Firoz alam salafi
Is page me Islam ke woh zaruri ahkaam o masayel bataye jayenge Jo har musalmaan ko Janna zaruri hai and Duniya o Aakherat me Kaabyabi ka sabab hai. ان شاءاللہ
سالانہ انجمن کیلئے ایک مضمون ترتیب دیا ۔ ( فاطمہ ماڈل اسکول کے طالبات کے لئے )
*اسلام میں خواتین کا مقام اور پردہ*
ایک عرصہ سے مغربی ذرائع ابلاغ اور مغرب زدہ افراد اور تنظیموں کی طرف سے مسلسل یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ اسلام نے عورت کو کچھ نہیں دیا اور اسے اس کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ۔ حالانکہ ایک جھوٹ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ کیونکہ عورت کو جو مقام اسلام نے دیا ہے وہ اسے کسی دوسرے مذہب سے نہیں ملا۔
اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ دور جاہلیت میں عورت کو کتنی حقیر ترین مخلوق سمجھا جاتا تھا، دنیا میں نہ اس کے کوئی حقوق تھے نہ معاشرہ میں اس کی کوئی عزت بلکہ اس کے ساتھ جنگلی مخلوق جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔
کہیں اسے نیلامی کے طور پر خرید و فروخت کیا جاتا ، وراثت سے محروم رکھا جاتا، باپ کی بیوی کو اس کی موت کے بعد حلال سمجھا جاتا، گھر اور معاشرہ کے لیے منحوس بتا کر تنہائی کے سپرد کر دیا جاتا تو کہیں اسے زندہ دفن کر دیا جاتا۔ عالم یہ تھا کہ ان میں سے کسی شخص کو جب اس کے گھر میں بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ کالا سیاہ ہو جاتا اور وہ مارے شرم کے لوگوں سے چھپتا پھرتا اور غم میں نڈھال ہو کر سوچتا رہتا کہ اب اس لڑکی کی وجود کو ذلت و رسوائی کے ساتھ برداشت کر لے یا اسے زندہ درگور کر دے
اس کے برعکس اسلام نے "ان اللہ حرم علیکم عقوق الامھات وواد البنات " کا اعلان کر کے معاشرہ میں عورت کے مقام کو بلند کیا ، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے سے روکا ۔ اور" من عال جاریتین دخلت انا وھو الجنۃ کھاتین و اشار بأصبعیہ " فرما کر بیٹیوں کی پرورش کرنے والے کو جنت کی خوشخبری سنائی
اتنا ہی نہیں بلکہ ظلم بے حیائی رسوائی تباہی و بربادی سے بچا کر اسے تحفظ عزت سربلندی مقام و مرتبہ سے نوازا، اور اس کے حقوق کو بھی اجاگر کیا۔ وراثت میں حصہ مقرر کیا، بہن بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے اس کے فرائض و واجبات بتلائے اور اسے اپنے گھر کے سب سے اعلی منزل پر فائز کیا، جہاں اسے باپ بھائی شوہر اور اولاد کی محبت حاصل ہوئی اور اس کے حقوق و اختیارات بھی محفوظ ہوئے ۔
برادران اسلام!
دین اسلام نے انسان کو جو عزت و احترام دیا ہے اس میں مرد و عورت دونوں برابر شریک ہے۔ اور وہ اس دنیا میں اللہ تعالی کے احکامات میں برابر ہیں اسی طرح اخرت میں اجر و ثواب میں بھی برابر ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ۔
فَٱسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّى لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَـٰمِلٍۢ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۖ ال عمران 195
پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی کہ تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو چاہے وہ مرد ہو یا عورت میں ضائع نہیں کرتا تم سب آپس میں برابر ہو۔
اور فرمایا "وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ" اور اچھائی کے ساتھ ان عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہے جیسے ان پر مردوں کے ہیں ( البقرہ 228)
اور ایک مقام پر فرمایا
" وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا [ النساء 124]
اور جو بھی ایمان کی حالت میں اعمال صالحہ کرے چاہے وہ مرد ہو یا عورت یقینا ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا۔
عورت اگر ماں ہو تو اسلام نے اس کے ساتھ بھی حسن سلوک کی ترغیب دی ہے قران مجید میں اللہ تعالی نے اپنے حق کے بعد سب سے پہلے ماں باپ کا حق بیان کیا ہے اور بار بار والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی ہے اور انہیں جھڑکنے حتی کہ اف تک کہنے سے منع فرمایا ہے
یہ ہے وہ عزت و تکریم اور مقام و مرتبہ جو اسلام نے عورت کو عطا کیا ہے جس کی مثال نہ تو کسی اور دین میں پائی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی قانون میں مل سکتی ہے۔
معزز سامعین و سامعات!
عورت کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لیے دنیا و آخرت میں ان کی بھلائی کے لیے دین اسلام نے چند اصولوں و ضوابط مقرر کیے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم ضابطہ پردہ ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے۔
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَـٰبِيبِهِنَّ ۚالاحزاب 59
اے نبی اپنی بیویوں سے اپنی بیٹیوں سے اور تمام مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں.
اور فرمایا "وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَـٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ " زمانہ جاہلیت کی طرح بے پردگی اور بناؤ سنگار نہ کیا کرو۔
جہاں اللہ تعالٰی نے عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے تو مردوں کو بھی آزاد نہیں چھوڑا بلکہ نظریں جھکانے کا پابند بنایا ہے۔
پردہ کرنا تمام خواتین اسلام پر فرض ہے۔ ان کی عزت و عصمت کی حفاظت کا ذریعہ ہے، ہوس کے پجاریوں کی نگاہوں سے بچنے کیلئے ایک ڈھال ہے اس لیے بغیر پردہ کے گھر سے باہر نکلنا حرام ہے ۔
لیکن آج پردہ کو قید وبند اور مانع ترقی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اور یہ دعوت دیا جا رہا ہے کہ تم پردہ سے آزاد ہو جاؤ، مردوں کے شانہ بشانہ چلو، حالانکہ یہ دعوت عورتوں کو بربادی کی طرف ڈھکیلنے کے برابر ہے کیونکہ اس کی پیچھے دعویداروں کا مقصد اور عورتوں کی ترقی نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ مردوں کے لیے عورتوں کو شکار کرنا اسان ہو جائے اور جو شخص جب چاہے جہاں چاہے اور جسے چاہے اپنے دام فریب میں گرفتار کر کے اس کی عزت کو تار تار کر دے جیسا کہ افسوس صد افسوس آج ہو رہا ہے۔
پردہ کا مقصد عورت کو قید کرنا نہیں ہے بلکہ ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا اور دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی ہے۔ جو عورت پردہ نہیں کرتی در اصل وہ اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رہی ہے۔ اور تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔
اخیر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تمام مسلمان عورتوں کو ہدایت دے اور پردہ کرنے کی توفیق عنایت فرما ۔ آمین تقبل یا رب العالمین۔
جمع و ترتیب: فیروز عالم
30/06/2023
آمین 🤲
۔
۔
۔
28/06/2023
تقبل اللہ منا و منکم صالح الأعمال
28/06/2023
Eid special
24/06/2023
Right to islam
20/06/2023
15/06/2023
🤲🤲🤲🤲🤲
15/06/2023
aur
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Sonaili
Katihar
24/07/2025