Jamia Razviya Gulshan E Barkaat

Directions

Jamia Razviya Gulshan E Barkaat Jamia Razviya Gulshane barkat kadaura jalaun

27/08/2026
हज-2027 जागरूकता अभियान संपन्न, हज यात्रियों को दी गई महत्वपूर्ण जानकारी, 'एक पेड़ मां के नाम' अभियान के तहत हुआ वृक्षार...
18/07/2026

हज-2027 जागरूकता अभियान संपन्न, हज यात्रियों को दी गई महत्वपूर्ण जानकारी, 'एक पेड़ मां के नाम' अभियान के तहत हुआ वृक्षारोपण
कदौरा (जालौन)। उत्तर प्रदेश सरकार एवं उत्तर प्रदेश राज्य हज समिति के निर्देशानुसार शुक्रवार को जामिया रजविया गुलशने बरकात, हरचंदपुर रोड, कदौरा में हज-2027 के प्रति प्रचार-प्रसार एवं जागरूकता अभियान का आयोजन किया गया। कार्यक्रम में हज यात्रा से संबंधित नियमों, आवेदन प्रक्रिया, आवश्यक दस्तावेजों, स्वास्थ्य संबंधी सावधानियों एवं सरकारी व्यवस्थाओं की विस्तृत जानकारी दी गई।
कार्यक्रम के मुख्य अतिथि जनाब कमरुद्दीन जुगनू भाई, माननीय सदस्य, उत्तर प्रदेश राज्य हज समिति (लखनऊ) रहे। विशिष्ट अतिथि के रूप में नीरज कुमार, जिला अल्पसंख्यक कल्याण अधिकारी, जालौन
चंद्र मोहन शुक्ला साहब
नायब तहसीलदार कालपी उपस्थित रहे। कार्यक्रम में कारी सईद अख्तर (सदर), मोहम्मद असद रज़ा (मैनेजर), कारी रज़ा हुसैन (प्रिंसिपल, जामिया रजविया गुलशने बरकात) तथा हाजी जहाँगीर मोहम्मद (हज ट्रेनर, हज कमेटी ऑफ इंडिया, हमीरपुर) मुराद मंसूरी रानू मंसूरी चांद खान लतीफ खान सहित अनेक गणमान्य नागरिक मौजूद रहे।
मुख्य अतिथि कमरुद्दीन जुगनू भाई ने उपस्थित लोगों को हज यात्रा की तैयारियों, नियमों एवं अनुशासन के बारे में विस्तार से जानकारी देते हुए कहा कि सभी हज यात्री समय से आवश्यक औपचारिकताएं पूरी करें और सरकार द्वारा जारी दिशा-निर्देशों का पालन करें।
कार्यक्रम के दौरान उत्तर प्रदेश सरकार के "एक पेड़ मां के नाम" अभियान के अंतर्गत मुख्य अतिथि कमरुद्दीन जुगनू भाई ने पौधारोपण कर पर्यावरण संरक्षण का संदेश दिया। उन्होंने उपस्थित लोगों से अपनी माता के सम्मान में कम से कम एक पौधा लगाने तथा उसकी नियमित देखभाल करने का आह्वान किया। उपस्थित अतिथियों एवं लोगों ने भी वृक्षारोपण कर पर्यावरण संरक्षण का संकल्प लिया।
कार्यक्रम के अंत में आयोजकों ने सभी अतिथियों का स्वागत एवं आभार व्यक्त करते हुए हज यात्रियों से जागरूकता अभियान का लाभ उठाने और सरकार द्वारा निर्धारित सभी नियमों का पालन करने की अपील की।

हज-2027 के प्रति प्रचार-प्रसार एवं जागरूकता अभियानदिनांक : 17 जुलाई 2026, दिन – शुक्रबारस्थान : जामिया रजविया गुलशने बरक...
13/07/2026

हज-2027 के प्रति प्रचार-प्रसार एवं जागरूकता अभियान
दिनांक : 17 जुलाई 2026, दिन – शुक्रबार
स्थान : जामिया रजविया गुलशने बरकात हरचंदपुर रोड़, कदौरा, जालौन

मुख्य अतिथि :
जनाब कमरुद्दीन जुगनू भाई माननीय सदस्य उत्तर प्रदेश राज्य हज समिति (लखनऊ)

विशिष्ट अतिथि :
नीरज कुमार साहब जिला अल्पसंख्यक कल्याण अधिकारी, जालौन

मिनजनिबः अराकीन जामिया रजविया गुलशने बरकात कदौरा

مفتی اعظم  بندیل کھنڈ  حضرت علامہ مفتی عبد الوحید مصباحی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدماتپیدائش:آپ کی پیدائش 20 ذی الحجہ 1...
03/07/2026

مفتی اعظم بندیل کھنڈ حضرت علامہ مفتی عبد الوحید مصباحی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات

پیدائش:
آپ کی پیدائش 20 ذی الحجہ 1392 ھ بمطابق: 5 فروری 1972ء بروز سنیچر، بندیل کھنڈ کے جالون ضلع کی کالپی تحصیل کے چتیلہ گاؤں میں ہوئی۔

نام و نسب:

آپ کا اسم گرامی عبد الوحید ابن عبد القدوس ابن حاجی عنایت بیگ ابن اکرام بیگ (رحمھم اللہ تعالیٰ) ہے۔ اپنے علاقے اور رشتہ داروں میں "آزاد مولانا" اور پھر "مفتی اعظم بندیل کھنڈ" و "محدث صغیر" کے لقب سے مشہور ہوئے۔

ابتدائی تعلیم:
سات سال کی عمر میں اپنے ابائی گاؤں چتیلا میں استاد محترم حافظ خواجہ شبراتی صاحب کی درس گاہ میں رسم بسم اللّٰہ خوانی ہوئی۔ نو سال کی عمر میں حفظ شروع کیا اور محض ایک سال نو مہینے کی قلیل مدت میں حفظ قرآن کی تکمیل فرمائی۔

اعلی تعلیم:
اس کے بعد 1981 میں مدرسہ احسن المدارس کانپور میں دور کے ساتھ قراءت کا کورس کیا، 1983 میں کرلا ممبئی کے مدرسہ محبوب سبحانی میں درس نظامی کی ابتدائی جماعتیں اعدادیہ و اولی پڑھیں، 1985 میں واپس آگئے اور 1986 میں میں بدایوں شریف گئے اور 1989 تک امام علم و فن خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ کی نگرانی میں تعلیم حاصل کی 1990 میں الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور پہنچے اور 1994 میں الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور سے ممتاز حیثیت میں فراغت ہوئی۔

اجازت و خلافت:
آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کو پیر طریقت حضرت سید حسنین میاں نظمی مارہرہ مطہرہ
و ولی کامل حضور ضیائے ملت کالپی شریف
و شہزادۂ برہان ملت حضور محمود ملت حضرت علامہ مفتی محموداحمد صاحب قبلہ جبل پور عليهم الرحمة والرضوان
سے خلافت و اجازت حاصل تھی۔

تدریسی خدمات:
الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور سے 1994 میں فراغت کے بعد سے 1998 تک دا العلوم ربانیہ باندہ میں تدریسی خدٹ انجام دیں۔ اس کے بعد 1998 سے لے کر 2003 تک الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اسی دوران آپ نے قصبہ کدورہ میں جامعہ رضویہ گلشن برکات کی بنیاد رکھی۔ اور پھر اپنے ہی ادارہ میں تدریسی و تنظیمی خدمات انجام دیں 2005 سے ساؤتھ افریقہ کے مالاوی میں غالباً "مدرسہ نور الاسلام" میں 2008 تک تدریسی خدمات انجام دیں۔
اور پھر اس کے بعد سے تا دم وصال اپنے ادارہ جامعہ رضویہ گلشن برکات، کدورہ، جالون میں تشنگان علوم نبویہ کو سیراب فرماتے رہے۔

کارنامے:
جامعہ رضویہ گلشن برکات:
آپ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے اتنی قلیل مدت میں ایسے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں جو عام طور پر بہت لمبی عمر کے خواہاں ہوتے ہیں۔
تقریباً دس بیگھہ سے زائد زمین پر جامعہ رضویہ گلشن برکات کی شاندار عمارت دیکھتے ہی بنتی ہے۔

امام احمد رضا لائبریری:

جامعہ رضویہ گلشن برکات کی شاندار امام احمد رضا لائبری آپ کے ذوق مطالعہ کی عمازی کرتی ہے۔ ہزاروں کتابوں پر مشتمل اتنی بڑی مذہبی لائبریری شاید ہی علاقے میں کہیں اور ہو۔

رضا انٹر کالیج:

علاقے میں مسلم بچوں کی دنیاوی تعلیم کے پیش نظر آپ نے رضا انٹر کالیج کی وسیع عریض عمارت تعمیر کرائی اور تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جو آج بھی پوری آن بان کے ساتھ نہ صرف جاری و ساری ہے بلکہ قصبے کے تمام کالیجز سے اچھا رزلٹ دینے میں بھی کامیاب ہے۔

سلطان الھند جامع مسجد:

جامعہ میں سلطان الھند جامع مسجد کی دیدہ زیب عالی شان عمارت سے گونجنے والے حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح نغمے آج بھی مسلمانان کدورہ و اطراف کو اپنے دامن میں سمیٹنے کو بیتاب ہیں۔

ڈائننگ ہال:
طلبہ کی سہولت کے پیش نظر تمام تر جدید سہولیات سے آراستہ ڈائننگ ہال بھی دعوت نظارہ دے رہا ہے۔

اماموں کی تقریری:
اطراف کے دیہاتوں کی مساجد میں اچھے امام رکھوانا حضرت کی دلی خواہش تھی اس کے لیے اطراف کے لوگقں سے فرماتے آپ اچھے امام رکھیں اور اگر تنخواہ کا کوئی مسئلہ ہو تو مجھ سے بتائیں۔
آخری دو سالوں میں تو حضرت نے اطراف کے دیہاتوں میں نماز جمعہ پڑھانے لیے دو علما کو جامعہ رکھا تھا کہ آپ جمعہ کے دن ان مقامات پر جاکر نماز پڑھائیں اور تقریر کریں جہاں کوئی امام نہیں ہے اور یہ سلسلہ تا وقت وصال جاری تھا۔

تصنیفی خدمات:
جن تصنیفات کے نام مجھے یاد ہیں وہ یہ ہیں:

1 معجزات رسول ﷺ
2 سنت و حکمت
3 توبہ و تقوی
4 بیس رکعت تراویح
5 داڑھی کی شرعی حیثیت
6 عورت کی شرعی حیثیت
7 چاند کی شرعی حیثیت
8 حضرت برہان ملت کی حیات و خدمات
9 نکاح کے وقت کلمۂ طیبہ کیوں
10 شرح میزان الصرف

اس کے علاوہ بھی حضرت کی متعدد تصانیف مطبوعہ و غیر مطبوعہ ہیں اور سیکڑوں مضامین و مقالاجات ہیں جو آپ نے تحریر فرمائے ہیں۔

اخلاق و عادات:
اللہ عزوجل نے آپ کو ایسا با اخلاق بنایا تھا کہ آپ سے ایک مرتبہ جو ملاقات کرتا وہ آپ کا گرویدہ ہوکر رہ جاتا۔
آپ کے چہرہ پر ہمیشہ مسکراہٹ نمودار رہتی، ہر چھوٹے بڑے سے ادب کے ساتھ پیش آتے، حتی کہ اپنے شاگردوں کو بھی عزت بخشتے، آپ کا اخلاق اس کمال کو پہنچا ہوا تھا کہ ہر ملاقات کرنے والا یہی تصور کرتا تھا کہ حضرت سب سے زیادہ مجھ سے محبت فرماتے ہیں۔

خوشنما چہرہ، بڑا ہی دلنشیں رنگِ حیات
اسوۂ سرکار کے اک ترجماں عبد الوحید

مسکراتے تو تبسم کرتا تھا سارا وجود
خوش مزاجی کے حسیں اک گلستاں عبد الوحید

بے کہے سب کچھ بیاں کرنے کا جوہر بے مثال
تھے سجائے بولتی خاموشیاں عبد الوحید

اللہ عزوجل نے آپ کو ایسا شفیق و مہربان دل عطا فرمایا تھا کہ اگر آپ کو کوئی خبر دیتا کہ "فلاں نے آپ کے بارے میں یہ کہا ہے."
تو آپ اپنے منفرد انداز میں چشمہ اتارتے ہوئے مسکراتے اور فرماتے "کہنے دیجے، آپ چکر میں مت پڑیں۔"

آپ کی شخصیت عالمانہ جاہ جلال کی مکمل پاس دار تھی۔
عالمانہ شان تھی اُس سیرت و کردار میں
سنیت کے ایک مَہرِ ضوفشاں عبد الوحید

منفرد طریقۂ تدریس:
آپ کا طریقۂ تدریس منفرد تھا آپ کے شاگرد بیان کرتے ہیں کہ حضرت جب مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوتے تو پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو مسکراتے ہوئے حل فرما دیا کرتے تھے۔ اقر آپ کے شاگردوں نے کبھی تشنگی کا احساس نہیں کیا۔
راقم السطور نے خود حضرت سے اصول الشاسی و دیگر کتب پڑھی ہیں، جب حضرت پڑھاتے تو علم کے دریا بہاتے تھے اور ہم سب طلبہ کو تعجب ہوتا تھا کہ حضرت کیسے ہر پہلو پر مختصر الفاظ میں سیر حاصل بحث فرماتے ہیں۔ آپ کا مادۂ تفہیم نہایت شاندار اور منفرد تھا، آپ کم سے کم الفاظ میں مشکل سے مشکل مباحث کو بڑے اچھے انداز میں طلبہ کے ذہنوں میں اتارنے کا ہنر جانتے تھے۔

عالمانہ جاہ جلال:
خوش اخلاقی کے باوجود علمی جاہ و جلال آپ کے چہرے سے عیاں تھا۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی فاتحۂ چہلم میں حضرت رحمہ اللہ تعالی نے افریقہ میں قیام کے درمیان کا ایک واقعہ بیان فرمایا تھا کہ عید کے چاند کا مسئلہ پیدا ہوا۔ وہاں چند چھوٹے چھوٹے ممالک کی ایک تنظیم ہے اور وہی جملہ دینی امور دیکھتی ہے۔
اسی تنظیم کے افراد دو گواہوں کو لے کر 29 کے چاند کی شہادت کے لیے حاضر ہوئے اور حضور مفتی اعظم بندیل کھنڈ رحمہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گواہی پیش کرکے چاند کی تصدیق چاہی، آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی گواہی شرعی اعتبار سے نا قابل قبول ہے۔
اس پر وہ لوگ چراغ پا ہوگئے اور کسی بھی قیمت پر تصدیق چاہی، مگر حضرت نے صاف منع فرمادیا کہ جب تک شرعی اعتبار پر گواہی نہ ہوگی میں اعلان نہیں کروں گا۔
(جب چند ممالک کا معاملہ ہو اور تمام لوگ بضد ہوں ایسی حالت میں بھی آپ کا علمی جاہ و جلال یہ تھا خلاف شرع بات کو قبول نہیں فرمایا۔)
پھر ان لوگوں نے کہا کہ اگر حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ فرمادیں تو ہم مان لیں گے۔
اس کے بعد مفتی صاحب قبلہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کو فون کیا اور حضرت نے تمام گفتگو سماعت فرمانے کے بعد وہی فیصلہ فرمایا جو جو مفتی صاحب قبلہ نے پہلے ہی بتایا تھا اور ساتھ ہی حضرت مفتی اعظم بندیل کھنڈ رحمہ اللہ تعالیٰ کی استقامت کی تحسین فرمائی۔
اللہ تعالیٰ ایسے استقامت اور ایسا عالمانہ جاہ و جلال تمام علما کو ودیعت کو فرماے۔

قوت حافظہ:
آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کا حافظہ بڑا قوی تھا جو بات آپ سن لیتے یا پڑھ لیتے وہ ہمیشہ یاد رہ جاتی تھی۔
یہی وجہ تھی کہ محض ایک سال نو ماہ کی قلیل مدت میں آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے حفظ قرآن کریم کی تکمیل فرمائی۔
اس۔کے علاوہ ابتدائی دوران طالب علمی ہی میں آپ نے "انوار الحدیث" جیسے کتاب مکمل یاد فرما لی تھی۔
حضرت علامہ مقصود صاحب بدایونی (جو کہ حضرت مفتی اعظم بندیل کھنڈ کے ہم سبق رفیق ہیں.) فرماتے ہیں کہ ابتدائی جماعتوں میں میں ہی مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے انوار الحدیث ایسے ہی یاد فرما لی تھی جیسے انہوں نے قرآن مجید یاد رکھا تھا۔
نیز آپ جماعت میں سب سے تیز تھے اور آپ ہی اپنے ہم سبق ساتھیوں کو تکرار کراتے تھے۔
ایک مرتبہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں دوران امتحان فقیہ ملت حضور مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے طلبہ سے سوال کیا کہ "کیا کسی نے انوار الحدیث پڑھی ہے؟"
تو آپ نے جواباً عرض کی حضور مجھے آپ کی مذکورہ کتاب شروع سے آخر تک زبانی یاد ہے۔
حضرت بہت خوش ہوئے اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔
مفتی اعظم بندیل کھنڈ رحمہ اللہ تعالیٰ جب تقریر کے لیے کھڑے ہوتے تو دلائل میں احادیث و آیات کی ایسی کثرت ہوتی تھی کہ سننے والے دم بخود رہ جاتے تھے۔
راقم السطور (محمد شاہد علی مصباحی) کا خود کا مشاہدہ بھی ہے کہ جب بھی کوئی فتویٰ آتا تو حضرت مجھے ہی جواب لکھنے کو کہتے اور جواب لکھ کر پیش کرتا تو تحسین فرماتے اور کبھی کبھی ارشاد فرماتے کہ "فتاویٰ رضویہ کی فلاں جلد میں فلاں صفحہ پر یہ مسئلہ ہے اس سے دلیل میں ایک حدیث اور نوٹ کردیں اس جواب میں."
تعجب ہوتا تھا کہ حضرت انتظامی امور میں منہمک رہتے ہیں اور فتاویٰ رضویہ کے فتاویٰ صفحہ نمبر کے ساتھ یاد ہیں۔
مسائل کی جب بھی بات آتی تو اعلیٰ حضرت کے رسائل یا فتاویٰ رضویہ کا تذکرہ ضرور فرماتے تھے۔
آپ رحمہ اللہ تعالیٰ اعلی حضرت عظیم البرکت سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اسی لیے آپ نے اپنے جامعہ کے مین گیٹ میں بھی گنبد اعلی حضرت ہی بنوایا ہے۔

وصال پر ملال:
3 جولائی 2020 کو رات 9 بجے کے قریب حضرت نے راقم السطور کو فون کیا کہ جامعہ کے کچھ خاص کام سے دہلی جارہا ہوں مدرسہ کے کام سے، (جامعہ کی امام احمد رضا لائبریری کے لیے) جو کتابیں وغیرہ لانی ہو ان کی لسٹ وہاٹس اپ کردیں۔
خادم نے کتابوں کی لسٹ بنا کر بھیجی اور اپنے معمولات کے بعد آرام کیا صبح جب فون دیکھا تو حضرت کے روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات پانے کی خبر جاں کاہ دیکھ کر پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔
(یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ ایسا ہوگیا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کئی روز تک یقین نہیں ہوا۔)

آپ رحمہ اللہ تعالی کا وصال 4 جولائی 2020 ء بمطابق 11 ذی قعدہ 1441 ھ شب جمعہ صبح کے وقت ہوا اور تدفین بروز ہفتہ عمل میں آئی۔ غسل کے وقت حضرت کا چہرہ بالکل ترو تازہ تھا ایسا لگتا تھا جیسے ابھی سوئے ہیں۔

ابر رحمت ان کی مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

از : مفتی محمد شاھد_علی_مصباحی صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ

02/05/2026
6واں خراج عقیدت حضور مفتی اعظم بندیل کھنڈ بروز 30/4/2026 دن جمعرات بعد نماز ظہر اپ تمام احباب سے شرکت کی گزارش6वा खिराज-...
22/04/2026

6واں خراج عقیدت حضور مفتی اعظم بندیل کھنڈ بروز 30/4/2026 دن جمعرات بعد نماز ظہر اپ تمام احباب سے شرکت کی گزارش

6वा खिराज-ए-अकीदत हुजूर मुफ्ती ए आज़म बुंदेलखंड बरोज़ 30 अप्रैल 2026 दिन जुमेरात बाद नमाज़ जोहर आप तमामी अहबाब से शिरकत की गुजारिश

Address

Kadaura

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Razviya Gulshan E Barkaat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category