beloved Grandfather will be offered today at 2:00 PM at Bun Batergam Janazagah.
28/03/2026
Inna Lillahi Wa Inna Ilayhi Raji’un 😭😭
With deep sorrow and a heavy heart, we announce the sad demise of My beloved *Grandfather Mohd Sultan War,* father of *Mr. (Correspondent News18)*, * ***i_Mohd_Moosa,* and * ,* who passed away tonight at 3:00Am 😭😭😭😭
His departure has left a void that can never be filled. He was a man of kindness, wisdom, and faith, whose presence brought comfort and strength to everyone around him. His memories will forever remain in our hearts, and his prayers and teachings will continue to guide us.
20/03/2026
کیونکہ معاشرے کا معیار وہ نہیں جو ہم دیکھتے ہیں،
ہمارے معاشرے کا ایک تلخ سچ یہ بھی ہے کہ
لوگ برائی کو بڑے فخر اور شوق سے شیئر کرتے ہیں،
جیسے کسی کی لغزش ان کی اپنی کامیابی ہو،
کسی کی کمزوری وائرل ہو جائے تو تماشہ بنتے ہیں،
کسی کی برائی پر اختلاف کرتے ہیں،
اور کسی کی غلطی کو نمک مرچ لگا کر پھیلانا
لوگ اپنا حق سمجھتے ہیں۔
مگر جب بات اچھائی کی آتی ہے تو خاموشی چھا جاتی ہے،
کوئی کسی کی نیکی نہیں دیکھتا، کوئی کسی کی ایمانداری نہیں بانٹتا،
کسی کے صبر، کسی کے کردار، یا کسی کے اچھے عمل کو شیئر کرنے کے لیے بہت کم ہی لوگ ہوتے ہیں۔
شاید اس لیے کہ برائی سننی مزے کی ہوتی ہے اور اچھائی ذمہ داری مانگتی ہے۔
برائی بولنے میں آسان اور اچھائی اپنے اندر مشکل لگتی ہے۔
اگر ہم نے معاشرے کو بہتر بنانا ہے تو
برائی کو نہیں، اچھائی کو وائرل کرنا ہوگا،
کسی کی غلطی نہیں، کسی کی کوشش شیئر کرنی ہوگی۔
کیونکہ معاشرہ وہی نہیں جو ہم دیکھتے ہیں،
بلکہ وہ ہے جو ہم پھیلاتے ہیں۔
16/01/2026
معراج کی رات میں نبی کریم ﷺ کے سامنے بیت المقدس میں دو پیالے پیش کئے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا ۔ آنحضرت ﷺ نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ اٹھا لیا ۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے جس نے آپ کو فطرت ( اسلام ) کی ہدایت کی ۔ اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی ۔
*Sahih Bukhari #4709*