06/03/2024
مدرسہ نور الاسلام، کنڈہ، پرتاپ گڑھ، یوپی میں سالانہ جلسہ تقسیمِ انعامات کا انعقاد
مدرسہ نور الاسلام دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم میں بھی ایک ممتاز ادارہ ہے، دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے ملحق اس ادارے میں عالیہ ثانیہ کے ساتھ یوپی بورڈ سے بارہویں تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسی سے متصل لڑکیوں کا بھی ایک ادارہ ہے، جہاں انٹر کے ساتھ عالمیت کا مکمل کورس کرایا جاتا ہے۔ درس وتدریس کے ساتھ طلبہ وطالبات کے درمیان مختلف ثقافتی پروگرام بھی منعقد کرائے جاتے ہیں، جن میں ان کی تقریری وتحریری صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
حسب روایت مؤرخہ 5/ مارچ 2024 مطابق 23/ شعبان 1445ھ بروز منگل مدرسہ میں سالانہ جلسہ تقسیم انعامات کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت جناب حاجی شمیم صاحب نے کی۔ اس موقع پر شہر کی معزز شخصیات اور ادارہ کے مؤقر اساتذہ و ذمہ داران کے ہاتھوں امتحان میں اعلیٰ نمبرات حاصل کرنے والے کامیاب و ممتاز طلبہ کو قیمتی انعامات سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ساتھ ہی بزم نور کے تحت منعقد ہونے والے عربی و اردو ثقافتی پروگراموں میں پوزیشن ہولڈروں کو بھی کتابوں کی شکل میں گراں قدر انعامات سے نوازا گیا۔
جلسہ کا آغاز صبح ۱۰ بجے درجہ حفظ کے طالب علم محمد صفوان کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، بعد ازیں درجہ پنجم کے طالب علم محمد ایقان نے اپنی مسحور کن آواز میں نعت پاک پیش کی، نظامت کے فرائض ادارہ کے استاذ مولانا حسان صاحب ندوی نے انجام دئیے، مہمانان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر عشرت علی صاحب، جناب طاہر حسین صاحب، جناب محمد اسعد صاحب، جناب محمد سلیم صاحب (موئی)، جناب محمد زبیر صاحب فاروقی اور دیگر معززین شہر نے جلسہ کو زینت بخشی، مدرسہ کے نائب مہتمم مولانا محمد زبیر صاحب ندوی نے مہمانوں کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا، تقسیم انعامات کے بعد ناظم جلسہ نے طلبہ سے ناصحانہ خطاب کرتے ہوئے کہا: کہ آپ ان چنندہ طلبہ میں سے ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دین کو سیکھنے اور اس کی نشر واشاعت کے لئے منتخب کیا ہے، یہاں سال بھر جو آپ نے پڑھا یا سیکھا اب اسے عملی زندگی میں برتنے کا وقت ہے، جہاں بھی آپ جائیں یہاں کی تہذیب وثقافت اور تعلیم وتربیت کا اعلی نمونہ پیش کریں اور معاشرے وعلاقے میں خیر کے تمام کاموں میں سب سے نمایاں اور ممتاز نظر آئیں۔ دعائے ماثور پر جلسہ کا اختتام ہوا۔
دوسری جانب مدرسہ نور الاسلام للبنات میں بھی طالبات کے درمیان سالانہ انعامی جلسہ کا انعقاد ہوا، جس میں طالبات نے نعت و حمد کے چند نمونے پیش کئے۔ تقسیم انعامات کے بعد فارغ ہونے والی طالبات کے لئے اعزازی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ہر ایک طالبہ نے اپنے تاثرات پیش کئے، اور معلمات کے تئیں اس علمی سفر کو پایۂ تکمیل تک پہونچانے میں بنیادی کردار ادا کرنے کے لئے شکریہ کے کلمات کہے۔ پھر ادارہ کی معلمات اور جونیئر طالبات نے فارغ التحصیل طالبات کو مخلصانہ ہدیے وتحائف کے ساتھ مبارکباد اور روشن مستقبل کے لئے دعائیں دیں۔ صدر جلسہ نے اپنے اختتامی صدارتی خطاب میں علم وعلماء کی اہمیت بتلاتے ہوئے کہا: کہ عالم کا مرتبہ اللہ نے فرشتوں کے برابر رکھا ہے، قرآن میں کئی جگہوں پر علم کی فضیلت پر آیات وارد ہوئی ہیں، اور اصل علم کا حصول اللہ کی معرفت پر منحصر ہے۔ خطاب کے بعد اعزازی طعام ہوا اور پرنم آنکھوں کے ساتھ طالبات کو رخصت کیا گیا۔
(بقلم: عبداللہ زبیر ندوی)