25/02/2025
Announcing the Launch of LaaRaib - Annual Quranic Journal.
LaaRaib - A Journey of Reflection and Knowledge through the Divine Words of the Quran.
🗓️ Releasing on 26th April 2025
📍 Babul Uloom, Kolkata
In loving memory of Qari Md Ismail Zafar (RA), the Founder & Former Chief Administrator of Madrasah Babul Uloom, Kolkata. A true servant of the Quran whose legacy continues to inspire generations.
🌐 Website: www.laaraib.in
📧 Email: [email protected]
📞 Contact: +91 98310 58963 | +91 82748 29087
Join us in celebrating the wisdom and guidance of the Quran. Let’s walk together on the path of enlightenment.
18/02/2025
Noor-e-Qur'an Conference 2025۔
"Whomsoever Allah does not grant light, for him there is no light." (Surah An-Nur: 40)
Babul Uloom proudly presents the First Annual Noor-e-Qur'an Conference 2025, a remarkable gathering dedicated to the divine guidance of the Holy Qur'an. This enlightening event aims to revive the spiritual, intellectual, and moral teachings of the Qur'an, fostering a deeper connection with its eternal wisdom.
🔹 Date: 26th April 2025
🔹 Time: After Maghrib Prayer
🔹 Venue: Moulali Youth Centre, Moulali, Kolkata 700014
Key Highlights of the Conference:
Presentation: Qari Muhammad Ismail Zafar (RA) – Khidmat-e-Qur’an Award
A unique honor in recognition and encouragement of institutions that have played a significant role in the service of the Qur'an.
Book Launch: "Qari Muhammad Ismail Zafar (RA) – Life & Contributions"
The unveiling of a historical and authentic book documenting the life, scholarly, and religious contributions of the founder of Babul Uloom.
Book Launch: "LaaRaib – Annual Journal of Babul Uloom"
The publication of a distinctive academic and research-based journal featuring pure Qur'anic articles in the light of the Holy Qur'an.
Honoring & Turban-Tying Ceremony for Huffaz & Hafizat – Madrasah Babul Uloom
A blessed event to recognize and encourage the excellence and dedication of those who have memorized the Holy Qur'an.
Join us in this blessed initiative to immerse ourselves in the light of the Qur'an and strengthen our commitment to its guidance. Let’s come together to celebrate the Qur'anic spirit and enlighten our hearts with its wisdom.
📍 For more details:
🌐 Website: www.babululoom.in
📧 Email: [email protected]
Spread the word! Share this post and be a part of this divine journey!
05/10/2024
نورِ قرآن 57
اُحد میں شکست کا فائدہ
_____________________________________
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم ان لوگوں کی بات مانو گے جنہوں نے کفر کیا ہے، تو وہ تم کو اُلٹے پاؤں پھیر دیں گے، پھر تم نقصان اٹھاتے ہوئے لوٹوگے۔ (149) بلکہ اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔ (150) ہم عنقریب اُن لوگوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے جنہوں نے کفر کیا ہے، اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اس کو شریک بنایا جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور ان کا ٹھکانا آگ ہے۔ اورظالموں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے۔ (151) اور یقیناً اللہ نے تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، جب تم ان کو اس کی اجازت سے نیست و نابود کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور تم نے حکم کے بارے میں آپس میں جھگڑا کیا اور تم نے نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے تم کو وہ چیز دکھا دی تھی جسے تم پسند کرتے تھے۔ تم میں سے کچھ دنیا کے طلب گار تھے اور تم میں سے کچھ آخرت کے طلب گار تھے۔ تب اس نے تم کو ان کے مقابلہ میں پسپا کر دیا، تاکہ تم کو آزمائے۔ اور بے شک اس نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ اور اللہ مومنوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ (152) جب تم چڑھے چلے جارہے تھے، اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے، اور رسول تم کو تمہارے پیچھے سے پکار رہے تھے۔ تو اس نے تم کو غم پر غم پہنچایا، تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس پر جو تمھارے ہاتھ سے نکل گیا اور نہ اس مصیبت پر جو تمہیں پہنچی۔ اور اللہ اس کی پوری خبر رکھنے والا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (153) پھر اس نے تم پر غم کے بعد ایک امن نازل فرمایا، ایک ایسی اونگھ، جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی۔ اور کچھ لوگ وہ تھے جن کو اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی۔ وہ اللہ کے بارے میں ناحق گمان کر رہے تھے، جاہلیت والے گمان۔ وہ کہتے تھے، کیا اس معاملے میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے؟ کہہ دو، بے شک سارا معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جو وہ تمہارے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں، اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ بھی اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ کہہ دو، اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا لکھا جا چکا تھا، وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کے رہتے۔ یہ اس لئے ہوا کہ اللہ اسے آزما لے جو تمہارے سینوں میں ہے، اور اسے صاف کر دے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ خوب جاننے والا ہے سینوں کی بات کو۔ (154) بے شک وہ لوگ جو تم میں سے اس دن پیٹھ پھیر گئے جب دو جماعتیں آپس میں ٹکرائی تھیں، شیطان نے ان کو پھسلا دیا تھا، ان کے بعض کاموں کی وجہ سے۔ اور بے شک اللہ نے ان کو معاف کر دیا ہے۔ یقیناً اللہ بخشنے والا، حلم والا ہے۔ (155)
سورہ : آل عمران .... رکوع: 16 .... آیت: 149- 155.... پارہ: 4
جنگ اُحد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مشرکین و منافقین کہنے لگے کہ مسلمانوں کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے ان کے ساتھ ہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ بدر کے بعد اس بار بھی کامیاب ہوجاتے مگر یہ تو بس دنیا کی تدبیریں ہیں، کبھی وہ آگے تو کبھی ہم آگے۔ اس کا خدائی تقدیر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں غزوہ اُحد میں مسلمانوں کی شکست کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ بدر کی طرح احد میں بھی تم ابتدائی مرحلوں میں جنگ جیت ہی رہے تھے مگر تمہاری جماعت کے کچھ لوگوں نے رسولؐ کا حکم ماننے میں کوتاہی کی تو اللہ نے تمہیں سبق سکھانے کیلئے اور تمہارے عقائد و اعمال کو بہتر بنانے کیلئے تمہاری فتح کو شکست سے بدل دیا۔ یہ کوئی عذاب الٰہی نہیں ہے بلکہ محض ایک ابتلا و آزمائش ہے جس سے تم کو اس لئے دوچار کیا گیا ہے تاکہ تم آئندہ اللہ و رسولؐ کی نافرمانی سے بچو۔ تو جو لوگ اُحد کی ناکامی کی وجہ سے بے تکی باتیں بنارہے ہیں ان کی طرف توجہ مت دو۔ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اللہ ہی تمہارا مولا و مددگار ہے۔ اللہ بہت جلد کافروں کے دلوں میں پھر سے تمہاری ہیبت اور تمہارا رعب ڈال دے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس شکست سے ملنے والے سبق کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کسی بھی جنگ میں اللہ کے رسولؐ کی نافرمانی کا تصور تک نہیں کیا اور اللہ و رسولؐ کی مکمل اطاعت کے ساتھ مسلمانوں کی کامیابیوں کا سلسلہ دراز ہوتے ہوئے فتح مکہ اورغلبۂ اسلام تک پہنچ گیا۔ یہاں اس رکوع میں بہت وضاحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو غم پر غم سے کیوں دوچار کیا اور یہ کتنا بڑا صدمہ تھا کہ جیتی ہوئی جنگ مسلمان ہارنے لگے اور اسی کے ساتھ یہ خبر بھی پھیل گئی کہ اب اللہ کے رسولؐ بھی ہمارے درمیان نہیں رہے۔ مگر اس مرحلۂ غم میں بھی اللہ نے اپنے نیک بندوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔ وہ انہیں ایسی نیند سلاتا رہا جو ان کیلئے امن و اطمینان کا سبب بنے اور وہ پھر سے تازہ دم ہوکر حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوسکیں، البتہ ان لوگوں کی نیند اڑگئی جن کے دلوں میں بیماری تھی اور وہ لوگ بھی اس جنگ میں پہچان لئے گئے جن کے دلوں میں نفاق بھرا ہوا تھا اور وہ صرف زبانی اسلام کا دعویٰ کرتے پھرتے تھے۔ بلاشبہ اللہ اپنے بندوں بڑا رحم فرمانے والا، ان کے گناہوں کو بخشنے والا اور لگاتار ان کی مدد فرمانے والا ہے۔٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(4اکتوبر 2024 )
30/08/2024
نورِ قرآن 52
اللہ کی رسی کو تھامے رہو!
_____________________________________
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہرگز نہ مرنا، مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ (102) اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اورجدا جدا نہ ہوجاؤ، اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جب تم آپس میں دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی، پھر تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، تو اس نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔ (103) اور ضروری ہے کہ تم میں کچھ ایسے لوگ ہوں، جو خیر کی طرف دعوت دیں اور اچھے کام کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (104) اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور جنہوں نے اختلاف کیا، اس کے بعد کہ ان کے پاس روشن دلیلیں آچکی تھیں، اور یہی لوگ ہیں جن کیلئے بڑا عذاب ہے۔ (105) اس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تو وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوئے،” کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا؟ تو عذاب چکھو، اس وجہ سے کہ تم کفر کیا کرتے تھے۔“ (106) اور وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوئے، تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (107) یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تم کو حق کے ساتھ پڑھ کر سنا رہے ہیں اور اللہ دنیا والوں پر ظلم کا ارادہ نہیں رکھتا۔ (108) اور اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملات لوٹائے جاتے ہیں۔ (109)
سورہ : آل عمران .... رکوع: 11 .... آیت: 102- 109.... پارہ: 4
اے ایمان والو! اللہ نے تم پر اپنا فضل و کرم کیا اور تم کو اسلام جیسی عظیم نعمت سے نوازا۔ اس نے تمہارے لئے اپنا خاص نمائندہ بھیجا جس نے نبی اکرم ﷺ پر حق کے ساتھ اللہ کی آیات تلاوت کی اور ان پر اللہ کا کلام نازل کیا۔ نزول ِ قرآن سے قبل تم بدترین جہالت کی حالت میں تھے، اللہ نے اسلام اور قرآن کی برکت سے تمہارے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا اور تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ تم پر لازم ہے کہ تم اس نعمتِ الٰہی کی قدر کرو اور قرآن مجید کو جو اللہ کی رسی ہے، مضبوطی سے تھامے رہو۔ اگر تم نے اس رسی کو مضبوطی سے نہیں پکڑا اور یہ تمہارے ہاتھ سے چھوٹ گئی تو تم پھر سے جہالت کے اندھیروں میں ڈوب جاؤ گے اور تم کو تباہ و برباد ہونے سے کوئی بچا نہیں سکے گا۔
تمہارے دشمن چاہتے ہیں کہ تم اللہ سے دور ہوجاؤ اور اللہ کی مہربانیوں سے محروم ہوجاؤ۔ وہ تم کو قرآن سے دور کرکے تم کو فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھنا کہ اللہ کے نزدیک تمہاری شناخت صرف مسلمان کی ہے۔ اس نے تم کو فرقوں میں بٹنے سے صاف منع کر رکھا ہے۔ تم کو اسلام ہی پر جینا اور اسلام ہی پر مرنا ہے۔ تفرقہ بازی اور دین میں اختلاف اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ اللہ یہ بھی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان ہمیشہ ایک ایسی جماعت موجود رہے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاتی رہے، نیکیوں کا حکم دیتی رہے اور برائیوں سے روکتی رہے۔ اگر تم ایسا کروگے تو تمہارے لئے کامیابی آسان ہوجائے گی۔ اور تم صرف اللہ ہی سے ڈرنا اور اس طرح ڈرنا جس طرح ڈرنے کا حق ہے کہ وہی اس لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ وہی اس کائنات کا اکیلا مالک ہے اور سارے معاملات اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔
یہاں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جس طرح موت برحق ہے اسی طرح قیامت میں اٹھنا بھی برحق ہے۔ کامیابی اور سرخروئی بس اسی کیلئے ہے جو دنیا میں ہمیشہ اللہ کا فرمانبردار ہو اور موت بھی اس کو حالتِ اسلام پر آئے۔ یہی لوگ ہیں جن کے چہرے قیامت کے دن روشن اور کھِلے ہوئے ہوں گے۔ یہی لوگ اللہ کی رحمتوں کے سایہ میں ہوں گے اور ایک ایسی جنت کے حقدار ہوں گے جہاں ان کیلئے نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی اور وہ ہمیشہ وہیں رہیں گے۔٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(30اگست 2024 )
25/08/2024
Noor-e-Quran 51
Memaar-e-Ka'bah Ibrahim (AS) Ki Millat
Tum hargiz poori neki hasil nahi kar sakte, yahan tak ke tum un cheezon mein se kuch kharch karo, jin ko tum mehboob rakhte ho. Aur tum jo cheez bhi kharch karoge to yaqeenan Allah usay khoob jaan'ney wala hai. (92) Khaaney ki saari cheezen Bani Isra'il ke liye halaal theen, magar woh jo Isra'il ne apne upar haram kar liya, Taurat ke naazil kiye jaane se pehle. Keh do, to lao Taurat, phir usay parho, agar tum log sachchey ho. (93) Phir jis ne is ke baad Allah par jhoot bandha, to wahi log zaalim hain. (94) Keh do, Allah ne sach farmaya, to tum sab Ibrahim ki millat ki pairwi karo, jo Haneef tha aur mushrikon mein se nahi tha. (95) Beshak pehla ghar jo logon ke liye banaya gaya, woh wahi hai jo Makkah mein hai, barkat wala hai aur hidayat wala hai, tamaam dunya ke liye. (96) Is mein khuli hui nishaniyan hain, Maqam-e-Ibrahim hai, jo is mein dakhil hua, aman wala ho gaya. Aur Allah ke liye logon par is ghar ka Hajj hai, jo is tak pohanchney ki taaqat rakhta ho. Aur jis ne inkaar kiya to yaqeenan Allah tamaam jahaanon se be niyaz hai. (97) Keh do, aye Ahl-e-Kitab! Tum kiun Allah ki aayaat ka inkaar karte ho, halaanke Allah us par gawah hai jo tum kar rahe ho. (98) Keh do, aye Ahl-e-Kitab! Tum kiun Allah ke raaste se rokte ho usay, jo imaan le aaya hai. Tum is mein aib talash karte ho, halaanke tum khud gawah ho. Aur Allah us se hargiz ghaafil nahi hai, jo tum kar rahe ho. (99) Aye logon jo imaan laaye ho! Agar tum in mein se ek giroh ka kehna maano ge, jinhein kitaab di gayi hai, to woh tum ko tumhare imaan laane ke baad phir kafir bana denge. (100) Aur tum kaise kufr karte ho, halaanke tum par Allah ki aayaat tilawat ki jaati hain, aur tumhare darmiyan us ka Rasool maujood hai. Aur jo Allah ko mazbooti se pakde ga to beshak usay seedhey raste ki taraf hidayat di gayi. (101)
Surah: Aal-e-Imran .... Ruku: 10 .... Aayah: 92-101 .... Para: 4
Muhammad Rasool Allah (SAW) ne Islam ki dawat pesh ki aur Millat-e-Ibrahimi ki taraf logon ko bulaya to Yahood o Nasara kehne lage ke Ibrahim (AS) par hamara pehla haq hai. Woh Bani Isra'il ke jadd-e-amjad hain aur Ishaq (AS) wa Yaqoob (AS) unki auladain hain. Isi ke sath unhon ne Bait-ul-Muqaddas ki ahmiyat wa fazilat bayan karte hue Ibrahim (AS) ka asal ta'alluq bhi us se jorne ki koshish ki. Yahan is rukoo mein saaf lafzon mein yeh bataya gaya hai ke Ibrahim (AS) ka ta'alluq Makkah aur Ka'bah se hai. Unhon ne is sheher ko aabaad kiya aur Khuda ke hukm se Khuda ka pehla ghar tameer kiya. Allah ne isi ghar ko poori duniya ke liye ba'ais-e-barakat aur markaz-e-hidayat banaya hai. Yahan bohot sari khuli hui nishaniyan maujood hain. Yahin Maqam-e-Ibrahim hai, Allah ne Ibrahim (AS) ki duaaon se isi ko aman wa amaan ka maqam banaya hai aur apne bandon par isi ghar ka Hajj farz kiya hai. Allah chahta hai ke Allah ke bande Memaar-e-Ka'bah Ibrahim (AS) ki Millat ki pairwi karein aur Muhammad (SAW) unhi ki Millat ki taraf logon ko dawat de rahe hain.
Yahan is rukoo ke aaghaz mein yeh baat bhi samjhayi gayi hai ke woh neki aur wafadari jo qabil-e-qadr hai, woh us waqt hasil hoti hai jab insaan apni mehboob cheez raah-e-Khuda mein kharch karta hai. Allah ne Ibrahim (AS) se unki mehboob tareen cheez ki qurbani ka mutaliba kiya to woh us ke liye bhi raazi ho gaye thay, phir Allah un se aisa raazi hua ke Khuda ki khatir unki mohabbat wa qurbani sab se badi misaal ban gayi.
Ahl-e-Kitab ka ek giroh is baat ke liye koshish karta rehta hai ke woh logon ko Khuda ki seedhi raah se hata kar gumrah kar de aur Musalmanon ko imaan ke baad ek martaba phir se kufr o irtidad ke jungle mein chor de. Yeh baat Ahl-e-Imaan ke shayaan-e-shaan nahi hai ke woh Allah wa Rasool ko chorr kar Ahl-e-Kitab ke gumrah giroh ki betuki baaton par aitbaar karein aur apne imaan ko kufr se badal daalein. "Aye logon jo imaan laaye ho! Agar tum in mein se ek giroh ka kehna maano ge, jinhein kitaab di gayi hai, to woh tum ko tumhare imaan laane ke baad phir kafir bana denge. Aur tum kaise kufr karte ho, halaanke tum par Allah ki aayaat tilawat ki jaati hain, aur tumhare darmiyan us ka Rasool maujood hai. Aur jo Allah ko mazbooti se pakde ga to beshak usay seedhay raste ki taraf hidayat de di gayi."
By: Dr. N. Sabah Ismail (Nadvi Alig)
(25 August 2024)
23/08/2024
نورِ قرآن 51
معمارِ کعبہ ابراہیمؑ کی ملت
_________________________________________
تم ہرگز پوری نیکی حاصل نہیں کرسکتے، یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے کچھ خرچ کرو، جن کو تم محبوب رکھتے ہو۔ اور تم جو چیز بھی خرچ کرو گے تو یقیناً اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔ (92) کھانے کی ساری چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں، مگر وہ جو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کرلیا، تورات کے نازل کیے جانے سے پہلے۔ کہہ دو، تو لاﺅ تورات، پھر اسے پڑھو، اگر تم لوگ سچے ہو۔ (93) پھر جس نے اس کے بعد اللہ پر جھوٹ باندھا، تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (94) کہہ دو، اللہ نے سچ فرمایا، تو تم سب ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو، جو حنیف تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔ (95) بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا، وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا ہے اور ہدایت والا ہے، تمام دنیا کیلئے۔ (96) اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، جو اس میں داخل ہوا، امن والا ہوگیا۔ اور اللہ کیلئے لوگوں پر اس گھر کا حج ہے، جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھے۔ اور جس نے انکار کیا تو یقیناً اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ (97) کہہ دو، اے اہلِ کتاب! تم کیوں اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہو، حالانکہ اللہ اس پر گواہ ہے جو تم کر رہے ہو۔ (98) کہہ دو، اے اہلِ کتاب! تم کیوں اللہ کے راستے سے روکتے ہو اس کو، جو ایمان لے آیا ہے۔ تم اس میں عیب تلاش کرتے ہو، حالانکہ تم خود گواہ ہو۔ اور اللہ اس سے ہرگز غافل نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو۔ (99) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم ان میں سے ایک گروہ کا کہنا مانو گے، جنہیں کتاب دی گئی ہے، تو وہ تم کو تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر کافر بنا دیں گے۔ (100) اور تم کیسے کفر کرتے ہو، حالانکہ تم پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں، اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے۔ اور جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو بے شک اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دی گئی۔ (101)
سورہ : آلِ عمران .... رکوع: 10 .... آیت: 92- 101.... پارہ: 4
محمد رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت پیش کی اور ملتِ ابراہیمی کی طرف لوگوں کو بلایا تو یہود و نصاریٰ کہنے لگے کہ ابراہیمؑ پر ہمارا پہلا حق ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے جدّ امجد ہیں اور اسحاقؑ و یعقوبؑ ان کی اولادیں ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے بیت المقدس کی اہمیت و فضیلت بیان کرتے ہوئے ابراہیمؑ کا اصل تعلق بھی اس سے جوڑنے کی کوشش کی۔ یہاں اس رکوع میں صاف لفظوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابراہیمؑ کا تعلق مکہ اور کعبہ سے ہے۔ انہوں نے اس شہر کو آباد کیا اور خدا کے حکم سے خدا کا پہلا گھر تعمیر کیا۔ اللہ نے اسی گھر کو پوری دنیا کیلئے باعثِ برکت اور مرکزِ ہدایت بنایا ہے۔ یہاں بہت ساری کھلی ہوئی نشانیاں موجود ہیں۔ یہیں مقامِ ابراہیم ہے، اللہ نے ابراہیمؑ کی دعاؤں سے اسی کو امن و امان کا مقام بنایا ہے اور اپنے بندوں پر اسی گھر کا حج فرض کیا ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ اللہ کے بندے معمارِ کعبہ ابراہیمؑ کی ملت کی پیروی کریں اور محمد ﷺ انہی کی ملت کی طرف لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں۔
یہاں اس رکوع کے آغاز میں یہ بات بھی سمجھائی گئی ہے کہ وہ نیکی اور وفاداری جو قابل قدر ہے، وہ اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنی محبوب شے راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے۔ اللہ نے ابراہیمؑ سے ان کی محبوب ترین چیز کی قربانی کا مطالبہ کیا تو وہ اس کیلئے بھی راضی ہوگئے تھے، پھر اللہ ان سے ایسا راضی ہوا کہ خدا کی خاطر ان کی محبت و قربانی سب سے بڑی مثال بن گئی۔
اہل کتاب کا ایک گروہ اس بات کیلئے کوشاں رہتا ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کی سیدھی راہ سے ہٹاکر گمراہ کردے اور مسلمانوں کو ایمان کے بعد ایک مرتبہ پھر سے کفر وارتداد کی جنگل میں چھوڑدے۔ یہ بات اہل ایمان کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ اللہ و رسول کو چھوڑ کر اہل کتاب کے گمراہ گروہ کی بے تکی باتوں پر اعتبار کریں اور اپنے ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں۔ ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم ان میں سے ایک گروہ کا کہنا مانو گے، جنہیں کتاب دی گئی ہے، تو وہ تم کو تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر کافر بنا دیں گے۔ اور تم کیسے کفر کرتے ہو، حالانکہ تم پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں، اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے۔ اور جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو بے شک اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دی گئی۔“٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(23اگست 2024 )
11/08/2024
Noor-e-Quran 50
Islam Waahid Maqbool Deen
Aur jab Allah ne nabiyon se pukhta ahad liya ke jo kuchh Main ne kitab wa hikmat mein se tum ko ata kiya hai, phir tumhare paas woh Rasool aaye jo us ki tasdeeq karne wala ho jo tumhare paas hai to tum us par zaroor imaan laao ge aur zaroor us ki madad karo ge. Farmaya, kya tum ne iqrar kiya aur is par mera ahad qubool kiya? Unhone kaha, hum ne iqrar kiya. Farmaya, to tum sab gawah raho aur Main bhi tumhare saath gawahon mein se hoon. (81) Phir jo koi is ke baad phir jaaye to wahi log nafarmaan hain. (82) To kya woh Allah ke deen ke siwa kuchh aur talash kar rahe hain, halanke usi ki farmanbardar hain jo asmanon aur zameen mein hain, khushi ya na khushi se. Aur woh sab usi ki taraf lautaye jaayenge. (83) Keh do, hum imaan laaye Allah par aur us par jo hum par nazil kiya gaya aur jo nazil kiya gaya Ibrahim aur Ismail aur Ishaq aur Yaqoob aur us ki aulad par, aur jo diya gaya Musa aur Isa aur doosre nabiyon ko un ke Rab ki taraf se. Hum un mein se kisi ek ke darmiyan bhi farq nahin karte, aur hum Usi ke farmanbardar hain. (84) Aur jo Islam ke siwa koi aur deen talash karega to woh us se hargiz qubool na kiya jaayega aur woh aakhirat mein khasara uthane walon mein se hoga. (85) Kaise hidayat dega Allah us qaum ko, jinhone apne imaan ke baad kufr kiya, halanke woh gawahi de chuke hain ke be shak Rasool bar-haq hain aur un ke paas khuli hui daleelein aa chuki hain, aur Allah zalim qaum ko hidayat nahi deta. (86) Yeh woh log hain jinki jazaa yeh hai ke un par Allah ki laanat hogi aur farishton ki aur tamam logon ki. (87) Woh is mein hamesha rahenge. Na un ka azab halka kiya jaayega aur na un ko mohlat di jaayegi. (88) Siwaye un logon ke jinhone is ke baad tauba kar li aur islah kar li, to beshak Allah bakhshne wala, reham farmane wala hai. (89) Beshak woh log jinhone apne imaan ke baad kufr kiya, phir kufr mein barhte gaye, un ki tauba har-giz qubool na ki jaayegi aur wahi log gumrah hain. (90) Beshak woh log jinhone kufr kiya aur is haalat mein mar gaye ke woh kafir the, to un mein se kisi se zameen bhar sona bhi har-giz qubool na kiya jaayega, khwa woh usay fidiye mein de. Yeh woh log hain jin ke liye dardnaak azab hai aur un ka koi madadgaar nahi hoga. (91)
Surah: Aal-e-Imran .... Ruku: 09 .... Ayat: 81- 91.... Para: 3
Islam hi Allah ka deen hai. Us ne apne bandon ke liye isi deen ko pasand farmaya hai. Jo log Islam ke siwa koi aur deen ikhtiyar karenge to unko maloom hona chahiye ke Allah ke nazdeek Islam ke siwa koi deen qabil-e-qubool nahin hai, to kya is ke baad bhi log Allah ka deen aur Allah ki ita’at chor kar kisi aur deen ke mutalashi hain, halanke yeh poori kainaat Usi Allah ke aage sarngoon hai aur zameen o asman mein jo kuch bhi hai sab Usi ka hukm mante hain.
Yahan yeh baat bohot achchi tarah samjha di gayi hai ke Allah ke jitne bhi nabi is duniya mein aaye hain sab isi deen Islam ke daai o muballigh the. Har nabi is wada o talqeen ke saath is duniya mein aaya ke jo kitab o hikmat usay di gayi hai us ki roshni mein woh Allah ke bandon tak Allah ka deen pohnchaye aur apne manne walon ko yeh batata aur samjhata jaaye ke is ke baad jab koi nabi isi deen ki tableegh o tasdeeq ke saath aaye to woh us par zaroor imaan layein aur us ki nusrat o madad karein. Jab yeh silsila mukammal hota hua Nabi Akhir-uz-Zamaan (S) tak pohncha to ahl-e-kitab Yahood o Nasara ne un par imaan lana zaroori nahi samjha. Yeh to imaan ke baad kufr ka irtikab hai aur Allah ke nazdeek yeh ek sangeen jurm hai. Aur is jurm ki saza Allah, malaika aur tamam insanon ki lanat aur aakhirat mein dardnaak azaab-e-jahannam hai.
"Be shak woh log jinhone apne imaan ke baad kufr kiya, phir kufr mein barhte gaye, unki tauba har-giz qubool na ki jaayegi aur wahi log gumrah hain. Be shak woh log jinhone kufr kiya aur is haalat mein mar gaye ke woh kafir the, to un mein se kisi se zameen bhar sona bhi har-giz qubool na kiya jaayega, khwa woh usay fidiya mein de. Yeh woh log hain jin ke liye dardnaak azaab hai aur un ka koi madadgaar nahi hoga.”
By: Dr. N. Sabah Ismail (Nadvi Alig)
(11 August 2024)
09/08/2024
نورِ قرآن 50
اسلام واحد مقبول دین
_________________________________________
اور جب اللہ نے نبیوں سے پختہ عہد لیا کہ جو کچھ میں نے کتاب و حکمت میں سے تم کو عطا کی ہے، پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو اس کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاﺅ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا، کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا؟ انہوں نے کہا، ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا، تو تم سب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ (81) پھر جو کوئی اس کے بعد پھر جائے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔ (82) تو کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کچھ اور تلاش کر رہے ہیں، حالانکہ اسی کی فرماں بردار ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، خوشی یا ناخوشی سے۔ اور وہ سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (83) کہہ دو، ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا اور جو نازل کیا گیا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر، اور جو دیا گیا موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے۔ ہم ان میں سے کسی ایک کے درمیان بھی فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ (84) اور جو اسلام کے سواکوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ (85) کیسے ہدایت دے گا اللہ اس قوم کو، جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا، حالانکہ وہ گواہی دے چکے ہیں کہ بے شک رسول برحق ہیں اور ان کے پاس کھلی ہوئی دلیلیں آچکی ہیں، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (86) یہ وہ لوگ ہیں جن کی جزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی لعنت ہوگی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔ (87) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ (88) سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کر لی، تو بے شک اللہ بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ (89) بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا، پھر کفر میں بڑھتے گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور وہی لوگ گمراہ ہیں۔ (90) بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے، تو ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا، خواہ وہ اسے فدیہ میں دے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (91)
سورہ : آل عمران .... رکوع: 09 .... آیت: 81- 91.... پارہ: 3
اسلام ہی اللہ کا دین ہے۔ اس نے اپنے بندوں کے لئے اسی دین کو پسند فرمایا ہے۔ جو لوگ اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کریں گے تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے نزدیک اسلام کے سوا کوئی دین قابل قبول نہیں ہے، تو کیا اس کے بعد بھی لوگ اللہ کا دین اور اللہ کی اطاعت چھوڑ کر کسی اور دین کے متلاشی ہیں، حالانکہ یہ پوری کائنات اسی اللہ کے آگے سرنگوں ہے اور زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کا حکم مانتے ہیں۔
یہاں یہ بات بہت اچھی طرح سمجھادی گئی ہے کہ اللہ کے جتنے بھی نبی اس دنیا میں آئے ہیں سب اسی دین اسلام کے داعی و مبلغ تھے۔ ہر نبی اس وعدہ و تلقین کے ساتھ اس دنیا میں آیا کہ جو کتاب و حکمت اسے دی گئی ہے اس کی روشنی میں وہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا دین پہنچائے اور اپنے ماننے والوں کو یہ بتاتا اور سمجھاتا جائے کہ اس کے بعد جب کوئی نبی اسی دین کی تبلیغ و تصدیق کے ساتھ آئے تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں اور اس کی نصرت و مدد کریں۔ جب یہ سلسلہ مکمل ہوتا ہوا نبی آخر الزماں ﷺ تک پہنچا تو اہل کتاب یہود و نصاریٰ نے ان پر ایمان لانا ضروری نہیں سمجھا۔ یہ تو ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب ہے اور اللہ کے نزدیک یہ ایک سنگین جرم ہے۔ اور اس جرم کی سزا اللہ، ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت اور آخرت میں دردناک عذاب جہنم ہے۔ ”بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا، پھر کفر میں بڑھتے گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور وہی لوگ گمراہ ہیں۔ بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے، تو ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا، خواہ وہ اسے فدیہ میں دے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔“٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(9اگست 2024 )
04/08/2024
Noor-e-Quran 49
Ahl-e-Kitab ke Ahwaal
Aur Ahl-e-Kitab mein se ek giroh ne kaha ke tum imaan le aao us cheez par, jo naazil ki gayi hai un par jo imaan laaye hain, din ke shuru mein, aur is ke aakhir mein us ka inkaar kar do, shayad ke woh bhi wapas ho jayein. (72) Aur sirf usi ki baat manao jo tumhare deen ki pairawi kare - keh do, beshak hidayat to Allah ki hidayat hai - ke kisi ko wohi cheez de di jaye jo tumhein di gayi hai, ya woh tum se tumhare Rab ke saamne hujjat karein. Keh do, beshak fazl to Allah ke haath mein hai, Woh ise ata karta hai jise chahta hai, aur Allah wus’at wala hai, ilm wala hai. (73) Woh khaas kar leta hai apni rehmat se, jise chahta hai. Aur Allah bada fazl wala hai. (74) Aur Ahl-e-Kitab mein koi aisa hai ke agar tum us ke paas amanat rakh do maal ka ek dher bhi to woh tum ko wapas lauta dega, aur in mein koi aisa hai ke agar tum us ke paas ek dinar amanat rakh do to woh tum ko ada nahi karega illa ye ke tum us ke sar par khade ho jao, ye isliye ke woh kehte hain ke Ummiyon ke mamle mein hum par koi ilzaam nahi. Aur woh Allah par jhoot bandhte hain, halankeh woh jaante hain. (75) Kiyun nahi! Jis ne apna ahad poora kiya aur taqwa ikhtiyar kiya to yaqeenan Allah muttaqiyon ko mehboob rakhta hai. (76) Beshak jo log bech dete hain Allah ke ahad aur apni qasmon ko thodi qeemat par, yahi log hain jinke liye koi hissa nahi hoga aakhirat mein, aur Allah na unse kalaam karega, aur na unki taraf dekhega qiyamat ke din, aur na unhein paak karega, aur unke liye dardnaak azaab hoga. (77) Aur yaqeenan in mein se kuch log aise hain jo apni zabanon ko kitab ke saath marorte hain, taake tum us ko kitab mein se samjho, halankeh woh kitab mein se nahi hoti, aur woh kehte hain, ye Allah ki taraf se hai, halankeh woh Allah ki taraf se nahi hoti, aur woh Allah par jhoot bandhte hain, halankeh woh jaante hain. (78) Kisi bashar ke ye laaiq nahi ke Allah us ko kitaab, aur hikmat, aur nubuwwat de, phir woh logon se kahe, ke tum Allah ko chhorr kar mere bande ban jao, balki ye ke Rabb wale ban jao, jaisa ke tum khud kitaab ki taleem dete rahe ho, aur jaisa ke tum khud parhte rahe ho. (79) Aur na ye ke woh tumhein ye hukm de ke tum farishton aur nabiyon ko Rabb bana lo, kiya woh tumhein kufr ka hukm dega, is ke baad ke tum musalman ho chuke ho? (80)
Surah: Aal-e-Imran .... Ruku: 08 .... Aayat: 72-80.... Para: 3
Ahl-e-Kitab ki do ahem jama'aton Yahood o Nasara ka Umm-ul-Qura ya'ni Makkah se talluq rakhne wali do ahem jama'aton Musalman aur Mushrikeen ke saath kya mamla tha. Woh un ko kis nazar se dekhte aur un ke baare mein kya sochte thay, is ruku ka mutaala' humien is se aagah karta hai. Bilashuba Ahl-e-Kitab mein achche log bhi thay magar un mein bohat sare aise thay jo Ummiyon ke maal ko apne liye halal samajhte thay aur un ko nuqsaan pohnchana kaar-e-sawab samajhte thay. Woh jab duniyavi muamlaat mein un ki amaanat un ko wapas karna zaroori nahin samajhte thay to un se ye umeed kaise lagai ja sakti thi ke woh deeni muamlaat mein un ki sahi rehnumai karenge aur Khuda ki us amaanat ko un tak pohnchain ge jo Allah ne un ke hawale kar rakhi thi.
Ahl-e-Kitab ka ek tabqa apne logon se kehta tha ke tum bhi jhoot moot ka Islam le aao aur Musalmanon ko faida pohnchaney ke bajaye un ko nuqsaan pohncha kar wapas aajao. Asal mein un par duniya itni ghaalib aa chuki thi ke unhon ne us ki khatir apne deen ko nihayat mamooli qeemat mein bech daala tha. Unhon ne deendari ka is tarah bhi mazaaq uraya tha ke woh apni baaton ko Allah ki baatein bana kar logon ke saamne pesh karte thay aur khule aam logon ko dhoka dete thay. Yahan Allah Ta'ala ne un ki bad'amaaliyon par sakht giraft karte hue farmaya hai ke aise duniya parast logon ka aakhirat mein koi hissa nahin hai aur Allah un se itna naaraaz hai ke woh un ki baat sunna aur un ki taraf dekhna bhi gawara nahin karega. Yahan aakhir mein Nasara ko bataur khaas bataya gaya hai ke tum Allah ke Nabi Isa Alaihissalam ko Allah ka beta aur Rab qarar dete ho to ye kaise mumkin hai ke ek Nabi khud Rab hone ka daawa kare aur tum ko Islam ke bajaye kufr ki dawat de?
By: Dr. N. Sabah Ismail (Nadvi Alig)
(4 August 2024)