15/08/2024
انگریز ہمارے ہندوستان میں 1601ء میں آیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے اس نے تجارتی مشن کی بنیاد رکھی اور 1613 عیسوی میں باضابطہ طریقے سے تجارت کے حیثیت سے ہندوستان میں داخل ہوا اور اس نے اپنے جریں مضبوط کر لیں تو ہر طرف ہمارے مال و جان عزت و آبرو پر حملہ کرنے لگا اور ہمارے حال بدھوا مزدوروں سے بھی بتر کر دیا ہمارے خون کی حیثیت اس کی نگاہ میں پسینے سے بھی کم تھی اور اس کا ناکام سایہ ہمارے صاف شفاف بدن میں بدبو پیدا کر رہا تھا اور ملکوں کو گدلا کر رہا تھا ہمارے رشیوں بزرگوں اور باغیرت وہ باحیا لوگوں کو بے دریغ موت کے گھاٹ اتار رہا تھا ہمارے ماؤں اور بہنوں کے سہاگ پر ڈاکہ زنی کر رہا تھا اور اس خطرناک دور سے ہندوستان جھوج رہا تھا اس پر آشوب وقت میں ملک کے ہونہار وطن کے جانسار ملت کے غم خوار علماء اور دانشوران قوم انگریز سے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوئے اور جگہ جگہ ازادی کا پرچم لہرایا جانے لگا ادھر شاہ عبدالعزیز صاحب نے انگریز کے خلاف فتوی صادر کر کے اس کی بنیاد کو اڑا دیا اور آزادی کا ایسا جوش کہ جس کا خمار ہزاروں ظلم و ستم کے باوجود نہیں اترا ۔ مارے گئے کاٹے گئے درختوں پر لٹکائے گئے حرام کھانوں میں ڈالے گئے تیر وہ پتھر آگ اور پانی کے نشانے پر سادھے گئے مگر کیا مجال کے انگریز آزادی کے جیالوں کو ایک قدم پیچھے بھی روک دیتا چنانچ 1856 عیسوی میں اس سلسلے میں بہت بڑی کانفرنس دہلی میں منعقد کی گئی جس میں ہندوستان کے بڑے بڑے علماء اور مہارشی موجود تھے بطور خاص حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی مولانا رشید احمد گنگوہی حضرت مولانا جعفر تھا نیسری حضرت مولانا ولایت علی حضرت حافظ ضامن شہید اور بہت سی صوفی سنت اس کانفرنس میں پر کاشت تھے کانفرنس میں بانئ دارالعلوم حجت الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا اے ساتھیو۔کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ انگریز تمہارے سر پر کھڑا ہے اور اپنی حکومت کا جال پورے ہندوستان میں بچھا رکھا ہے اس سے لڑائی کے لیے تیار ہو جاؤ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا حضرت ہم تو تعداد میں بھی تھوڑے ہیں ہتھیار بھی نا کے برابر ہے تو حضرت کو جلال آگیا اور فرمایا کیا ہمارے تعداد غازیان بدر سے بھی کم ہے پھر سامعین میں ایک ولولہ پیدا ہوا اور سب نے حضرت کی تائید کی اور کہا کہ ہم مر جائیں گے مگر انگریز کو ہندوستان سے بھگا کر ہی دم لیں گے اسی طرح جنگ ہوتا رہا آخر کار تن کے گورے من کے کالے انگریزوں سے ہمارا ملک ہندوستان 15 اگست 1947ء کو آزاد ہوا۔الحمدللہ ثم الحمدللہ از عبدالقادر رشیدی