Madrasa Talimul Quran

Madrasa Talimul Quran This Page About Madrada Arabia Talimul Quran Semriyawan Sant kabir Nagar UP.

جامع مسجد مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر ( ملحقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ )
26/05/2026

جامع مسجد مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر
( ملحقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ )

مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں میں انجمن الاصلاح کے عہدے داران کا انتخاب نو عمل میں آیامدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں ضل...
15/05/2026

مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں میں انجمن الاصلاح کے عہدے داران کا انتخاب نو عمل میں آیا

مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں ضلع سنت کبیر نگر ملحقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں سال رواں انجمن الاصلاح کا افتتاحی پروگرام منعقد ہوا
جس میں انجمن الاصلاح کے عہدے داران کا بھی انتخاب نو عمل میں آیا جس میں ذیشان احمد بن مولانا ذوالفقار احمد عالیہ اولی شریعہ کو انجمن الاصلاح کا ناظم ، وحید الحق بن حافظ مظہر الحق کو نائب ناظم، محمد ندیم بن قاری صدر الدین کو امین العام اور عبد الرحمن عالیہ اولی کو نائب امین العام مقرر کیا گیا، معتمد دار الکتب عہدہ کے لئے محمد طلحہ ثانویہ خامسہ ،نائب کے لئے ابرار احمد اور معاون کے لئے محمد عبید ثانویہ خامسہ کا انتخاب کیا گیا ، اسی طرح معتمد بزم صحافت کے لئے عبد السلام عالیہ اولی ان کے نائب کے طور پر فہیم الدین اور جوہر علی کو کثرت رائے کی بنیاد پر منتخب کیا گیا جب کہ معتمد بزم ثقافت اسعد اللہ اور نائب تحسین اختر کو متعین کیا گیا - اس کے علاوہ جداری پرچے ماہنامہ نوید صبح ،شاہین ،البدر ،وائبریشن آف پین اور اجول بھوشیہ کے ایڈیٹران ،ان کے نائبین ،امناء صفوف ،امناء غرف،ارکان اور ہر بزم کے سرپرست بھی منتخب کئے گئے

غفران احمد ندوی
صدر مدرس مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر

اعلان داخلہ قدیم وجدید مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر ملحقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
23/03/2026

اعلان داخلہ قدیم وجدید
مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر ملحقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

عید مبارک
20/03/2026

عید مبارک

مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر ملحقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
20/03/2026

مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر ملحقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

خوش خبریخصوصی پانچ سالہ اور سات سالہ عالمیت کورسالحمد للہ آپ کے محبوب دینی اور تعلیمی ادارہ مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمر...
18/03/2026

خوش خبری

خصوصی پانچ سالہ اور سات سالہ عالمیت کورس

الحمد للہ آپ کے محبوب دینی اور تعلیمی ادارہ مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر یوپی (ملحقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) میں انٹر میڈیٹ پاس طلبہ کے لئے صرف پانچ سال میں اور حافظ طلبہ کے لئے سات سال میں مستند عالم دیں بننے کا آسان کورس شروع کردیا گیا ہے،
ان شاء اللہ انٹرمیڈیٹ پاس طلبہ کو محض تین سال اور حافظ طلبہ کو چار سالوں میں ابتدائی ضروری تعلیم دے کر دار العلوم ندوة العلماء لکھنو بھیج دیا جائے گا جہاں پر انٹرمیڈیٹ پاس طلبہ مزید دو سال اور حافظ طلبہ تین سال عالیہ کی تعلیم حاصل کر کے فراغت کی سند حاصل کریں گے، اور ان شاء اللہ تعالی معتبر عالم دین بن کردین اسلام کی نشر و اشاعت کا فریضہ انجام دیں گے ۔
منیر احمد ندوی
مہتمم مدرسہ
غفران احمد ندوی
صدر مدرس

رابطہ نمبر
9918675748,8176027200

مفکر الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کا یوم وفات ٢٢/ رمضان المبارک  خاص پیشکش غفران احمد ندوی صدر مدرس مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن س...
12/03/2026

مفکر الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کا یوم وفات ٢٢/ رمضان المبارک

خاص پیشکش

غفران احمد ندوی
صدر مدرس مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر یوپی

میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ جس شخصیت سے متاثر ہوا وہ عالم اسلام کے عظیم داعی مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی ہے، حیرت کی بات ہے کہ حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ سے میری ملاقات کبھی نہیں رہی اور نہ ہی مجھے براہ راست ان کے دیدار کا شرف ملا کیونکہ حضرت مولانا کا سانحہ ارتحال جب 31/دسمبر 1999 عیسوی مطابق ٢٢/رمضان المبارک ١٤٢٠ ھجری جمعہ کے دن ہوا اس وقت میری عمر تقریبا 9/ سال ہی تھی اور آپ کے بارے میں زیادہ کچھ سنا بھی نہیں تھا ،زمانہ طالب علمی میں اساتذہ کی زبانی جب حضرت مولانا کے علمی ودعوتی اسفار ،امت کی بے لوث خدمات ،قائدانہ صلاحیت ،زھد وتقوی ،قناعت وپرہیزگاری ،تواضع وانکساری ،اور عرب دنیا میں بے پناہ مقبولیت کا تذکرہ سنا تو عقیدت و محبت کی بنیاد پڑی اور دھیرے دھیرے اس میں اضافہ ہوتا گیا، حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی کئی درسی اور غیر درسی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا ، دوران درس اساتذہ سے بہت سے واقعات اور کارناموں کا تذکرہ سنا، جس سے بھی سنا صرف تعریف و توصیف ہی سنی تو طبیعت کا میلان ان کی طرف ہونا اور متاثر ہونا بعید از قیاس نہیں ہے.
حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کا اس دنیا سے چلا جانا پورے عالم اسلام اور ملت اسلامیہ کیلئے ایک بڑا خسارہ تھا، حضرت مولانا ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ،اخلاق عالیہ کے پیکر تھے ،امانت دار تھے ،ہر ایک کیلئے ہمدرد وغم خوار تھے ،ملت اسلامیہ کے لیے سرمایہ افتخارتھے، علم کے ناپید کنار تھے، آپ کی علمی اور دعوتی خدمات سے پورا آفاق روشن ہے ،تواضع اور خاکساری آپ کی سب سے ممتاز خاصیت تھی ،حضرت مولانا کے خادم خاص حاجی عبد الرزاق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بقول کہ میں 1960 عیسوی سے مستقل حضرت کے ساتھ سفر و حضر میں رہا حضرت کا سب سے ممتاز خاصہ تواضع وانکساری تھی ،اس چالیس سال کی طویل مدت میں صرف ایک بار کسی بات پر حد درجہ ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اتنا فرمایا "تکلیف ہوئی" زھد وقناعت میں آپ کا کوئی ثانی نہیں، مصر کے بہت بڑے عالم اور الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین کے بانی علامہ یوسف القرضاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب" الشیخ الندوی کما عرفتہ" میں لکھا ہے والحقيقة أني لم أر في عصرنا مثله في زهده في الدنيا، کہ میں نے اپنی زندگی میں مفکر اسلام حضرت الشیخ ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ سے بڑا زاھد اور دنیا سے بے رغبت انسان نہیں دیکھا، وہ اپنی گراں قدر خدمات کے بدلے کبھی معاوضہ نہیں لیتے تھے، اس حوالے سے انہوں نے بے شمار واقعات لکھے ہیں ، 12/فروری 1980عیسوی میں اسلامی دنیا میں نمایاں علمی وعملی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ریاض میں شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا، حکومت سعودی عرب کا یہ اعزاز دو لاکھ چالیس ہزار ریال پر مشتمل تھا ھندوستانی قیمت تقریبا 24 لاکھ تھی، آپ نے اس رقم کا آدھا افغان میں پناہ لینے والے غرباء ومساکین اور بقیہ آدھا مکہ مکرمہ کے دو دینی اداروں کو تقسیم کردیا،
1999 عیسوی میں دبئی کے بین الاقوامی حُسن قرات کے عالمی مقابلہ کے موقع پر عالم اسلام کی عظیم اسلامی شخصیت کے نام سے ایوارڈ دیا گیا، یہ رقم بھی حضرت مولانا نے ھندوستان کے دینی اداروں میں تقسیم کردی، جس کی ہندوستانی قیمت تقریبا 1/ کروڑ 20 لاکھ تھی،
آپ کی ولادت باسعادت ٦/ محرم الحرام ١٣٣٢ ھجری مطابق 5/ دسمبر1913 عیسوی بروز جمعہ گاؤں تکیہ کلاں رائے بریلی، اترپردیش میں ہوئی ،والد ماجد کا نام حکیم سید عبد الحی اور والدہ ماجدہ کا نام خیر النساء بہتر تھا ، ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے حاصل کی، اس کے بعد مولانا سید عزیز الرحمن حسنی اور مولانا محمود علی صاحب سے قرآن کریم ،اردو اور فارسی کا درس لیا ،عربی تعلیم کا باقاعدہ آغاز شیخ خلیل عرب بن محمد انصاری یمانی اور ڈاکٹر علامہ تقی الدین ہلالی مراکشی کے سامنے کیا،
آپ نے لکھنو یونیورسٹی میں علوم شرقیہ کے شعبہ میں داخلہ لیا اور اپنی کم عمری کے باوجود یونیورسٹی سے فاضل ادب کی امتیازی سند حاصل کی،
پھر دار العلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا یہاں کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1932عیسوی میں دار العلوم دیوبند جا کر شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے علم حدیث کے اسباق سے خصوصی استفادہ کیا،
آپ نے درمیان میں انگریزی زبان سیکھنے کی طرف بھی توجہ دی جس میں ضرورت کے مطابق کافی حد تک کامیابی حاصل کی ،
1934/ عیسوی میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ایک مدرس کی حیثیت سے درس وتدریس کے فرائض انجام دینے لگے، اس کے بعد علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ کی تجویز پر نائب معتمد تعلیم اور ان کی وفات کے بعد معتمد تعلیم مقرر کئے گئے اور 1961 عیسوی میں برادر اکبر ڈاکٹر عبد العلی حسنی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد ندوہ کے ناظم منتخب ہوئے، آپ نے اپنی پوری زندگی دینی ودعوتی خدمات میں صرف کر دی ، بے شمار کتابیں لکھیں جو عند اللہ وعند الناس بہت مقبول ہوئیں، جس کی عبارتیں اھل علم کے نزدیک متن کی حیثیت رکھتی ہیں،بعض ائمہ حرم مولانا کی عربی عبارتیں اپنے خطبہ میں نقل کرکے اپنی باتوں کو موکد و مدلل کرتے تھے، لیکن بعد میں حکومت کی طرف سے اس پر مصلحت کی بنیاد پر روک لگا دی گئی ،1988 میں حرم شریف میں حاضری کے وقت خانہ کعبہ کی کلید پیش کی گئی اور اندر جاکر عبادت و دعا کا شرف ملا، پوری زندگی اتحاد امت میں لگے رہے، ہندوستان کے علاوہ بہت سارے ملکوں کا دعوتی سفر کیا جس میں لاہور ،حجاز ،مصر ،سوڈان ،شام ،اردن،فلسطین ،ترکی ،لبنان ،برما،کویت ،یمن ،لندن ،پیرس ، اسپین امریکہ ،افغانستان عراق ،لبنان ،ایران ،سری لنکا ،بنگلہ دیش ،بلجیم ،ملیشیا ،تاشقند ،سمرقند ،بخارا ،برطانیہ ،پاکستان ،قطر ،سوڈان ، نیپال وغیرہ دنیا کے بیشتر ملکوں کا دعوتی سفر کیا اور اپنی مؤثر زبان وبیان اور تحروں کے ذریعہ ملت اسلامیہ کو خوب خوب فائدہ پہونچایا ،
غیر معمولی قائدانہ صلاحیت کی بنیاد پر پورے عالم کے مختلف تعلیمی اداروں اور ملی تنظیموں کے صدر اور رکن بنائے گئے جو مندرجہ ذیل ہیں،
عالمی رابطہ ادب اسلامی ،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ھندوستان ، اسلامک سینٹر آکسفورڈ یونیورسٹی لندن ، دینی تعلیمی کونسل اترپردیش ،دار المصنفین اعظم گڑھ ،مجلس تحقیقات ونشریات لکھنؤ ، تحریک پیام انسانیت ھندوستان کے صدر اور تقریبا 13 /بیرونی ملک کے تعلیمی اداروں اور تنظیموں کے رکن رہے.

مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر میں رواق محمد الحسنیؒ  کے اوپر 8/کمروں کی تعمیر کا کام الحمد للہ اب تکمیل...
09/03/2026

مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر میں رواق محمد الحسنیؒ کے اوپر 8/کمروں کی تعمیر کا کام الحمد للہ اب تکمیل کے قریب ہے، کام بڑا ہے ، اس لئے مزید توجہ اور تعاؤن کی درخواست کی جا رہی ہے.
آپ حسب استطاعت اس کارِ خیر میں حصہ لے کر صدقۂ جاریہ کا باعث بنیں، آپ کا دیا ہوا ہر روپیہ نہ صرف آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے گا بلکہ ان شاء اللہ ایک نسل کی دینی تربیت میں معاون ثابت ہو گا
اللہ تعالیٰ آپ کی اس نیکی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، آپ کے رزق و صحت میں برکت عطا فرمائے، اور آپ کو دین و دنیا کی کامیابی نصیب فرمائے۔ آمین

غفران احمد ندوی
صدر مدرس مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر
رابطہ نمبر 8176027200

اپیل
03/03/2026

اپیل

Address

Semriyawan Bazar Distt Sant Kabir Nagar
Khalilabad

Opening Hours

Monday 8am - 4pm
Tuesday 8am - 4pm
Wednesday 8am - 4pm
Thursday 8am - 12pm
Saturday 8am - 4pm
Sunday 8am - 4pm

Telephone

9918675748

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madrasa Talimul Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Madrasa Talimul Quran:

Shortcuts

Share

Category