Ali Miyan Public school

Ali Miyan Public school

Share

This is an educational page to contact with us

25/06/2022
01/06/2022

ﻭﮦ ﮐﯿﺴـﺎ ﺳﻤـﺎﮞ ﮨـﻮﮔﺎ ﮐﯿﺴـﯽ ﻭﮦ ﮔﮭـﮍﯼ ﮨـﻮﮔـﯽ
ﺟﺐ ﭘﮩـﻠﯽ ﻧﻈـﺮ ﺍُﻥ ﷺ ﮐـﮯ ﺭﻭﺿـﮯ ﭘـﮧ ﭘـﮍﯼ ﮨـﻮﮔـﯽ

ﯾـﮧ ﮐـﻮﭼـﮧ ﺟـﺎﻧـﺎﮞﷺ ﮨـﮯ، ﺁﮨﺴﺘﮧ ﻗـﺪﻡ ﺭﮐﮭﻨـﺎ
ﮨـﺮﺟﺎ ﭘـﮧ ﻣـﻼﺋﮏ ﮐـﯽ ﺑـﺎﺭﺍﺕ ﮐﮭـﮍﯼ ﮨـﻮﮔـﯽ

ﮐﯿـﺎ ﺳـﺎﻣﻨـﮯ ﺟـﺎ ﮐـﮯ ﮨـﻢ ﺣـﺎﻝ ﺍﭘﻨـﺎ ﺳﻨـﺎﺋﯿـﮟ ﮔـﮯ
ﺳـﺮﮐﺎﺭﷺ ﮐﺎ ﺩﺭ ﮨـﻮﮔﺎ، ﺍﺷﮑـﻮﮞ ﮐـﯽ ﺟﮭـﮍﯼ ﮨـﻮگـی

ﮐﭽﮫ ﮨﺎﺗﮫ ﻧـﮧ ﺁﺋـﮯ ﮔﺎ، ﺁﻗﺎ ﷺ ﺳـﮯ ﺟـﺪﺍ ﺭﮦ ﮐـﺮ
ﺳـﺮﮐﺎﺭﷺ ﮐـﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺳـﮯ ﺗـﻮﻗﯿـﺮ ﺑـﮍﯼ ہـو گـی

ﻭﮦ ﺷﯿﺸﮧﺀ ﺩﻝ ﻏـﻢ ﺳـﮯ ﻣﯿـﻼ ﻧـﮧ ﮐﺒﮭـﯽ ﮨـﻮﮔﺎ
ﺗﺼﻮﯾـﺮ ﻣـﺪﯾﻨـﮯ ﮐـﯽ ﺟﺲ ﺩﻝ ﻣﯿـﮟ ﺟـﮍﯼ ﮨـﻮگـی

ﮨـﻮﺟـﺎﺋـﮯ ﺟـﻮ ﻭﺍﺑﺴﺘـﮧ ﺳـﺮﮐﺎﺭﷺ ﮐـﮯ ﻗـﺪﻣـﻮﮞ ﺳـﮯ
ﮨـﺮ ﭼﯿـﺰ ﺯﻣـﺎﻧـﮯ ﮐـﯽ ﻗـﺪﻣـﻮﮞ ﻣﯿـﮟ ﭘـﮍﯼ ﮨـﻮﮔـﯽ

محمدﷺ محمدﷺ محمدﷺ محمدﷺ محمدﷺ

28/05/2022

*میـاں جی کی ٹـوپی،*

ایک میاں جی ٹرین میں سفر کر رہںے تھے، ان کے پاس بیٹھے شاستری جی انہیں غور سے دیکھنے لگے،

میاں جی نے وجہ پوچھی تو شاستری جی نے کہا،

کہ "کیا یہ وہی ٹوپی نہیں ہںے جو تم نے پہن رکھی ہںے؟ ہمارے دادا بھی یہی ٹوپی پہنا کرتے تھے تمھیں کہاں ملی؟

آپ کہاں سے ہیں
میاں جی..... "ایودھیا"

یہ جواب سن کر شاستری جی اچھل پڑے اور کہنے لگے،

وہ "تو یہ ضرور میرے دادا کی ٹوپی ہںے" وہ بھی کپڑے کی ٹوپی تھی، تم مجھے میرے دادا کی ٹوپی واپس کر دو!

"یہ ہمارے ایمان کے بارے میں ہںے"

میاں جی کہنے لگے بھائی یہ ٹوپی ہمارے بابا کی آخری نشانی ہںے وہ یہ ٹوپی پہن کر جمعہ کی نماز پڑھا کرتے تھے،

لیکن شاستری جی نے کہا... "میں نے اسلام کا مطالعہ کیا ہںے،

نماز کے دوران ٹوپی پہننا واجب نہیں، لہٰذا یہ ٹوپی مجھے دے دیں،
میاں جی کنفیوزیا گئے تھے!

اب شاستری جی کے ساتھ ڈبّـے میں بیٹھے مشرا، پانڈے، چوبـے جیسے اور بھی کئی لوگ ٹوپی دینے کا زور زور سے مطالبہ کرنے لگے!

نہ صرف یہ، بلکہ کونے میں بیٹھے سفید داڑھی میں پگڑی باندھے بزرگ مولانا نے یہ بھی کہا کہ ٹوپی دینے سے کیا نقصان ہوگا؟

ڈبّہ میں امن اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے کے لئے اپنی یہ ٹوپی دیں،

اسی وقت ایک سادھوی اٹھی اور نعرے لگانے لگی،

*"ایک دھکا اور دو، ٹوپی اتار دو"*

اس پر میاں جی ڈرنے لگے کہ کہیں یہ لوگ زبردستی میری ٹوپی کھینچ کر مار نہ دیں،

چنانچہ اس نے ٹرین کی زنجیر کھینچی اور گارڈ کو بلا کر شکایت کی،

پھر گارڈ نے کہا...... "تم دونوں کے پاس کیا ثبوت ہںے کہ ٹوپی تمہاری ہںے؟

*دونوں خاموش!*

پھر گارڈ نے حکم دیا کہ ٹوپی پھاڑ کر دونوں آدھی آدھی لے لو!

میاں جی اپنے والد کی ٹوپی پھٹی ہوئی نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور وہ ٹرین ڈبّہ کے خراب ماحول کو بھی محبت میں بدلنا چاہتے تھے،

اسی لئے تنگ آکر میاں جی نے ٹوپی اتار کر شاستری جی کو دے دی،

اب ڈبـّے میں خوشی اور جوش کا ماحول تھا!

کچھ لوگوں نے چیخ کر کہا کہ..
"ٹوپی ایک جھانکی ہںے،

*ابھی کرتہ اور پاجامہ آنا باقی ہںے"*

اب ایسے نعروں سے جمن میاں کے ہوش اُڑ گئے، کیونکہ یہ نعرے اب حقیقت میں بدل رہںے تھے!

سامنے چوبـے جی دعویٰ کر رہںے تھے کہ....

اس کا کُرتا اپنے نانا کے کُرتے سے ملتا ہںے،

ثبوت کے لئے موبائل کی تصویر میں اس نے اسی رنگ کا کرتہ بھی دکھا

28/05/2022

*👈امـامِ مـسـجـد کی بـد دُعـا کا اثـر👇*
*ہر مسجد میں تین چار ایسے بندے لازمی ہوتے ہیں جو امام کے ساتھ مفت کی دشمنی پالتے ہیں*
*مسجد کا امام ہونا بھی عجیب منصب ہے*
*کوئی بھی شخص امام پر اعتراض کر سکتا ہے*
*اور کوئی بھی ڈانٹ ڈپٹ کا حق رکھتا ہے*
*امام کیسا بھی عالی مرتبہ اور عظیم کردار کا مالک کیوں نہ ہو مقتدیوں کی جلی کٹی باتوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھئے جلیلُ القدر صحابی ہیں پہلے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں*
*اور عشرہ مبشّرہ میں سے ہیں رسول اللّٰہ ﷺ جنہیں اپنا ماموں فرما رہے ہیں*
*ان کے حق میں قرآن کی آیتیں نازل ہو رہی ہیں واحد ایسے صحابی ہیں جن کے لئے رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنے والد اور والدہ کو جمع کرتے ہوئے فرمایا: فِدَاكَ اَبِیْ وَاُمِّی*
*تجھ پہ میرے ماں اور باپ قربان*
*جن کے دل میں کسی مسلمان کے لئے بغض وحسد نہ تھا مستجاب الدّعوات تھے*
*رسول اللّٰہ ﷺ کی معیت میں تمام تر غزوات میں شریک ہوتے ہیں راہِ خُدا کے پہلے تیر انداز ہیں خود رسول اللّٰہ ﷺ آپ کو سالارِ لشکر مقرر فرما کر خرار کی جانب روانہ فرماتے ہیں آپ کے ہاتھ پر بہت سی فتوحات ہوئیں لیکن جب امارتِ کوفہ کے دوران مصلائے امامت پہ کھڑے ہوتے ہیں*
*تو کوفہ والوں کے اعتراضات کا محور بن جاتے ہیں*
*کوفہ والے حضرت عمر فاروقؓ کو شکایات بھجواتے ہیں اور ان میں ایک شکایت یہ بھی ہوتی ہے کہ سعد بن ابی وقاصؓ نماز ٹھیک نہیں پڑھاتے*
*وہ شخص جس نےنماز اللّٰہ کے نبی ﷺ سے سیکھی*
*اس شخص کی نماز پر دیہاتیوں کا اعتراض....*

*بالکل آج کل جیسے حالات کا منظر پیش کر رہا ہے آج کے آئمہ نے نماز اگرچہ براہ راست رسول اللّٰہ ﷺ سے نہیں سیکھی مگر رسول اللّٰہ ﷺ کے اقوال سے سیکھی ہے ان علماء کو نشانۂ تنقید بنایا جاتا ہے*
*بہر حال! جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچتی ہے تو عمر فاروقؓ تحقیقِ احوال کے لیے کوفہ والوں کی طرف محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ کو بھیجتے ہیں جو ایک ایک مسجد میں جاکرحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں پوچھتے ہیں*

*حیرت کی بات ہے کہ شکایات کوفہ سے چل کر مدینہ پہنچیں، لیکن محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ جس سے بھی سوال کرتے ہیں تو جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی تعریف ہی سننے کو ملتی ہے ایک ایک مسجد میں جاکر پوچھا لیکن کسی کی طرف سے کوئی اعتراض موصول نہ

27/05/2022

Admission Open for 2022/23
Time to contact 10am to 12pm

Want your school to be the top-listed School/college in Khalilabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Pathan Tola
Khalilabad
272175