18/04/2026
1941 کی ایک مقدس جھلک — حضرت بل اپنی قدامت کے ساتھ آج بھی قائم، اب ہلکے رنگوں میں نکھر کر نسلوں کی عقیدت کی بازگشت سناتا ہے۔
A study into Sufism that flourished in Kupwara district of Kashmir valley.
18/04/2026
1941 کی ایک مقدس جھلک — حضرت بل اپنی قدامت کے ساتھ آج بھی قائم، اب ہلکے رنگوں میں نکھر کر نسلوں کی عقیدت کی بازگشت سناتا ہے۔
16/04/2026
حضرت بل، 1963 🕊️
مقدس مقام Hazratbal Shrine کے احاطے میں ایک رہنما ہاتھ بلند کیے کھڑا ہے، اور موئے مقدس کے گم ہو جانے کے دنوں میں بے چین دلوں کے سمندر سے مخاطب ہے۔
اس پُراثر لمحے میں ہر لفظ ایمان، کرب اور ایک ناقابلِ شکست اجتماعی عزم کا ترجمان تھا۔
ایک قوم—جو خوف سے نہیں، بلکہ عقیدت سے متحد تھی۔
Sufism in Kashmir کآشِر زَبان
The Evolution of : A Legacy of Engineering Excellence
Introduction
Bayerische Motoren Werke AG, commonly known as BMW, is a renowned German automobile and motorcycle manufacturer celebrated for its performance-oriented vehicles and cutting-edge technology. Founded in 1916, BMW has become synonymous with luxury, innovation, and driving pleasure. This article explores the history, evolution, and impact of BMW on the automotive landscape.
History and Foundation
BMW was established in Munich, Germany, originally as a manufacturer of aircraft engines during World War I. The company's first product was the BMW IIIa aircraft engine, which gained acclaim for its performance and reliability. However, the end of the war in 1918 led to a ban on aircraft engine production in Germany, prompting BMW to diversify its offerings. - bersama Tasty Besty Food 1M.
In 1923, BMW shifted its focus to motorcycles, launching the R32, which featured a revolutionary flat-twin engine and shaft drive. This motorcycle laid the foundation for BMW's reputation in the two-wheeled segment, eventually leading to several racing successes in the years that followed.
The Automotive Era
BMW entered the automotive market in 1928 with the acquisition of the Fahrzeugfabrik Eisenach. The first BMW car was the BMW 3/15, based on the Austin Seven. The introduction of the BMW 328 in the 1930s marked a turning point for the company, establishing it as a manufacturer of
high-performance sports carsThe 328 gained recognition in motorsports, winning the Mille Miglia in 1940.
However, World War II led to significant challenges for BMW. The company was forced to redirect its production to support the German war effort, resulting in severe damage to its factories and infrastructure. After the war, BMW faced the daunting task of rebuilding and redefining its identity.
Post-War Recovery and Growth
In the post-war years, BMW focused on producing small, affordable cars. The
01/07/2023
ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداﷲ بن زید رحمۃ ﷲ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:*''جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو ﷲ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا''۔*
جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا ﷲ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟
پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی دوسری رات بھی دعا قبول نہیں ہوئی تیسری رات دعا قبول ہو گئی، خواب میں کیا دیکھتے ہیں کالے رنگ کی عورت ہے حضرت بلال حبشی کے دیس کی رہنے والی حبشہ کے دیس کی اور وہ کیا کہتی ہے کہ:''میں میمونہ ولید ہوں اور میں بصریٰ میں رہتی ہوں''۔پتہ مل گیا آنکھ کھلی حضرت کی تہجد کا وقت تھا نوافل پڑھے نماز فجر باجماعت ادا کی اور سواری لے کر حضرت عبداﷲ بن زید بصریٰ گئے وہاں لوگوں نے بڑا استقبال کیا حضرت کا نام ہی بہت بڑا تھا بیٹھا کر پوچھا حضرت بتائے بغیر کیسے آنا ہوا خیر تو ہے آپ نے پوچھا یار یہ تو بتاؤ یہاں کوئی میمونہ ولید رہتی ہے لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا حضرت آپ اتنے دٗور سے چل کر میمونہ ولید سے ملنے آئے ہیں آپ نے فرمایا کیوں اُس سے کوئی نہیں مل سکتا نہیں حضور وہ تو دیوانی ہے لوگ اُسے پتھر مارتے ہیں، حضور نے پوچھا کیوں مارتے ہیں حضور کام ہی ایسے کرتی ہے کوئی رو رہا ہو تو اسے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے اور کوئی ہنس رہا ہو تو رونا شروع کر دیتی ہے اور وہ اجرت پر پیسے لیکر لوگوں کی بکریاں چرہاتی ہے آج بھی وہ ہماری بکریاں لیکر جنگل میں گئی ہے آپ آرام فرمائیں عصر کے بعد آ جائے گی آپ مل لیجیے گا۔
حصْرت نے فرمایا عصر کس نے دیکھی کہا وہ کس سمت گئی ہے لوگوں نے کہا حضور جنگل نہ جائیں بہت خوفناک جنگل ہے آپ نے فرمایا بتاؤ کس طرف گئی ہے لوگوں نے بتایا آپ فرماتے ہیں کہ میں نکل گیا آپ فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل گیا واقع ہی خوفناک جنگل تھا جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی قدم قدم پر کوئی نہ کوئی چیز کھڑی ہے آپ فرماتے ہیں کہ قربان جاؤں اس عورت کی مردانگی پر وہ اس جنگل میں کس طرح بکریاں چرا رہی ہے شیروں نے اس کی بکریوں کو ابھی تک کھایا نہیں اتنے درندے ہیں سارے مل کر حملہ کر دیں تو کیا کرے یہ اکیلی عورت کس کس کو روکے گی؟ خیر آپ فرماتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں لوگوں نے مجھے بتائی تھی میں وہاں پہنچ گیا جب میں وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا دو حیران کر دینے والے منظر تھے۔
پہلا یہ کہ میمونہ ولید ؒ بکریاں نہیں چرا رہی تھی بلکہ اُس جنگل میں جائے نماز بچھا کر نوافل پڑھ رہی تھی پر بکریاں چرانا تو بہانہ تھا یہ تو بہانہ تھا کنارہ کشی کا، لوگ یہی سمجھتے تھے میمونہ سارا دن بکریاں چراتی ہے لیکن میمونہ بکریاں نہیں چرا رہی تھی۔
دوسرا کیا دیکھا کہ میمونہ تو نماز پڑھ رہی ہیں پھر بکریاں کون چرا رہا ہے بکریاں تو ایک جگہ نہیں رکتیں کہیں اِدھر جاتی ہیں کہیں اُدھر آپ فرماتے ہیں کہ میمونہ نماز پڑھ رہی تھی اور شیر بکریاں چرا رہے ہیں بکریاں چر رہی ہیں شیر انکے اردگرد گھوم رہے ہیں اگر کوئی بکری بھاگتی ہے اس کی فطرت ہے شرارت کرنا تو شیر اُسے پکڑ کر واپس لے آتا ہے لیکن کہتا کچھ نہیں۔
آپ فرماتے ہیں میں حیران و پریشاں کھڑا تھا کہ یہ کیسے ہو گیا ہے یہ فطرت کیسے بدل گئی لوگ کہتے ہیں فطرت نہیں بدلتی یہ شیروں اور بکریوں میں یاری کیسے ہو گئی آپ فرماتے ہیں میں دنگ حیران و پریشان کھڑا ہوں مجھے نہیں پتہ کہ کب میمونہ ولید نے نماز ختم کر دی اور مجھے مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ:*''اے عبدﷲ ملنے کا وعدہ تو جنت میں تھا آپ یہاں آ گئے''۔*
آپ فرماتے ہیں میں حیران رہ گیا اس سے پہلے تو ملاقات بھی نہیں ہوئی تو حضرت میمونہ ولید کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا
تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمونہ ولیدؒ سے سوال کیا اِس سے پہلے ہم ملے نہیں ملاقات نہیں ہوئی ہماری تو میرا نام کیسے پتہ چلا آپ کو تو جواب کیا ملا حضرت میمونہ ولیدؒ فرماتی ہیں عبدﷲ جس ﷲ نے رات کو تجھے میرے بارے میں بتایا ہے اُسی ﷲ نے مجھے آپکے بارے میں بتایا ہے
آپ فرماتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ یہ فطرت کیسے بدلی میں نے حضرت میمونہ ولید ؒ سے پوچھا آپ یہ تو بتاؤ یہ شیروں نے بکریوں کے ساتھ یاری کیسے کر لی یہ تو غذا ہے انکی اگر شیر بکریوں کے ساتھ یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا یہ کیسے معاملہ ہو گیا تو حضرت میمونہ ولید ؒ فرماتی ہیں جب سے میں نے رب سے صلح کر لی ہے اُس دن سے اِن شیروں نے بھی میری بکریوں کے ساتھ صلح کر لی ہے۔
11/05/2023
"عبدیت💖 " جو صرف مخلوق کی شان ہے :*
=====================================
*اﻣﺎﻡ ﻓﺨﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﺍﺯﯼ رحمتہ اللہ علیہ ’’ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ آﻟﻮﺳﯽ رحمتہ اللہ علیہ ﻧﮯ ’’ﺭﻭﺡ ﺍﻟﻤﻌﺎﻧﯽ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :*
*ﺣﻀﺮﺕ ﺑﺎﯾﺰﯾﺪ ﺑﺴﻄﺎﻣﯽ رحمتہ اللہ علیہ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:*
*ﻣﺎﻭﺟﺪﺕ ﺷﻴﺌﺎ ﻳﺘﻘﺮﺏ ﺑﻪ*
*’’ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﺠﮭﮯ (ﺣﺎﻝ / ﺻﻔﺖ ) ﺑﺘﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﺏ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ‘‘ ۔*
*( ﺁﻟﻮﺳﯽ، ﺭﻭﺡ ﺍﻟﻤﻌﺎﻧﯽ ﺝ 15، ﺹ 50)*
*ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﺮ ﮨﺮ ﺻﻔﺖ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻣﮕﺮ ﺟﺲ ﺻﻔﺖ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎﯾﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺎﻝ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺳﺨﯽ ﮨﻮﺟﺎﺅﮞ، ﺳﺨﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺎﻝ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔۔۔ ﻋﺎﻟﻢِ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻋﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺎﻝ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔۔۔ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻭ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔۔۔ ﮨﺎﺩﯼ ﺑﻨﺎ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﮨﺎﺩﯼ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔۔۔ ﺷﻔﯿﻖ ﺑﻨﺎ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﺷﻔﻘﺖ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔۔۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔۔۔*
*ﺍﻟﻐﺮﺽ ﮨﺮ ﮨﺮ ﺻﻔﺖ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻣﮕﺮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﻭﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﯽ۔ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻮﻻ! ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﺻﻔﺖ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﻗﺮﺏ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻭﮞ؟*
*ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:*
*ﺗﻘﺮﺏ ﺍِﻟّﯽ ﺑﻤﺎ ﻟﻴﺲ ﻟﯽ .*
*’’ ﺍﮮ بایزید! ﻭﮦ ﺻﻔﺖ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ۔*
*ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﺮﻟﻮﮞ ﮔﺎ ‘‘* ۔
*ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ:*
*ﻳﺎﺭﺏ ﻣﺎﺍﻟﺬﯼ ﻟﻴﺲ ﻟﮏ* .
*’’ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻭﮦ* *ﮐﻮﻧﺴﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﮮ*
*ﺧﺰﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ‘‘*۔
*ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :*
*ﺍﻟﻌﺒﺪﻳﺖ ﻭﺍﻟﺬﻟﺖ ﻭﺍﻻﻓﺘﻘﺎﺭ* .
*ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ*
*ﺟﮭﮏ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ* *ﺟﮭﮑﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔۔۔* *ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﻭ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﮞ۔۔۔ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭﯼ ﮐﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﮞ۔۔۔ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ۔۔۔ ﭘﺲ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻔﺖ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺻﻔﺖ ﺻﺮﻑ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺅ۔ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﺮﻟﻮﮞ ﮔﺎ۔۔۔ ﮐﻤﺎﻝ ﺗﻮﺍﺿﻊ، ﮐﻤﺎﻝ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭﯼ، ﮐﻤﺎﻝ ﺧﺸﻮﻉ، ﮐﻤﺎﻝ ﺧﻀﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁ۔۔۔ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺁ، ﺗﺠﮭﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﺮﻟﻮﮞ ﮔﺎ۔۔۔ ﯾﮧ ﻗﺮﺏ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺏ ﮐﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﻋﺒﺪﯾﺖ ﻭ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﺴﯽ ﺻﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻭ ﻋﺒﺪﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻋﺎﺟﺰ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﻤﺎﻝ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔*
03/05/2023
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللَٰہ علیہ نے
اپنے وصال سے چالیس روز پہلے سے کھانا
چھوڑ دیا تھا اور رونے کی یہ حالت تھی کہ
ذرا سی دیر کو بھی آنسو نہ تھمتے تھے __ کمزوری
بڑھتی رہی ، ایک بزرگ نے عرض کیا ، حضرت!
اگر آپ کھانا نوش نہیں فرمائیں گے تو طاقت
کیسے قائم رہے گی؟ جواب دیا کہ جو شخص جناب
سرورٍ کائنات صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مشتاق
ہو اُس کو دنیا میں کھانا کیسے بھائے ___!!
حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رح اپنے وقت کے
زبردست بزرگ تھے وہ مزاج پرسی کو تشریف لائے اور
کہا کہ اللَٰہ تعالٰی اپنے محبوب بندوں کو اس بات کا
اختیار دیتا ہے کہ وہ جب تک چاہیں دنیا میں رہیں ،،
آپ بھی اللَٰہ کے محبوب ہیں ۔۔۔۔ آپ سے اللَٰہ کی
مخلوق کو فائدہ پہنچ رہا ہے آپ دعا فرمائیں کہ
اللّٰہ تعالٰی آپ کو کچھ دن اور دنیا میں رکھے!
حضرت یہ سن کر آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا کہ
میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت رسالت مآب
صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ___
"نظام ہم کو تمہارا بڑا اشتیاق ہے"
پس جس کا رسول اللّٰہ علیہ السلام انتظار
فرمائیں ،، وہ کیسے دنیا میں رہ سکتا ہے ۔۔۔۔!!
02/05/2023
( دونوں ہی سلطان ہیں ) ( اور عارفوں کے عارف ہیں )
سلطان العافین حضرت سلطان باھوؒ اپنی تصنیف عین الفقر میں حضور بایزیدبسطامیؒ کے بارے لکھتے ہیں
سن ! ایک دن حضرت بایزید بسطامیؒ اللہ تعالی سے راز و نیاز کر رہے تھے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ” اے بایزید ! کیا تو اتنی محنت ، مشقت ، مجاہدہ اور ریاضت عرش تک پہنچنے کی خواہش میں کرتا ہے ؟ ‘ ‘ حضرت بایزیدؒ نے عرض کی ’ ’ اے اللہ ! عرش تو روحانیوں کی جگہ ہے میں روحانی نہیں ہوں ۔ پھر اللہ تعالی نے پوچھا ’ ’ اے بایزیڈ ! کیا تجھے کرسی کی خواہش ہے ؟ ‘ ‘ حضرت بایزید بسطامیؒ نے جواب دیا یا اللہ ! کرسی تو کروبیوں کا مقام ہے اور میں کروبی نہیں ہوں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا ” اے بایزید ! کیا تھے آسمان کی خواہش ہے ؟ ‘ ‘ حضرت بایزید بسطامیؒ نے جواب دیا اے الله ! آسمان تو فرشتوں کے رہنے کی جگہ ہے میں فرشتہ نہیں ہوں ۔ پھر آواز آئی اے بایزیدؒ ! کیا تجھے جنت کی خواہش ہے ؟ ‘ ‘ حضرت بایزید بسطامیؒ نے جواب دیا یا اللہ ! جنت تو زاہدوں کے لیے ہے اور میں زاہدنہیں ہوں ۔ پھر ندا آئی’’اے بایزیدؒ ! کیا تجھے دوزخ کی خواہش ہے
؟ ‘ ‘
حضرت بایزیدؒ نے جواب دیا یا اللہ ! دوزخ تو منکروں کی جگہ ہے میں منکر تو نہیں ہوں ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے لطف وکرم سے ندا کی ’ ’ اے بایزیدؒ ! کیا تجھے میری خواہش ہے ؟ اور اگر ہم تجھے نہ ملے تو پھر کیا کرے گا ؟ ‘ یہ سننا تھا کہ حضرت بایزید بسطامیؒ نے آہ بھری ، سر سجدہ میں رکھا اور اپنی جان اپنے دوست ( اللہ تعالی کے سپر دکر دی ۔
(عین الفقر صفحہ 142 )
02/05/2023
Now say, how much is this proving to be wrong! 😭
28/04/2023
Bismillahirahmanirahim
Glimpses of the Life of Ibn Arabi
Ibn Arabis Meeting with Khidr
Ibn Arabi mentions that he met Khidr,the hidden guide of the Sufi Gnostics,three times.
His first meeting he recounts in the following manner:
It was early in my education.My shaykh,Abul Hassan attributed some knowledge to someone.That whole day I continuously disagreed with him about it.When I left him, while returning to my house I met a beautiful person who greeted me and said:
"The things that your teacher told you were right,accept them."
I ran back to my shaykh and told him what had happened.He told me that he prayed to have khidr come and affirm his teaching.On hearing that,I once and for all decided never to disagree again.
On his second meeting he says:
I was in the port of Tunisia on board a ship.I couldn't sleep one night and went strolling on the deck.I was watching a beautiful full moon, when suddenly I saw a tall,white bearded man coming toward me,walking on water alongside the ship.I was astonished.He came right infront of me and put his right foot on his left foot in salutation.I saw that his feet were not wet.He greeted me,and said a few words,and started toward the city of Menares,which was on a hill nearby.To my amazement he travelled a mile with each step he took.From afar I could hear his beautiful voice chanting the dhikr.The next day I went to the city,where I met a shaykh who asked me how my evening meeting with Khidr had been and what we had talked about.
Ibn Arabi's third meeting with Khidr,took place in a little mosque on the shores of the Atlantic in Spain,where Ibn Arabi was making his noon prayers.He had someone accompanying him who denied the existence of miracles.There were a few other travelers in the mosque. Suddenly he saw among them the same being whom he had previously seen in Tunisia.That tall,white bearded man took his straw prayer mat from the prayer niche,rose fourteen feet into the air,and made his prayer from there. Later he came back to tell Ibn Arabi that he had done this as a demonstration for the skeptic in his company who had denied miracles.
27/04/2023
حضور سیدنا غوثِ اعظم محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللّٰــــــــــہ عنہ کے ملفوظات دلوں کو نور کی روشنی سے منور فرماتے ہیں ۔ اور ان پر عمل کرنے سے دنیا اور آخرت سنور جاتی ہے ۔
🌹 🌹
26/04/2023
باقی سب تفصیل ہے۔ صرف تفصیل!
یہ قصہ ہے،محبت کی اک بے مثل داستان کا
اور بے مثل محبت پر مالک کی لازوال عطا کا قصہ!
وہ ایک گمنام بوڑھا شخص تھا، جسے اپنی مادری زبان بلوچی کے علاوہ کوئی اور زبان نہ آتی تھی، عربی تو کجا اسے اردو تک نہ آتی تھی، اس کی ساری زندگی دوسروں کی بکریاں چراتے اک جھونپڑی میں گزری تھی۔ جھونپڑی جو اس کی اپنی زمین پر نہ تھی، سردار کی زمین پر مجبور اور موسموں کی شدت سے شرمسار کھڑی تھی، جھونپڑی بس ایسی تھی کی آسمان سے ساری دھوپ ، ساری گرمی سردی اور بارشوں کا سارا پانی اس میں سے گزر کے بابا جی پر آ برستا تھا۔ بابا مگر اسی میں خوش تھے ، شکوہ کیا ہوتا ہے؟ شائد بابا یہ جانتا بھی نہ تھا، جتنا میسر تھا، اس سے زیادہ کی اسے پروا بھی نہ تھی۔ نہ اس بات کی پروا کہ اس کے پاس پکا چھوڑ موسموں سے بچانے والا کوئی کچا کوٹھا تک تھا، نہ اس کا ملال کہ اس کے پاس زیست کرنے کو معمولی سا سامان بھی نہ تھا، نہ اس کی فکر کہ اس کا روزگار بس اجرت پر دوسروں کی بکریاں چرانا تھا، اس کے سوا کچھ نہ تھا۔ عجیب شخص تھا کہ وہ بکریاں چرانے کی انبیاء کی سنت پر ہی عمل پیرا نہ تھا، اس کے دل میں ایک اور سنت بھی چپکے چپکے پل رہی تھی اور بڑھ رہی تھی، وہ آرزو تھی سوہنے کا گھر دیکھنے کی آرزو، زیارت بیت اللہ کی سعادت پالینے کی انبیا کی سنت۔ نبی کی بستی سے آنکھیں ٹھنڈی کر لینے کی سعادت کی آرزو۔
زاد راہ اس کے پاس کیا ہوتا کہ جس کے پاس زاد زندگی ہی نہ تھا۔ مگر تمنا تھی اور بڑی منہ زور تمنا تھی، وہ بکریاں چراتا رہا، اجرت پر چرائی بکریوں سے اپنے حصے کے بچے وصولتا رہا، جونہی کوئی ایک اور بچہ اس کے حصے میں آتا، اسے لگتا سوہنے کا گھر اس کے نصیبے کے کچھ اور قریب آ لگا ہے۔ وہ ہر ایسے اجرت میں آئے بچے کے ساتھ سوہنے کا گھر دیکھنے کی اپنی خواہش بھی پالتا رہا۔
پھر ایک دفعہ جب تن پر اچھے کپڑے نہ تھے، پاؤں میں مناسب جوتا نہ تھا، جھونپڑی میں موسموں کی شدت روکنے کی موزوں صلاحیت نہ تھی، اس کے پاس بکریوں کی اجرت کے کچھ پیسے جمع ہو گئے۔ تب اس کا چاؤ دیکھا نہ جاتا تھا کہ اس کے دل نے الارم بجایا، سوہنے کا گھر دیکھنے کا ٹائم آ گیا۔ عشق کے امتحان مگر ابھی اور بھی تھے، ابھی محبوب کے ہاں حاضری کا ٹائم نہ آیا تھا انسانیت پر کورونا کا امتحان آ گیا تھا۔ اس نے رضا کی گردن جھکائی اور تمنا بغل میں داب لی، وہ انتظار کی سولی پہ ٹنگ گیا۔ کورونا گزرا تو در محبوب تک جانے کیلئے زاد راہ اور بڑھ گیا تھا۔ اسی دوران اس کے پاس مگر کچھ بکریاں آ گئی تھیں۔ ان بکریوں کا ، عمر بھر کی جمع پونجی کا، زندگی بھر کی محنت کا اور بھلا کیا مصرف ہو سکتا تھا؟ اس نے بکریاں بیچیں اور در یار دیکھنے کو چل دیا۔ نہ ساتھ کوئی ساتھی اور نہ رشتے دار، مگر اس راہ کا ہر مسافر اپنا ہی تو ہوتا ہے۔ ایک تھیلا بغل میں دابے بالآخر اک سویر وہ سوہنے کے مدینے میں کھڑا تھا۔ اسے اپنے نصیبے پر یقین نہ آتا تھا، وہ ڈھلکے کندھوں کے ساتھ بہت آرام سے حرکت کرتا تھا کہ یہ مدینہ تھا، جہاں بایزید بھی سانس گم کر بیٹھیں، وہ مدینہ! بلوچستان کی اک جھونپڑی کا باشندہ مدینے کی شان دیکھ کے دنگ رہ گیا۔
آہ! کہاں فقیر عجم اور کہاں سلطان عرب۔ اسی حیرت میں گم وہ اپنی کل متاع، اپنا جوتے اور جوڑے والا تھیلا بھی گم کر بیٹھا۔ عین یہی وہ لمحہ تھا ،جب وہ کلک ہو گیا۔ جب وہ اپنے تن کے آخری چیتھڑے بھی سوہنے کے در پہ گم کر بیٹھا تھا تو عین یہی وہ لمحہ تھا جب عرش والے کا اس سادہ مزاج محبت کی معراج پر التفات اور قبول عام برس اٹھا تھا۔ عین اسی لمحے آسمانی میڈیا حرکت میں آیا اور 'صحابہ کے حلیے والا بزرگ ' کے نام سے وہ عرب و عجم کے میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ گویا جبرئیل کے ذریعے عرش سے اس بندے کے قبول عام اور محبوب عوام و خواص ہونے کا اعلان ہوگیا۔ اب خود اسے معلوم نہ تھا کہ وہ جو اپنے تئیں گم ہوا پھرتا ہے، اس سے زیادہ مدینہ اور اہل مدینہ کی دنیا میں مشہور کوئی نہیں۔ سبھی جانتے ہیں، کوئی تیس لاکھ کے قریب اس بار زائرین ارض مقدس میں تھے، ان میں کروڑ پتی بھی ہوں گے اور ارب پتی بھی، وہاں تین دفعہ کا وزیراعظم بھی تھا اور جانے کون کون رستم زماں، محدث زماں وہاں موجود تھا، جو بھی تھا گمنام ہی تھا، یہاں کا مشہور شخص اور زبان زد عام شخص مگر آج کے دن ایک ہی تھا، اور وہ تھا وہ بابا جو پندرہ سال سے لوگوں کی بکریوں کے ساتھ اپنی ایک تمنا پال کے یہاں آ کے گم ہو گیا تھا۔ وہ بکری پال تھا تو یقینا اس کا مالک بھی تو بڑا لجپال تھا۔ اس نے اسے فرش سے اٹھایا اور عرب و عجم میں نامور کر دیا، تاجروں اور تاج وروں سے زیادہ تاجور کر دیا۔ اب عرب و عجم سے اس بابے کو پکارا جا رہا ہے، میڈیا اور عرب کے مخیر حضرات حج پہ بلانے کو اس کے پیچھے پڑے ہیں۔ ہم تم کی خدا نے ڈیوٹی لگا دی کہ اس کی کہانیاں کہیں اور سنیں، سنیں اور سنائیں۔ سارے پڑھے لکھے اک ان پڑھ کی کہانی سنیں اور سنائیں۔
اللہ اللہ!
یہ بڑے کرم کت ہیں فیصلے،
یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔
تو صاحبو! عرض کی تھی، یہ قصہ ہے،
محبت کی اک بے مثل داستان کا
اور بے مثل محبت پر مالک کی لازوال عطا کا قصہ! باقی سب تفصیل ہے۔ صرف تفصیل!🌹💚🇸🇦🍁🇵🇰