14/03/2026
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ سورہ فاطر آیت نمبر ٢٨
کہ اللہ ربّ العالمین سے حقیقت میں ڈرنے والے علمائے کرام ہیں میرے بھائیو! مجھے آج ایک سچ پر مبنی اور کڑوی بات کہنی ہے کہ لوگ تو نماز میں پیچھے رہیں گے پر خدا نخواستہ امام صاحب اگر کبھی پیچھے رہ گئے تو لوگ انہیں نشانہ بنانے لگتے ہیں کہ مولوی صاحب تو ہمیشہ پیچھے ہی رہتے ہیں اور یہ اکثر وہ حضرات ہوتے ہیں جو زندگی میں کبھی کبھی مسجد میں آتے ہیں اور خاص کرکے رمضان المبارک کے مہینے میں کہ وہ حضرات جو کبھی نماز نہیں پڑھتے ہیں بس رمضان المبارک کے نمازی بن جاتے ہیں اور پھر چار اوقات کے نمازی فجر غائب اور وہ علمائے کرام پر کیچڑ اچھالتے ہیں طنز کرتے ہیں بد زبانی کرتے ہیں بد تمیزی کرتے ہیں اور انہیں بدنام کرنے میں لگے رہتے ہیں وہ پوری زندگی نماز نہیں پڑھتے ہیں کوئی بات نہیں پر امام صاحب اگر کبھی پیچھے رہ گئے تو ان کی خیریت نہیں میرے بھائیو!جس طریقے سے ایک عالم دین پر نماز فرض ہے اسی طریقے سے آپ پر بھی فرض ہے آپ کو بھی پوری زندگی شریعت اسلامیہ کے مطابق اپنی زندگی کو گزارنی ہے بس رمضان المبارک کے مہینے میں چار اوقات کے نمازی مت بنئے پورے پورے مسلمان بن کے رہئے اور ہاں عالم دین بھی ایک انسان ہے وہ فرشتہ نہیں ہیں اگر ان سے کوئی غلطی ہو رہی ہے تو آپ ان سے ملاقات کریں اکیلے میں تنہائی میں اور آپ ان کو سمجھانے کی کوشش کریں آپ ان کو بے عزت نہ کریں کیونکہ جب ایک عام مسلمان کسی کی برائی کرتا ہے تو قرآن کیا کہتا ہے وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ جب عام مسلمان کے بارے میں یہ بات آئی ہے تو عالم دین پر بد تمیزی کرنا کتنا بڑا جرم ہو سکتاہے آپ غور کریں اور یہ بات صرف بتانے والی نہیں ہے بلکہ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے اسلیئے کہ اللہ سے بڑھ کر کسی کی بات سچی نہیں ہو سکتی ہے دلیل وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا سورہ نساء آیت نمبر ١٢٢
تجمل حق دلاور حسین کشن گنجی ۔