19/02/2026
قرآن حکیم نے حکمِ صیام کے مواقع پر روزے کے تین نتائج بیان کیے ہیں۔
1_ تاکہ تم متقی بنو۔
2_ تاکہ تم اس عطائے ہدایت پر خدا کی تکبیر و تقدیس کرو۔
3_ تاکہ تم اس نزولِ خیر و برکت اور اس عطائے فرقان پر خدا کا شکر بجا لاؤ۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ روزے کی حقیقت تین اجزاء سے مرکب ہے۔ تقویٰ، تکبیر و تقدیس اور حمد و شکر۔ پس روزہ جو ہمارا علاجِ روحانی ہے، اگر اس سے شفائے روحانی حاصل نہ ہو، تو حقیقت میں وہ روزہ نہیں، فاقہ ہے۔ اور ایسے صائم اور روزہ دار، جن کے روزے میں اتقا، تقدیس اور شکر کے عناصرِ ثلاثہ نہیں، وہ فاقہ کش ہیں۔
*حقیقتِ صیام، از مولانا ابوالکلام آزاد*