21/03/2026
Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
Eid Mubarak to you and your family 🤍✨
IIRS is an institute that provides quality education with moral values, self-discipline and skills to face the dynamic challenges and opportunities of life...
21/03/2026
Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
Eid Mubarak to you and your family 🤍✨
Lailatul Qadr, the Night of Power, is widely regarded as the holiest night in the Islamic calendar, occurring during the last 10 days of Ramadan. It is described in the Quran as being "better than a thousand months" (Surah Al-Qadr 97:3)
15/03/2026
28/02/2026
https://www.facebook.com/100064074220201/posts/1332529765559485/
"🚀 Admissions Open! 🌟 Join us for an amazing learning journey! 📚 Apply now! 😊
17/02/2026
"🚀 Admissions Open! 🌟 Join us for an amazing learning journey! 📚 Apply now! 😊
14/02/2026
“Inspire Minds..Shape Futures..Join our Team.”
14/02/2026
Ramadan is around the corner..!!
سخت مزاج استاد کی نفسیات کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر سختی کو اساتذہ کی بے حسی، غصے یا روکھے پن سے جوڑا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں اکثر اس سختی کے پیچھے گہری ذمہ داری اور طالب علموں کی سیکھنے کی فکر چھپی ہوتی ہے۔ نفسیاتی طور پر، سخت اساتذہ کا ماننا ہوتا ہے کہ طالب علم کی نشوونما اور بہتری کے لیے ایک خاص دائرہ کار اور نظم و ضبط (Structure) انتہائی ضروری ہے۔ وہ کلاس میں بنائے گئے سخت اصولوں اور حدود کو قید خانہ نہیں، بلکہ ایک ایسا محفوظ ماحول سمجھتے ہیں جہاں طالب علم یکسوئی کے ساتھ اپنی پڑھائی پر توجہ دے سکیں۔
ان اساتذہ کے نزدیک کلاس میں نظم و ضبط قائم رکھنا اپنی طاقت کا مظاہرہ نہیں ہوتا، بلکہ ان کا مقصد پڑھائی کے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچانا ہوتا ہے۔ جب کلاس کی روٹین واضح ہو اور بچوں کو معلوم ہو کہ اصول توڑنے کے نتائج کیا ہوں گے، تو وہ غیر یقینی کیفیت کا شکار ہونے کے بجائے تعلیمی سرگرمیوں میں زیادہ دل لگاتے ہیں۔ ان کی سختی دراصل ان کی ان "اونچی امیدوں" (High Expectations) کا عکس ہوتی ہے جو وہ اپنے شاگردوں سے وابستہ کرتے ہیں۔ وہ سختی اس لیے نہیں کرتے کہ بچوں کو دبائیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے طالب علم بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ بچوں کو صرف سکول کے امتحانات کے لیے نہیں، بلکہ عملی زندگی کی سختیوں کے لیے تیار کر رہے ہوتے ہیں جہاں نظم و ضبط اور خود پر قابو پانا کامیابی کی ضمانت ہے۔
سخت اساتذہ اکثر اپنے جذبات کو جان بوجھ کر قابو میں رکھتے ہیں اور طالب علموں سے ایک پیشہ ورانہ فاصلہ برقرار رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک بچے کی فیورٹزم یا طرفداری نہ کریں اور سب کے ساتھ غیر جانبدارانہ انصاف کر سکیں۔ کئی بار ان کا یہ انداز ان کے اپنے ماضی کے تجربات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی اپنی کامیابی کے پیچھے کسی سخت استاد کا ہاتھ ہو، یا پھر ماضی میں زیادہ نرمی برتنے کی وجہ سے انہیں کلاس سنبھالنے میں مشکل پیش آئی ہو، جس نے انہیں یہ سکھایا کہ سختی ہی بہترین حکمت عملی ہے۔
تاہم، سختی تب ہی بہترین نتائج دیتی ہے جب اس میں عزت اور شفقت کی آمیزش ہو۔ جب اصول سختی سے لاگو کیے جائیں لیکن سمجھانے کا انداز منصفانہ ہو، تو طالب علم اس سختی کو "سزا" کے بجائے اپنی "بہتری" سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر سختی میں ہمدردی شامل نہ ہو تو بچہ صرف ڈر کے مارے حکم مانے گا اور جذباتی طور پر پڑھائی سے دور ہو جائے گا۔ مختصراً یہ کہ ایک سخت استاد کی نفسیات کی بنیاد دراصل "فکر اور محبت" پر ہوتی ہے، جس کا اظہار وہ اصولوں اور نظم و ضبط کے ذریعے کرتا ہے تاکہ اس کے شاگرد ایک مضبوط اور ذمہ دار انسان بن سکیں۔
(محمد حارث)from Taleem
Humans cannot live without bone marrow because it's essential for producing red blood cells (oxygen transport), white blood cells (fighting infection), and platelets (blood clotting); its absence leads to fatal anemia, overwhelming infection, and uncontrollable bleeding..!!
House of Shakespeare...!!
Heartfelt congratulations to the 10th class students who've completed their early education with us! 🎉🎓 Your hard work and dedication have paid off. We're super proud of you! Wishing you all the best for your future endeavors! 🌟 Keep shining! 💫"
| Monday | 10am - 4pm |
| Tuesday | 10am - 4pm |
| Wednesday | 10am - 4pm |
| Thursday | 10am - 4pm |
| Friday | 10am - 1pm |
| Saturday | 10am - 4pm |