Ahle - Sunnat Student Group

Ahle - Sunnat Student Group

Comments

👉100% legality ki guarantee👈

🌍 ♦ Company ♦ 🌍

→PESA MARKETING PVT. LTD.
Company CHAIRMAN :BOPARAI
→MCA Register:- U72900PB2015PTC039574
→Pan card no :- AAICP3050C
→100% Approve from Indian Govt
→ company Costumer care :- 01633-504000

♦Product ♦
→ Online Master mind Training program
→compny start :- 29/6/2016

→14 दिन में कुछ नहीं कमा पायें तो
→ money back guarantee
→Unlimited level income
→Joining Investment only ₹100
→Our Vision is to Reduce
→ Poverty In the India
♦*पूरा इंडिया दौड़ पड़ा हैं इस ग्रेट काॅनसेप्ट
♦*मिस मत करो नहीं तो बाद में कहोगे की काश मैंने भी ज्वाइन किया होता तो अच्छा रहता*

♦100% legal or trusted company

♦full company is legal document proof and income proof

♻ ♦ investment ♦ ♻
→बस छोटा सा amount *Rs 100*

♦payment method♦
→ Debit card
→ Credit card
→ Net banking
→ ATM
→ Paytm

💰 💰 💰 Earning 💰 💰 💰
→ Master mind business training program
→ 40% income direct
→30% income downline
→10% income unlimited laval
→ 5% life time Royalty income
→बस प्लान को जरूर समझें एक बार
→हर सोमवार को Auto withdrew
→Auto Income
→Auto Commission
→Auto joining

♦पूरा प्लान समझने के लिए whatsapp पर massage करें
♦whatsapp no:- 8697200423

🏆 life टाइम income 🏆

♦मेरी सभी नेटवर्करो से गुजारीश है की
♦ज्यादा नहीं बस ऐक ID. लगा चेक करे
♦सिर्फ ₹100 रुपए इनवेस्ट करे*

♦ Registration ↓↓↓♦
https://www.pesa.net.in/997718
♦Whatsapp me 8697200423
Ahle sunnat wall jamat Bangladesh.
Please Like and Share this Page.
www.facebook.com/ties.edu.pk
provide modern education with Islamic education.
আল্লামা আবুল কাশেম নুরী
ড.আল্লামা এরশাদ আহমদ বোখারী
আসসালামু আকাইকুম

बिना पैसा लगाये पैसा कमाए घर बैठे online job करें
10,000 से 50,000 रूपये हर महीने कमाये वो भी बिलकुल फ्री फ्री
काम करने के लिये आपके पास android mobile होना जरुरी है
⏩आपका एक फैसला अपकी लाइफ बदल देगा।
⏩जोइनिंग फ्री है।
⏩प्राइवेट लिमिटेड कम्पनी।
⏩कम्पनी भारत सरकार से मान्यता प्राप्त हैं।
⏩कम्पनी एडवरटाइजिंग करवाती है।
⏩कम्पनी के पास पैन कार्ड है।(आयकर भरती है कम्पनी)
⏩कम्पनी का हेड ऑफिस है।
⏩24×7 हेल्पलाइन सेवा उपलब्ध है।
⏩आप जो पैसा कमायेगे उसे NEFT के द्वारा अपने बैंक के खाते में ले सकते है।
⏩एक बार आजमाकर देखेगे तो झूठ और सच का फर्क खुद देख लेगे आप।
तो जाने आप सब अपने ही android मोबाइल से कैसे पैसे कमा सकते हो ?
1. सबसे पहले अपने फ़ोन के play store में जाओ |
2. वहाँ पर champcash लिखो और उस apps को अपने मोबाइल में instal कर लो !
3.अब apps पर click करो और sing up with champcash पर click करके अपनी डिटेल्स बर दो
4. अब आपसे saponser id पूछेगा वहाँ पर↔ 4542903 डाल दो और अपनी id बना लो !
5.अब आपको कंपनी की तरफ से एक challange मिलेगा जो लाइफ में एक बार ही कम्पलीट करना है जिसमे कुछ 7से 9 एप्लीकेशन मिलगी जो अपने मोबाइल में इनस्टॉल करनी है और हर एप्लीकेशन को 2 min तक ओपन करके देखना है singup मागे तो कर देना इतना करते ही आपकी रेफर id activate हो जाती है और आप लाखो रूपये कमाने के लिए सक्षम हो जाते है
6.आपकी id नम्बर से आप अपने दोस्तों को join कराआगे और उनका chalange कंप्लीट होते ही आपको तुरन्त पैसा आएगा और इतना ही नही आपका दोस्त भी अगर किसी को join करवाता है तो वहा से भी आपको पैसा आएगा total 7 level तक आपको पैसा आएगा
तो सोचना क्या पैसे लगते तो सोचते ये तो 100%फ्री है
नोट रेफेर ऑफ़ स्पांसर 4542903
whatsapp:+8801674288819
+966 53 160 8972
I need ur help bhaiyo..
" konse firke ko manu jo Jannat mil jayege "...

Ahle-sunnat student grop,, ek tanjim ha, jo deni kaam ko anjaam deti h, west bengal ,, kolkata me(

Operating as usual

09/06/2019
Photos from Ahle - Sunnat Student Group's post 17/11/2018
08/11/2018

( COPY PEST )

امام احمد رضا بریلویؒ اور رَدِّ بدعات و منکرات-

امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ چودہویں صدی ہجری کے عظیم مفکر، مفتی اور فقیہ تھے۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے بہترین مصنف اور محقق بھی تھے۔ آپ قرآن، حدیث اور فقہ سمیت پچاس سے زیادہ قدیم اور جدید علوم میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ سائنس، جغرافیہ، ریاضی، علم توقیت، علم المیراث، منطق، بلاغت اور فلسفہ وغیرہ میں بھی آپ نے کئی ایک کتب تصنیف کیں۔ آپ کی تصانیف و تالیفات سے آج بھی امت مسلمہ استفادہ کررہی ہے۔ آپ نے اپنے زمانے میں دینی علوم کی ترویج کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں رائج امور بدعات و خرافات کا بھی بھر پور استحصال اور رد کیا اور انہیں بدعات و خرافات سے دور رہنے کا حکم دیا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر زمانے میں لادینی قوتوں نے اسلام اور اسلامی شخصیات کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہی کچھ امام اہلسنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے ساتھ بھی ہوا کہ کچھ لوگوں نے جان بوجھ کر یا نادانی میں امور بدعات و خرافات کو فاضل بریلوی قدس سرۂ کی جانب منسوب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حالانکہ اگر ان کی کتب کا مطالعہ کیاجائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انہوں نے کسی نئے دین یا فرقے کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ انہوں نے پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

بد قسمتی سے آج مزاراتِ اولیاء پر خرافات، منکرات، چرس و بھنگ، ڈھول تماشے، ناچ گانے اور رقص و سرور کی محافلیں سجائی جاتی ہیں، بعض لوگ ان خرافات کو امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے کھاتے میں ڈالتے ہیں جوکہ بہت سخت قسم کی خیانت ہے۔ اسی طرح آج کل کچھ لوگ عقیدت میں آکر مزارات کو سجدہ کرتے ہیں اور اسلام کے اصول سے بے خبر ہیں کہ ہماری شریعت نے غیر اللہ کے لیے سجدۂ عبادت کو کفر و شرک اور سجدۂ تعظیمی کو حرام قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے’’ الزبدۃ الزکیۃ لتحریم سجود التحیۃ ‘‘ کے نام سے ایک مبسوط رسالہ لکھا جس میں متعدد قرآنی آیات، چالیس احادیث مقدسہ اور تقریباً ڈیڑھ سو نصوص فقہیہ سے یہ ثابت کیا کہ عبادت کی نیت سے غیر اللہ کو سجدہ کرنا شرک و کفر ہے اور تعظیم کی نیت سے حرام ہے۔ اس کی دلیل میں آپ یہ حدیث بھی نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مخلوق کو جائز نہیں کہ وہ کسی کو سجدہ کرے ماسوائے اللہ تعالیٰ کے۔ (مدارک التنزیل) سجدۂ تعظیمی کی حرمت پر اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: ’’ غیر خدا کو سجدۂ عبادت شرک ہے سجدۂ تعظیمی شرک نہیں مگر حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ متواتر حدیثیں اور متواتر نصوص فقہیہ سے اس کی حرمت ثابت ہے۔ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحریم پر چالیس حدیثیں روایت کیں اور نصوص فقہیہ کی گنتی نہیں، فتاوٰی عزیزیہ میں ہے کہ اس کی حرمت پر اج**ع امت ہے۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ:۲۲ / ۵۶۵) اسی طرح کچھ لوگ جہالت اور نادانی کی وجہ سے بڑے بڑے عظیم علماء کے آگے زمین کو بوسہ دیتے ہیں تو اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت نے فرمایا: یہ فعل حرام ہے لہذا یہ فعل کرنے والا اور اس سے خوش ہونے والا(دونوں)گنہگار ہیں، اس لیے کہ یہ کام بت کی عبادت سے مشابہت رکھتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنے والا کافر ہوجائے گا یانہیں؟ اگر اس نے یہ کام بطور عبادت کیا اور اس کی تعظیم کی تو بلا شبہہ کافر ہوگیا۔ اور اگر تعظیم و بزرگی کی خاطر ایسا کیا تو کافرنہ ہوا لیکن پھر بھی گنہگارہوا۔ گناہِ کبیرہ بجالانے والا ہوا۔ ( فتاویٰ رضویہ: ۲۲ / ۴۱۲)

آج کل اولیاء اللہ اور بزرگوں کے مزارات پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ عقیدت میں مزارکو بوسہ دیتے ہیں اور بعض لوگ جہالت کی انتہا کردیتے ہیں کہ مزار کا طواف شروع کردیتے ہیں۔ وہ اپنی اندھی عقیدت میں سب کچھ کر گزرتے ہیں جس کی شریعت نے قطعی اجازت نہیں دی۔ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص بخانہ کعبہ ہے۔ مزار کوبوسہ دینا نہ چاہئے، علماء اس میں مختلف ہیں۔ اور بہتر بچنا، او ر اسی میں ادب زیادہ ہے۔ ( فتاویٰ رضویہ: ۹ / ۵۲۸)ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں: بلاشبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے۔ اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے۔ اور بوسہ قبر میں علماء کو اختلاف ہے۔ اور احوط منع ہے۔ خصوصاً مزارات طیبہ اولیاء کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہویہی ادب ہے پھر تقبیل کیونکر متصور ہے۔ (فتاویٰ رضویہ: ۲۲ / ۳۸۲)اسی طرح روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق امام احمد رضا علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: روضہ انور کا طواف نہ کرو، نہ سجدہ کرو، نہ اتنا جھکو کہ رکوع کے برابر ہو۔ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔( فتاویٰ رضویہ: ۱۰ / ۷۶۹)امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے مزارات پر چادر چڑھانے کے متعلق دریافت کیا گیا تو جواب دیا جب چادر موجود ہو اور ہنوز پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام اس میں صرف کریں اﷲتعالیٰ کے ولی کی روح مبارک کو ایصال ثواب کے لیے محتاج کو دیں (احکام شریعت : حصہ اول ص۷۲)

اسی طرح بعض لوگ مزارات پر جاکر بزرگوں کی قبروں کے سامنے نماز شروع کردیتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ قبروں کے سامنے نماز پڑھنا جائز ہے۔ ان کے اس قبیح فعل کو بعض حضرات اعلیٰ حضرت کی طرف منسوب کردیتے ہیں کہ یہ فاضل بریلوی کی تعلیمات کا حصہ ہیں اور انہوں نے اپنی تحریروں میں اس کی اجازت دی ہے۔ لیکن اگر فاضل بریلوی کی تعلیمات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات چڑھتے سورج سے بھی زیادہ روشن ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے فتاویٰ یا ملفوظات میں کہیں بھی اس امر کے جواز کا قول تحریر نہیں کیا۔ اس امر کے حرام ہونے کے سلسلے میں آپ احادیث سے استفادہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قبروں کی طرف نماز نہ پڑھونہ ان پر بیٹھو۔(مسلم وترمذی بحوالہ فتاویٰ رضویہ : ۲۲ / ۴۵۱۔ ۴۵۲)

بزرگوں سے اظہار عقیدت کا ایک طریقہ بعض لوگوں نے یہ بھی ایجاد کیا کہ ان کے فرضی مزارات بنانا شروع کرکے ان کی تعظیم شروع کردی۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے زمانے میں اس پر خوب تنقید و تنکیر فرمائی۔ آپ سے سوال ہوا کہ کسی ولی اﷲکا مزار شریف فرضی بنانا اور اس پر چادر وغیرہ چڑھانا اوراس پر فاتحہ پڑھنا اور اصل مزار کا سا ادب ولحاظ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی مرشد اپنے مریدوں کو فرضی مزار بنانے کی خواب میں اجازت دے تو وہ قول مقبول ہوگا یا نہیں؟اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: فرضی مزار بنانا او راس کے ساتھ اصل سا معاملہ کرناناجائز وبدعت ہے اور خواب کی بات خلافِ شرع امور میں مسموع نہیں ہوسکتی۔( فتاویٰ رضویہ: ۹ / ۴۲۵)

اسی طرح قبروں پر چراغ اور اگر بتی جلانا ایک معمول بن گیا ہے۔ لوگوں میں یہ رواج بہت عا م ہوگیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس امر کو مردے کے لیے باعثِ تسکین سمجھا ہوا ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ قبروں کی طرف شمع لے جانا بدعت اور مال کا ضائع کرنا ہے۔ عود، لوبان وغیرہ کوئی چیز نفس قبر پر رکھ کر جلانے سے احتراز کرنا چاہیے کیونکہ یہ مال کا ضیاع ہے۔ اعلیٰ حضرت اس امر کی دلیل میں ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں پر جانے والی عورتوں اور قبروں پر مسجدیں بنانے والوں اور چراغ رکھنے والوں پر لعنت فرمائی۔ (ترمذی)۔ اس حدیث کی تشریح میں آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : یہ لعنت ان لوگوں پر ہے جو بغیر کسی فائدہ کے قبروں پر چراغ جلاتے ہیں ورنہ اگر کوئی قبر کے پاس چراغ اس لیے روشن کرے کہ وہاں آنے جانے والوں کے لیے روشنی ہویا کوئی وہاں بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا چاہے تو ایسی صورت میں منع نہیں ہے۔ لیکن احتیاط اس میں بھی یہ ہے کہ چراغ یا شمع کو قبر کے اوپر نہ رکھا جائے بلکہ قبر سے تھوڑا دور رکھا جائے۔ (فتاویٰ رضویہ: ۹ / ۴۹۱)

اسی طرح ہمارے زمانے میں کم علمی اور جہالت کی بناء پر خواتین اولیاء اللہ اور بزرگانِ دین کے مزارات پر جاتی ہیں۔ بعض حضرات نے اس بات کو بھی اعلیٰ حضرت سے منسوب کردیا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو مزارات پر جانے کی اجازت دی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب آپ سے خواتین کے مزارات پر جانے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے اس سے منع فرمایااور سخت تنکیر فرمائی۔ اس سلسلے میں آپ اپنے ملفوظات میں صاحب غنیہ کا قول نقل کرتے ہیں: یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کا مزارات پرجانا جائز ہے یا نہیں بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور کس قدر صاحبِ قبر کی جانب سے۔ جس وقت وہ گھر سے ارادہ کرتی ہے لعنت شروع ہوجاتی ہے۔ اور جب تک وہ واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے ہیں۔ (غنیۃ المتملی بحوالہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت : ص ۳۱۵)

اسی طرح اندھی عقیدت کی بناء پر اکثر بے پردہ خواتین کا پیروں، فقیروں اور بزرگوں کے پاس رش لگارہتا ہے۔ وہ اپنے معمولی معمولی سے مسائل ان سے حل کروانے کے لیے چلی جاتی ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے فرمایااگر کوئی عالمِ شریعت اور واقفِ طریقت بھی ہو تو پھر بھی اس کے پاس خواتین کا بے پردہ ہوکر جانا جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں آپ نے مزید وضاحت فرمائی کہ پردہ کے باب میں پیرو غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے جوا ن عورت کو چہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے۔ ( فتاویٰ رضویہ: ۲۲ / ۲۰۵) آ گے فرماتے ہیں: جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ کھلا ہو جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یاگلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز تو اس طورپر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے خواہ وہ پیر ہو یا عالم۔ ( فتاویٰ رضویہ: ۲۲ / ۲۳۹۔ ۲۴۰) آپ علیہ الرحمہ کی تعلیمات کی روشنی میں روز روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ خواتین کا بے پردہ ہوکر پیروں، فقیروں، ملنگوں یہاں تک کہ رہبر شریعت و طریقت کے پاس جانا بھی جائز نہیں ہے۔

بعض لوگ وظائف میں قرنی آیات اور سورتوں کو معکوس (یعنی الٹا) پڑھتے ہیں، اس سلسلے میں آپ سے سوال کیا گیا تو آپ نے اس امر کے حرام ہونے کے متعلق فرمایاکہ یہ حرام ہے اور اشد حرام، کبیرہ اور سخت کبیرہ قریب کفر ہے۔ یہ تو درکنار سورتوں کی صرف ترتیب بدل کر پڑھنا اس کی نسبت تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کیا ایسا کرنے والا ڈرتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو الٹ دے۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص ۳۵۴)

الغرض بعض مذہبی طبقوں کی جانب سے یہ مشہور کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں جو بدعات و خرافات رائج ہیں ‘ وہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی تعلیمات ہیں۔ درحقیقت یہ سراسر بددیانتی اور جھوٹ ہے۔ تعصب کی عینک اتارکر حقیقت کی نظروں سے دیکھاجائے تو واضح ہوجائے گا کہ امام اہلسنت اس طرح کی خرافات اور بدعات کا بھر پور رد بلیغ فرمایاکرتے تھے۔ آپ کی کوششیں اسلام میں نت نئی بدعات ایجاد کرنے کے بجائے ان کو ختم کرنے کے لیے ہوتی تھیں۔ لیکن آج اُ ن کے اور اُن کے عقیدت مندوں کے متعلق بدگمانی کی جاتی ہے کہ انہوں نے ایک نئے فرقے کی بنیاد رکھی۔ ان بد گمانیوں کی وجہ سے آج امت مسلمہ فرقوں در فرقوں میں بٹتی جارہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بے بنیاد الزام تراشی سے پہلے ان کی تعلیمات کا جائزہ لیا جائے اور بدگمانیوں کو دو رکیاجائے۔ وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ امت مسلمہ میں افتراق و انتشار کے بجائے اتفاق و اتحاد پیدا کیاجائے۔

NOTE :- MERE PASS ISI UNWAAN ( RADDE BIDAAT ) PAR EK RISALA BANAAM ( TALIMAAT E AALA HAZRAT ) JOKE MAINE AZ KHUD APNE HATHON SE MAQAAMI ULAMAON KO HADYATAN DIYA,

USME 80 FISAD AYSE MASAIL HAIN JO MAKHOOZ AZ ( FATAWA RAZWI ) SE DALAIL K SAATH AUR KANPUR BARAILWI MASLAK K MOTAMAD, MAROOF O MASHHOOR M***I SAYYAD ABUL BARAKAAT NAZMI ( SAJJADAYE NASHEEN KHANQAAH DADA MIYAN CHAOWRAHA KANPUR) KI TASDEEQ K SAATH ( ANJUMAN ISHA ATE MUSTAFA S,A,W DADAMIYAN KNP SE SHAYE HUA,

JO K HALAATE HAAZRA KO SAAMNE RAKHTE HUYE APASI IKHTALAFAAT KO KHATM KARNE KI EK ATOOT AUR AHAM KAWISH HAI,

KHWAHISH MAND HAZRAAT MUJHSE RAABTA KARSAKTE HAI.

21/09/2018

HUSSAIN IBNE HAIDER PE LAKHO SALAM

Mere Hussain Tujhe Salam,Mere Hussain Tujhe Salam…
Mere Hussain Tujhe Salam,Mere Hussain Tujhe Salam…

As-salam ya Hussain, As-salam Ya Hussain…
As-salam ya Hussain, As-salam Ya Hussain…

Mere Hussain Tujhe Salam, Mere Hussain Tujhe Salam…

Jin ko dhoke se Kufa bulaya gaya
Jin ko baithe bithaee sataya gaya
Jin ke bachchon ko bhuuka pyaasa rulaya gaya
zehar Bhai ka Jisko Pilaya gaya

Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam

Mere Hussain Tujhe Salam, Mere Hussain Tujhe Salam…
As-salam ya Hussain, As-salam Ya Hussain…
As-salam ya Hussain, As-salam Ya Hussain…

jinko dhoke se kufa bulaya gaya
Jin ke bachchon ko pyaasa rulaya gaya
be kafan jinka laashaa uthayaa gaya
jin ke garden pe khanjaar chalaya gaya

Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam

Mere Hussain Tujhe Salam,Mere Hussain Tujhe Salam…
As-salam ya Hussain, As-salam Ya Hussain…
As-salam ya Hussain, As-salam Ya Hussain…
Mere Hussain Tujhe Salam,Mere Hussain Tujhe Salam…

Karliya jis ne naush shahadat ka jam
Us Hussain ibne Haider lakhon salam

Mere Hussain Tujhe Salam Mere Hussain Tujhe salam
Assalam Ya Hussain (2)

jisko dose nabi pe baithaya gaya
jiska jannat se joda mangaya gaya
jisko teero se chhalni banaya gaya
jiske bhai ko zehar pilaya gaya
us hussain ibne haider pe lakho salaam

Mere Hussain Tujhe salam 4

kar chuka apni jahir muhabbat tamaam
kar chuka who Habib apni Huzzat tamaam
le ke allah aur apne nana ka naam
kufiyo ko sunaye khuda ke kalam
aur Fida hoogaya shahe khairul anaam

us hussain ibne haider pe lakho salaam
Mere Hussain Tujhe Salam, 4

Badhe jo kar chuko suhe shahe ana salam..
Sada yeah aati thi har samant se salam hi salam

Badhe Hussain jo Taiba se karbala ki tarah jahan pohocte the karta tha woh har maqam salam

Mere Hussain Tujhe Salam ,…..2

"Zammeene Manzile Maqsood ne Qadam Chume Falak ne Duur se jhuk kar kaha Imam Salam"

"Shah woh jo jise sab Shah-shah kahete hai imam woh jise karta hai har Imaam Salam"

Mere Hussain Tujhe salam, Mere Hussain Tujhe salam

''Taman raat unhe Bhejti rahi huure kisi ke naam durrod Aur kisike naam salam"

"Unhe salam- unhe salam- Unhe Salam,
munawar yeah janta hai jii tamaam
umar likhu aur woh tamam salam"

Mere hussain tujhe salam 2

"Shabbir woh jin ka nana Nabi
Jin ki maa Fatima jin ka baba Ali"
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam


"Jin ka jhula farishtey jhulate rahe
Lohrian de ke noori sulaate rahe"
Us Hussain ibn e Haider pe lakhon

"Jis ne nana ka wada wafa kar dia
Jis ne haq karbala mein ada kar diya
Apne ghar ko suparde khuda kar diya
Jis ne neze par bhi Quran par diya"
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam

"Mustafa ke nawaso pe lakho salaam
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam
Fatima ke woh dilbar pe lakho salaam
aur Hasan ke biraadar pe lakhon salaam"

"jinko jibrail jhoola jhoolaya kare
loriyaa jinko h***e sunaya kare
jinko kandho pe AAQA bithaya kare"
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam

jinko dhoke se kufa bulaya gaya
Jin ke bachchon ko pyaasa rulaya gaya
be kafan jinka laashaa uthayaa gaya
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam

jinki maa Karbala mein sataee gayee
pyaas teero se jinki bujhayee gayee
jinki choti si turbat banayee gayeee
aise masoom ASGAR pe lakhon salaam

"SHAH AST HUSAIN, BADSHAH AST HUSAIN
DEEN AST HUSAIN ,DEEN PANAH AST HUSAIN,
SARDAAD ,NA DAAD DAST DAR DAST-E YAZEED,
HAQQUAA KE BINA-E LA ILAH AST HUSAIN."

Photos from Ahle - Sunnat Student Group's post 05/12/2017

جامع مسجد تیلنی پاڑہ عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر

25/11/2017

کبھی یٰس کبھی طہٰ کبھی والَّیل آیا
جس کی قسمیں میرا ربّ کھاتا ہے
کتنی دلکش میرے محبوب کی صُورت ہوگی ..❤
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

30/09/2017

Jin ko dhoke se Kufa bulaya gaya
Jin ke bachchon ko pyaasa rulaya gaya
Jin ke gardan pe khanjar chalaya gaya
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam

Shabbir woh jin ka nana Nabi
Jin ki maa Fatima jin ka baba Ali
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam

Karliya jis ne naush shahadat ka jam
Us Hussain ibne Haider lakhon salam

Jin ka jhula farishtey jhulate rahe
Lohrian de ke noori sulaate rahe
Us Hussain ibn e Haider pe lakhon

Jis ne nana ka wada wafa kar dia
Jis ne haq karbala mein ada kar diya
Apne ghar ko suparde khuda kar diya
Jis ne neze par bhi Quran par diya
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam

Ya elahi sadqa e ahle Rasool (sal-lal-lahu alai hi wa sallam)
Yeh salaam e ajizana ho kubool

Ameen.........

Mustafa ke nawaso pe lakho salaam
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam
Fatima ke woh dilbar pe lakho salaam
aur Hasan ke biraadar pe lakhon salaam

jinko jibrail jhoola jhoolaya kare
loriyaa jinko h***e sunaya kare
jinko kandho pe AAQA bithaya kare
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam

jinko dhoke se kufa bulaya gaya
Jin ke bachchon ko pyaasa rulaya gaya
be kafan jinka laashaa uthayaa gaya
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam

jinki maa Karbala mein sataee gayee
pyaas teero se jinki bujhayee gayee
jinki choti si turbat banayee gayeee
aise masoom ASGAR pe lakhon salaam

Mustafa ke nawaso pe lakho salaam
Us Hussain ibne Haider pe lakhon salam
Fatima ke woh dilbar pe lakho salaam
aur Hasan ke biraadar pe lakhon Salaam

27/08/2017

فاصلوں کو تکلف ھے ہم سے اگر 🌳
ہم بھی بے بس نہیں، بے سہارا نہیں🌴

خود ان ہی ﷺ کو پکاریں گے ہم دور سے🌸
راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے🌼

جیسے ہی سبز گنبد نظر آۓ گا 🌷
بندگی کا قرینہ بدل جاۓ گا ❤️

سر جھکانے کی فرصت ملے گی کسے🌱
خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے🌱

نام آقا ﷺ بھی جہاں لیا جاۓ گا🍀
ذ کر اُن کا جہاں بھی کیا جاۓ گا🍁

نُور ہی نُور سینوں میں بھر جاۓ گا 🌕
ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے 🌕

اے مدینے کے ظائر خدا کے لیۓ 💝
داستان سفر مجھ کو یوں مت سنا 💝

بات بڑھ جاۓ گی دل تڑپ جاۓ گا 💝
میرے محطات انسو جھلک جائیں گے 😥

ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی🌻
ہم بھی آقا ﷺ کے دربار تک جائیں گے🌺

💞محمد ارمان،اہلسنت اسٹوڈنٹس گروپ تیلنی پاڑہ 💞

Timeline photos 08/08/2017

جہاد کی فضیلت اور مجاہد کا مقام و مرتبہ
علامہ شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ کاسیاست اور جہاد کے موضوع پر نایاب خطاب
https://www.youtube.com/watch?v=f8ntMdLV5uY

Saqib raza Mustafai replies to Nawaz Sharif 28/07/2017

4

Saqib raza Mustafai replies to Nawaz Sharif کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا بس رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گا ۔۔۔۔ ظلم کی رات کتنی بھی تاریک کیوں نہ ہو آخر سویرا ہوتا ہے ۔۔ ممتاز قادری کا خون سب...

Timeline photos 07/07/2017
14/06/2017

♻صدقہ الفطراور اس کے مسائل♻

صدقہ الفطر کی فرضیت :
جس سال رمضان کا روزہ فرض ہوا اسی سال صدقہ الفطر بھی فرض ہوا۔ وہ سن دو ہجری ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و حدیث اور اج**ع امت سے ثابت ہے ۔
قرآن سے دلیل: قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ (الاعلی : 14)
ترجمہ:بے شک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا۔
سنت سے دلیل : أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فرض زكاةَ الفطرِ من رمضانَ على كلِّ نفسٍ من المسلِمين (صحيح مسلم:984)
ترجمہ: بے شک اللہ کے رسول ﷺ نے رمضان کے صدقہ الفطر کو مسلمانوں میں سے ہر نفس پر فرض کردیا ہے ۔
امام ابن منذر رحمہ اللہ نے اس کی فرضیت پہ اج**ع نقل کیا ہے ۔(الإج**ع لابن المنذرص :55)
صدقہ الفطر/ زکوۃ الفطر کو زکوۃ البدن اور زکوۃ النفس بھی کہا جاتا ہے ۔ عام اردو بول چال میں فطرہ یا فطرانہ سے جانا جاتا ہے۔
فطرانے کی حکمت :
دو حکمتیں تو ایک حدیث میں مذکور ہیں ۔
زكاةُ الفطرِ طُهْرَةٌ للصائِمِ مِنَ اللغوِ والرفَثِ ، و طُعْمَةٌ للمساكينِ (صحيح الجامع:3570)
پہلی حکمت :
روزہ دار کی پاکی :روزے کی حالت میں روزے دار سے ہونے والی غلطیوں سے پاک ہونے کے لئے فطرانہ ادا کیا جاتا ہے ۔
دوسری حکمت :
مساکین کا کھانا: عید کے دن جہاں مالدار لوگ خوشی منائیں وہیں اپنی خوشی میں شامل کرنے کے لئے ان کے ذمہ غرباء ومساکین کو فطرانہ ادا کرنا ہےتاکہ وہ بھی مسلمانوں کی عید کی خوشی میں برابر کے شریک ہوسکیں ۔
تیسری حکمت : فطرانے میں مسکینوں کے ساتھ الفت ومحبت کے اظہار کے سوا، اپنے بدن کا صدقہ بھی ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اب تک اپنی توفیق سے بقید حیات رکھا۔ اور اللہ کی ان نعمتوں کا شکریہ بھی جو رمضان المبارک میں (روزہ،قیام، اعتکاف، لیلۃ القدروغیرہ)میسرآتے ہیں۔
فطرانے کی شرائط:
اس کی تین شرطیں ہیں۔
(1) فطرانے کے لئے اسلام شرط ہے ، اس لئے کافر پر فطرانہ نہیں۔
(2) استطاعت: فطرانہ کے لئے نصاب کا مالک ہونا شرط نہیں بلکہ اس کے پاس عید کی رات اور اس دن اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنےسے زائد خوراک ہو تو اسے
مسکینوں کو صدقہ کرے۔
(3) تیسری شرط فطرانے کا واجبی وقت ہونا ہے جوعید کا چاند نکلنے سے عید کی نماز کے وقت تک ہے ۔
کن کی طرف سے فطرانہ ادا کیا جائے گا؟
اس سلسلے میں نبی ﷺ کا فرمان ہے :
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فرض زكاةَ الفطرِ من رمضانَ على كلِّ نفسٍ من المسلِمين ، حرٍّ أو عبدٍ . أو رجلٍ أو امرأةٍ . صغيرٍ أو كبيرٍ . صاعًا من تمرٍ أو صاعًا من شعيرٍ .(صحيح مسلم : 984)
ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطرکو فرض قرار دیا ہے ایک صاع جو یا کھجور کا، جو ہر آزاد
،غلام ، مرد وعورت اور چھوٹے بڑے مسلمان پر واجب ہے۔
*اس لئے ہر مسلمان خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، آزاد ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت ان کی طرف سے فطرہ نکالنا ان کے سرپرست کے ذمہ واجب ہے ۔
*یتیم اور مجنوں کے پاس مال ہو تو ان کی طرف سے بھی صدقہ نکالا جائے ۔
*پیٹ میں موجود بچے کی طرف سے فطرانہ واجب نہیں ہے مگر کوئی بطور استحباب دینا چاہے تو دے سکتا ہے ۔
٭ میت کی طرف سے فطرانہ نہیں ہے ۔ ہاں اگر میت نے وقت وجوب(عید کا چاند نکلنے
سے عید کی نماز تک) کو پالیا تو اس کی طرف سے فطرانہ ادا کیا جائے گا۔
٭ نوکر یا نوکرانی کافطرانہ خود ان کے ذمہ ہے ، اگر اس کا مالک ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔
فطرانے میں کیا دیا جائے ؟
جس ملک میں جو چیز بطور غذا استعمال کی جاتی ہے اسے فطرے کے طور پہ دے سکتے ہیں ۔اس سے متعلق نبی ﷺ کا فرمان ہے :
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فرض زكاةَ الفطرِ من رمضانَ على كلِّ نفسٍ من المسلِمين ، حرٍّ أو عبدٍ . أو رجلٍ أو امرأةٍ . صغيرٍ أو كبيرٍ . صاعًا من تمرٍ أو صاعًا من شعيرٍ .(صحيح مسلم : 984)
ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطرکو فرض قرار دیا ہے ایک صاع جو یا کھجور کا، جو ہر آزاد ،غلام ، مرد وعورت اور چھوٹے بڑے مسلمان پر واجب ہے۔
نبی ﷺ کے زمانے میں جو، کھجور، منقہ اور پنیربطور غذا استعمال ہوتا تھا۔ ہمارے یہاں عام طور سے چاول ، گیہوں،چنا، جو ، مکی، باجرہ، جوار وغیرہ اجناس خوردنی ہیں لہذا ہم ان میں سے فطرانہ نکالیں گے ۔
صاع کی مقدار:
فطرانے کی مقدار ایک صاع ہے ۔ایک صاع چار مُد ہوتا ہے ۔گرام کے حساب سے صاع کی تعیین میں کافی اختلاف ہے ۔شیخ ابن عثیمین نے دوکلو چالیس گرام بتلایا ہے ۔ بعض نے دوکلو ایک سو، بعض نے پونے تین سیر یعنی ڈھائی کلو تقریبا،بعض نے دو کلو ایک سوچھہتر، بعض نے دو کلو سات سو اکاون کہا ہے ۔ شیخ ابن باز نے تین کلو بتلایا ہے ۔ یہی سعودی فتاوی کمیٹی لجنہ دائمہ کا فتوی ہے ۔
زیادہ تر اقوال ڈھائی کلو کے آس پاس ہیں ۔ اگر فی کس ڈھائی کلو کے حساب سے نکال دیا جائے توزیادہ مناسب ہے ۔ اس میں فقراء و مساکین کا فائدہ بھی ہے اور اگر کوئی تین کلو کے حساب سے نکالتا ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
یہاں ایک اور مسئلہ جان لینا چاہئے کہ ایک ہی جنس سے ایک صاع نکالنا بہتر ہے نہ کہ آدھا ایک جنس سے اور آدھا ایک جنس سے ۔
ابوداؤد اور نسائی وغیرہ میں نصف صاع کابھی ذکر ہے مگر وہ ورایت صحیح نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں بعض آثار بھی ملتے ہیں ۔امام ابوحنیفہ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ،علامہ ابن القیم، علامہ البانی اورعبیداللہ مبارک پوری رحمہم اللہ کا مسلک ہے کہ نصف صاع بھی کفایت کرے گا۔
فطرانے کا مصرف:
فطرانے کا مصرف نبی ﷺ نے بتلادیا ہے ۔
زكاةُ الفطرِ طُهْرَةٌ للصائِمِ مِنَ اللغوِ والرفَثِ ، و طُعْمَةٌ للمساكينِ (صحيح الجامع:3570)
ترجمہ: صدقہ فطر روزہ دارکی لغواور بیہودہ باتوں سے پاکی اور مساکین کا کھانا ہے ۔
یہ حدیث بتلاتی ہے کہ فطرانے کا مصرف فقراء ومساکین ہے۔ بعض علماء نے کہا زکوۃ کے
آٹھ مضارف میں فطرانہ صرف کرسکتے ہیں مگر یہ بات مذکورہ بالا حدیث کے خلاف ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فطرانے کو فقراء ومساکین کے ساتھ خاص کیا ہے اور دلیل سے قوی تر اسی کو قرار دیا ہے ۔ (مجموع فتاوى:25/71) .
شیخ ابن باز نے کہا کہ فطرانے کا مصرف فقراء ومساکین ہے کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے:
زكاةُ الفطرِ طُهْرَةٌ للصائِمِ مِنَ اللغوِ والرفَثِ ، و طُعْمَةٌ للمساكينِ۔
ترجمہ: صدقہ فطر روزہ دارکی لغواور بیہودہ باتوں سے پاکی اور مساکین کا کھانا ہے ۔
انتہی (مجموع الفتاوى:14/202)
لہذا فطرانہ فقراء ومساکین کے علاوہ مسجد و مدرسہ وغیرہ پہ خرچ کرنا سنت کی مخالفت ہے ۔
اگر اپنی جگہ پہ فقراء ومساکین نہ پائے تو دوسری جگہ فطرانہ بھیج دے۔
فطرانے کا وقت :
فطرانے کا دو وقت ہے ۔ ایک وقت وجوب اور ایک وقت جواز
وقت وجوب: عید کا چاند نظر آنے سے عید کی نماز تک ہے ۔ اس درمیان کسی وقت مستحق کو فطرانہ دیدے ۔
وقت جواز: عید سے ایک دو دن پہلے فطرہ دینا جائز ہے ۔ بخاری ومسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے :
وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين(صحیح البخاري:1511 وصحیح مسلم:984).
کہ صحابہ کرام عید سے ایک دو دن پہلے فطرانہ ادا کرتے تھے ۔
افضل وقت عید کی نمازکے لئےنکلنے سے پہلے ادا کرنا ہے کیونکہ فرضیت فطرانہ والی صحیحین کی روایت میں ہے :
وأمَر بها أن تؤدَّى قبلَ خروجِ الناسِ إلى الصلاةِ .(صحیح البخاري:1503)، وصحیح مسلم:984)
نبی ﷺ نے عید کی نماز کے لئے نکلنے سے پہلے لوگوں کو فطرانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
عید کی نماز کے بعد فطرہ دینے سے ادا نہ ہوگا وہ محض عام صدقہ شمار ہوگا لیکں اگر کسی کے ساتھ بھول ہوگئی یا کسی عذرشرعی کی بنیاد پر تاخیر ہوگئی تو اللہ تعالی ایسے بندوں سے درگذرکرتا ہے ۔
فطرانہ دینے کی جگہ :
اس میں اصل یہی ہے کہ جو جس جگہ رہتا ہے وہیں فطرہ ادا کرے لیکن اگر وہاں فقراء ومساکین موجود نہ ہوں تو فطرہ دوسری جگہ بھیج دے ۔ اسی طرح اگر کسی دوسری جگہ بھجنے میں سخت ضرورت ہو تو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
فطرانے میں رقم دینا:
یہ ایک اہم مسئلہ جو لوگوں میں جواز اور عدم جواز سے متعلق اختلاف کا باعث بناہوا ہے ۔ احادیث کی روشنی میں یہ مسئلہ واضح ہے ، نبی ﷺ نے فطرانہ کو مسکین کی غذا قرار دیا ہے اورغذا کھائی جانےوالی چیز ہے، نہ کہ رقم ۔
اس لئے فرمان رسول ﷺ پہ چلتے ہوئے اولی و افضل غلے سے ہی فطرہ ادا کرنا ہے ۔ تاہم سخت ضرورت کے تحت فطرے کی رقم دینا بھی جائز ہے ۔ اس کو مثال سے اس طرح سمجھ لیں کہ آج کل فقراء ومساکین جنہیں غلے کی حاجت نہیں ہوتی وہ ہم سے غلہ تو لے لیتے ہیں مگراسے بیچ کر قیمت حاصل کرتے ہیں اورپھر قیمت سے اپنی ضروری اشیاء خریدتے ہیں ۔ ایسے حالات میں بجائے اس کے کہ مسکین کو غلہ بیچنےکی مشقت ملے اور غلے کی کم قیمت حاصل کرنی پڑے ۔ خود ہم ان کی طرف سے وکیل بن کر غلے کی قیمت ادا کردیں۔
واضح رہے یہ صرف ضرورتا ًجائز ہے تاہم اولی و افضل سنت کی تطبیق دینی ہے جو کہ اشیائے خورنی سے فطرہ ادا کرنا ہے ۔
💫محمد ارمان ،اہلسنت اسٹوڈنٹس گروپ تیلنی پاڑہ💫

04/06/2017

VILADAT KE WAQT KI KARAMAAT

1.Aap Ke Walid e Maajid Hazrat Abu Saleh Musa Jangi Dost Rehmatullahi Ta'ala Alaihi Ko Huzoor Nabi Karim Sallallahu Ta'ala Alaihi Wasallam Ki Ziyarat Huyi Aur Aap Ne Farmaya Aye Mere Bete Abu Saleh Tujhe Allah Ta'ala Ne Wo Farzand Diya Hai Jo Mera Beta Aur Mehboob Aur Khuda Ka Bhi Mehboob Hai Aur Us Ka Martaba Auliya Mein Aisa Hoga Jaisa Mera Martaba Ambiya Mein Hai.
2.Tamam Ambiya Wa Rasul Ne Aap Ke Walid-e-Majid Ko Khwab Mein Basharat Di Ki Siwaye Sahaba Aur Aimma e Kiram Ke Tamam Auliya Awwalin Wa Aakhirin Aap Ke Farzand Ke Farma Bardaar Honge Aur Us Ki Ita'at Un Ke Darjaat Ki Bulandi Ka Baais Hogi.
3.Viladat Ki Shab Baghdad Mein Sab Ladke Paida Huwe Jin Ki Tadaad Gyara Sau (1100) Thi Aur Wo Sab Auliya e Kamileen Huwe Hain.
4.Aap Ne Tamaam Ramzan Saher Se Lekar Iftar Tak Walida Majida Ka Doodh Nahi Piya.
5.Huzoor Nabi Karim Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Ne Me'araj Ki Raat Jo Aap Ki Gardan e Mubarak Par Qadam Rakha Tha Us Ka Nishan Aap Ki Gardan Mubarak Par Maujood Tha.
6.Aap Ki Wiladat Ke Waqt Aap Ki Walida Majida Ki Umar Saath(60) Saal Ki Thi.Is Umar Mein Aap Ki Paidaish Bhi Ek Karamat Hai.
Paidaish Ke Waqt Aap Ki Shakl e Mubarak Itni Ba Roab Thi Ke Koi Shakhs Aap Ko Gaur Se Dekh Na Sakta Tha Aur Aap Ko Allah Ta'ala Ne MAZHAR E JAMAAL E MUSTAFAAI Bana Kar Rawana Farmaya....

30/05/2017

💫محمد ارمان، اہل_سنت اسٹوڈنٹس گروپ جامع مسجد ،کل بستی لین، تیلنی پاڑہ،ہگلی💫

❤نعت_پاک❤

چلو دیار نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
از: خالد محمود خالد نقشبندی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
چلو دیارِ نبی (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کی جانب، درود لب پر سجا سجا کر
بہار لوٹیں گےہم کرم کی دلوں کو دامن بنا بنا کر
نہ ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کےجیسا سخی ہےکوئی، نہ ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کےجیسا غنی ہےکوئی
وہ بینوائوں کو ہر جگہ سےنوازتے ہیں بلا بلا کر
ہماری ساری ضرورتوں پر کفالتوں کی نظر ہے اُن (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کی
وہ جھولیاں بھر رہے ہیں سب کی کرم کےموتی لٹا لٹا کر
وہ راہیں اب تک سجی ہوئی ہیں دلوں کا کعبہ بنی ہوئی ہیں
جہاں جہاں سےحضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) گزرےہیں نقش اپنا جما جما کر
ہے اُن (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کو اُمت سےپیار کتنا کرم ہےرحمت شعار کتنا
ہمارے جرموں کو دھو رہےہیں حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) آنسو بہا بہا کر
میں ایسا عاصی ہوں جس کی جھولی میں کوئی حسن عمل نہیں ہے
مگر وہ احسان کر رہے ہیں خطائیں میری چھپا چھپا کر
اگر مقدر نےیاوری کی اگر مدینےگیا میں خالد
قدم قدم خاک اس گلی کی میں چوم لوں گا اٹھا اٹھا کر

28/05/2017

* بسم اللہ الرحمن الرحیم *
*اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے *

سورت نمبر۱ /سورۃ الفاتحہ۔ /مکی سورت۔ / ۷ آیات۔ / ۱ رکوع۔

تفسیر: سورۃ الفاتحہ قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت ہے، جس کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ فاتحہ کے معنی آغاز اور ابتدا کے ہیں، اس لیے اسے الفاتحة یعنی فاتحة الكتاب کہا جاتا ہے۔ اس کے اور بھی متعدد نام احادیث سے ثابت ہیں، مثلاً: ام القرآن، السبع المثانى، القرآن العظيم، الشفاء، الرقية (دم) جس طرح ایک صحابی نے ایک بچھو کے ڈسے ہوئے کو اس سے دم کیا تو اسے آرام آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تجھے کس طرح معلوم ہوا کے یہ دم ہے؟" (صحیح البخاری، کتاب الاجارۃ، باب رقم ۱۶۔ صحیح المسلم، کتاب السلام، باب جواز اخذ الاجرۃ ... الخ) وغیرھا من الاسماء۔ اس کا ایک اہم نام "الصلٰوۃ" بھی ہے، جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالی نے فرمایا:((قسمت الصلاة بيني و بين عبدي)) - (الحدیث - صحیح مسلم - کتاب الصلوِٰۃ) "میں نے صلوٰۃ (نماز) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے"، مراد سورۃ فاتحہ ہے جس کا نصف حصہ اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور اس کی رحمت و ربوبیت اور عدل و بادشاہت کے بیان میں ہے اور نصف حصے میں دعا و مناجات ہے جو بندہ اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے۔ اس حدیث میں سورۃ فاتحہ کو "نماز" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اس کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں اس کی خوب وضاحت کر دی گئ ہے، فرمایا: ((لا صلوة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب)) - (صحیح البخاری و صحیح مسلم، کتاب الصلٰوۃ باب وجوب القراءۃ ... الخ) "اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی"۔ اس حدیث میں (من) کا لفظ عام ہے جو ہر نمازی کو شامل ہے۔ منفرد ہو یا امام، یا امام کے پیچھے مقتدی۔ سری نماز ہو یا جہری، فرض نماز ہو یا نفل۔ ہر نمازی کے لیے سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔ اس عموم کی مزید تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نماز فجر میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم پڑھتے رہے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قراءت بوجھل ہو گئ، نماز ختم ہونے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم بھی ساتھ پڑھتے رہے ہو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((لا تفعلو الا بام القرآن فانه لا صلوة لمن لم يقرا بها۔)) "تم ایسا مت کیا کرو (یعنی ساتھ ساتھ مت پڑھا کرو) البتہ سورۃ فاتحہ ضرور پڑھا کرو، کیونکہ اس کے پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔" (ابو داود، ترمذی، نسائی) اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((من صلی صلوۃ لم یقرا فیھا بام القرآن فھی خداج ثلاثا غیر تمام)) "جس نے بغیر فاتحہ کے نماز پڑھی وہ ناقص ہے مکمل نہیں" تین مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا: ((اقرا بها نفسك))۔ (امام کے پیچھے تم سورۃ فاتحہ اپنے جی میں پڑھو) (صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب نمبر ۱۱۔) مذکورہ دونوں حدیثوں سے واضح ہوا کہ قرآن مجید میں جو آتا ہے: (وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآَنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا)۔ (الاعراف۔ ۲۰۴) "جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور خاموش رہو" یا حدیث ((واذ قرا فانصتوا)) - (بشرط صحت) "جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو" کا مطلب یہ ہے کہ جہری نمازوں میں مقتدی سورۃ فاتحہ سے قبل یا بعد یا سورت کے بعد کے علاوہ باقی قراءت خاموشی سے سنیں۔ امام کے ساتھ قرآن نہ پڑھیں۔ یا امام سورۃ فاتحہ کی آیات وقفوں کے ساتھ پڑھے تاکہ مقتدی بھی احادیث صحیحہ کے مطابق سورۃ فاتحہ پڑھ سکیں، یا امام سورۃ فاتحہ سے قبل یا بعد یا سورت کے بعد اتنا سکتہ کرے کہ مقتدی سورۃ فاتحہ پڑھ لیں۔ (صحیح روایات سے قراءت کے بعد سکتہ ثابت ہے)۔ اس طرح آیت قرآن اور احادیث صحیحہ میں الحمد للہ کوئی تعارض نہیں رہتا۔ دونوں پر عمل ہو جاتا ہے۔ جب کہ سورۃ فاتحہ کی ممانعت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خاکم بدہن قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں ٹکراو ہے اور دونوں میں سے کسی ایک پر ہی عمل ہو سکتا ہے۔ بیک وقت دونوں پر عمل ممکن نہیں۔ فنعوذ بالله من هذا۔ مزید دیکھئے سورۃ اعراف، آیت 204 کا حاشیہ۔

یہ سورت مکی ہے۔ مکی یا مدنی کا مطلب یہ ہے کہ جو سورتیں ہجرت (13 نبوت) سے قبل نازل ہوئیں وہ مکی ہیں، خواہ ان کا نزول مکہ مکرمہ میں ہوا، یا اس کے اطراف و جوانب میں۔ اور مدنی وہ سورتیں ہیں جو ہجرت کے بعد نازل ہوئیِں، خواہ مدینہ یا اس کے اطراف میں نازل ہوئیں یا اس سے دور۔ حتیٰ کہ مکہ اور اس کے اطراف ہی میں کیوں نہ نازل ہوئی ہوں۔

بسم اللہ کی بابت اختلاف ہے کہ آیا یہ ہر سورت کی مستقل آیت ہے، یا ہر سورت کی آیت کا حصہ ہے، یا یہ صرف سورۃ فاتحہ کی ایک آیت ہے یا یہ کسی بھی سورت کی مستقل آیت نہیں ہے، اسے صرف دوسری صورت سے ممتاز کرنے کے لیے ہر سورت کے آغاز میں لکھا جاتا ہے۔ قراء مکہ و کوفہ نے اسے سورۃ فاتحہ سمیت ہر سورت کی آیت قرار دیا ہے، جبکہ قراء مدینہ، بصرہ و شام نے اسے کسی بھی سورت کی آیت تسلیم نہیں کیا ہے، سوائے سورۃ نمل کی آیت ۳۰ کے، کہ اس میں بالاتفاق بسم اللہ اس کا جزو ہے۔ محقق عصر شیخ احمد شاکر مصری مرحوم نے اپنا خلاصہ تحقیق اس طرح بیان فرمایا ہے کہ "قرآن میں جہاں بھی بسم اللہ لکھی ہوئی ہے، وہاں قرآنی آیت ہے۔ البتہ اس کا اس سورت کی آیت ہونا جس کے شروع میں وہ تحریر ہے یا اس کا مستقل آیت ہونا، محل نظر و بحث ہے۔ میرے نزدیک راحج بات یہ ہے کہ سورۃ توبہ کے علاوہ یہ ہر سورت کی آیت ہے۔ اس لئے ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر سورت کے پڑھنے سے پہلے بسم اللہ ضرور پڑھے، سوائے سورۃ توبہ کے۔ چاہے اسی سورت سے تلاوت کا آغاز کرے یا دوران تلاوت کوئی سورت آ جائے۔" (حاشیہ، ترمذی، ج۲، ص۲۲، طبع مصر)۔ اسی طرح جہری نمازوں میں اس کے اونچی آواز سے پڑھنے میں بھی اختلاف ہے۔ بعض اونچی آواز سے پڑھنے کے قائل ہیں اور بعض سری آواز سے (فتح القدیر) اکثر علماء نے سری آواز سے پڑھنے کو راجح قرار دیا ہے۔ تاہم جہری آواز سے بھی پڑھنا جائز ہے۔

بسم اللہ کے آغاز میں اقرا، ابدا، یا اتلو محزوف ہے یعنی اللہ کے نام سے پڑھتا، یا شروع کرتا یا تلاوت کرتا ہوں۔ ہر اہم کام کے شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ چناچہ حکم دیا گیا ہے کہ کھانے، ذبح، وضوء اور ج**ع سے پہلے بسم اللہ پڑھو۔ تاہم قرآن کریم کی تلاوت کے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم سے پہلے ((اعوذ بالله من الشيطن الرجيم)) پڑھنا بھی ضروری ہے (فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآَنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ)۔ (النحل۔ ۹۸) "جب تم قرآن کریم پڑھنے لگو تو اللہ کی جناب میں شیطان رجیم سے پناہ مانگو"۔

اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کو عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، آمین۔

* تفسیر احسن البیان - اُردو *
💫محمد ارمان، اھل_سنت اسٹوڈنٹس گروپ ،جامع مسجد ،تیلنی پاڑہ💫

Want your school to be the top-listed School/college in KOLKATA?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Kalbasti Lane, Telinipara
Kolkata
712125
Other Education in Kolkata (show all)
Army Institute of Management, Kolkata Army Institute of Management, Kolkata
Plot No III/B-11, Action Area III, New Town, Rajarhat, Kolkata/
Kolkata, 700027

"Managerial Brass with Army Class" Army Institute of Management, Kolkata (AIMK) was established in

Fotograffitti Photography Studio and Institute Fotograffitti Photography Studio and Institute
Kolkata, 700020

Photography Studio and Institute.

KriyaKids KriyaKids
KRIYA STUDIO. 26/3 Ballygunge Circular Road. Next To Red Hot Chilli Peppers
Kolkata, 700019

KriyaKids is a unique regular comprehensive enrichment program for 2-5 yr olds at the KRIYA STUDIO.

Xavier's Commerce Society Xavier's Commerce Society
St. Xavier's College (Autonomous)
Kolkata, 700016

We are the representative society of the B.Com Department of St. Xavier’s College, Kolkata.

Vivekananda college Trinamool Chatra Parishad Vivekananda college Trinamool Chatra Parishad
Rabindranath Thakur Road, 153, Diamond Harbour Rd, Mukund Das Colony, Thakurpukur
Kolkata, 700063

Vivekananda college Trinamool Chatra Parishad

UCMAS Abacus - Dum Dum Cantonment UCMAS Abacus - Dum Dum Cantonment
31, Iswar Gupta Road Dum Dum Cantonment
Kolkata, 700028

INDIAN ARMY LOVER BRO INDIAN ARMY LOVER BRO
Kolkata

শূন্যতা অনুভব করা যদি ভালোবাসা হয় তাহলে আমি তোমাকে প্রতিটি মুহূর্ত ভালোবাসি!

Radhanagar Renua Nalinikanta Adarsha Shiksha Sadan Radhanagar Renua Nalinikanta Adarsha Shiksha Sadan
Radhanagar Hospital More
Kolkata, 721445

I am so much love my "School"

Abacus Scholars Abacus Scholars
67 Elliot Road Kolkata 16
Kolkata, 700016

At ABACUS SCHOLARS we ensure holistic learning and we strive to overall Cognitive brain development

Notes of pharm Notes of pharm
Kolkata
Kolkata

There provide notes of pharmacy (b pharm) This page provide notes. Please follow this page

My College Search My College Search
2C Dimple Court 26 Shakespeare Sarani
Kolkata, 700017

Mycollegesearch.in is the reliable and trustworthy source to help you get admission.in MBBS | BDS |