Madrasa Baba Naseeb ud Din Gazi

Madrasa Baba Naseeb ud Din Gazi

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Madrasa Baba Naseeb ud Din Gazi, Educational Research Center, Kulgam.

17/05/2026

Mashallah Madrasa k students subah subh prayer padtay huyay. & this

14/05/2026

Madrasa k students subah k wqt prayer padtay huyay. & this

09/04/2026

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
بشیر احمد ملک
قصبہ کُھل ہیرگام
اِس دُنیا فانی سے کوچ کرگئے
الله تعالیٰ جنّت میں اعلٰی مقام عطا کرے
اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے

20/03/2026

تمام اہلِ اسلام کو انتظامیہ کمیٹی آف مدرسہ بابا نصیب الدیں غازی قصبہ کھل کی طرف سے دل کی عمیق گہرائیوں سے عیدمبارک اللہ کرے یہ عید عالمِ اسلام کے لیے خوشی اور امن کی ضامن بنیں

19/03/2026

Alhamdulillah Madrasa k Calander par Eidul fiter 2026 ka date sahi nikla

18/03/2026

& this

17/03/2026

آپ کے صدقات ،زکوٰۃ ،عُشر اور عطیات کا مستحق ادارہ مدرسہ بابا نصیب الدیں غازی قصبہ کھل جہاں پر يتیم اور غریب بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ کھانا پینا مفت دیا جاتا ہے ۔لہٰذا آپ بھی دستِ تعاون دے کر اجرعظیم حاصل کرے ۔

10/03/2026

زکات کے اہم ترین مسایل

زکات اسلام کے اہم ارکان میں سے ایک ہے۔ اس کے چند اہم ترین مسائل مختصر طور پر درج ذیل ہیں:

1. زکات فرض ہونے کی شرطیں
مسلمان ہونا

آزاد ہونا

نصاب کا مالک ہونا

نصاب پر ایک قمری سال گزرنا

مال ضرورتِ اصلیہ سے زائد ہو

2. نصاب
نصاب وہ مقدار ہے جس پر زکات فرض ہوتی ہے:

سونا: تقریباً 7.5 تولہ (87.48 گرام)

چاندی: تقریباً 52.5 تولہ (612.36 گرام)

یا ان کی قیمت کے برابر مال یا رقم۔

3. زکات کی مقدار
عام مال پر زکات 2.5 فیصد (چالیسواں حصہ) ہوتی ہے۔

4. کن مالوں پر زکات ہے
سونا اور چاندی

نقد رقم

تجارتی سامان

بعض صورتوں میں مالِ تجارت کی قیمت

5. کن لوگوں کو زکات دی جا سکتی ہے
قرآن کے مطابق زکات ان کو دی جاتی ہے:

فقیر

مسکین

مقروض

مسافر

فی سبیل اللہ

دیگر مستحقین (جیسا کہ قرآن میں ذکر ہے)

6. کن لوگوں کو زکات نہیں دی جا سکتی
والدین

دادا دادی

اولاد (بیٹا، بیٹی، پوتا، نواسا)

شوہر یا بیوی

مالدار شخص

7. زکات کی ادائیگی کے اصول
زکات دیتے وقت نیت ضروری ہے

مستحق کو مالک بنانا ضروری ہے

مسجد، مدرسہ یا کسی ادارے کو براہِ راست دینا اس وقت درست ہے جب وہ مستحقین کو مالک بنائیں۔

اگر آپ چاہیں تو میں فقہ حنفی کے مطابق زکات کے 15 اہم مسائل بھی آسان انداز میں بتا سکتا ہوں جو عام لوگوں کو زیادہ درپیش ہوتے ہیں۔

فقہ حنفی کے مطابق زکات کے 15 اہم مسائل

فقہِ حنفی کے مطابق زکات کے 15 اہم مسائل مختصر انداز میں درج ذیل ہیں:

نصاب کا مالک ہونا
جس مسلمان کے پاس نصاب کے برابر مال ہو اس پر زکات فرض ہے۔

نصاب پر سال گزرنا
نصاب پر ایک قمری سال گزرنا ضروری ہے۔

زکات کی مقدار
عام مال پر زکات ڈھائی فیصد (2.5%) یعنی چالیسواں حصہ ہے۔

سونا اور چاندی
سونا 7.5 تولہ اور چاندی 52.5 تولہ یا ان کی قیمت کے برابر مال پر زکات فرض ہوتی ہے۔

نقد رقم پر زکات
اگر نقد رقم نصاب کے برابر ہو اور سال گزر جائے تو زکات واجب ہے۔

مالِ تجارت پر زکات
خرید و فروخت کے لیے رکھا ہوا سامان بھی زکات میں شامل ہوتا ہے۔

ضرورتِ اصلیہ پر زکات نہیں
رہائش کا گھر، پہننے کے کپڑے، گھریلو سامان وغیرہ پر زکات نہیں۔

قرض کا حکم
اگر کسی پر قرض ہو تو بعض صورتوں میں قرض نکال کر باقی مال پر زکات ہوگی۔

زکات دیتے وقت نیت
زکات دیتے وقت دل میں نیت ہونا ضروری ہے۔

مستحق کو مالک بنانا
زکات میں ضروری ہے کہ مستحق شخص کو مال کا مالک بنایا جائے۔

کن کو زکات دی جا سکتی ہے
فقیر، مسکین، مقروض، مسافر اور دیگر مستحقین کو زکات دی جا سکتی ہے۔

کن کو زکات نہیں دی جا سکتی
والدین، دادا دادی، اولاد، پوتے پوتیاں، شوہر یا بیوی کو زکات نہیں دی جا سکتی۔

سید کو زکات نہیں
فقہ حنفی کے مطابق سید یا بنی ہاشم کو زکات دینا جائز نہیں۔

مدرسہ یا مسجد کو زکات
مدرسہ کو زکات اس صورت میں دی جا سکتی ہے جب وہ مستحق طلبہ کو مالک بنائیں۔

پیشگی زکات دینا
سال مکمل ہونے سے پہلے بھی زکات پیشگی ادا کرنا جائز ہے۔

اگر آپ چاہیں تو میں زکات کے مزید 10 اہم عملی مسائل بھی بتا سکتا ہوں جو عام طور پر لوگوں کو معلوم نہیں ہوتے اور اکثر پوچھے جاتے ہیں۔

زکات کے مزید 10 اہم عملی مسائل

فقہِ حنفی کے مطابق زکات کے مزید 10 اہم عملی مسائل درج ذیل ہیں:

قرض دی ہوئی رقم پر زکات
اگر کسی کو قرض دیا ہو تو وہ رقم بھی زکات میں شمار ہوگی۔ جب رقم واپس ملے تو گزشتہ سالوں کی زکات ادا کرنی ہوگی۔

سال کے دوران مال کم یا زیادہ ہونا
اگر سال کے دوران مال کم یا زیادہ ہو جائے لیکن سال کے آخر میں نصاب باقی ہو تو زکات واجب ہوگی۔

بیوی کے زیور پر زکات
فقہ حنفی میں عورت کے استعمال کے زیور پر بھی زکات واجب ہے اگر وہ نصاب تک پہنچ جائے۔

مشترکہ مال کا حکم
اگر کئی لوگوں کا مال مشترک ہو تو ہر شخص اپنے حصے کے مطابق زکات ادا کرے گا۔

بچوں کے مال پر زکات
فقہ حنفی کے مطابق نابالغ کے مال پر زکات فرض نہیں۔

زکات اپنے رشتہ داروں کو دینا
اگر رشتہ دار مستحق ہوں تو انہیں زکات دینا زیادہ افضل ہے (سوائے اصول و فروع کے)۔

زکات میں بہترین مال دینا
بہتر ہے کہ اچھا مال دیا جائے، لیکن عام مال دینا بھی جائز ہے۔

ایک ہی شخص کو پوری زکات دینا
پوری زکات ایک ہی مستحق کو دینا بھی جائز ہے۔

زکات چھپا کر دینا
زکات خفیہ طور پر دینا افضل ہے تاکہ ریاکاری نہ ہو۔

رمضان میں زکات دینا
رمضان میں زکات دینا زیادہ ثواب کا باعث ہے، اگرچہ سال کے کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہے۔

اگر آپ چاہیں تو میں زکات کے 10 مشکل اور باریک فقہی مسائل (جو علماء سے اکثر پوچھے جاتے ہیں) بھی بیان کر سکتا ہوں۔

مدارس کو زکات دینا کیسا

فقہِ حنفی کے مطابق مدارس کو زکات دینے کا حکم

مدرسہ کو زکات دینا اصلاً جائز ہے، لیکن اس کے لیے ایک اہم شرط ہے۔

اصل اصول
زکات کی ادائیگی میں مستحق شخص کو مال کا مالک بنانا (تملیک) ضروری ہے۔

مدارس کو زکات دینے کی صورتیں
طلبہ کو دینا
اگر مدرسہ کے غریب اور مستحق طلبہ کو زکات دی جائے اور انہیں اس کا مالک بنایا جائے تو یہ بالکل جائز ہے۔

مدرسہ کے ذمہ دار کو دینا
اگر مدرسہ کا ذمہ دار زکات لے کر مستحق طلبہ پر خرچ کرے یا انہیں مالک بنا دے تو بھی جائز ہے۔

عمارت یا تعمیر میں خرچ
اگر زکات مدرسہ کی عمارت، تعمیر، تنخواہ یا دیگر اخراجات میں لگائی جائے اور کسی مستحق کو مالک نہ بنایا جائے تو یہ جائز نہیں۔

خلاصہ
مستحق طلبہ کو مالک بنا کر دینا ✔️ جائز

مدرسہ کے ذریعے مستحق طلبہ تک پہنچانا ✔️ جائز

عمارت یا عمومی اخراجات میں لگانا ❌ جائز نہیں

07/03/2026

وہ مدرسہ جہاں رمضان میں تعطیل نہیں ہوتی، بلکہ قرآن کی بہار اپنے عروج پر ہوتی ہے—یہ ایک زندہ روایت کا نام ہے۔ جب اکثر مدارس میں رمضان المبارک کی باقاعدہ چھٹیاں ہو جاتی ہیں، وہاں اس ادارے میں یہ مقدس مہینہ سال کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں رمضان آرام کا نہیں، ارتقاء کا موسم ہے؛ فراغت کا نہیں، فرحتِ قرآنی کا زمانہ ہے۔
یہی وہ بابرکت ادارہ ہے جو علمی و روحانی نگرانی میں چل رہا ہے، اور ادارہ ،(مدرسہ بابا نصیب الدیں غازی )کے نام سے معروف ہے۔ یہ مدرسہ محض درسگاہ ہی نہیں بلکہ قرآن سے تعلق کی ایسی آبیاری گاہ ہے جہاں دلوں کی زمین کو وحی کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔
اس ادارے کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ احادیث کی تعلیم بھی باقاعدہ دی جاتی ہے۔ یوں یہ مدرسہ دینی تعلیم کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ یہاں طالبِ علم کے ہاتھ میں قرآن بھی ہوتا ہے اور اس کے ذہن میں جدید نصاب کی روشنی بھی۔ گویا یہ ادارہ ایک ایسا چراغ ہے جس کی ایک لو دین کی بصیرت سے روشن ہے اور دوسری دنیاوی مہارت سے۔
رمضان المبارک میں اس مدرسے کا منظر دیدنی ہوتا ہے۔ دن تلاوت کی سرگوشیوں سے معمور اور راتیں قیام و ذکر کی نورانیت سے منور۔ طلبہ کی زندگیاں اس ماہِ مبارک میں گویا قرآن کے صفحات میں ڈھل جاتی ہیں۔ نیند کے اوقات کے سوا ہر لمحہ کتابِ الٰہی کے ساتھ رشتہ مضبوط کرنے میں صرف ہوتا ہے۔ یہاں قرآن صرف پڑھا نہیں جاتا اور صرف یاد نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے کردار کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ ایک مثالی نمونہ بن چکا ہے—اور اِس مدرسہ میں 2 سال میں 4 حفاظ کرام نے قرآنِ پاک اپنے سینے میں محفوظ رکھا ہے۔ یہ ایسا مدرسہ جہاں والدین اپنے بچوں کے مستقبل کو دین و دنیا دونوں حوالوں سے محفوظ دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں تعلیم محض ڈگری کا ذریعہ نہیں، بلکہ شخصیت سازی کا عمل ہے۔ قرآن کی آغوش میں پروان چڑھنے والے یہ طلبہ جب دینی تعلیم کے مراحل طے کرتے ہیں تو وہ علم اور عمل کا ایسا امتزاج بن جاتے ہیں جس کی آج کے معاشرے کو شدید ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ اس مبارک ادارے کو مزید وسعت و برکت عطا فرمائے، اسے دین و ملت کے لیے سرچشمۂ فیض بنائے رکھے، اور ہمیں بھی قرآنِ کریم سے سچا اور دائمی تعلق نصیب فرمائے۔ آمین۔
✍ مہتمم مدرسہ بابا نصیب الدین غازی قصبہ کھل نور آباد کولگام کشمیر

20/02/2026

Share & Donate

Want your school to be the top-listed School/college in Kulgam?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Kulgam
192231