Maktaba Taleem-Ul-Quran

Maktaba Taleem-Ul-Quran

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maktaba Taleem-Ul-Quran, Educational Research Center, Gushi Kupwara, Near Jamia Masjid Gushi, Kupwara.

Our MissionTo seek the pleasure of Allah (SWT) by ordering human life in accordance with the teachings laid down by Allah and His Messenger Muhammad (May peace andblessings of Allah be upon him).

19/02/2026

قرآن حکیم نے حکمِ صیام کے مواقع پر روزے کے تین نتائج بیان کیے ہیں۔
1_ تاکہ تم متقی بنو۔
2_ تاکہ تم اس عطائے ہدایت پر خدا کی تکبیر و تقدیس کرو۔
3_ تاکہ تم اس نزولِ خیر و برکت اور اس عطائے فرقان پر خدا کا شکر بجا لاؤ۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ روزے کی حقیقت تین اجزاء سے مرکب ہے۔ تقویٰ، تکبیر و تقدیس اور حمد و شکر۔ پس روزہ جو ہمارا علاجِ روحانی ہے، اگر اس سے شفائے روحانی حاصل نہ ہو، تو حقیقت میں وہ روزہ نہیں، فاقہ ہے۔ اور ایسے صائم اور روزہ دار، جن کے روزے میں اتقا، تقدیس اور شکر کے عناصرِ ثلاثہ نہیں، وہ فاقہ کش ہیں۔
*حقیقتِ صیام، از مولانا ابوالکلام آزاد*

31/01/2026

طالبات و خواتین کو شرکت کی پرخلوص دعوت دی جاتی ہے

29/12/2025

رشتوں کی حفاظت

15/12/2025

پیر ذوالفقار نقشبندی

05/09/2025

Towards Understanding Quran

30/08/2025

Tilawat Quran.

29/08/2025

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـهُ الۡحَمۡدُ فِىۡ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَعَشِيًّا وَّحِيۡنَ تُظۡهِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:
آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے حمد ہے۔ اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔24

تفسیر:
سورة الروم 24
اس آیت میں نماز کے چار اوقات کی طرف صاف اشارہ ہے۔ فجر، مغرب، عصر اور ظہر۔ اس کے علاوہ مزید اشارات جو قرآن مجید میں اوقات نماز کی طرف کیے گئے ہیں، حسب ذیل ہیں
اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ (نبی اسرائیل، آیت 78) " نماز قائم کرو آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کی تاریکی تک، اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو "۔
وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ (ہود، آیت 114) " اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر "۔
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَاف النَّهَارِ (طہ، آیت 130) " اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کی کچھ گھڑیوں میں پھر تسبیح کرو، اور دن کے کناروں پر "۔
ان میں سے پہلی آیت بتاتی ہے کہ نماز کے اوقات زوال آفتاب کے بعد سے عشا تک ہیں، اور اس کے بعد پھر فجر کا وقت ہے۔ دوسری آیت میں دن کے دونوں سروں سے مراد صبح اور مغرب کے اوقات ہیں اور کچھ رات گزرنے پر سے مراد عشا کا وقت۔ تیسری آیت میں قبل طلوع آفتاب سے مراد فجر اور قبل غروب سے مراد عصر۔ رات کی گھڑیوں میں مغرب اور عشا دونوں شامل ہیں۔ اور دن کے کنارے تین ہیں، ایک صبح، دوسرے زوال آفتاب، تیسرے مغرب۔ اس طرح قرآن مجید مختلف مقامات پر نماز کے ان پانچوں اوقات کی طرف اشارہ کرتا ہے جن پر آج دنیا بھر کے مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ محض ان آیات کو پڑھ کر کوئی شخص بھی اوقات نماز متعین نہ کرسکتا تھا جب تک کہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے معلم قرآن محمد ﷺ خود اپنے قول اور عمل سے ان کی طرف رہنمائی نہ فرماتے۔
یہاں ذرا تھوڑی دیر ٹھہر کر منکرین حدیث کی اس جسارت پر غور کیجیے کہ وہ " نماز پڑھنے " کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نماز جو آج مسلمان پڑھ رہے ہیں یہ سرے سے وہ چیز ہی نہیں ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ قرآن تو اقامت صلوۃ کا حکم دیتا ہے اور اس سے مراد نماز پڑھنا نہیں بلکہ " نظام ربوبیت " قائم کرنا ہے۔ اب ذرا ان سے پوچھیے کہ وہ کون سا نرالا نظام ربوبیت ہے جسے یا تو طلوع آفتاب سے پہلے قائم کیا جاسکتا ہے یا پھر زوال آفتاب کے بعد سے کچھ رات گزرنے تک ؟ اور وہ کون سا نظام ربوبیت ہے جو خاص جمعہ کے دن قائم کیا جانا مطلوب ہے ؟ اِذَا نُوْدِيَ للصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ (الجمعہ، آیت 9) اور نظام ربوبیت کی آخر وہ کون سی خاص قسم ہے کہ اسے قائم کرنے کے لیے جب آدمی کھڑا ہو تو پہلے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھو لے اور سر پر مسح کرلے ورنہ وہ اسے قائم نہیں کرسکتا ؟ اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ (المائدہ، آیت 6) اور نظام ربوبیت کے اندر آخر یہ کیا خصوصیت ہے کہ اگر آدمی حالت جناب میں ہو تو جب تک وہ غسل نہ کرلے اسے قائم نہیں کرسکتا ؟ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا (النساء، آیت 43) اور یہ کیا معاملہ ہے کہ اگر آدمی عورت کو چھو بیٹھا ہو اور پانی نہ ملے تو اس عجیب و غریب نظام ربوبیت کو قائم کرنے کے لیے اسے پاک مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہرے اور منہ پر ملنا ہوگا ؟ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ (المائدہ، آیت 6) اور یہ کیسا عجیب نظام ربوبیت ہے کہ اگر سفر پیش آجائے تو آدمی اسے پورا قائم کرنے کے بجائے آدھا ہی قائم کرلے ؟ وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ (النساء، آیت 101) پھر یہ کیا لطیفہ ہے کہ اگر جنگ کی حالت ہو تو فوج کے آدھے سپاہی ہتھیار لیے ہوئے امام کے پیچھے " نظام ربوبیت " قائم کرتے رہیں اور آدھے دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہیں، اس کے بعد جب پہلا گروہ امام کے پیچھے " نظام ربوبیت " قائم کرتے ہوئے ایک سجدہ کرلے تو وہ اٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے چلا جائے اور دوسرا گروہ اس کی جگہ آکر امام کے پیچھے اس " نظام ربوبیت " کو قائم کرنا شروع کردے وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ ۣفَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَاۗىِٕكُمْ ۠ وَلْتَاْتِ طَاۗىِٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ (النساء، آیت 102) قرآن مجید کی یہ ساری آیات صاف بتارہی ہیں کہ اقامت صلوۃ سے مراد وہی نماز قائم کرنا ہے جو مسلمان دنیا بھر میں پڑھ رہے ہیں، لیکن منکرین حدیث ہیں کہ خود بدلنے کے بجائے قرآن کو بدلنے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بالکل ہی بےباک نہ ہوجائے وہ اس کے کلام کے ساتھ یہ مذاق نہیں کرسکتا جو یہ حضرات کر رہے ہیں۔ یا پھر قرآن کے ساتھ یہ کھیل وہ شخص کھیل سکتا ہے جو اپنے دل میں اسے اللہ کا کلام نہ سمجھتا ہو اور محض دھوکا دینے کے لیے قرآن قرآن پکار کر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ (اس سلسلہ میں آگے حاشیہ 50 بھی ملاحظۃ ہو)

28/08/2025

تلاوت قرآن پاک.. َورہ الکوثر

21/08/2025

Aameen ya Rub.

20/08/2025

*جو اللّٰہ پہ اعتماد کرتا ہے، اللّٰہ اسے غنی بنا دیتا ہے*
اور
*جو اُس پر توکل کرتا ہے، اللّٰہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے

19/08/2025

میں ایک مجاہد کے سے ایمان کا طالب ہوں، ایسا دل مانگتا ہوں جوسمندر کی طوفانی موجوں کے مقابلے میں ٹوٹی ہوئی کشتی لے جانے پر بے جھجھک آمادہ ہو جائے، ایسی روح مانگتا ہوں جو شکست کھانے اور سپررکھ دینے کو تصور بھی نہ کر سکتی ہو ، ایسی عزیمت مانگتا ہوں جو مادی سہاروں سے قطعاً مستغنی ہو ، اور تمام سہاروں کے چھوٹ جانے پر بھی نہ ٹوٹ سکے۔ ایسا ارادہ مانگا ہوں ، جسے کوئی طاقت اپنے مقصد کے راستے سے نہ ہٹا سکے۔ ( تحریک اسلامی ۔ ایک تاریخ ایک داستان :58)

Want your school to be the top-listed School/college in Kupwara?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Gushi Kupwara, Near Jamia Masjid Gushi
Kupwara
193222