السلام علیکم
تمام ممبران کو صبح تا شام بخیر
حسرت سے چشمِ دیر و حرم دیکھتی
رہی
اعزاز جب جُھکا درِ شبیر پر جُھکا
یہ شعر کس کا ہے؟
Maghrabi Bangal Ka Rasai Adab
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maghrabi Bangal Ka Rasai Adab, Educational Research Center, KOLKATA.
Iss Page Par Maine Bangal ke hawale se urdu ke rassai adab ko bayan karne ki koshis ki hai... Rassai adab us adab ko kehte hain jisse gham o andooh ka izhar ho.Is mozoo Par ya pahla page ya site hai.
13/07/2025
*اقبال اعظمی کا رثائی شعور*
از پروفیسر سید علی عرفان نقوی( صدر شعبۂ اردو خضرپور کالج کولکاتہ ۲۳)
------------------------------------------------------
اقبال اعظمی کا اصل نام اقبال حسین تھا اور تخلص اقبال جبکہ اقبال اعظمی سے نثر و نظم کی وادی میں پہچانے گئے۔ آپ کی پیدائش 12جون 1924 عیسوی کو سرزمین کلکتہ میں ہوئی۔ اور وفات 21 اپریل 2021 میں اسی سرزمین پر ہوئی۔ آپ کے والد کا نام احمد علی خاں تھا اور والدہ کا اسمائے گرامی نصرت النساء بیگم تھا۔ آپ کی زوجہ کا نام حسن آراء بیگم تھا جن سے 4 بیٹے(مظفر حسین' افتخار حسین' مجاہد حسین اور کامران حسین ) ہوئے اور 4 بیٹیاں( عارفہ اقبال ' نصرت اقبال ' نکہت اقبال اور فرحت فردوس) ہوئیں۔ بیٹے میں کامران حسین ہی اقبال اعظمی صاحب کے نقشِ قدم پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مذہبی'علمی و سیاسی سرگرمیوں کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کامران حسین ایک دن ضرور باپ کی طرح آسمانِ علم و ادب پر چمکیں گے۔
اقبال صاحب کو شروع سے ہی اسلامی تاریخ کے پڑھنے لکھنے کا شوق اور سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھنے کر حصہ لینے کا جذبہ تھا اس لئے انہوں نے 2کتابیں (1- آلِ رسول اور سرمایہ داری' 2- کافر کون ہے ) اور 1 رسالہ اہلِ بیت رسولِ پاک تھا۔
اقبال اعظمی جہاں ایک اچھے اور کامیاب خطیب و صحافی تھے وہاں ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ لیکن افسوس کہ وحشت کلکتوی کی شاگردی اختیار کرنے کے باوجود انہوں نے شاعری کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ نہ تو کسی بزمِ سخن میں پابندی سے شرکت کی اور نہ ہی کسی اخبار یا رسالے میں اپنے کلام چھپوائے۔ حالانکہ انہوں نے کئی اچھی نظمیں اور کئے اچھے قصیدے لکھے ہیں۔ میرے خیال میں شاعری سے ان کی بے توجہی کی وجہ شاید ان کی معاشی تنگدستی رہی ہو۔ اپنی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے
اور ایمانی جذبات کو مستحکم بنانے کے لئے انہوں نے وادیِ وعظ میں پناہ لی۔ میرے اس خیال کی تائید راز عظیم کے اس اقتباس سے لگائی جاسکتی ہے کہ:
*"اقبال نے 1944ء سے شاعری شروع کی اور حضرت وحشت کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوگئے۔ آپ پہلے ترقی پسند تحریک اور اشتراکیت سے متاثر ہوئے اور ترقی پسند شاعری کرنے لگے۔ جب ترقی پسندی کا تاثر ختم ہوا تو مذہب کے دامن میں پناہ لی۔ فی الحال وعظ لے جلسوں میں تقریر کرنا ان کا مشغلہ رہ گیا ہے۔"*
اس کا مطلب یہ کہ انہوں نے باوجود شاگردِ وحشت ہونے کے شاعری کو اپنے جگر کا وہ لہو نہیں پلایا جس کی ضرورت شاعری کو ہوتی۔ اگر اقبال صاحب اپنی صحافتی اور واعظی زندگی کے ساتھ ساتھ شعری صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھاتے رہتے تو وہ آج ایک اچھے شاعر ہوتے۔ کیونکہ ان کی شاعری کے جو نمونے ہمیں دستیاب ہوئے ہیں اسے دیکھکر یہ بات بلا جھجھک کہی جاسکتی ہے کہ وہ نہ صرف فطری شاعر تھے بلکہ ایک زودگو شاعر بھی تھے۔ ان کی زبان میں صفائی اور موضوع میں ندرت اور بیان میں بلا کا زور ہوتا تھا۔ چھوٹی باتوں کو بھی اس طرح نظم کرتے کہ شعریت مجروح نہیں ہوتی۔ قوم و ملت کی نااتفاقی' بے مروتی' لوٹ گھسوٹ' نااہل حکمرانوں کا ستم اور حقوق انسانی کی پامالی جیسے موضوعات پر جس طرح سے انہوں نے آنسو بہائے ہیں اسی طرح ہمیں حوصلہ مندی اور اتحاد کا درس بھی دیتے ہوئے ان حالات سے نبرد آزمائی کا جذبہ بھی فراہم کیا ہے۔ چند اشعار اقبال اعظمی کے اس مقام پر نقل کرنا چاہتا ہوں
*مظلوم اور غریب پہ جو مہرباں نہ ہو*
کیوں اس سے آج خلقِ خدا بدگمان نہ ہو
*بغض و نفاق و فتنے کی بنیاد ختم ہو*
دورِ بنوامیّہ کا باقی نشاں نہ ہو
---------------------------------
*سوال اپنی بقا کا اور جہادِ زندگانی ہے*
تلاطم میں ہے کشتی ہر طرف پانی ہی پانی ہے
*کلیسا والوں نے چھیڑا ہے پھر ہم کعبہ والوں کو*
مگر تاریخ کہتی ہے انہیں پھر منھ کی کھانی ہے۔ان اشعار میں نصیحت اور تبلیغ کے ساتھ جو تیور ہے وہ بڑی بات ہے۔ مرحوم کو اسلامی تاریخ اور تعلیمات سے اچھی طرح واقفیت تھی اس لئے صاف گوئی کے ساتھ بے باکی بھی ان میں موجود تھی ۔ یہ جان کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ اقبال صاحب وحشت کلکتوی کے شاگرد ہونے کے باوجود علامہ اقبال کے فکر و فن سے زیادہ نزدیک تھے ۔ انہوں نے اقبال کی زمین میں کئے اچھے شعر کہئے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں
*جنہیں سمجھتے تھے ہم رہبرانِ قوم و وطن*
انہوں نے کچھ نہ کیا مادرِ وطن کے لئے
*ستم ہے گزرے ہیں ایسے بھی چند عظیم افراد*
جو بعدِ مرگ بھی محتاج تھے کفن کے لئے
-------------------
*جاگ رہی ہے پھر سے قوم سورشِ کائنات میں*
ہونے لگی ہے سربکف معرکۂ حیات میں
*بزم میں نعرۂ نبی رزم میں نعرۂ علی*
خونِ حسین جوشِ زن پھر ہے تخیلات میں
------------------
*وہ لعن و طعن سے ہرگز نہ لے گا اثر*
بلندیوں پہ ہمیشہ رہی ہو جسکی نظر
*یہ کہتا رہتا ہے اقبال خستہ حال اکثر*
خوشا کہ بندۂ حق ہوسکا نہ بندۂ زر
اقبال اعظمی ایک اچھے اور منفرد واعظ تھے۔ اکثر میلاد و محافل اور مجالس میں ذکرِ محمد و آلِ محمد کرتے نظر آتے تھے اس وجہ سے ان کے اشعار میں بھی وعظ و نصیحت اور اسلامی تعلیمات کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ انہوں نے غزلوں اور نظموں کے ساتھ ساتھ محمد و آلِ محمد کی شان میں قصیدے اور شہداء کربلا کی محبت میں نوحے بھی کہئے ہیں۔ لیکن زیادہ نہ ہونے کی صورت یا پھر درویشانہ مزاج کی تحت اس شعری سرمائے کو سلیقے سے محفوظ نہ رکھا۔ اقبال صاحب کے قصیدے کی زبان آسان اور عام فہم ہے اس کا موضوع فضائلِ محمد و آلِ محمد ہے جبکہ اس کی ہئیت مدحیہ قصیدے کی ہے۔ ذیل میں ایک نعت اور دو منقبت نقل کی جارہی ہے' ملاحظہ کریں
*مقصودِ عبادت ہے تولائے محمد*
تحریکِ عمل نقشِ کفِ پائے محمد
*وہ فرش نشیں ہے تو یہ ہے درسِ مساوات*
ورنہ ہے سرِ عرشِ بریں جائے محمد
*جو نورِ ہراک چیز سے پہلے ہوا پیدا*
وہ نور بظاہر ہے سراپائے محمد
*مولا علی و فاطمہ اور شبر و شبیر*
واللہ یہی چار ہیں بس جزہائے محمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*خورشیدِ فلک نقشِ کفِ پائے علی ہے*
اور برجِ قمر عکسِ تجلائے علی ہے
*اک نور کے دو حصے ہیں اک نورِنبی ہے*
اور دوسرے حصے میں تجلائے علی ہے
*ہے دستِ رسالت پہ شہنشاۂ ولادت*
رقصاں ہے حرم جشن سراپائے علی ہے
*مولودِ حرم اور اسد اللہ و یداللہ*
پیغامِ عبادت رخِ زیبائے علی ہے
------------------
*پیغمبرِ اعظم کی دل و جان ہیں زہراء*
کُل عالمِ نسواں کی نگہبان ہیں زہراء
*اک چادرِ تطہیر میں تقوی کی ہے تنویر*
اور قبلۂ دیں کعبۂ ایمان ہیں زہراء
*ہربات میں ہیں احمدِ مرسل کی طرح آپ*
یوں کہئے کہ دوپیکر و یک جان ہیں زہراء
*میں خادمہ کے ساتھ مشقت میں مساوی*
مخدومہ ہیں پر کتنی مہربان ہیں زہراء
لیکن میرا یہ مضمون بنگال کے رثائی ادب پر ہے اس لئے اقبال اعظمی کے رثائی شاعری پر گفتگو کے بغیر بات مکمل نہیں ہوسکتی۔ لیکن یاد رہے کہ اقبال صاحب نے اپنے کلام کو محفوظ کرنے کی کوئی پلاننگ نہیں کی تھی اس لئے ان کے فرزند کامران اعظمی کے پاس سے جو دیگر شعری کلام کے ہمراہ ۲ نوحے حاصل ہوئے ہیں اسی کی روشنی میں اقبال صاحب کے رثائی شعور کا محاسبہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لہٰذا پہلے اقبال اعظمی مرحوم کے نوحے ملاحظہ فرمائیں پھر اس کے نوحوں کا تجریہ کیا جائے گا۔
---------نوحہ۱-----------
*روتے ہیں محمد یہ قیامت کا سماں ہے*
شبیر ہیں سجدے میں لہو سر سے رواں ہے
*سیدانیوں کو صبر کی تلقین ہے جاری*
اور دوش پہ زینب کے نیا بارِ گراں ہے
*ہے راکبِ دوشِ نبی خولی کی سناں پر*
ہر حال میں اونچا یہ محمد کا نشاں ہے
*جو روضۂ اطہر ہوا مسمار کئی بار*
وہ آج بھی باقی ہے وہ اب رشکِ جناں ہے
*لاشہ تو اکہتر کا اٹھایا شۂ دیں نے*
پر آپ کے لاشے کا نہ کوئی نگراں ہے
*تاریخ میں اک باب کا ہوتا ہے اضافہ*
اک پیاسے پہ لاکھوں کا چلا سیف و سناں ہے
*سیدانیاں بے پردہ رسن بستہ و خوں بار*
یہ دیکھ کے دربارِ لعیں نوحہ کناں ہے
*شہ کہتے تھے ہم شکلِ محمد ہوا رخصت*
کیسے میں اٹھاؤں اسے یہ بارِ گراں ہے
*جس گھر کا تھا لطف و کرم و جود و سخا عام*
وہ شام کے بازار میں مصروفِ فغاں ہے
*شبیر کا سر محوِ تلاوت ہے سناں پر*
یہ خامسِ دیں مصحفِ ناطق کا نشاں ہے
*گھوڑوں سے ہے پامال شۂ دین کا لاشہ*
اور خیمۂ اطہر میں بھی شعلہ ہے دھواں ہے
----------نوحہ-۲------------
*سر سبطِ نبی کا خوں میں بھرا دربار میں لایا جاتا ہے*
زنجیر میں جکڑے ہیں عابد اور منھ کو کلیجہ آتا ہے
*پھر بعدِ شہادت اہلِ حرم پر تازہ مصیبت آتی ہے*
مجروح سکینہ کا لاشہ زنداں سے آُٹھایا جاتا ہے
*جلتا ہے پیمبر کا منبر اور خیمہ جل کر خاکستر*
سہمی ہوئی سب سیدانیوں کو کوڑوں سے ڈرایا جاتا ہے
*ہے کتنے بھیانک یہ منظر سب اہلِ حرم ہیں خوں بہ نظر*
شبیر کا لاشہ گھوڑوں سے پامال کرایا جاتا ہے
*یہ خطبۂ زینب کا ہے اثر دربار کا بگڑا ہے منظر*
ظالم کے محل والوں کو بھی بیتاب بنایا جاتا ہے
*جو دوشِ نبی اور پشتِ نبی پر اکثر دیکھا جاتا تھا*
نیزے پہ سرِ اطہر اس کا اب گشت کرایا جاتا ہے
------------------------۳-نوحہ-------------
*تیر ہے تلوار ہے گرزِ گراں بار ہے*
لاکھوں کی تعداد میں فوجِ ستمگار ہے
*چاروں طرف منجنیق بڑھ کے شرر بار ہے*
ریگ ہے آتش فشاں حربوں کی جھنکار ہے
*سب کے مقابل فقط ایک حسینِ غریب*
خوں میں شرابور ہے برسرِ پیکار ہے
*دشمنوں کو جس نے خود پانی پلایا تھا کل*
آج ہے کیوں تشنہ لبِ بات پُر اسرار ہے
*اصغرِ معصوم کا خون بنا ہے شفق*
روتے ہیں جن و ملک چرخ بھی خوں بار ہے
*نیزے پہ ہے سر بلند دیتا ہے قرآں کا درس*
دوشِ نبی کا سوار محرمِ اسرار ہے
*نوکِ سناں پر ہے سب آلِ محمد کا سر*
حلقۂ٘ زنجیر میں عابدِ بیمار ہے
*صرف اک اصغر کی لاش زیرِ زمیں کیوں ہوئی*
مصحفِ ناطق یہ ہے محرمِ اسرار ہے
*جس کو فرشتوں نے بھی دیکھا نہیں تھا کبھی*
وہ حرمِ مصطفٰی برسرِ بازار ہے
*جس نے اکھتر کی لاش خود سے اُٹھائی ہے آج*
اس کو اٹھائے گا کون وقتِ گراں بار ہے
*کیا کسی تاریخ میں ملتی ہے ایسی مثال*
ایک جری کے خلاف سینکڑوں تلوار ہے
*اہلِ خرابات بھی تیرے ہیں مداح آج*
صرف منافق ترے نام سے بیزار ہے
*غیروں میں بھی تیرا ذکر بڑھتا چلا جاتا ہے*
رو بہ زوال آج کل فتنۂ اشرار ہے
*بڑھتا چلا جاتا ہے مذہبِ اسلام کیوں؟*
تیرے بدولت ہے یا گرمئیِ رفتار ہے
مذکورہ بالا نوحوں کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اقبال صاحب محبِ اہلِ بیعت تھے۔ ان کے گھر میں آج بھی عزا خانہ موجود ہے جہاں آج بھی ذکرِ سیدالشہد علیہ السلام ہوتا ہے۔ اس لئے ان کے نوحوں میں جہاں درد و غم ہے اور قدیم و روایتی نوحوں کا عکس نظر آتا ہے جیسے ان کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
*ہے کتنا بھیانک یہ منظر سب اہلّ حرم ہیں خوں بہ نظر*
شبیر کا لاشہ گھوڑوں سے پامال کرایا جاتا ہے
وہاں اہلِ حرم میں عزم و حوصلہ دیتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ شعر ملاحظہ کریں
*یہ خطبۂ زینب کا اثر دربار کا بگڑا ہے منظر*
ظالم کے محل والوں کو بھی بیتاب بنایا جاتا ہے۔
ایک خاص بات ان کے نوحوں میں یہ ہے کہ یہ طویل بحروں میں لکھا گیا ہے اور اس میں موسیقی بھی پائی جاتی ہے۔ آج کل جس طرح کے سلام اور نوحے لکھے جارہے ہیں جس میں موسیقی اور فضائل کے اشعار زیادہ ہوتے ہیں اور درد و مصائب کے اشعار نہ کے برابر ہوتے ہیں نیز وہ نوحے کسی نہ کسی فلمی گانوں کی دھن پر لکھے جارہےہیں ۔ لیکن خدا کا کرم ہے کہ اقبال اعظمی کے نوحے مذکورہ بالا نئے نوحوں نگاروں کی طرح صرف موسیقی اور کورس بن کر نہیں رہتے بلکہ دردو غم کا سمندر لئے ہوتے ہیں اور ہمیں رونے پر مجبور کرتے ہیں۔
---------------ختم شد-------------------
24/04/2024
حاجی کربلائی کا امام باڑہ
حاجی کربلائی کا امام باڑہ' شہرِ کولکاتہ کا "بڑا امام باڑہ" کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اگر آپ اہلِ تشیّع کے کسی بچے سے بھی پوچھیں کہ کلکتے کا "بڑا امام باڑہ" کون سا ہے تو وہ حاجی کربلائی امام باڑے کا ہی نام لے گا۔ یہ امام باڑہ 10نمبر پروتگیس چرچ' کولکاتہ۔700001 پر واقع ہے۔ اس کے سامنے ایک چرچ ہے جو "پروتگیس چرچ" کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسی نام سے اس راستے کا نام بھی ہے۔ یہ امام باڑہ چاروں طرف سے تجارتی منڈیوں سے گھرا ہے۔ اس لئے اس کے داخلے والی سڑک بھی پتلی اور پرانے طرز کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے1 کیلو میٹر کے اندر بودھ/ جین مذہب اور بوریوں کی عبادت گاہیں ہیں تو اہلِ تشیع افراد کی مرکزی جامع مسجد یعنی "بصراوی مسجد" اور بردرانِ اہلِ سنت حضرات کی جامع مسجد جو ناخدا مسجد کے نام سے مشہور ہے' وہ بھی واقع ہے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو یہ حاجی کربلائی کا امام باڑہ معاشی اور تجارت نکتہ نظر سے کافی اہم جگہ پر قائم ہے۔ بظاہر یہ امام باڑہ گراؤنڈ فلور کو چھوڑ کر دو منزلہ نظر آتا ہے۔ لیکن دوسری منزل پر متولی کی رہائش کے لئے ایک بڑا حصہ مختص ہے- اس کے گراؤنڈ فلور میں کسی زمانے میں دوکانیں اور گوڈاؤن کی کافی تعداد ہوا کرتی تھیں جن میں کی کچھ دوکانیں اور گوڈاؤن گراؤنڈ میں آج بھی موجود ہیں لیکن 2011 میں جب اس وقت کے متولی کی غلط پالیسیوں اور بدانتظامیوں کو لیکر انقلاب آیا تو کچھ دوکانیں اور گوڈاؤن خالی کروا لئے گئے اور اب اس میں کا ایک بڑا حصہ اضافی امام باڑے کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔ پہلی منزل پر آج بھی وہی قدیمی لیکن نئے رنگ و روغن کے ساتھ امام باڑہ موجود ہے جسے امام
باڑے کے بانی آغا کربلائی محمد نے قائم کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ امام باڑہ 1856ء میں قائم ہوا تھا۔ اس کی عمارت کا ظاہری اور باطنی حصہ' جس میں لکڑیوں کی سیڑھیاں اور دوسرے ڈھانچے موجود ہیں' خود اس کے قدیم ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ امام باڑہ بہت وسیع ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ دوسری جگہوں پر اس امام باڑے کی جائداد آج بھی موجود ہے۔خیر خاکسار کے والدِ محترم سید ضامن حسین نقوی طاب ثراہ کے مطابق ایک زمانے میں سونے چاندی کے وافر مقدار میں ساز وسامان بھی اس امام باڑے کے تھے لیکن وہ تمام کے تمام اس وقت موجود ہیں بھی کہ نہیں پتا نہیں۔ عین ممکن ہے کہ پرانے متولیان کی بد انتظامیوں کی یا پھر 2011ء کے ہنگامے کی نظر ہوگئے ہوں۔ آغا کربلائی محمد کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کربلا کی زیارت بھی کی تھی اور اسی وجہ سے ان کے نام کے ساتھ کربلائی کا لفظ جڑا ہوا تھا ۔ آغا صاحب بڑے محبِ اہلِ بیت تھے۔ اپنے ساری جائداد امام باڑے کے لئے وقف کردی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اس امام باڑے کی تزائین کا بھی وہ خوب خیال رکھتے تھے۔ چنانچہ آج بچے کچے قمقموں اور چھاڑ و فانوس کے ساتھ وزنی علمِ مبارک دیکھ کر اس کا بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ماضی سے قطع نظر آج اس امام باڑے کی جدت کاری میں متولیان کے دم پھولنے لگتے ہیں- ذرا سوچیے اس وقت اس امام باڑے کی دیکھ ریکھ اور رنگ و روغن میں کتنا خرچ آتا رہا ہوگا۔ یہ امام باڑہ ایامِ عزا کے علاوہ خاص خاص موقوں پر کھلا رہتا ہے۔ حال میں شیعہ وقف بچاؤ کمیٹی اس کی دیکھ ریکھ میں پیش پیش ہے اور اس کی جدت کاری میں منہمک ہے۔ لیکن موجودہ شیعیانِ حیدر کرار اور محبانِ رسولۖ و آلِ رسولۖ کی صورتحال کو دیکھ کر یہ کہنا مشکل ہے کہ اتنے بڑے امام باڑے کی بہتری کے لئے کب اور کون سی حکمتِ عملی کو بروئے کار لا کر اس امام باڑے کو ماضی کی شکل و صورت سے بھی بہتر شان و شوکت اور قابلِ دید بنایا جائے گا۔ بہرحال امید پر دنیا قائم ہے۔ لیکن موجودہ کمیٹی جس قدر بھی اس امام باڑے کی بہتری کے لئے کام کررہی ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ محرم کے دس(10) دنوں کے علاوہ اربعین کے موقعے پر جس طرح مجلسیں اور جلوسِ عزا کا اہتمام ہوتا ہے' وہ قابلِ دید ہے۔ عاشورہ کے دن اربعین کی شب' 21 صفر کی رات ' 17 اور 18 صفر کا دن و رات اور 8 ربیع الاول کے روز مجلسوں کے علاوہ جلوسِ عزا یہاں سے برآمد کئے اور بڑھائے بھی جاتے ہیں۔ ان ایام میں عزاداروں کے لئے تا بہ مقدور تبرکات اور سبیل کا بھی انتظام رہتا ہے۔
(ع-ن)
20/11/2023
ناطق لکھنوی کی مرثیہ نگاری
از
(پروفیسر سید علی عرفان نقوی
صدر شعبۂ اردو' خضرپور کالج'
کولکاتا-700023)
ناطق کا اصل نام سید ابوالعلا سعید احمد اور تخلص ناطق تھا جبکہ شہرت ناطق لکھنوی سے پائی۔ والد کا اسمائے گرامی سید محمد عبدالبصیر زیدی اور قلمی نام حضور تھا۔ ناطق کی ولادت 1878ء میں لکھنو میں ہوئی۔ عرفان عباسی فرماتے ہیں کہ ناطق 1922ء میں کلکتہ آئے اور مطب کھولا لیکن ساتھ ہی ساتھ شعری و ادبی سرگرمیوں بھی جاری رکھیں- وحشت کلکتوی آپ کے ہمعصروں میں تھے- امیر مینائی سے آپ کی قریبی رشتہ داری تھی- آپ علمِ نجوم' منطق' جعفر' فقہ اور طب سے نہ صرف واقف تھے بلکہ اس کے ماہر اور استاد بھی تھے۔ تاریخ شاہد کہ آپ کو صحافت سے بھی دلچسپی تھی- چنانچہ آپ رسالہ" ملک و ملت (حیدرآباد )' " نورالانور" (کانپور )' اور "مبصر" (لکھنو) کے مدیر بھی رہے۔
ناطق لکھنوی نے غزلیں' قصیدے' رباعیاں ' نظمیں اور مرثیے بھی کہے ہیں - ان کی شعری و نثری تصانیف میں خاص طور پر "فارسی شاعری کی ابتداء" ' بستانِ معرفت" ' " اسرارِ حقیقت" ' " تذکرۂ شعرائے اردو" '
"وید و ویدانیت" ' " افسانہ شہرِ آشوب" ' " دیوانِ ناطق" ( 1957ء) اور " نظمِ اردو"(1940ء) وغیرہ--
وحشت کلکتوی کی طرح ناطق لکھنوی بھی 1950ء میں پاکستان ہجرت کر گئے جہاں 19 اکتوبر 1950ء کو پیوندِ خاک ہوئے۔
تمام شعری و نثری تخلیقات سے قطع نظر یہاں ان کے مرثیے کی روشنی میں مجھے ان کے موضوع و فن سے گفتگو کرنا مقصود ہے- لہٰذا ان کے دیوان میں شامل 550 بندوں کا جو مرثیہ ملتا ہے' پہلے اس مرثیہ سے چند بندوں کو منتخب کرکے قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں تاکہ اس مرثیے سے قارئین بھی براہ راست واقف ہوسکے- تاکہ اس کے بعد اس کے موضوعات' فن اور اسلوب کے حوالےسے گفتگو کی جاسکے- :
----- *مرثیہ-۱ *----------
*شام پر سایہ فگن جب شبِ عاشور ہوئی*
کربلا تیرگیِ ظلم میں محصور ہوئی
*گو شبِ ماہ تھی لیکن شبِ دیجور ہوئی*
چاند بے نور ہوا' چاندنی کافور ہوئی
*پنجہِ مہر سے دامانِ قمر چھوٹ گیا*
عہد سیاروں میں باہم جو تھا وہ چھوٹ گیا
------------۲-----------
*اک سیہ خیمۂ تاریک تھا گردونِ کہن*
تھی نئی بات کہ تھا' جملہ ستاروں کو گہن
*بازوؤں میں تھے چھپائے ہوئے منھ' زاع و زغن*
مثل ذروں کے' ثوابت بھی تھے' آوارہ وطن
*صبح کے ڈر سے رخِ زرد' قمر کا فق تھا*
شب کا اندیشۂ فردا سے کلیجہ شق تھا
------------۳------------
*منظرِ عالمِ ہُو' ارض سے تا چرخ بریں*
رعشہ در جسمِ فلک لرزہ براندام زمیں
*نہ تو حاضر تھے نہ غائب تھے مکاں اور مکیں*
ذکر ہستی کا یہاں کیا ہے عدم بھی تو نہیں
*کارواں سب کے حواسوں کا لٹا جاتا تھا*
روح کا دم تنِ بے جاں میں گھٹا جاتا تھا
------------۴-----------
*جب یہاں پہنچے تھے سرتاجِ شہیداں کے قدم*
عرض کی سب نے کہ یہ ارض ہے بنیادِ ستم
*نور دل تھا جو وہاں' آکے یہاں' ہوگیا کم*
خون کے قطرے زمیں پر ہیں بجائے شبنم
*ہوا ارشاد حضوری کی یہی منزل ہے*
راہ تکتا تھا میں جس کی یہ وہی منزل ہے
------------۵------------
*مل گئے راہ میں حُر اور سوار ایک ہزار*
حُر نے پوچھا کہ اِدھر کس لئے آئے سرکار
*کیا ارشاد کہ لوگوں کا تھا بےحد اصرار*
کہ یہاں دین کا کوئی نہیں اب واقف کار
*کوفیوں نے ہمیں ضد کرکے بلایا ہے یہاں*
ذاتی اغراض سے کوئی نہیں آیا ہے یہاں
---------------۶----------
*شب بھر آتے رہے' لشکر کی نمائش کے جلوس*
فوج پر فوج اُدھر اور اِدھر چند نفوس
*بزدلی اس پہ یہ تھی' فتح سے اپنی مایوس*
یہ غلط ہے کہ دیا' جوہرِ دیں لیکے فلوس
*ان میں ایمان کہاں' زر نے جسے لے ڈالا*
دین کب ان کے یہاں تھا کہ جسے دے ڈالے
----------------۷---------------
*خنجر و تیغ پہ' ہوتی رہی صیقل شب بھر*
ان کی جھنکار سے 'گونج کیا جنگل شب بھر
*دیکھتا سنتا لرزتا رہا مقتل شب بھر*
گرد خیموں کے رہے' گشت میں پیدل شب بھر
*کام جُز اسلحہ' سب ہوگئے موقوف وہاں*
رات بھر ذکرِ خدا میں رہے مصروف یہاں
---------------۸--------------
*ہے یہ مشہور" کہ پانی کوگئے تھے عباس*
کرسکے صبر نہ جب' دیکھ کے' معصوموں کی پیاس
*سخت خونریز ہُوا معرکہ اک نہر کے پاس*
مشک دانتوں سے لی جس وقت" ہوئی ہاتھوں سے یاس
*مّشک میں تیروں سے' سوراخ تھے سب' ہہہ گیا آب*
آنکھ میں پیاسوں کی جو کچھ تھا وہی رہ گیا آب
---------------۹------------
*اک مورخ ہے بہت معتبر اس کا ہے مقال*
بیس مشکیں گئے لیکر' لبِ ساحل پہ ہلال
*ان کے ساتھی بھی کئی تھے' معۂ سامان ِ جدال*
دیکھ مجمع جو عمر نے' کیا چلّا کے سوال
*کس کی آئی ہے جو اس' نہر سے پانی لے گا*
آلِ احمد کو نہ اک بوند ملے گا پانی
-------------۱۰-------------
*ابنِ نافع نے کہا' تیرے چچا کا ہوں پسر*
نام میرا ہے ہلال' اور میں ہوں تشنۂ جگر
*پانی تم شوق سے پی سکتے ہو بولا یہ عُمر*
کہا افسوس کہ' سِیراب ہوں' تنہا کیوں کر
*ہم اکیلے نہیں پیاس اپنی بجھانے والے*
تشنہ ہیں' مالکِ کوثر کے' گھرانے والے
-------------۱۱---------------
*کہہ کہ یہ حکم دیا' مشکوں میں پانی بھر لو*
ہاتھوں میں تیغ و سپر' دوش پہ مشکیں' دھر لو
*کوئی خود سر جو' تمہیں روکے' تو اس کا' سر لو*
امتحاں' اپنی وفا کا' یہیں پہلے کرلو
*دی عُمر نے' ادھر آواز' نگہبانوں کو*
تم یزیدی ہو تو' پانی نہ دو مہمانوں کو
-------------۱۲-------------
*بھر کے مشکوں کو' حسین ابنِ علی کے' اصحاب*
آبِ شمشیر سے' کرنے لگے' سب کو سیراب
*ساحلِ قلزمِ خوں بننے لگا' ساحلِ آب*
سطحِ دریا پہ' لگے تِیرنے سر' مثلِ حباب
*نہر کی راہ سے' پہنچے سرِ دوزخ آکر*
آب کے ڈوبے ہوئے' آگ میں نکلے جاکر
--------------۱۳---------------
*اک مصنف کا ہے قول' آب وہاں تھا نہ عیر*
غسل کرکے' گئے جنگ گاہ میں' لڑنے شبیر
*عقل راوی ہے' قلیل اور ہے' علم اس کا قصیر*
صرف دو مرتبہ' دس دن ملا' آبِ کثیر
*بیس مشکیں جو ہلال آئے تھے لے کر پانی*
ہوا دم بھر میں' نہ ہونے کے برابر' پانی
-----------------۱۴---------------
*حُر کو دیکھا جو عمر نے کہا چلے ہیں مغموم*
پوچھا کیا ہے؟ کہا ظالم پہ ہے لعنت کا ہجوم
*پوچھاکس واسطے ؟ بولے پئے صبرِ مظلوم*
پوچھا درد ان کا تمہیں کیوں ؟ کہا وہ ہیں معصوم
*کہا پابند ہو تم میرے' کہا حُر ہوں میں*
بولا کچھ خوف نہیں' بولے بہادر ہوں میں
-----------۱۵------------
*کہا گھر بار کا کچھ غم ؟ کہا جنت میں ہے گھر*
پوچھا دنیا سے سفر' بولے کہ بے خوف و خطر
*کہا دیکھو تو ادھر' بولے خدا پر ہے نظر*
کہا کچھ خوفِ خلیفہ' کہا اللہ سے ڈر
*بولا اس عقل پر تُف' بولے حماقت پہ تری*
کہا افسوس ہے بے حد' کہا قسمت یہ تری
--------------۱۶------------
*بدلا اب رُخ' ہوا آمادۂ رزم و پیکار*
ہاتھ قبضہ پہ گیا تھا کہ نکالے ہتھیار
*حر نے موقع نہ دیا کھینچ لی پہلے تلوار*
اس نے جب دیکھا کہ خالی گیا آمد کا بھی وار
*مڑ گیا پھر وہ اُسی اپنی ضلالت کی طرف*
حُر کا رہوار بڑھا راہِ ہدایت کی طرف
---------------۱۷-------------
*حُر نے دل میں یہ کہا میں تو کہیں کا نہ رہا*
حسنِ ظن مجھ پہ ادھر' اہلِ یقیں کا نہ رہا
*اس طرف دوست کسی دشمنِ دیں کا نہ رہا*
اب سہارا بھی کوئی قلبِ حزیں کا نہ رہا
*کیا غضب میں نے کیا جا کے جو گھیرا تھا انہیں*
رہزنی مجھ سے ہوئی راہ سے پھیرا تھا انہیں
------------۱۸------------
*حُر قدم بوس ہوئے حاضرِ خدمت ہوکر*
عرض حضرت سے یہ کی' غرقِ خجالت ہوکر
*پہلے رہزن ہوا میں' محوِ ضلالت ہوکر*
پہلے قربان ہوں اب' صاحبِِ سبقت ہوکر
*اور کیا' بانیِ عصیاں کے لئے' چارہ ہو*
کہ فدا پہلے ہوں' شاید یہی کفارہ ہو
-----------۱۹-----------
*اب مڑے جانبِ اکبر شہدا کے سرتاج*
سوئے خیمہ وہ گئے دیکھ کے رجحانِ مزاج
*پوچھا مہماں کے بھی' کھانے کو نہ ہوگا کچھ آج*
بولیں چن بن کے پکایا گیا پچمیل اناج
*لائے اک ظرف میں اور حُر کو کھلایا لاکر*
پانی عابد کا جو رکھا تھا پلایا لاکر
---------------۲۰-------------
*عمر بھر'حُر نے نہ کھایا تھا' کبھی ایسا طعام*
لذتِ روح میں تبدیل ہوا' دل کا نظام
*کوزۂ آب تھا یا بادۂ کوثر کا تھا جام*
کیف روحی سے ملا' قلب کو اک ذوقِ دوام
*حُر پہ اس کیف میں غلبہ ہُوا' مدہوشی کا*
ہاں یہی وقت ہے ساقی مری مئے نوشی کا
----------۲۱-----------
*کسی بدکار کی بیعت بھی ہے اک بدکاری*
میں اگر ایسا کروں رسم یہ ہوگی جاری
*ہوں گے سرکار کے پیرو تو سبھی درباری*
ہوگی برباد پیمبر کی یہ محنت ساری
*مجھ کو اس رسم کا جاری نہیں کرنا منظور*
مذہبِ حق نہ ہو مردہ مجھے مرنا منظور
-----------۲۲------------
*تین بار آپ نے چاہا کہ ہو کم بغض و عناد*
پایا تیروں ہی سے ہر بار جوابِ ارشاد
*یوں ہوا آپ کی اصلاح سے اعلانِ فساد*
جس طرح نشترِ جرّاح سے ظاہر ہو مواد
*الغرض ختم جو تقریرِ گہر بار ہوئی*
اثر اس کا یہ ہوا تیروں کی بوچھار ہوئی
------------۲۳-------------
*خون سے زخم جبیں کے' رُخِ انوار ہوا*
بڑھ گیا حد سے جمال' آگیا سید کو جلال
*ذوالفقارِ اسدی سے یہ کہا بہرِ قتال*
موت ہو یا کہ نہ ہو' اب یہ نہیں کوئی سوال
*قتلِ عام ایک سرے سے' جو ہو سب کے لئے*
جیسے آج آہی گیا' حکمِ قضا سب کے لئے
------------۲۴-------------
*جان دینے کے سوا اب کوئی چارہ نہ رہا*
دم ٹھر جائے گا دم بھر یہ سہارا نہ رہا
*کوئی لعنت زدہ تلوار کا مارا نہ رہا*
سر چڑھی جس کے یہ تیخ اس کا اتارا نہ رہا
*کیا حقیقت کسی انساں کی اگر جن ہوتا*
اس کا بچنا بھی نہ اس قہر سے ممکن ہوتا
------------۲۵--------------
*تیغ کی آنچ' ہوا بن کے' بنی گرم آندھی*
جس کی ہر آنچ میں صمصام تھی اک زہر بجھی
*سانس لینے پہ تھے مجبور' اس آندھی میں سبھی*
زندہ رہنے کی کسی کو کوئی امید نہیں تھے
*صبح محشر کا سا' جنگاہ میں ہنگام ہوا*
آج تھا سب کو یقین خاتمۂ شام ہوا
------------۲۶--------------
*ناگہاں غیب کے پردے سے یہ آئی آواز*
اے شہادت کے پُر اسرار' غرض کے' ہم راز
*خوب ہی فاتحِ خیبر کے دکھائے انداز*
بھول جانا نہ کہیں جوش میں وہ راز و نیاز
*کہ جب آجائے گی دنیا میں پریشانیِ دیں*
کون دینے کے لئے آئے گا قربانیِ دیں
------------۲۷--------------
*قتل ہونا بھی تو ہے' قتل ہی کرنا تو نہیں*
تم کو مرنا ہے یہاں' اوروں کو مرنا تو نہیں
*سب کو' اس عالمِ فانی سے' گزرنا تو نہیں*
آج وعدے سے تمہیں' اپنے مکرنا تو نہیں
*جس نے ٹوکا ہو' بہرحال کسی نے ٹوکا*
سُن کے یہ' ہاتھ حسین ابنِ علی نے روکا
--------------۲۸--------------
*کی نظر آپ نے نیچی تو برسنے لگے تیر*
دستکش آپ ہوئے' کھینچ گئی' سب کی شمشیر
*کم نصیب اور سیہ بختوں کی' پلٹی تقدیر*
خوں سے رنگیں ہوئی' صبر و رضا کی تصویر
*ہو کے بے ہوش' سرِ خاک پہ' جب آئے حسین*
رُو کے کہتا تھا سرِ چرخ' کوئی ہائے حسین
-----------۲۹----------
*ایک جانب جو ہے ابلیس' تو اک رُخِ جبریل*
اور قابیل کے تھے' مدِ مقابل ہابیل
*قاطعِ حجّتِ فرعون تھی' موسی کی دلیل*
اس طرف آتشِ نمرود' اُدھر باغِ خلیل
*شر ہو یا خیر' جلال اور جمال اس کا ہے*
دونوں عالم میں' بہر حال' کمال اس کا ہے
--------------۳۰------------
*روح پیاسی گئی' سر کٹ گیا' خوں اپنا پیا*
کوئی اکفر نہ کرے شمر و عمر نے جو کیا
*لاش پر ظلم کئے چین سے مر نے نہ دیا*
بدر و خیبر کا عوض روحِ پیمبر سے لیا
*جو ستم ان پہ تھے ناطق وہ ستم لکھ نہ سکا*
کہ زباں کہہ نہ سکی اور قلم لکھ نہ سکا
ایسا نہیں تھا کہ ناطق لکھنوی واقعاتِ کربلا اور تاریخِ اسلام سے ناواقف تھے- لیکن مذکورہ بالا جس مرثیہ کا ذکر کیا گیا ہے اور مثال میں 30 بندوں کو نقل
کیا گیا ہے اس کی روشنی میں یہ بات بلا جھجھک کہی جاسکتی ہے کہ مرثیہ رقم کرتے ہوئے ناطق لکھنوی نے جس طرح کمزور روایات' غیر ضروری اور غیر منطقی واقعات کا سہارا لیا اس سے ان کے مرثیے کی روح مجروح ہوتی ہے- واقعہ کی بے ربطی قدم قدم پر گھٹکتی ہے- ایسا لگتا ہے کہ بے ربط داستان جمع کی جارہی ہے- چنانچہ ان کا مرثیہ اُس معیار پر نہیں پہنچتا جس پر اُن کے عہد کے دوسرے مرثیہ نگاروں کا مرثیہ قائم ہے- مذکورہ بند ۸ کو ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح ناطق لکھنوی اس بند میں حضرت عباس اور یزیدی فوج کے درمیان لبِ ساحل خونریز معرکہ آرائی کی باتیں کرتے ہیں جبکہ اکثریت یہ جانتی ہے کہ مستند حوالے موجود ہیں کہ حضرتِ عباس کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی تھی- صرف بچوں کی آواز العطش پر وہ نہرِ فرات پانی لانے گئے تھے- ان کی تلوار امام حسین نے اپنے پاس رکھ لی تھی- علاوہ ازیں اس بند میں ایک مصرعہ بھی ایسا نہیں جسے ہم رزمیہ شاعری کا نمونہ کہہ سکیں- خیر دوسری جانب بند ۹ سے ۱۲ بند کے دروان جس طرح سےجناب ہلال ( عاشقِ حسین) نے امام حسین اور اولادِ حسین کے لئے نہرِ فرات پہنچ کر عمرِ سعد سے پانی کے لئے التجا کرتے ہیں وہ غور طلب ہے۔ نتیجہ بھی سننے کا قابل ہے۔ عمرِ سعد ہلال کی باتیں سن کر برہم ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ امام حسین اور اولادِ امام حسین کو کسی بھی قیمت پر پانی نہیں دے سکتا۔ یہ سن کر اصحابِ حسین نے جس طرح بیس مشکیں پانی کی لی ہیں یہ دیکھنے کے قابل ہے۔ مقصد اور کردارِ امام حسین علیہ السلام تو کجا اصحابِ امام حسین کا کردار بھی ایسا نہیں ملتا کہ وہ پانی کے لئے جنگ و جدال کریں۔ اور یقیناٗ یہ خبر حضرت امام حسین کو ملی ہوگی کہ ہلال نے یزیدی فوج کا قتل کرکے ظلم و جبر سے پانی حاصل کیا ہے - لیکن اس موقع پر ناطق لکھنوی امام حسین علیہ السلام کا کوئی ردِ عمل نہیں دکھاتے۔ اور مذکورہ بالا ۱۳ ویں بند تو بالکل بعید از عقل و فہم ہے۔
اس سلسے میں سید عاشور کاظمی کا یہ کہنا صد فی صد درست معلوم ہوتا ہے کہ:
" ناطق نے بعض ایسی ضعیف روایتوں کو بھی نظم کیا جو مقصدِ قربانیِ حسین کے مزاج پر پوری نہیں اترتی اور بعض واقعات کو بھی جن کا ذکر نہ ہو تو واقعۂ کربلا اور تاریخِ کربلا میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ہے-" ( اردو مرثیے کا سفر اور بیسویں صدی کے اردو مرثیہ نگار' صفحہ 253)
اس کے ساتھ وہ مزید لکھتے ہیں کہ:
" مقامِ حیرت ہے کہ ناطق لکھنوی جیسی عالم فاضل شخصیت ابلیس اور جبرئیل' ہابیل و قابیل یعنی قاتل و مقتول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دوسرے کی ضد قوتوں کے اعمال کی ذمہ داری اللہ کے نام لکھ رہے ہیں- اگر " ہمہ اوست" ہی حرفِ آخر ہے تو یزید اور حسین علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) دونوں کے کردار اور اعمال حسبِ منشائے خداوندی ثابت ہوئے- استغفر اللہ-" ( اردو مرثیے کا سفر: بیسویں صدی کے اردو مرثیہ نگار' صفحہ 253)
مرثیہ کے اجزائے ترکیبی کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ چہرہ اور رزم کے حصے سے ہی انہیں دلچسپی ہے- بقیہ جزو مثلا شہادت اور بین سے انہیں کوئی مطلب نہیں- جبکہ ان ہی دو جزو کی بنیاد پر مرثیہ اور غیر مرثیے میں تمیز کی جاتی ہے- علاوہ ازیں رزم کا حصہ بھی بڑا کمزور ہے- 550 بند کے مرثیے میں صرف 2 بند شہادت کے لکھنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غمِ مظلومِ کربلا ان کے بس کی بات نہیں- ان باتوں سے قطع نظر ناطق لکھنوی کے مرثیے کی زبان بھی وہ نہیں جو میر انیس و دبیر یا ان کے بعد کے مرثیہ نگاروں کی ہے- بعض جگہ الفاظ بازاری ہیں اور بعض جگہ مبہم و گنجلک معلوم ہوتے ہیں۔ اس موقعے پر علامہ ضمیر اختر کا یہ کہنا کسی طرح غلط نہیں ہے کہ:
" جنگ کے بیان میں انہوں( ناطق لکھنوی ) نے بعض ایسے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں جو اس سے پہلے مرثیہ میں استعمال نہیں ہوئے- مثلا دھنیگا مشی' آپادھاپی' دھکّم دھکّا' ڈائن' سٹکا' پالٹ' بنوٹ' طرّم خانی' رستم خانی جیسے الفاظ مرثیے میں گراں گزرتے ہیں-" ( اردو مرثیہ پاکستان میں' صفحہ 527)
المختصر یہ کہ ناطق لکھنوی نے اپنے مزاج سے ہٹ کر مرثیہ کی وادی میں قدم رکھنے کی کوشش کی جہاں انہیں ناکامی ہاتھ آئی- وہ نہ تو مرثیے میں مرقع سازی کر پائے' نہ الفاظ کے ذریعہ کوئی ایسی تصویر اتار پائے جسے دیکھ کر اصل کا گمان ہوتا اور نہ ہی پُردرد الفاظ سے پتھر دل کو آبدیدہ کرپائے-
23/10/2023
*اوج اعظمی کا رثائی شعور*
(از پروفیسر عرشی نقوی کولکاتا )
نام سید اخلاق حسین اور تخلص اوج اعظمی ہے۔ تقریبا ۹۰ سال کی عمر ہونے کو آئی ہے لیکن اب بھی گاہے بہ گاہےفیس بک پر طرحی مقابلے میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور تازہ کلام خواہ قطعہ ہو یا منقبت و سلام ہو' پیش کرتے ہیں۔ موصوف سے میرے بڑے پرانے تعلقات ہیں۔ یہ ہمارے والد کے دوستوں میں تھے۔والد کو ہمیشہ ان کے یہاں اور اوج صاحب کو والد کے مکان پر آتے دیکھتا تھا۔ اس لحاظ سے موصوف میرے چچا کی طرح تھے۔ اس وجہ سے ایک بار میں نے ان کی سوانح حیات اور ادبی خدمات اور کلام کی اشاعت کے سلسلے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس کے جواب میں اوج اعظمی صاحب نے اپنے سوانح و کلام کی مختصر تفصیل بھیج دی۔ آج کافی عرصے کے بعد یہ خیال آیا کہ کیوں نہ موصوف پر مضمون لکھا جائے اور بنگال کے رثائی ادب کے ایک اور گمشدہ لیکن روشن ستارے سے دنیا کو واقف کرایا جائے۔ ادھر میں نے کافی عرصے سے اپنے فیس بک آفیشل " بنگال کا رثائی ادب " پر کوئی مضمون پوسٹ نہیں کیا تھا۔
اوج اعظمی کی اطلاع کے مطابق ان کی ولادت 1934ء میں ان کے آبائی مکان مجھبیٹہ( شیولی' اعظمگڑھ ) میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام سید زین العابدین تھا۔ تین سال کی عمر یعنی 1937ء میں ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ لہٰذا والدہ کے انتقال اور والد کی تنگدستی نے انہیں گاؤں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ اوج صاحب مدرسہ محمد اسماعیل کی پانچویں کی کتاب ختم کرکے کلکتہ چلے آئے۔ کلکتہ میں اعظمگڑھ کے کافی لوگ رہتے تھے اور آج بھی کلکتے کے مختلف علاقوں میں وہاں کے لوگ آباد ہیں۔ کلکتہ میں پہلے سے ان کے سگے بھائی رہا کرتے تھے۔ اس لئے اوج صاحب کو کلکتہ آکر زیادہ پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ بھائیوں نے ان کو کافی سہارا دیا اور ان کی دیکھ ریکھ کی۔ بقول موصوف انہیں بچپنے سے ہی مچھلی کے شکار کا شوق تھا۔ اس لئے دریائے ٹونس میں وہ اکثر مچھلی پکڑنے جایا کرتے تھے۔ ٹھنڈے کے زمانے میں اسی شوق نے انہیں سانس کے مرض میں مبتلا کردیا۔ بھائیوں نے کلکتہ کے مشہور ڈاکٹر عالم صاحب کا کافی علاج کروایا۔ وقتی طور پر آرام ضرور ہوا لیکن مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئے۔آج اس وقت وہ دوبارہ اور شدت کے ساتھ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔
اوج اعظمی نے بھائیوں کے توسط سے پہلے نظم ہوٹل میں نوکری کی پھر 1962ء تا 1994ء اس زمانے کی مشہورِ زمانہ کمپنی بالمر لوری میں کام کیا اور وہیں سے ریٹائر بھی ہوئے۔ کلکتہ میں ہی رہتے ہوئے انہوں نے اپنی اولادوں کی پرورش کی اور ان کو اعلی تعلیم بھی دلوائی۔ اس وقت تمام بچے پرائیوٹ کمپنی میں ملازمت کررہے ہیں۔
شروع ہی سے اوج اعظمی کا رہنا سہنا گول تالاب کے اردگرد رہا۔ یہ علاقہ کلکتہ کے دگر علاقے سے زیادہ شعروادب کے لئے سازگار اور موزوں رہا ہے۔ یہاں مختلف زبان و مذہب کے لوگ آباد تھے اور ابھی بھی ہیں۔ علاوہ ازیں اس علاقے میں مدرسہ عالیہ' مولانا آزاد کالج درسگاہیں آباد ہیں اور مسلم انسٹیٹیوٹ و بزمِ ادب جیسی قدیم اور اہم ادبی و ملی ادارے قائم ہیں۔ جس کی وجہ سے اوج اعظمی صاحب میں بھی تقریر کرنے اور شعرو شاعری میں حصہ لینے کا شوق اور زیادہ مواقع نصیب ہوئے۔ نتیجتا اوج اعظمی صاحب نے شعروادب میں دلچسپی دکھائی اور مرحوم جرم محمد آبادی کے شاگردوں میں شامل ہوگئے۔ اس وقت جرم محمد آبادی کا شمار اساتذۂ فن میں ہوتا تھا۔ نازش سکندر پوری' سوز سکندرپوری' محسن اعظمی کے ساتھ ساتھ شہرت مونگیری وغیرہ ان کے اہم شاگردوں میں تھے۔ اب اوج اعظمی بھی جرم محمد آبادی کے شاگردوں میں شامل ہوگئے۔ لیکن جرم محمد آبادی کے دیگر شاگردوں کی طرح اوج صاحب نے غزل کے بجائے اپنے استاد کے نعت و منقبت اور رثائی ادب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ چنانچہ اوج صاحب نے منقبتی اور رثائی ادب میں استاد جرم محمد آبادی سے خوب خوب فن سیکھا اور اس میں اپنا ہنر بھی دکھایا۔ اس وقت جرم محمد آبادی کے قصیدے و منقبت سے محفلیں اور سلام و نوحے سے مجلسیں گونج رہی تھیں۔
بیشتر اردو شعراء کی طرح اوج اعظمی نے بھی اپنی شاعری کی ابتداء غزل اور نظم سے کی۔ کچھ غزلیں اور نظمیں اخبار کی زینت بھی بنیں۔ ان کی پہلی غزل کا پہلا شعر یعنی مطلع ہے ملاحظہ فرمائیں:
*کیا ستم توڑے کی برسات خدا ہی جانے*
کیا کرسکے میرے جذبات خدا ہی جانے
لیکن کچھ غزلوں کے بعد انہوں نے ترکِ غزل کیا اور نعت' منقبت' سلام اور نوحے جیسی مذہبی شاعری کی طرف ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مڑگئے۔ اور ان کی اس صنفِ سخن کی طرف متوجہ ہونے کی ایک وجہ جہاں استاد کی پیروی تھی تو دوسری طرف رسول و اہلِ رسول سے بڑھی ہوئی مودت تھی۔ جسے وہ باعثِ ثواب و نجات سمجھتے ہیں۔ انہوں نہ صرف شعرو شاعری سے ہی اپنے ولائے آلِ رسول کی تسکین کی بلکہ قلیل آمدنی کے باوجود 4 نمبر دیدار بخش ویلسلی میں ایک ادارہ " انجمنِ علمدارِ حسینی" کی بنیاد 1960ء میں رکھی اور اس کے خود ہی روحِ رواں بھی ہوئے۔ یہ انجمن ہر سال 13 رجب ( مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی ولادت ) کے موقع پر "جشنِ مولودِ کعبہ" کے عنوان سے محفل کا اہتمام کرتی تھی۔ اس انجمن کی زیادہ تر محفلیں گول گوٹھی اور بی بی انارو کے امام باڑے میں بہ حسن و خوبی سے ہوتی رہیں جہاں شہر اور بیرونِ شہر کے شعراء اور ذاکرین شریک ہوتے تھے۔
آئیے اب اوج اعظمی کی زبانی بھی اس شعروسخن کی محفلوں کی روداد ملاحظہ کریں:
" 1960ء میں ایک انجمن کی بنیاد چار نمبر دیدار بخش لین میں رکھی گئی اور میں( اوج اعظمی ) اس کا سکریٹری منتخب ہوا۔ انجمن کا نام " انجمنِ علمدارِ حسینی" رکھا گیا۔ اور تیرہ(13) رجب کے حوالے سے چار روز کا جشن ہوتا رہا۔ پہلی ایک روز کی محفل چار نمبر دیدار بخش میں ہوئی جسمیں جرم محمد آبادی' ناوک لکھنوی' کلیم فیض آبادی' شمیم مٹیا برجی اور کیف مٹیابرجی شریک ہوئے۔ اس کے بعد بی بی انارو صاحبہ یا گول گوٹھی کے امام باڑے میں ہوئی۔"
اوج صاحب کے رثائی کلام کی خوبی یہ ہے کہ اس میں رثاء کا عنصر زیادہ ہے اور منقبت کا حصہ کم۔ اس لئے ان کے یہاں تاریخِ کربلا کے ساتھ ساتھ پردرد اور پرسوز کیفیت نظر آتی ہے۔ اور جسے پڑھ یا سن کر آنکھیں آب دیدہ ہوجاتی ہیں۔ اوج نے کہیں بھی نوحے کے قدیم رنگ و موضوعات سے اختلاف نہیں کیا ہے اور نہ نوحے کی ہئیت میں کسی قسم کی تبدیلی کی ہے۔ لیکن ایک چیز ضرور ان کے نوحے میں نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ ان کے نوحے جہاں چھوٹی بحروں میں کہے گئے ہیں وہاں انہوں نے نوحے کے لئے طویل بحروں کا بھی انتخاب کیا ہے۔ اشعار کی تعداد میں بھی کسی قسم کی کمی دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے نوحے کے زبان و بیان دونوں آسان ہیں جو ایک اچھے نوحے کی خاصیت ہے۔ انہوں نے موسیقی کو ذہن میں رکھ کر نوحے نہیں کہے جیسا کہ ان دنوں اکثر نوحے گویوں کے یہاں دیکھا جاتا ہے۔ اوج اعظمی کے دو نوحے قارئین کی عدالت میں پیش کئے جاتے ہیں تاکہ وہ لوگ جو بنگال کے رثائی شاعری کا علم نہیں رکھتے یا جنہیں بنگال کی رثائی شاعری نظر نہیں آتی انہیں اوج اعظمی کی رثائی شاعری کا اندازہ ہوجائے اور بنگال کے رثائی شاعری کی سمت و رفتار کا پتہ بھی چل جائے۔
-----------نوحہ:1--------------
تھا بیاں سکینہ کا شا ہِ کربلا بابا
ہوگا کب مصیبت کا ختم سلسلہ بابا
بندے پیار سے تم نے مجھ کو جو تھے پہنائے
شمر میرے کانوں سے چھین لے گیا بابا
کربلا میں زندہ گر ہوتے باوفا عموں
سر سے میری پھپھیوں کے چھنتی نہ ردا بابا
کیوں نہیں سلاتے ہو آکے اپنے سینے پر
اپنی پیاری بیٹی سے کیوں ہوئے خفا بابا
کربلا کے میداں میں قتل ہوگیا کنبہ
جز خدا نہیں کوئی اور آسرا بابا
کشتے اشقیاء کے سب دفن ہوگئے رن میں
دھوپ میں ترا لاشہ عریاں ہے پڑا بابا
آپ اپنے سینے پر پیار سے سلا لیتے
ہے ہماری زخموں کی بس یہی دوا بابا
رات کے اندھیرے میں ہائے ہم کہاں جائیں
لٹ گیا ہر اک ساماں خیمہ جل گیا بابا
یاد کرکے روتی ہوں را ہ شام و کوفہ میں
شمر اپنے کوڑوں سے دیتا ہے سزا بابا
شمر کے طمانچوں کے ہیں نشان گالوں پر
رسیوں میں جکڑا بھی ہے مرا گلا بابا
اس پر بھی ستم کی حد ہے نہ انتہا کوئی
کشتیِ محمد کا تھا جو ناخدا بابا
بعد از رہائی بھی ساتھ میں نہیں ہونگے
جائے گا مدینے جب اجڑا قافلہ بابا
ہم بھی قید خانے میں اپنی جان دے دینگے
ہے اسی میں گر مضمر دین کی بقا بابا
اوؔج بھی مشرف ہو روضہ مقدس سے
اس کو بھی دکھا دیجئے ارض کربلا بابا
--------------نوحہ:2----------------
ملے رہائی تو مرقد پہ تیرے آؤں گی
میں دکھڑا شام کے زنداں کا سناؤں گی
ملے رہائی تو پہلے کرونگی میں ماتم
کہ عام کرنے کو بھائی یزیدیوں کے ستم
محل میں شام کے فر ش عزا بجھاؤں گی
گلوئے خشک پہ چلتا تھا شمر کا خنجر
میں رو کے کہتی تھی بھائی کو میرے ذبیح نہ کر
لہو میں ڈ و با یہ منظر نہ بھول پاؤں گی
یزیدِ شام کرے جس قدر بھی ظلم و ستم
نہ لڑ کھڑائیں گے بھیا تری بہن کے قدم
علی کی بیٹی ہوں ، بن کر علی دکھاؤں گی
ہوئی ہے شام کے دربار میں جو رسوائی
برہنہ سر میں کھڑی تھی وہاں پہ اے بھائی
ہے نیل شانوں پہ لیکن نہیں دکھاؤں گی
نہ پوچھو کیا کیا مصیبت گزر گئی بھائی
سکینہ شام کے زنداں میں مر گئی بھائی
یہ داستان الم بھی تمہیں سناؤں گی
پدر کے سینہ پہ سونے کی جس کو عادت تھی
اندھیرے زنداں میں باقی وہ لاڈلی نہ رہی
میں قید خانے میں کس کو گلے لگاؤں گی
جو آئے باب مدینہ یہ پوچھے گی صغرا
میں کیا بتاؤں گی کچھ تو بتائیے بھیا
ں گیی
میں کربلا سے جو ہوکر وطن کو جاؤں گی
پھوپھی کہاں ہیں سکینہ کہاں مرا اصغر
نہ آئے کیوں مجھے لینے کے واسطے اکبر
اگر یہ پوچھے گی صغرا تو کیا بتاؤں گی
نہ ہوتے جو ترے پہلو میں د و یہ نا محرم
اے نانا سوچ کے آئی تھی میں خدا کی قسم
کہ پشت زخموں سے چھلنی تمہیں دکھاؤں گی
کہوں گی اوؔج میں غازی کی قبر پر جاکر
اےبھائ سن سرِ زینب سے چھن گئی چادر
جو قید خانے سے زندہ پلٹ کے آوں گی
------------------ختم شد-----------------
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Kolkata
700017